بے قفل دوکان اور عیسائی لڑکے


\"erujہماری ٹیمپل روڈ پر بھونڈ پورہ چوک کی ایک نکڑ پر ہاکو یاکو دو بھائیوں کی دوکان قبل از یادداشت موجود ہے۔ یہاں چوبیس گھنٹے چائے ملتی ہے اور ساتھ میں ملائی، انڈہ فرائی بند پلستر بھی، میٹھے انڈے کو بی پی کے بند پر لگا کر فرائی پین میں لال کیا۔ حسب خواہش مکھن ملائی لگایا اور لیجئے بند پلستر تیار۔ دوکان کے سامنے ایک مکان تقسیم کے فوراََ بعد میری دادی نے ابا کو دلوایا، گجرات سے فرنیچر آیا اور مال روڈ سے مرفی کا ریڈیو بھی۔ مگر ابا کو ہاکو یاکو کی دوکان سے آتی ریڈیو کی آواز زیادہ شفاف لگتی، انہی کی دوکان سے ناشتہ کرتے، خبریں سنتے اور رات کو موسیقی، بات ریڈیو آپس میں تبدیل کرنے پر ختم ہوئی۔

بے نامی کا ریڈیو ابا لے آئے اور بھائیوں کو نیا ریڈیو مل گیا۔ چند روز کے بعد ابا کا ریڈیو خاموش ہوا تو مزنگ چونگی کے نزدیک \’اٹاوہ ریڈیو\’ پر اسے لے گئے، دوکاندار نے ریڈیو پہچان لیا اور کہا کہ مختلف کمپنیوں کے پرزوں کو اکٹھا کر کے اس نے ہی یہ ریڈیو ایجاد کیا تھا۔ یوں اس سائنسدان سے دوستی ہوگئی جو اس کے مرتے دم تک قائم رہی۔ بعد ازاں نیا ریڈیو گھر میں آیا۔

ہاکو یاکو کی دوکان پر اخباروں میں فیچر آئے، ریڈیو پر تذکرے ہوئے اور یوں دونوں بھائی مغرور ہوئے۔ اگر کسی نے چائے کی بد تعریفی کی تو منہ بھینچ کر اپنی خاموشی سے اسے فارغ کیا اور اس کے جانے کے بعد بلند آواز میں اعلان کہا \’آجاتے ہیں چائے پینے\’۔ دونوں بھائیوں کی آواز کبھی کبھار ہی سننے میں آتی۔ اس سے ملتی جلتی عادت بشیر درالماہی والے صاحب کی بھی تھی۔ ہمہ وقت پان سے منہ بھرے رکھتے۔ یہ دوکان میرے سکول ادبستان صوفیہ کے تقریباََ سامنے تھی اور اس کا فرش میرے اس وقت کے قد سے اونچا۔ وہاں بیٹھنے کا کوئی انتظام نہیں تھا۔ سکول سے واپسی پر میں کبھی کبھار پکوڑے لینے رک جاتا اور جب میرے بعد کے آئے گاہک کو سودا مل جاتا تو میں \"1267078\"احتجاجاََ کہتا \’\’میں نے کہا پکوڑے دے دیں\’\’ بشیر کوئی جواب نہ دیتے اور اپنے تئیں میری باری جو شاید مچھلی اور پکوڑے کی تخصیص کے سبب ہوتی کہتے میں نے کہا کتنے؟\” بشیر صاحب نے مرتے دم تک اچھی مچھلی اور یہ جملہ میرے لئے مخصوص رکھا۔

ہاکو یاکو کے سامنے گلی میں ایک موچی کی دوکان تھی۔ میں نے اکثر وہاں سے گزرتے ہوئے ان کے بیٹے کو مرغے کے آسن میں دیکھا۔ ایک دفعہ مجھے اپنی یونیفارم کی بیلٹ کو مرمت کرانا تھا تو ان کی دوکان پر گیا۔ میری بیلٹ سے سکول کو پہچانتے ہوئے انہوں نے مجھ سے میرا درجہ پوچھا اور مرغے سے مخاطب ہو کر کہا یہ لڑکا تم سے تین چار سال چھوٹا اور جماعتوں میں آگے ہے۔ \’\’کتے کے بچے تم میرا خون پسینہ تو حلال کرو\’\’ دو تھپڑ اور کچھ مکے رسید کئے، مرغا بنایا اور یکسوئی سے بیلٹ مرمت کرنے لگے۔ میں نے بیلٹ کے فارغ ہونے پر پیسے ادا کئے اور چلتے ہوئے کہا \’\’مرغا بنانے سے یہ اچھا طالب علم نہیں بنے گا اور مرغیوں سے خواہ مخواہ نفرت کرے گا\’\’۔ میری ایسی سوچ اور جرات ابا کی تربیت کا نتیجہ تھی۔

اسی بارے میں: ۔  سنو مجھے ٹرپل ون بریگیڈ کا نمبر دو

اس مرغے کو اب میں گزرتے ہوئے خون پسینہ ایک کرتے ہوئے دیکھتا ہوں۔۔ موچی صاحب اسے مرغے سے پڑھا لکھا انسان بنانے کی حسرت لئے اپنے بنانے والے کے پاس چلے گئے ہیں۔ مرغے کے بیٹے لوفر اور بیٹیاں انتہائی لائق ہیں۔ میرے پوچھنے پر مرغ نے بتایا \’\’حضور یہ سب ابا کی تربیت کا نتیجہ ہے جو رزق حلال مل رہا ہے، وہ اچھے زمانے چلے گئے جب لونڈے مار پیٹ پر آنکھیں نہیں دکھاتے تھے۔\’\’

یاد آیا کہ ضیا الحق کے برے زمانے میں ہاکو یاکو کی دوکان پر پولیس کا چھاپہ پڑا اور دونوں بھائیوں کو جوتیاں۔ وجہ یہ کہ رمضان المبارک\"128892563\" کے دوران اس دوکان کے آگے ہمیشہ سے ایک پردہ تانا جاتا؛ بیمار، مسافر، بوڑھے اور بچے جن میں ہم جیسے بھی شامل تھے اس پردے کے پیچھے اپنی حاجت پوری کر لیتے۔ بس یہی حاجت پوری کرنے کا عمل اس وقت قابل ٹکٹکی تھا۔ دونوں بھائی تو جان پہچان والے تھے، تھانے سے ہی واپس آگئے مگر دوکان رمضان المبارک میں دن کے وقت پردے کے بغیر ویران نظر آنے لگی۔ دونوں خاموش بھائیوں نے کثرت سے با آواز بلند استغفار استغفار دہرانا شروع کر دیا۔ دوکان میں مذہبی اور سیاسی گفتگو پر پابندی کا کاغذ لگا مگر ابا اور ان کے دوست مقررہ وقت پر سڑک کنارے کرسیاں لگوا کر \’\’خطرہ اپنا اپنا\’\’ کے اصول پر بیٹھتے کیونکہ دو چار دفعہ پولیس والے فٹ پاتھ پر بیٹھے لوگوں سے بد تمیزی سے پیش آئے تھے اور بارہا میز کرسیاں اٹھا کے تھانے لے گئے تھے جو بھائیوں کی \’\’تھانے حاضری\’\’ کے بعد واپس مل جاتیں۔ ہفتے میں ایک دن  دنیا جہان کے گونگے وہاں اکٹھے ہوتے اور اشاروں کنایوں میں غالباََ سیاسی اور مذہبی گفتگو کی مدد سے  غل غپاڑے کی کیفیت پیدا کرتے۔ جو کان اور زبان والوں کے لئے باعث رشک ہوتا۔ دو تین چٹائیاں مالش کرنے والوں کی فٹ پاتھ پر بچھ جاتیں۔ سستی سے نڈھال لوگ \’\’ہائے\’\’ کی آواز کے ساتھ چادر پر پھیل جاتے اور طے شدہ وقت پر اس سے بڑی \’\’ہائے\’\’ کے ساتھ اٹھتے۔ ایک میز میاں یونس جو پیر پگارو کے دوست تھے کے نام پر سجتی تھی۔ میں پیر صاحب سے انہی کے گھر پر ملا تھا۔ بھلے اور رعب دار آدمی لگے۔ انہوں نے تیتر اور بٹیر میز پر آنے سے پہلے بیشتر پرندوں، چرندوں کے گوشت کے فوائد بتائے۔ افسوس کہ میں یاد نہیں رکھ سکا البتہ مردانہ طاقت کی تکرار یاد ہے۔

اسی بارے میں: ۔  ترکی کے شہیدان جمہوریت کو سلام

ایک دن بارش برسنے پر بیشتر لوگ گھروں کو اور چند لوگ ہاکو یاکو کی دوکان کے اندر چلے گئے جہاں دس بارہ لوگوں کے بیٹھنے اور آٹھ \"b9901158\"دس کے چھجے کے نیچے کھڑے ہونے کی گنجائش تھی۔ ابا اور دوست چائے پینے بیٹھ گئے۔ کچھ دیر بعد دو لڑکوں کی ویٹر کے ساتھ دبے لہجے میں تلخ گفتگو نے ان کو متوجہ کیا مگر ہاکو یاکو نے معاملہ اپنے ہاتھوں میں لے لیا اور فیصلہ دیا کہ دونوں لڑکوں نے چائے پینے سے پہلے کیوں نہیں بتایا کہ وہ عیسائی ہیں کیونکہ ان کے لئے علیحدہ برتن موجود ہیں۔ عیسائی لڑکوں کا اصرار تھا کہ \’\’ایسا  دوکان میں کہیں نہیں لکھا ہے۔\’\’ ہاکو یا یاکو نے دونوں ہاتھ فضا میں بلند کئے اور با آواز بلند کہا \’\’سارے پاکستان کو پتہ ہے۔\’\’ تقاضا گلاسوں کی قیمت کا تھا کہ اب وہ دوکان کے قابل نہیں تھے۔ لڑکوں نے دائیں بائیں لب سلے گاہکوں کی طرف دیکھا اور جیب سے پیسے نکال کر ویٹر کو دے دیئے۔ وہ اب ایسے خاموش تھے جیسے بکرے خصی کئے جانے پر ہوجاتے ہیں۔ وہ دوکان سے باہر بارش میں بھیگتے ہوئے نکل گئے۔ ابا نے انھیں چھجے تک جا کر بلایا اور کہا \’\’پیسے ادا کرنے کے بعد اب یہ گلاس تمہارے ہوگئے ہیں، انھیں تو ساتھ لے جاؤ اور جو چاہو سو کرو۔\’\’ لڑکے تیزی سے دوکان میں واپس آئے، ان کی آنکھیں بدلی ہوئی تھیں، ویٹر نے فوراََ ایک ایک گلاس دونوں کو تھما دیا۔ وہ دوکان سے نکل کر چوک بھونڈ پورہ تک پہنچے، بجلی چمکی، دونوں نے ایک بلند زخمی چیخ کے ساتھ گلاس عین چوراہے میں سڑک پر پٹخ دیئے۔ ابا کہتے تھے ان دونوں مسیحی لڑکوں نے چیختی آواز میں کچھ کہا ضرور تھا جو میں بجلی کی چمک کے بعد کی کڑک میں سن نہیں پایا تھا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ایرج مبارک کی دیگر تحریریں
ایرج مبارک کی دیگر تحریریں