کسی دن چلیں گے کراچی


کسی دن چلیں گے\"naseer

کراچی

سمندر میں آنکھیں بہا کر

اُسے دیکھنے کی تمنا کریں گے

جو بچپن میں گھر سے چلا تھا

کہ شپ یارڈ دیکھوں گا

بحری جہازوں میں دنیا کے چکر لگاؤں گا

پیسے بناؤں گا

لیکن فلیٹوں، پلازوں کی دنیا میں

بجری اٹھاتے اٹھاتے

کسی ریت کے ڈھیر میں کھو گیا ہے ۔۔۔۔۔۔۔

کسی دن چلیں گے

سمندر کنارے

اسے پھینکنے کے لیے

شہر کے زیرِ تعمیر سارے مکانوں کا کچرا

مِرے دل میں بھرتا چلا جا رہا ہے!

 

image_pdfimage_print

Comments - User is solely responsible for his/her words

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں