سینٹ میں متنازع سائبر کرائم بل پچاس ترامیم سمیت پاس


\"cyberسینٹ نے جمعے کے روز متنازع سائبر کرائم بل \’دی پریونشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ\’ اپوزیشن کی جانب سے دی گئی پچاس ترامیم سمیت پاس کر لیا ہے۔

یہ بل اب دوبارہ قومی اسمبلی بجھوایا گیا ہے جہاں تجویز کردہ پچاس ترامیم کو زیر بحث لایا جائے گا۔

اہم ترامیم میں مجرموں کو ہائی کورٹ میں اپیل کے لئے تیس دن کا موقع، مجوزہ اتھارٹی کی جانب سے قانون کے عمل درآمد شش ماہی ریویو اور پیمرا کے ٹی وی اور ریڈیو لائسنس اس قانون کے دائرے میں نہیں آئیں گے۔

انفارمیشن ٹیکنالاجی کی وزیر مملکت انوشے رحمان نے اس موقع پر کہا کہ اس قانون پر عمل درآمد کی مکمل ذمہ داری وزارت داخلہ کی ہے۔

ٹویٹر پر پیپلز پارٹی کی رہنما اور سینیٹر شیری رحمان نے کہا کہ سینٹ نے ان کی تجویز کردہ 53 ترامیم قبول کر لیں ہیں۔

All 53 of opp amendments were accepted in long parleys w govt in Opposition chamber before bringing to vote #Senate https://t.co/Irjj68jn5x

— SenatorSherryRehman (@sherryrehman) July 29, 2016


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔