آزاد کشمیر – الیکشن سے حکومت سازی تک


\"irshadمطلع صاف ہو چکا ہے۔ راجہ فاروق حیدر خان کو آزاد کشمیر کی وزارت عظمی کے لیے نامزد کر دیا گیا ہے۔ اگلے چند دنوں میں وہ وزیراعظم کا حلف اٹھائیں گے۔ مسلم لیگ نون کو ملنے والی انتخابی کامیابی نہ صرف غیر متوقع تھی بلکہ مبصرین کے لیے حیران کن بھی۔ خاص طور پر جس برے طریقے سے حکمران پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف کی سیاست پر عوام نے جھاڑو پھرا وہ ناقابل یقین تھا۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ آزاد کشمیر میں رائے ہندگان لہر کے ساتھ چلتے ہیں۔ اسلام آباد کی حکومت کے ساتھ لیڈر اور سیاسی کارکن اپنے مستقبل کا رخ متعین کرتے ہیں۔ لیکن اس مرتبہ پیپلزپارٹی کی حکومت نے شہریوں کو اس قدر مایوس کیا تھا کہ انہوں نے تمام بڑے بڑے برج الٹ دیے۔ سلطان محمود چودھری کو ایک ناقابل شکست سیاسی رہنما تصور کیا جاتا تھا لیکن شام چار بجے ہی ان کے چودہ طبق روشن ہو چکے تھے۔

راجہ فاروق حیدر اور نون لیگ بلند بانگ دعوؤں کے ساتھ حکومت سنبھالنے جا رہے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ مسائلستان کے ایک جنگل کو صاف کرنے جا رہے ہیں جہاں کرپشن، بدانتظامی اور مالی بحران نے ڈھیرے جمائے رکھے ہیں بلکہ ہر شاخ پر الو بیٹھا ہے۔ چیف سیکرٹری سکندر سلطان راجہ نے اپنے ایک حالیہ انٹرویو میں یہ تلخ انکشاف کیا کہ وہ ملک کے دیگر صوبوں میں بھی تعینات رہے ہیں لیکن ایسی بدانتظامی اور بدعنوانی انہوں نے کہیں اور نہیں دیکھی۔ کہتے ہیں کہ سات لاکھ کی ادویات پر سات کروڑ کا بل وصول کیا گیا۔

اقتصادی طور پر بھی آزاد کشمیر وفاقی حکومت پر انحصار کرتا ہے۔ گزشتہ حکومتیں مقامی ذرائع سے وسائل پیدا کرنے کی بجائے بقول شاعر

قرض کی پیتے تھے مے لیکن سمجھتے تھے کہ ہاں

رنگ لائی گئی ہماری فاقہ مستی ایک دن

بے روزگاری کا عالم یہ ہے کہ چودہ فی صد نوجوانوں بے روزگار ہیں جب کہ باقی صوبوں میں یہ تعداد چھ فی صد سے ذرا اوپر ہے۔ اس مرض کا سیاسی عبقریوں نے یہ تلاش کیا کہ ایک لاکھ کے لگ بھگ ملازمین کی فوج ظفر موج بھرتی کرلی۔ نجی شعبے میں روزگار کے ذرائع پیدا کرنے کی بجائے نوجوانوں کو بیرون ملک معاش کی تلاش میں دھکیلا دیا گیا۔ جو بچ گئے انہیں سرکاری شعبے میں کھپا دیا گیا۔ اب عالم یہ ہے کہ 73 ارب روپے کے بجٹ میں سے صرف بارہ ارب روپے ترقیاتی کاموں کے لیے مختص کے جاتے ہیں۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ حکومت کے پاس بجٹ میں تنخواؤں کے علاوہ محض پانچ فی صد بجٹ سرکاری امور چلانے کے لیے میسر ہوتا ہے۔ اب بھلا ننگا نہائے گا کیا اور نچوڑے گا کیا۔ سکول ہیں لیکن فرنیچر نہیں۔ ہسپتال ہیں لیکن دوائیاں دستیاب نہیں۔

نون لیگ کو یہ سہولت حاصل ہے کہ اسلام آباد میں اس کی حامی حکومت قائم ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے وعدہ کیا ہے کہ وہ میگا منصوبے شروع کریں گے اور پنجاب کے طرز پر کشمیر میں بھی ترقیاتی منصوبے لگائیں جائیں گے۔ وزیر اعظم نواز شریف آزاد کشمیر کی ترقی کے لیے بہت پرجوش ہیں اور ذاتی دلچسپی بھی لیتے ہیں۔ گزشتہ تین سال میں وہ کئی مرتبہ خطے کا دورہ کر چکے ہیں۔ وفاقی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ اگلے پانچ سالوں میں پچاس ارب روپے معمول کے بجٹ کے علاوہ فراہم کرے گی۔ اسلام آباد سے مظفر آباد تک ریلوے لائن بچھانے اور پھر مظفر آباد سے میرپور تک موٹروے کے منصوبوں کا وزیر اعظم نواز شریف پہلے ہی اعلان کرچکے ہیں۔ اگر ان منصوبوں میں سے بیس فی صد پر بھی عمل ہو جاتا ہے تو بھی اس علاقے کی قسمت جاگ اٹھے گئے۔ صدیوں کی محرومیوں کا خاتمہ ہو جائے گا۔

یہ وقت ہے کہ نون لیگ ان غلطیوں سے سبق سیکھے جو پی پی پی کی حکومت نے کیں اور بری طرح ناکامی سے دوچار ہوئی۔ پی پی پی کی مقامی قیادت کو کوئی بھی کام آزادی سے کرنے نہیں دیا گیا۔ پنجاب اور سندھ سے آئے مشیران فیصلہ سازی پر حاوی رہے جو مقامی سیاسی حرکیات سے ناواقف تھے اور عوامی مزاج سے کلیتاََ نا آشنا۔ انہوں نے پی پی پی کے مقامی رہنماؤں کو اپنے عوام کے ساتھ بے توقیر کیا۔ ان کی باہمی چپقلش کو ہوا دی اور خود مال بٹورا۔ وزیراعظم چودھری عبدالمجید کو عضو معطل بنائے رکھا۔ انہیں اپنی مرضی سے فیصلے کرنے کی اجازت تھی اور نہ ان میں زرداری ہاؤس سے آنے والےجائز ناجائز احکامات کو مسترد کی جرات۔ آزاد کشمیر کا ایک مخصوص کلچر ہے عوام اپنے لیڈروں کو آزاد اور دبنگ دیکھنا چاہتے ہیں۔ وفاق کی مداخلت بالخصوص وزارت امور کشمیر اور کشمیر کونسل کو سخت نا پسند کیا جاتا ہے کیونکہ وہ کشمیری لیڈروں پر حکم چلاتے ہیں۔ امید ہے کہ نون لیگ ان غلطیوں سے سیکھے گی اور راجہ فاروق حیدر اور ان کی ٹیم کو آزادی کے ساتھ عوامی بہبود کے کام کرنے دے گی۔ ان کے راستے کے کانٹے چنے گی نہ کہ رکاوٹیں کھڑی کرے گی۔

تحریک انصاف پر جو قیامت آزاد کشمیر میں گزری وہ نہ صرف نون لیگ کے لیے ایک سبق آموز کہانی ہے بلکہ تمام سیاستدانوں کو اس سے سبق سیکھنا چاہیے۔ بیرسٹر سلطان محمود چودھری اپنا زیادہ وقت اسلام آباد یا لندن میں گزارتے رہے۔ خال خال ہی اپنے ووٹرز کو دستیاب ہوتے۔ میرپور جو منی برمنگھم کہلاتا ہے کے شہری مسائل کی چکی میں پھنسے ان کی راہ تکتے رہتے لیکن کبھی خبر آتی کہ چودھری صاحب پیرس میں ہیں یا پھر برلن میں براجماں ہیں۔ چودھری نے ایک شہزادے کی ماند لوگوں کی خوشی غمی میں شریک ہونے سے اکثر گریز کیا۔ میرپوریوں سے کہتے رہے کہ مسئلہ کشمیر حل ہوگا تو مقامی مسائل بھی حل ہو جائیں گے۔ تحریک انصاف بنا تو لی لیکن اس کو بھی ایک ذاتی کمپنی کی طرح برتا۔ نوجوانوں اور خواتین کو متحرک کرنے کی بجائے الیکٹ ایبلز کی جستجو میں لگے رہے۔ چنانچہ تحریک انصاف کی روایتی اپیل ماند پڑ گئی۔ عمران خان کا تبدیلی کا پیغام فاروق حیدر اور ان کی ٹیم لے اڑی۔ نوجوانوں کے دلوں میں بیرسڑ سلطان کی شکل میں عمران خان کی تبدیلی کا پیغام اترا نہیں۔ الٹا انہوں نے پیپلز پارٹی کے کچھ وزرا کو منحرف کرا کر پی ٹی آئی کے تبدیلی قافلے میں شامل کیا تو لوگ بے ساختہ کہ اٹھے: ’’پرانی شراب نئی بوتل میں‘‘ پیش کی جا رہی ہے۔ یہ وہ لوگ تھے جو کبھی مسلم کانفرنس میں سردار عتیق احمد کے ہمرکاب تھے۔ بعدازاں پیپلزپارٹی کے چودھری عبدالمجید کے ہم نوالہ ہم پیالہ ہوگئے۔ الیکشن سے چند ہفتے قبل تبدیلی کے قافلے میں شامل ہو کر پوتر ہوگئے۔

اگلے سو دنوں میں پتہ لگ جائے گا کہ نون لیگ کی حکومت کی حقیقی ترجیحات کیا ہیں۔ اگر راجہ فاروق حیدر نے اچھی ٹیم کا انتخاب کیا اور خطے کی تعمیر اور ترقی کے لیے کام کیا تو ان کی سیاست اور نام دونوں زندہ رہے گا ورنہ وزیر اعظم کی فہرست میں ایک اور نام کا اضافہ ہو جائے گا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ارشاد محمود

ارشاد محمود کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک سینئیر کالم نویس ہیں جو کہ اردو اور انگریزی زبان میں ملک کے موقر روزناموں کے لئے لکھتے ہیں۔ ان سے مندرجہ ذیل ایمیل پر رابطہ کیا جا سکتا ہے [email protected]

irshad-mehmood has 35 posts and counting.See all posts by irshad-mehmood