بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی اور ہماری ذمہ داری


\"benish\"اسلامی جمہوریہ پاکستان جو اس بنیاد پر بنا تھا کہ یہاں اقلیتوں کا خیال کیا جائے گا، آج پاکستان میں اقلیتوں کا کیا حال ہے اس سے تو سب ہی واقف ہیں لیکن اب تو یہاں شہری بھی محفوظ نہیں، یہاں کبھی غیرت کے نام پر قتل کیے جاتے ہیں تو کبھی معصوم بچوں کو اغوا کیا جاتا ہے یہی نہیں ان ہی معصوموں کے ساتھ جنسی بھیڑیے زیادتی بھی کرتے ہیں۔

بچے اس پھول کی طرح ہوتے ہیں کہ جنہیں اگر مسل دیا جائے تو وہ زندگی بھر اپنے خول میں بند ہو کر رہ جاتے ہیں، گزشتہ روز بہاولپور میں 6 سالہ بچی کے ساتھ زیادتی کی خبر نظر سے گزری، جسے دکاندار نے اپنی جنسی ہوس کا نشانہ بنایا، اس بچی کا سن کر مجھے لاہور کی وہ معصوم پانچ سالہ بچی یاد آگئی جس کے زخم اب تک نہ بھر سکے، لاہور کے سات سالہ بچے کو مسجد میں زیادتی کے بعد پھانسی دے کر قتل کر دیا گیا۔ اس سے پہلے قصور کے قریب ایک گاؤں میں 280 سے زائد بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا بڑا اسکینڈل بھی سامنے آچکا ہے، جس میں بچوں کی ویڈیوز بنا کر ان کے والدین کو بلیک میل کیا جاتا رہا۔ نہ جانے یہ گھناونا کھیل کب سے چل رہا تھا اس کے بعد کئی کمیٹیاں بنیں، تحقیقات بھی ہوئی مگر نتیجہ صفر نکلا!

چلیئے یہ تو چند واقعات ہیں جو میڈیا کے توسط سے سامنے آ بھی گئے لیکن لیکن ان واقعات کا کیا جن میں والدین بدنامی کے ڈر سے خاموش رہتے ہیں

جنسی زیادتی کا شکار بچے جن کا بچپن چھین لیا گیا ان کے والدین کا کیا حال ہوگا، ذرا کوئی ان سے پوچھے کہ مجرمان کو کیا سزا دی جائے تو یقینا ان کا جواب ہوگا کہ بیچ چوراہے پر کھڑا کر کے پھانسی دی جائے، پتھر مارے جائیں، کوڑے برسائے جائیں، ہمارے ملک میں اسلامی آئین نافذ ہے جس میں اس قسم کے جرائم کی سزا موت ہے، لیکن ان درندوں کو موت کی سزا کیوں نہیں دی جاتی یہ سوال ایسا ہے جس کا جواب آج تک نہ مل سکا۔

سینیٹ نے حال ہی میں تعزیرات پاکستان اور ضابطہ فوجداری میں ترامیم کا بل منظور کیا ہے جس کے مطابق بچوں کے ساتھ جنسی عمل، ان کا استحصال، بچوں کی فحش مواد کی تیاری و اشاعت اور بچوں کے اندرون ملک تجارت کو قابل سزا جرم قرار دیاگیا ہے۔ اس کے مطابق ایسے مجرمان کو سات سال قید کی سزا دی جا سکے گی، لیکن یہ ساری باتیں صرف ایوانوں تک ہی محدود ہیں!

پاکستان میں روزانہ بچوں سےبدفعلی کے اندازاََ 10 واقعات ہوتے ہیں، اس حوالے سے پنجاب پہلے نمبر اور صوبہ سندھ دوسرے نمبر پر ہے۔

پاکستان میں بچوں کے حقوق کے تحفظ کے لیےکام کرنے والی غیر سرکاری تنظیم اسپارک کی سالانہ رپورٹ کے مطابق 2015 میں روزانہ اوسطاً دس بچوں کو جنسی استحصال کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔اس رپورٹ کے مطابق خبروں، حکومتی اداروں اور بچوں کے حقوق کے لیے سرگرم تنظیموں سے حاصل کردہ اعداد و شمار سے معلوم ہوا ہے کہ 2015 میں تین ہزار سے زائد بچوں کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایاگیا۔

پاکستان میں رواں سال کم عمر بچون پر جنسی تشدد کے واقعات میں 7 فیصد اضافہ ہوا۔۔۔ غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2015 میں جنسی تشدد اور زیادتی کے واقعات میں پنجاب سے 2616، سندھ سے 638، بلوچستان سے 207، اسلام آباد سے 167، خیبر پختونخوا سے 113، گلگت بلتستان اور فاٹا سے 3، 3، واقعات رپورٹ ہوئے۔

پاکستان واحد ملک نہیں جہاں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کی جاتی ہے، ایک مغربی ادارے کی رپورٹ کے مطابق ایشیا میں 4 فیصد بچوں اور 11 فیصد بچیوں کو چھوٹی عمر میں زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا ہے، ریسرچ کے مطابق امریکا میں آٹھ فیصد بچوں اور بیس بچیوں کو جنسی طور پر ہراساں کیا جاتا ہے، جبکہ برطانیہ میں ہر 20 بچوں میں سے ایک بچہ جنسی زیادتی کا نشانہ بنتا ہے، بھارت اور کمبوڈیا بھی ان ممالک میں شامل ہیں کہ جہاں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے کیسز میں اضافہ ہورہا ہے۔ یہی نہیں کیتھولک مسیحیوں کا مرکز ویٹی کن سٹی یہاں کے پادری بھی بچوں کے ساتھ جنسی استحصال میں ملوث پائے گئے۔

بچے چونکہ آسان ہدف ہوتے ہیں اس لئے یہ جنسی بھیڑیے انہیں ہی اپنا نشانہ بناتے ہیں اس لئے ہمیں اپنے بچوں کا خیال خود رکھنا ہوگا، کیونکہ ہم ایک مہذب معاشرے کا نہیں بلکہ اس جنگل کا حصہ ہیں جہاں کسی کا کوئی بھروسا نہیں۔ اسی لئے میں نے اپنی بچی کو ڈیڑھ سال کی عمر سے ہی ٹریننگ دینا شروع کردی تھی کہ کسی کی گود میں نہیں بیٹھنا، کوئی چہرے پر پیار نہ کرے اور اگر کرے تو سخت ناگواری کا اظہار کرنا اور آکر مجھے یا اپنے والد کو بتانا۔ ہمارے معاشرے میں جوائنٹ فیملی سسٹم ہو تو اس میں یہ بات بلکل معیوب نہیں سمجھی جاتی کہ چھوٹی بچیاں چچا، تایا، ماموں کی گودیوں میں کھیلیں۔ ہمارے ہاں اس بات کو نوٹس بھی نہیں کیا جاتا لیکن ہم خود ہی بچوں کی تباہی کے ذمہ دار ہیں کیونکہ بچے سمجھتے ہیں کہ اگر تایا اور ماموں کی گود میں بیٹھنا یا ان کا پیار کرنا معیوب نہیں تو چاکلیٹ کے بہانے کوئی بھی ان کو پیار کر سکتا ہے۔ یہ بچوں کی سوچ ہے جسے ہمیں تبدیل کرنا ہے ساتھ ساتھ ان بڑوں کو بھی سمجھانا ہےاور اس کی شروعات اپنے ہی گھر سے کرنا ہوگی ۔یعنی شروع سے ٹریننگ وہ بھی سخت والی ٹریننگ، بیٹی ہو یا بیٹا دونوں کی حفاظت ماں باپ سے بہتر کوئی نہیں کر سکتا، بچوں کو قران پڑھانے والے مولوی، ٹیوشن ٹیچرز، میڈز اور ڈرائیورز کے حوالے کر کے ہم اپنے ہر فرض سے بری الزمہ ہو جاتے ہیں لیکن یہ نہیں سوچتے وہ غیر ہیں اور اولاد آپ کا اپنا بہت قیمتی اثاثہ۔ ڈرائیور اور میڈز کو تو چھوڑیے بچوں کے ساتھ جنسی استحصال کے جتنے واقعات بھی آج تک سامنے آئے ان میں ملوث کوئی انتہائی قریبی رشتہ دار یا جاننے والا ہی نکلا ہے، اس لئے اگر آپ اپنے بچوں کو اپنے بڑوں سے دور رکھنے کی ٹریننگ دے رہے ہیں تو اس میں کسی کو بھی برا ماننے کی ضرورت نہیں کیونکہ زمانہ ہی اتنا خراب ہے۔ اس لئے اپنی آنکھیں کھولیئے اور اپنے بچوں کا خیال رکھیے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔