سائبر لا جمہوریت کش آمر کا ہتھیار ہے


\"zeeshan

چھ اقوال سنئے اور ان کے فکری و عملی پہلوؤں پر غور کیجئے –

-\”جب کوئی قوم زیادہ قانون بنانے لگ جائے تو سمجھ لیجئے وہ تہذیب و تمدن کے میدان میں بانجھ ہو چکی ہے \”
-\”جہاں قوانین کی افراط ہوں گی وہاں انحراف معمول بن جائے گا \”
-\”جب زندگی کے تقاضے اتباع سے پورے نہ ہوں تو انحراف ہی رواج پاتا ہے \”
-\”جب ریاستی ادارے قانون بناتے ہیں اور اپنے مطلوبہ نتائج میں ناکام ہوتے ہیں تو اس ناکامی سے سبق سیکھنے کے بجائے مزید قانون بناتے ہیں اور یوں عوام قانون کے منجھدار میں ہی پھنس جاتی ہے \”
-\”جب ریاست طاقتور ہو جاتی ہے تو وہ شہریوں پر بھیڑہے کی طرح حملہ آور ہوتی ہے اور جب ریاست کمزور ہو جاتی ہے تو وہ اس کا انتقام قانون اور سیکورٹی کے نام پر عام شہریوں سے لیتی ہے \”
-\”ریاست کو شک کی نگاہ سے دیکھو – جب شہری اسے لگام میں رکھتے ہیں اس میں خیر ہے ورنہ یہ بدترین برائی ہے \”

خبر ہے کہ سائبر کرائم بل سینٹ نے چند اعتراضات کے ساتھ قومی اسمبلی کو واپس بھیجا ہے ، ان اعتراضات کو دور کرنے کے بعد یہ بل قانون بن جائے گا- اعتراضات کے نکات جزوی سے ہیں ، جبکہ سینٹ نے بل کی روح کو اپنے ہوش و حواس کے ساتھ قبول کر لیا ہے – اس سے پہلے جب پانامہ اسکینڈل ہمارے قومی منظرنامہ پر چھایا ہوا تھا تو چپکے سے حکومت نے یہ بل بغیر کسی طویل بحث و مباحثہ کے قومی اسمبلی سے پاس کروا لیا – پیپلز پارٹی نے اس بل پر پہلے بھی اعتراضات اٹھائے تھے اور اب بھی سینٹ میں پیش ہونے سے پہلے کہا کہ یہ بل آزادی اظہار رائے پر سنگین حملہ ہے مگر سینٹ میں ایسی پراثر اور بھرپور آواز نہ اٹھا سکی باوجود اس کے کہ سینٹر اعتراز احسن جیسے شخص نے جو قانون کی روح کو سمجھتے ہیں اس بل پر پارلیمان سے باہر تحفظات کا اظہار بھی کیا تھا مگر سینٹ میں ویسی بلند آہنگ صدا نہ لگا سکے –

آئیے اس کے کچھ نکات دیکھ لیتے ہیں تاکہ اس بل کی حقیقت خوب سمجھی جا سکے –

-23 صفحوں پر محیط اس بل میں پی ٹی اے یعنی پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی (جو کہ ایک ٹیلی کمیونیکشن سیکٹر کی ریگولیٹری اتھارٹی ہے ) کو یہ غیر مشروط و غیر محدود اختیار اور ذمہ داری دی گئی ہے کہ اس کے بیورو کریٹ منشی بابو انٹرنیٹ پر موجود تمام مواد کا جائزہ لیتے رہیں گے اور جہاں بھی انہیں کوئی مواد اسلام ، پاکستان کے دفاع ،سیکورٹی ، خود مختاری ، حب الوطنی ، عدالتی نظام ، اخلاقیات اور سیاسی نظام کے خلاف لگے اسے فورا ہٹا سکیں گے بلاک کر سکیں گے اور متعلقہ بندے یا ادارے کو سزا دی جا سکے گی – ذرا بتائیے کہ بیوروکریٹ کیسے اور کس اصول کے تحت طے کریں گے کہ کونسی چیز اسلام ، پاکستان کے دفاع ،سیکورٹی ، خود مختاری ، حب الوطنی ، عدالتی نظام ، اخلاقیات اور سیاسی نظام کے خلاف ہے ؟ کیا یہ بیورکریسی کی آمریت نہیں ؟ اول تو کیا ریاست کو یہ حق بھی حاصل ہے کہ لوگوں کی نجلی محفلوں پر یوں سنسر بورڈ بٹھائے ؟ کیا یہ مطلق العنانی نہیں ؟ کل کو کوئی فوجی یا سول آمر اس کی مدد سے سوشل میڈیا پر اپنی آمریت نافذ نہیں کر سکے گا ؟ کیا یہ جمہوریت اور شخصی آزادی کے تصور پر براہ راست حملہ نہیں ؟ کیا یہ نظریاتی جبر نہیں ؟ کیا شہریت کی وقعت اتنی سی ہے کہ ان کی سوشل میڈیا کی نجی محفلوں پر غیر منتخب اور نااہل بیوروکریٹ مسلط کئے جائیں ؟ کیا یہ ایکٹ کھلم کھلا فاشزم نہیں ؟ کیا اس ملک پر کسی غیر ملکی فوج کا قبضہ ہو گیا ہے جس کی رو سے ہماری نجی اور سوشل گفتگو کو یوں مانیٹر اور سنسر کیا جائے گا ؟

اچھا .. حیران کن دعوی یہ بھی کہ اس بل کا اطلاق ان لوگوں پر بھی ہو گا جو ملک سے باہر بیٹھے ہیں – اس صورت میں پاکستانی حکومت متعلقہ غیر ملکی حکومت سے رابطہ کرے گی کہ یہ بندہ ہمارے حوالے کیا جائے – سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان سپر پاور بن گیا ہے اور اس کا ورلڈ آرڈر پوری دنیا پر چلے گا کہ متعلقہ ملک ہمارے سائبر کرائم ایکٹ کی رو سے عملدرآمد کا پابند ہو گا ؟

– ریاستی ادارے جہاں چاہیں گے چھاپہ مار کر وہاں کے ڈیجٹل ریکارڈ کو قبضہ میں لے سکیں گے – تحقیقاتی افسر جہاں چاہے گا چھاپہ مار کر وہاں کا ریکارڈ قبضہ میں کر سکے گا –

– نامعلوم صارف کو کسی قسم کا اشتہار ، پیغام ، تصویر یا ای میل بھیجنا بھی جرم ہو گا – یہاں تک کہ آپ اگر صحافی ہیں تو بغیر تحریری اجازت کے کسی کو پریس کانفرنس کے لئے بھی مطلع نہیں کر سکیں گے – آپ بے روزگار ہیں تو اپنی سی وی بھی بغیر وصول کنندہ کی تحریری اجازت کے نہیں بھیج سکیں گے – وگرنہ آپ کو ایک سال جیل کے پنجرے کی غلامی میں بیٹھ کر سوچنا پڑے گا کہ آخر میری ریاست سے کیا لڑائی ہے ؟ جب ہر ای میل اور ان باکس میں بلاک کی آپشن موجود ہے تو دو افراد کی نجی گفتگو میں بیوروکریٹ کو کیوں سر پر بٹھایا جا رہا ہے ؟

حقیقت یہ ہے کہ ایک لبرل سیاست میں قانون سازی کی اٹل بنیاد محض شخصی آزادیاں اور بنیادی انسانی حقوق ہیں – یہ قانون سراسر فاشزم ہے – یہ ریاست اور شہریت کے درمیان کوئی رضاکارانہ معاہدہ نہیں بلکہ ریاست کی بدمعاشی ، غندہ گردی اور اجارہ داری ہے –

سوال پوچھے جا سکتے ہیں کہ حضور کیا دہشتگردی کا جنم سوشل میڈیا سے ہوا ہے یا آپ کا دست شفقت ہے جو ہنوز اچھے اور برے جہادی کی تقسیم کر رہا ہے ؟ حیف ہے سیاست دانوں پر کہ سب سے زیادہ انہیں سپورٹ سوشل میڈیا سے ملی ہے ، آمریت کی قوتوں کو چیلنج اسی سوشل میڈیا نے کیا ہے مگر اس کے باوجود وہ شہری آزادیوں کے طرف دار نہیں بلکہ آمریت پسند قوتوں کی کاسہ لیسی میں پیش پیش ہیں – کیا جو زبان ریاست کے خلاف مولوی عبدالعزیز بولتا ہے یا جامعہ حفضہ سے برآمد ہوتی ہے یا حافظ سعید اپنے جلسوں اور ٹی وی ٹاک شوز میں جس کا اظہار کرتا ہے یا جو سپاہ صحابہ و لشکر جھنگوی کے جلسوں میں بولی جاتی ہے وہ دہشتگردی یا کرائم نہیں ؟ کیا کوئی سوال اٹھا سکتا ہے کہ حضور آپ نے بزور بندوق فوجی عدالتوں کا اختیار حاصل کیا اب تک کتنے خطرناک دہشتگردوں کو آپ نے پھانسیاں دیں ؟ لٹکے تو دوسرے جرائم کے مجرم ہوتے ہیں –

اب ہو گا کیا، اسے یو ٹیوب والے تجربئ سے سمجھئے – لوگ VPN استعمال کریں گے ، خفیہ نام اور شناخت کے ساتھ سامنے آئیں گے – فیس بک اکاؤنٹ اور پیج ڈیلیٹ کروائے جائیں گے تو دوسرے بنا لئے جائیں گے – مگر سب سے بڑا ظلم یہ ہو گا کہ قانون سے انحراف کی ثقافت کو فروغ ملے گا – قانون پر اعتبار اٹھ جائے گا – اور شریر ذہن خفیہ شناخت کی ثقافت میں زیادہ شر پھیلائیں گے –

میری اس منتخب پارلیمان سے درخواست ہے کہ شہری آزادیوں کے محافظ بنیں نہ کہ دشمن – اگر شہریت نہیں تو آپ بھی نہیں – اگر پارلیمان شہری آزادیوں کا مددگار نہیں تو مشکل میں عوام بھی آپ کو پہچاننے سے انکار کر دیں گے – میری سول سوسائٹی سے درخواست ہے کہ اپنی آزادیوں کے تحفظ کے لئے آواز بلند کریں ورنہ مرحلہ وار آپ کی گردن پر دباؤ بڑھتا جائے گا – صحافیوں سے التجا ہے کہ سوشل میڈیا پر تو پھر بھی انحراف کی ثقافت پیدا ہو سکتی ہے ،آپ کا میڈیا تو اوپن ہی کام کر سکتا ہے – آپ کی بھی باری آ سکتی ہے شہری آزادیوں کی صدا بلند کرنا آپ کا کام ہے – عدلیہ سے انسانی حقوق کے تحفظ کی اپیل ہے اگر سن لی جائے تو – وگرنہ ڈر ہے کہ کہیں اسلامی جمہوریہ مکمل طور پر مطلق العنان فاشسٹ ریاست نہ بن جائے –


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 133 posts and counting.See all posts by zeeshan

One thought on “سائبر لا جمہوریت کش آمر کا ہتھیار ہے

  • 30-07-2016 at 2:03 pm
    Permalink

    Bravo

Comments are closed.