قندیل اور اب سامعہ – غیرت مند معاشرے کی شفاف جھلک


\"Sarwat\”بڑا آیا مجھے مارنے والا\” یہ ایک نڈر بہن کا خیال تھا۔ بہن کے اس خیال کو غیرت مند بھائی نے گلا گھونٹ کر زمین کے چھ گز نیچے پہنچا کر حقیقت کا روپ دے دیا۔ بہت سن لیا کہ قندیل بری عورت تھی، بے حیا، بے باک، بدکردار، بد چلن، بے غیرت، آوارہ مزاج اور سماجی روایات سے باغی تھی اس کا یہی انجام ہونا چاہیے تھا! تو کیا ایک فاحشہ کے مرنے سے معاشرے کا گند صاف ہوگیا؟ کیا ایک بدکردار کی موت کے بعد اب کسی بھائی کی غیرت گہری نیند سے نہیں جاگے گی؟ کیا اب کوئی عورت کاری نہیں کی جائے گی؟ میرے نزدیک بے غیرت وہ عورت نہیں تھی بے غیرت یہ معاشرہ ہے۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں اگر بیٹی گھر کی شادی کی تقریب میں لڈی ڈال لے تو خاندان کی بڑی بوڑھیوں میں سرگوشیاں شروع ہو جاتی ہیں۔ گھر سے نکلتے ہوئے اگر بہن کے سر سے دوپٹہ سرک جائے تو بھائی کے ماتھے پر شکن آجاتی ہے۔ پی ٹی سی ایل پر رانگ کال یا موبائل فون پر مسڈ کال آگئی تو گویا باپ کے ہاتھوں بیٹی کی شامت آگئی۔ جی ہاں یہ وہ معاشرہ ہے جہاں آپ کا بھائی کسی کے ساتھ رات گذار کرتو آسکتا ہے لیکن آپ اپنے منگیتر سے فون پر بات کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتیں۔

قندیل بلوچ کی اپ لوڈ ہونے والی آخری وڈیو کے مناظر تو ہم سب کے ذہن پر نقش ہوگئے مگر ہم میں سے کتنے لوگ جانتے ہیں کہ قندیل بلوچ نے اپنے کیرئر کا آغاز نعت گوئی سے کیا تھا اور اچھی آواز ہونے کی بناء پر نعتیں پڑھتی بھی رہی۔ مگر افسوس کہ سر پر آنچل ڈالے کسی دینی چینل پر اس کام کو جاری رکھنے سے اسے معاشی طور پر آسودگی نہ مل سکی۔ ویسے بھی خوش الہانی سے نعت گوئی کرنے والی کی پذیرائی کون کرتا کیونکہ میرے اور آپ کے بھائیوں کی بڑی تعداد سوشل نیٹ ورکس اور انٹرنیٹ پر کچھ مخصوص ٹیگس کی مدد سے سنی لیون، جیکولین فرنانڈس، راکھی ساونت، زرین خان، وینا ملک یا متہیرا جیسی بے باک حسیناؤں کی تصاویر اور بولڈ وڈیوز کو ڈھونڈ کر دیکھتی ہے اور پسند کرتی ہے۔ قندیل جان چکی تھی کہ اسے دولت اور شہرت صرف معاشرے کی بھوکی نظریں ہی دے سکتی ہیں، اس کی آواز اور اس کا ٹیلنٹ نہیں۔ جلد ہی اسے یہ بھی پتہ چل گیا کہ وہ سوشل میڈیا پر آخر رات بارہ بجے کے بعد ہی کیوں ٹرینڈ کرتی ہے؟

آج سے ٹھیک دو ہفتہ قبل ایک قندیل تو بجھ گئی مگر ملک کی ان گنت غیر محفوظ خواتین کے دلوں میں تحفظ کے ارمان کا دیا جلا گئی جو اپنوں کے ہاتھوں لٹ رہی ہیں، پٹ رہی ہیں، رسوا ہو رہی ہیں، مر رہی ہیں۔ عنبرین ریاست، ماریہ صداقت اور زینت رفیق جیسے غیر معروف نام تو ہم سب بھلا ہی چکے ہوں گے جو اپنوں کی سفاکی کا نشانہ بن گئیں۔ لیکن قندیل بلوچ کے کردار اور سراپے کو فراموش کرنا اس معاشرے کے لوگوں کے لیے ناممکن ہوگا۔ آج بھی نیوز بلیٹن اور اخبارات میں قندیل کے نام کی بازگشت ہے۔

اسی بارے میں: ۔  نشست حلقہ 420 برائے انتخابی حلقہ 120

\"Qandeel4\"کیا وجہ ہے کہ قندیل کا ذکر اس کی موت کے بعد زیادہ ہے؟ الیکٹرانک میڈیا کے غیر ذمہ درانہ کردار کو تو دیکھیئےجس نے سوشل میڈیا پر اپ لوڈ ہونے والی ہر عام سی چیز پر بھی مکھن لگا کر ہاتھ صاف کرنا اپنا شیوہ بنا لیا۔ قندیل بلوچ کے کردار اور قابل اعتراض زندگی کا ڈھول میڈیا گذشتہ ماہ مسلسل پیٹتا رہا جس سے اس کے گھر والے ہرگز بے بہرہ نہیں تھے۔ وہ جانتے تھے کہ اس کی کمائی جو گھر کا چولہا جلا رہی ہے، بھائیوں کی جیب گرم کر رہی ہے، اس کا ذریعہ کیا ہے؟ قندیل کے ہوشربا وڈیو سے اس کی برادری، محلے اور گھر میں اتنی کھلبلی نہیں مچی تھی جتنی مولوی عبدالقوی کے ساتھ تصاویر کے معاملے نے مچائی۔ متواتر ہر گھنٹہ ہر چینل کی سرخیوں میں یہ خبر چٹ پٹی لفاظی کے ساتھ ٹاپ پر رہی۔ قندیل ہر گھر میں موضوع بحث بن گٰئی۔ واٹس ایپ کے یوزرز یکسوئی کے ساتھ اس کی اپڈیٹس شئیر کرتے رہے۔ یہاں تک کہ ٹوئٹر پر ماڈل اور مفتی دونوں کے ٹرینڈز چھا گئے۔ پھر سابقہ شادیوں، شوہر اور بچے کی خبر اور تصاویر گرم مصالحہ بنی اور مقتولہ کی اصل شناخت کے دستاویزات حاصل کر کے تو ہر چینل ایک دوسرے پر بازی لے گیا۔ واہ میڈیا واہ! آپ نے تو اتنا وقت ملک دشمن بھارتی جاسوس کل بھوشن یادوو کو بھی نہیں دیا تھا، اسے کیوں نہ اس کے انجام تک پہنچایا؟ کیونکہ مرد کی خبروں میں وہ حدت محسوس نہیں ہوتی! اس عورت نے اپنی عصمت اتنی بار نہیں پیچی ہوگی جتنی بار ہمارے میڈیا نے اس کی خبریں بیچی ہیں۔ پرائم ٹائم کے ٹاک شوز میں شرفاء، علماء اور تماش بینوں کا پینل سیلفی کیس پر روشنی ڈالتا رہا۔ چائے کے کپ ہاتھ میں تھامے علماء قندیل کی عمران خان سے شادی کی پیش گوئیاں کرتے رہے۔ ناظرین جہاں قندیل کی جھلک دیکھتے ان کی نظریں اور توجہ وہیں اٹک جاتی۔ مفتی صاحب جو اس معاملے میں فساد کی جڑ ثابت ہوئے مفت میں مشہور ہوگئے۔ خوبرو ماڈل سے ملاقات کو تفصیلی طور پر فخر سے بیان کرتے رہے۔ وہ ہوتے کون ہیں کسی ماڈل گرل کو پورے روزے رکھوانے والے؟ قندیل کو اپنی بخشش کے لیے کم از کم اس مولوی کی معافی درکار نہیں۔ یہ قندیل بلوچ کے اپنے الفاظ تھے کہ ہمارا میڈیا ریٹنگ کا بھوکا ہے۔ قندیل کی خبریں بھوکے میڈیا کے لیے ہڈی ثابت ہوتی رہیں۔ اسی میڈیا نے بالآخر اسے فوزیہ عظیم کی شناخت دے کر مختصر لباس میں نہیں بلکہ مکمل کفن میں دفنا کر دم لیا۔

اب ذرا قتل کیس کی طرف آجائیں۔ سنا ہے کہ غیرت کے نام پر قتل پر قانون سازی ہوگی۔ اینٹی ریپ بل اور غیرت کے نام پر قتل کا بل قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی میں منظوری کے بعد پارلیمنٹ میں پیش ہوگا۔ نام نہاد جاگنے والی غیرت نجانے کٹہرے میں کب کھڑی ہوگی؟ گرفتار ملزم وسیم نے جسمانی ریمانڈ کے دوران اعتراف جرم کر لیا اور اپنے کزن اور بیرون ملک مقیم بھائی کو بھی شامل جرم قرار دے دیا۔ سمجھ سے باہر ہے کہ اصل مجرم ہاتھ آنے کے باوجود پیشی پر پیشی اور بیانات کے تانتوں اور تفتیشی عمل کو طول دینے کی کیا ضرورت ہے؟ سنا ہے کہ مقتی قوی کے بیان کو بھی قانون نظر انداز نہیں کرے گا۔ کیا ہی اچھا ہو کہ تفتیشی مراحل جلد مکمل کر کے قانون سازی کرلی جائے اور مجرم کو کڑی سزا سے نوازا جائے تاکہ اب کسی غیرت مند کی غیرت جاگنے سے قبل اس کی ہمت دم توڑ جائے اور مزید زندگیاں قتل جیسے غیر انسانی فعل سے بچ جائیں۔

اسی بارے میں: ۔  ہمارا نظام تعلیم اور طبقہ بندی

\"samia\"ایک کیس کی گتھی سلجھنے میں نہیں آتی کہ قانون کی چوکھٹ کو ایک نیا قصہ مل جاتا ہے۔ چند روز سے جہلم میں پراسرار طور پر قتل ہونے والی پاکستان نژاد برطانوی خاتون سامعہ شاہد کا کیس بھی میڈیا کی زینت بنا ہوا ہے۔ مقتولہ کے خاوند کے بیان کے مطابق اس کی اہلیہ سامعہ کے قتل میں مقتولہ کے اہل خانہ اور سابقہ شوہر کا ہاتھ ہے جو اس کی دوسری شادی سے ناخوش تھے۔

خدارا لڑکیو! اب ہوش کرو! تم اکیسویں صدی میں پنپنے والے ایک غیرت مند معاشرے کی پیداوار ہو۔ یہاں اگر کسی مرد کو ہیلو ہینڈسم کہہ کر مخاطب کرو گی تو سب مڑ کر تم کو دیکھیں گے۔ کسی مرد سے مصافحہ کیا تو اگلے روز وہ تمھیں گلے لگانے کی کوشش کرے گا اور اگر تم بنا دوپٹہ آفس چلی آئیں تو واپسی پر تم ساتھ جانے کے متمنی حضرات کی آفرز وصول کرو گی۔ کسی کو پروپوز کیا تو بے حیا کہلاؤ گی۔ قندیل بلوچ صرف دو سال میڈیا کے پردے پر روشن رہی مگر بہت بھرپور اور خودداری کے ساتھ جی گئی۔ نہ اپنے اچھے کی فکر نہ دوسرے کے برے کا خیال۔ خود تو خوش تھی یا نہیں اس کو سراہنے اور اس کے سراپے کے خدوخال کو داد دینے والے اس سے کافی خوش تھے۔ کوئی اور سکون میں ہو یا نہ ہو آج اس کے ضعیف والدین اس سکون کے ساتھ سو سکتے ہیں کہ اب کبھی کوئی ان کی بہادر بیٹی کو میلی آنکھ سے نہیں دیکھ سکے گا۔ اب وہ خدا کی پناہ میں ہے جہاں نہ اسے کوئی دیکھ کر تنقید کرسکتا ہے اور نہ اس سے محظوظ ہوسکتا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

2 thoughts on “قندیل اور اب سامعہ – غیرت مند معاشرے کی شفاف جھلک

  • 31-07-2016 at 2:03 pm
    Permalink

    بہت ہی شاندار تحریر ہے۔۔ موضوع پر سیر حاصل بحث کی ہے مصنفہ نے۔۔ اس آئنے میں اپنی شکل دیکھ کر ہم مردوں کو شائد تھوڑی سی شرم آئی جائے۔۔ لیکن امید کم ہے اس کی کیوں کہ شرم و حیا جیسی خوبیاں تو ہم نے صرف عورت کے لیے مخصوص کر رکھی ہیں۔۔

  • 31-07-2016 at 6:11 pm
    Permalink

    The writer ought to be aplauded for being so brave exposing the hypocracy of our culture and the media doing little to high light the downside of the notion of ‘hiya’ held in our wrongful traditions. Women must not be treated any inferior than men. They must be set free of men’s chains to use them as sex objects and baby producing machine.

Comments are closed.