ترکی – مارشل لا تاریخ اور سیاست


صہیب سلمان
\"Shoaibترکی کے سیاسی نظام میں فوج کو جو منفرد کردار حاصل ہے وہ فوج کا جمہوری کردار ہے آپ کو ترکی میں فوج کے کردار کو سمجھنے کے لئے ما ضی میں جانا ہوگا۔
ترکی کی سیاست میں فوج کے کردار کا آغاز مصطفےٰ کمال پاشا اور عظمت انونو کے ادوار میں ہوا دونوں رہنماء ترکی کے بلند قامت فوجی رہنماء تھے جنہوں نے ترکی کی آزادی اور اس کی مضبوط بنیادوں کو استوار کرنے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔

ترکی کی سیاست میں فوج کے جمہوری کردار کی سب سے انوکھی اور دلچسپ بات تو یہ ہے کہ آئین کی دفعہ 122 کے تحت کابینہ کو صدر مملکت کے زیرقیادت ہونے والے اجلاس میں، نیشنل سیکیورٹی کونسل کی سفارش پر آئینی طور پر ملک میں کلی یا جزوی طور پر چھے ماہ کی مدت کے لیے  مارشل لا لگانے کا حق حاصل ہے۔ نیشنل سیکیورٹی کونسل میں صدر مملکت، منتخب وزرا اور فوج کے چیف آف سٹاف شامل ہوتے ہیں۔

مصطفےٰ کمال پاشا اور عصمت انونو جیسے ترک جرنیلوں نے اصلاحات کے ذریعہ ترکی میں جدت پسندی کو متعارف کروایا۔ ترکی میں سیکولرازم کی بنیاد ترک فوج نے رکھی تھی۔ کمال اتاترک کی وفات کے بعد اس بات کا امکان تھا کہ ترکی میں اسلام پسند قوتیں متحد ہوکر ترکی کے سیکولر تشخص کو دوبارہ اسلامی رنگ دینے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

1950 اور 1957 کے الیکشن میں حکومتی پارٹی کی شکست کے بعد ترکی میں ڈیمو کریٹک پارٹی کو کامیابی حاصل ہوئی جس نے ترکی میں کمال ازم کو پس پشت ڈال کر اسلام کے متعلق لچکدار رویہ اپنانا شروع کردیا۔ یہ تبدیلی ترکی فوج کو ہرگز قابل قبول نہ تھی اور 1960ء میں جنرل جمال گرسل نے جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر ملک میں مارشل لاء لگادیا۔

اسی بارے میں: ۔  خوشامد علمِ دریاؤ ہے

1961 میں جنرل جمال گرسل نے آئین میں نیشنل سیکیورٹی کونسل کے نام سے ایک ادارہ متعارف کروایا جس کی روح سے ترک فوج کو ترکی کے سیاسی نظام میں آئینی کردار حاصل ہوا۔

1973ء میں صدارتی انتخابات میں فوج اور سیاسی جماعتوں کے درمیان ایک تنازع کھٹرا ہوگیا۔ فوج صدارتی انتخاب میں جنرل فاروق گرولر کو صدر بنانا چاہتی تھی جبکہ سیاسی جماعتیں اپنا صدر منتخب کرنا چاہتی تھیں۔ ترک فوج نے پنا لوہا منواتے ہوئے جنرل فاروق کی جگہ جنرل فہر کورو کو صدر منتخب کروایا۔
1977ء کے انتخابات میں سلیمان ڈیمرل کی جسٹس پارٹی نے حکومت بنائی لیکن حالات خراب ہونے کی وجہ سے مارشل لاء لگا دیا۔
1982ء میں جنرل کنعان ایورن نے ایک نیا آئین متعارف کروایا اس آئین کی روح سے ترکی میں فوج کے سیاسی اور آئینی کردار میں مزید اضافہ ہوا۔
خلافت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد سے لے کر اب تک ترکی پر فوج کا کنٹرول ہے۔ وقتی طور پر طیب اُردوان آواز پر عوام باہر ضرور نکلی ہے لیکن فوج کی گرفت ختم نہیں ہوئی۔ فطری طور پر جس چیز کو جتنا دبا یا جائے وہ اُتنی ہی اُبھرتی ہے اس لئے طیب اُردوان کو چاہئے کہ فوج کے جرنیلوں اور فوجیوں کو سزا دینے کی بجائے اُن کے ساتھ بیٹھ کر بات چیت کرے کہ اُنہوں نے بغاوت کیوں کی اس کے پیچھے کیا بات تھی اور بغاوت کی نوبت کیوں آئی۔ بجائے اس کہ ترکی کو ترقی کے راستے سے ہٹانا اور فوج جیسے اعلیٰ ادارے کو تباہ کرنا اچھی بات نہ ہوگی۔ طیب اُردوان کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چائیے کہ اگر اس بغاوت کا مثبت حل نہ نکالا گیا تو یہ خطرہ طیب اُردوان کے سر منڈ لاتا رہے گا۔

اسی بارے میں: ۔  بہار آئی تو کُھل گئے ہیں .... حساب سارے!

آئیے اب پاکستانی جمہوریت کے دیوانوں کی بات کرتے ہیں۔ یہ ترکی کی عوام کی طرف سے فوجی بغاوت کو کچلنے پر بہت خوشی کا اظہار کر رہے ہیں جبکہ پاکستان میں بھی اب تک چار مارشل لا لگ چکے ہیں اور جتنی ترقی آمریت کے دور میں ہوئی ہے اس کی مثال نہیں ملتی جبکہ اس کے بر عکس جمہور ی دور میں کرپشن اور لاقانونیت بڑھی ہے۔ جمہوریت کے چیمپینوں کو ڈیوڈ کیمرون کی طرح ریفرنڈم میں شکست کے بعد استعفیٰ جیسی مثال پر عمل کرنا چائیے۔ تاکہ جمہوریت پروان چڑھ سکے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔