لاہور پریس کلب کے انتخابات


mazaheer-598x400دیکھئے دو مہان ساونت پہلوان جب اکھاڑے میں اترتے ہیں تو ایک کو تو چاروں شانے چت ہو نا پڑتا ہے ۔قیادت و سیادت کے جمہوری کھیل میں شکست کے ماہتاب اور جیت کے آفتاب کے طلوع و غروب کی کہانی پرانی ہے ۔عالمِ انفس و آفاق میںگردشِ ایام کے قیام کو دوام کہاں کہ تبدیلی کائنات کی رگ رگ میں سرایت کئے ہوئے ہے۔کامیابی و کامرانی اور ناکامی و نامرادی ندی کے دو کناروںکی مانند ساتھ ساتھ چلا کرتی ہے۔ ادبار و اقبال اور عروج و زوال کا ازل سے ساتھ رہا ہے ۔
لاہور پریس کلب کے سالانہ الیکشن میں ہار جیت کی داستاں اس کے سوا کیا ہے کہ کبھی کے دن بڑے اور کبھی کی راتیں ۔انتخابی نتائج سے قبل دونوں پارٹیوں پرکبھی دھوپ کا سماں اور کبھی چھاو¿ں کا گماں رہا ۔فریقین و طرفین اور ان کے ناصرین و معاونین نے میدان مارنے کے لئے اپنی اپنی سی سعی بلیغ کی او ر میدان انہی کے ہاتھ رہا جن کے مقدر نے محبت کی ۔جرنلسٹ گروپ کے وعدوں اور دعووں کو تو اب بھول بسر جایئے کہ وہ ہوا ہوئے اور پروگریسو پینل کے بیچے ہوئے سپنے یاد رہیں کہ ان کی تعبیر ابھی باقی ہے ۔فاتح گروپ کا بنیادی موقف اور اصولی مقدمہ یہی تھا کہ جعلی ممبر سازی کو منسوخ کرنا ہے ….یہی خواب تھا جو ووٹ لینے کے لئے فروخت کیا گیا اور اب دیکھا چاہئے کہ کس میں برتا اور بوتا ہے جو خواب کی تجارت کرنے والوں سے تعبیر مانگے ۔
30دسمبر کو الحمرا ہال میں بدنظمی ،ہلڑ بازی اور جعل سازی کا منظر مات کھانے والوں کے جبڑوں سے فتح کھینچ کر لے گیا …. یاں پھر 17جنوری کو زمانہ قیامت کی چال چل گیا ۔اس محدود مدت کے مابین فریقین نے تھوڑی بہت سوجھ بوجھ اور کلمہ کلام سے کام لیا ورنہ سخت خدشہ اور وسوسہ تھا کہ کہیں پریس کلب کا راستہ عدالت سے ہو کر نہ گزرے ۔قضیہ کبریٰ جعلی رکنیت کی عنایت ہے اور یہ معاملہ ہنوز چھانٹی کا محتاج اور فیصلے کا منتظر ٹھہرا۔
کمپیوٹر آپریٹر، ٹیوب ویل آپریٹر، ڈزائنر، کارپینٹر، ڈینٹل ڈاکٹر، بنک منیجر یا دیگرریڑھی بان او رکوچوان کو ممبر بنانے میں بڑے بڑے نورانی صورت اور نیکو کار پردہ نشینوں کے نام آتے ہیں ۔کیسے کیسے حاجی اور نمازی ہیں کہ جن کے کہنے پر پریس کلب کی رکنیت دان کی گئی اور یہ سخاوت بارہا کی گئی اور دل کھول کر کی گئی ۔جیتنے والوں کی جیت کو اعتبار اور وقار تبھی ملے گاکہ وہ ہر جعلی رکنیت پرخطِ تنسیخ کھینچ ڈالیں….خواہ ان کی پشت پریا سفارش میںکتنے ہی اونچے مالکان و مدیران کے نام کیوں نہ آتے ہوں۔تصویر کا دوسرارخ بھی نگاہوں سے اوجھل نہ ہو کہ چپقلش و چشمک یا عداوت و مخاصمت میں کسی حق دار کی حق تلفی نہیںہونی چاہئے۔جب یہ طے ٹھہرا کہ پیشہ ور اخبارنویس اور عامل کارکنان ہی رکنیت کے سزا وار ہیں اور یقینا بس وہی ہیں….تو پھر ہر ایرے غیرے کو حق کے بغیر حصہ کیوں؟اہلیت کے بغیر منصب کی عنایت اور پروں کے بغیر پرواز میں مدد کیوں؟
جعلی ممبر سازی میں اقربا پروری کے علاوہ فنڈز کے حساب کتاب کے معاملات بھی شفاف کہاں اور درست سالانہ آمدن اور اخراجات بھی پردہ عدم میں ہیں۔پھر صحافیوں کی فلاح و بہبود اور تعمیرو ارتقا محض دو وقت کے کھانے اور چائے کے ایک چھوٹے سے کپ پر ہی موقوف و منحصر نہیں۔کتنے معاملات ہیں جو جیتنے والوںکی توجہ چاہتے ہیں،قلم گھسنے والوں کے کتنے مسائل ہیں جو سال ہا سال سے سرد خانے میں پڑے ہیں۔ہارنے والوں کو بھی دل چھوٹا نہیں کرنا اور جی نہیں جلانا کہ محض 11ماہ کی مسافت ہاتھ کی بالشت پر کھڑی ہے اور آپ پھر پلٹ کر آ سکتے ہیں ۔یہ امکانات کی دنیا ہے ،یہ ہار جیت کی زیست ہے اوراس میں کیا نہیں ہوتا!
الحمرا ہال میںپولنگ کے دوران کچھ دوستوں کے درمیان تلخیاں،رنجشیںاور شکوے شکایت ہوئے تھے …. بعضوں کو یقین کامل اور بہتوں کو گماںغالب کہ اب سب کے سب اپنے سینے سے کینے نکال باہر کریں گے ۔ظاہرو باہر ہے کہ تمام رفیق کار ایک ہی قبیلے کے فرد اورایک ہی کارواں کے مسافر ہیں۔یہ تسلیم کرنے میں تامل و تردد کیسا اور کیونکر کہ کسی کی ہار یا جیت کسی کی انا کا مسئلہ یا تفخر کا شملہ نہیں بننی چاہئے ۔پریس کلب کے یہ پہلے الیکشن تھے نہ ہی آخری اوریہ کہ حیات اور کائنات بہت وسیع ہے ۔ابھی بہت سوں کو اپنے حصے کے غم دیکھنا باقی ہیں۔فاتح فریق کو آگے بھی ووٹروں اور سپورٹروں کی ضرورت ہے بے پایاں اور مفتوح یاروں کو تو حامیوں اور ساتھیوں کی ضرورت ہے اس سے بھی فراواں۔کیا عجب کہ کل جب رن پڑے تو ترتیب الٹی پڑی ہو ۔سب نے یہیں رہنا اور گھر سے نکل کر اپنے دوسرے گھر پریس کلب آنا جانا ہے ۔کون ساگھر ہے جس میں بے ضابطگیاں،کجیاںاور کمیاں کوتاہیاںنہیں ہوتیں…. عالم و عاقل پر گھر کو سنوارنے اور نکھارنے میں لگے رہتے ہیں ۔مکین ہی مکان کی مرمت کیا کرتے ہیں کہ جبرو قہر کے سموں میں یہی چھت ان کے لئے راحت اور رحمت کا با عث ہوتی ہے ۔پریس کلب صحافیوں کا گھر بھی ہے اور ڈیرہ بھی کہ یہاں منڈلی جمتی ہے ….پرے کے پرے یہیں جمتے ہیں۔ جھتے کے جھتے یہیں بیٹھتے ہیں۔ ایک ٹیبل پر جرنلسٹوں کا جمگھٹا لگتا ہے تو ساتھ ہی دوسرے پر پروگریسوکے لوگ براجمان ہو تے ہیں۔یہاں یا ر لوگ ہنستے مسکراتے ،لڑتے جھگڑتے ،غیبت ،چغل خوری اور لگائی بجھائی کرتے ہیں اور کہیں کہیں کوئی تعریف و تائید کرتا بھی پایا جاتا ہے ۔شملہ پہاڑی پر پریس کلب اور اس کا مرکزی دروازہ…. واللہ یہ شاید واحد دروازہ ہو جہاں شیر بھی اسی راستے سے اندرآتا ہے اور بکری بھی ۔اس کے گھاٹ پر تو خیر ہر روزباگھ بکری ایک ساتھ پانی پیتے ،کھاتے پیتے اور چرتے چگتے دیکھے جاتے ہیں۔
حرفِ آخر!الیکشن کروانے کے سلسلے میں کمیٹی نے جو بہترین اور احسن ترین انتظامات کئے …. اس پر تمام اراکین کی تعریف و تحسین کی جانی چاہئے کہ یہ اس کے سزاوار ہیں ۔اور جن لائف ممبران نے بے لوث اور بے غرض چل کر آ کر دل چسپی اور شادمانی سے ووٹ کاسٹ کئے …. ان کی چھوٹوں پر نوازشیں ،عنایتیںاور محبتیں اس سے بھی سوا !


Comments

FB Login Required - comments