محبوبہ مفتی اور برہان وانی


\"edit\"مقبوضہ کشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے 8 جولائی کو مقبول نوجوان کشمیری لیڈر برہان وانی کی شہادت کو اتفاقیہ امر قرار دے کر یہ واضح کرنے کی کوشش کی ہے کہ ان کی حکومت اس قتل کی ذمہ دار نہیں تھی۔ خبروں کے مطابق کل وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ کے ساتھ ٹیلی فون گفتگو میں محبوبہ مفتی نے پاکستان کے ساتھ مذاکرات کرنے اور حریت سمیت کشمیر کے تمام فریقوں کے ساتھ سیاسی ڈائیلاگ شروع کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ تین ہفتے گزرنے کے باوجود مقبوضہ کشمیر میں حالات معمول پر نہیں آسکے ہیں اور عوام کا احتجاج جاری ہے۔ اس صورت حال میں بھارتی رائے عامہ اور میڈیا کے بعد اب سیاسی قیادت بھی اختلافات کا شکار دکھائی دیتی ہے۔

سری نگر اور نئی دہلی کے حکمرانوں کے اختلافات بھی اب کھل کر سامنے آنے لگے ہیں۔ حالانکہ مقبوضہ کشمیر میں مخلوط حکومت قائم ہے جس میں بھارتیہ جنتا پارٹی BJP محبوبہ مفتی کی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کے ساتھ مل کر حکومت کررہی ہے۔ اس سے پہلے یہ خبریں سامنے آتی رہی ہیں کہ بھارت کی رائے عامہ کشمیر میں ہونے والے مظالم کی وجہ سے سراسیمگی کا شکار ہے اور لوگوں کی بہت بڑی تعداد طاقت کے زور پر وادی کے لوگوں کو دبانے کی پالیسی کو غلط قرار د یتی ہے۔ جبکہ دوسری طرف انتہا پسند ہندو تنظیمیں اس تحریک کی ذمہ داری پاکستان پر عائد کرتے ہوئے حکومت سے ذیادہ سخت رویہ اختیار کرنے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔ یہ اختلاف رائے بھارتی میڈیا میں بھی نمایاں طور سے دکھائی دیتا ہے۔ بعض میڈیا ہاؤسز اور صحافی بھارتی سیکورٹی فورسز کے ظلم و جبر کو انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی سمجھتے ہوئے مقبوضہ کشمیر میں فوری سیاسی حل کی بات کرتے ہیں، جبکہ دوسری طرف میڈیا کا دوسرا گروہ کشمیریوں کے جائز مظاہروں کو اشتعال انگیزی اور بھارت دشمنی قرار دیتے ہوئے ، ان مظاہرین کی حمایت میں بولنے والے صحافیوں پر بغاوت اور ملک سے غداری کے مقدمے چلانے کی بات کر رہا ہے۔

بھارت کے وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ 3 اگست کو سارک کانفرنس میں شرکت کے لئے اسلام آباد آرہے ہیں۔ اس حوالے سے جو خبریں سامنے آئی ہیں ، ان کے مطابق بھارتی حکومت کے نمائیندے اس موقع پر برہان وانی کو شہید قرار دینے پر پاکستان کے خلاف مؤقف اختیار کرنے کی کوشش کرنے والے ہیں۔ وہ اس طرح یہ واضح کرنے کی کوشش کریں گے کی حزب المجاہدین کے کمانڈر کو شہید کہہ کر پاکستان دراصل دہشت گردی کی حمایت کا ثبوت دے رہا ہے۔ تاہم محبوبہ مفتی کی طرف سے اس اعتراف کے بعد پاکستان کے خلاف الزام تراشی آسان نہیں ہوگی کہ برہان وانی پر حملہ غلط فہمی کا نتیجہ تھا اور انہیں8 جولائی کو ہونے والی کارروائی کے وقت یہ پتہ نہیں تھا کہ جس گروہ کے خلاف فوجی کارروائی ہونی ہے ، اس میں برہان وانی بھی شامل ہے۔ محبوبہ مفتی کا کہنا ہے کہ اگر انہیں یہ خبر ہوتی تو وہ برہان کو ایک موقع اور دیتیں۔

یہ بیان اس بات کا اظہار ہے کہ برہان وانی پر حملہ اور انہیں شہید کرنے کا فیصلہ غلط تھا۔ اس پس منظر میں بھارتی حکومت کے لئے اب پاکستان کو اس معاملہ میں مورد الزام ٹھہرانا آسان نہیں رہے گا۔ اگرچہ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے سیاسی مخالفین نے جن میں نیشنل کانفرنس کے لیڈر اور سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ بھی شامل ہیں، محبوبہ مفتی کے بیان کو دوغلا پن اور دھوکہ دہی قرار دیا ہے لیکن بھارت کے زیر قبضہ کشمیر اور نئی دہلی کے حکمرانوں کے درمیان موجودہ مظاہروں کے حوالے سے سامنے آنے والے اختلافات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ کشمیری عوام کی تحریک کو آذادی کی خواہش نہ ماننے والے بھی جانتے ہیں کہ کشمیری بھارت کے استبداد کو قبول نہیں کرتے اور اس خطہ کو بھارت کا اٹوٹ انگ قرار دے کر مسئلہ کو طے شدہ قرار دینے کی پالیسی خود کو دھوکہ دینے سے ذیادہ کوئی حیثیت نہیں رکھتی۔

بھارت کے وزیر اعظم اس وقت کشمیر پالیسی اور پاکستان سے تعلقات کے حوالے سے پارٹی کی انتہا پسندوں کے زیر اثر ہیں۔ تاہم اگر انہیں اپنی اقتصادی پالیسیوں کو عملی جامہ پہنانا ہے اور دنیا میں حاصل کی گئی اچھی شہرت کو برقرار رکھنا ہے تو انہیں جلد از جلد کشمیر کے لیڈروں اور پاکستان کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنا ہوگا۔ اب تو مقبوضہ کشمیر میں بی جے پی کی حلیف پارٹی کی لیڈر اور وزیر اعلی بھی یہی بات کہہ رہی ہیں۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 622 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali