جھنڈے جلانے کا مقابلہ نہ کریں


\"edit\"مقبوضہ کشمیر میں عوام کی تحریک آزادی کے متوالوں کے خلاف بھارتی سکیورٹی فورسز کے مظالم نے ایک بار پھر پاکستان اور بھارت کے درمیان محاذ آرائی کو تیز کر دیا ہے۔ پہلے پاکستان کی طرف سے برہان وانی کو شہید قرار دینے پر بھارتی حکومت سیخ پا ہوئی، پھر وزیراعظم نواز شریف نے آزاد کشمیر میں انتخابات جیتنے کے بعد ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے ’’کشمیر بنے گا پاکستان‘‘ کا نعرہ بلند کیا تو بھارت کی وزیر خارجہ تلملا کر رہ گئیں اور جوابی وار کے طور پر انہوں نے دعویٰ کیا کہ کشمیر تا قیامت پاکستان کا حصہ نہیں بن سکتا۔ سیاسی سطح پر بیان بازی کی حد تک تصادم اور نعرے بازی کے مقابلے کی اس صورتحال کے علاوہ بھارتی میڈیا بھی کشمیر میں فوج کی طرف سے بے دریغ اسلحہ کے استعمال اور معصوم شہریوں پر فائرنگ کرنے اور چھروں والے کارتوس چلانے کے سوال پر دو گروہوں میں تقسیم ہو چکا ہے۔ لیکن سب سے خطرناک صورتحال یہ ہے کہ دونوں طرف کے مذہبی گروہ کشمیری عوام کی اس جدوجہد کو اپنے طور پر انتہا پسندی کے فروغ اور ایک دوسرے کے خلاف نفرت پھیلانے کےلئے استعمال کر رہے ہیں۔ اس طرح پاکستان کے شہروں میں بھارتی اور ہندوستان کی گلیوں میں پاکستانی پرچم کو نذر آتش کرنے کا مقابلہ شروع کر دیا گیا ہے۔

جھنڈے جلانے کی یہ مقابلہ بازی فوری طور پر بند کرنے کی ضرورت ہے۔ کسی بھی قوم کا پرچم پوری قوم کی شناخت اور وقار کی علامت ہوتا ہے۔ پاکستان اور بھارت جیسے ملکوں میں سیاست میں جذبات کی فراوانی کے باعث مخالفین کے پتلے جلانے یا کسی سیاسی معاملہ پر کسی دوسرے ملک کو دشمن قرار دیتے ہوئے اس کے پرچم جلانے کا رواج بھی بہت پرانا ہے۔ لیکن ہر ہوشمند کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس قسم کی نفرت کے علامتی اظہار سے کوئی مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔ بلکہ نفرت مسائل کو سلجھانے کی بجائے انہیں پیچیدہ اور مشکل بناتی ہے۔ پاکستان اور بھارت اگر آزادی کے وقت میں موجود لیڈروں کے طرز عمل اور مصالحانہ رویہ کو اپنانے کی کوشش کرتے اور کسی اصولی موقف کے اظہار کےلئے نعروں اور نفرت آمیز لہجہ اختیار نہ کرتےتو آج برصغیر کی تاریخ تقسیم کے باوجود مختلف ہوتی۔ ناعاقبت اندیش گروہوں کی اشتعال انگیزی ہی کی وجہ سے 1947 میں تقسیم کے بعد نقل آبادی کے وقت خوں ریزی کا سلسلہ شروع ہوا اور دونوں ملکوں میں لاکھوں لوگوں کو بے رحمی سے تہہ تیغ کر دیا گیا۔ خوں ریزی کا یہ سبق نہ قائد اعظم محمد جناح نے دیا تھا، نہ ہی بھارت کے لیڈر مہاتما گاندھی یا پنڈت جواہر لال نہرو اس طریقہ سے باہمی مسائل حل کرنا چاہتے تھے۔ لیکن نئے ملک کے قیام نے بعض عناصر کےلئے ایسی انہونی صورتحال کو جنم دے دیا تھا کہ وہ اسے تبدیل کرنے کےلئے انسانی خون کو ارزاں کرنے پر تل گئے۔ تقسیم کا فیصلہ تو تبدیل نہیں ہو سکا لیکن اس درندگی سے دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان نفرت کی ایسی دراڑ حائل کر دی گئی کہ وہ آج تک پاکستان اور بھارت کے درمیان حد فاصل بنی ہوئی ہے۔ کوئی لیڈر اس دیوار کو گرانے اور تعلقات کو بحال کرنے کا حوصلہ نہیں کر پاتا۔

خون کی لکیر پر استوار ہونے والا تعلق بدستور نفرت کے حصار میں ہے۔ اب اس حصار کو توڑنے اور برصغیر کے قومی، اقتصادی ، سیاسی اور معاشرتی مفادات کو نفرت کی یرغمالی قوتوں سے نجات دلانے کی ضرورت ہے۔ یہ اسی وقت ممکن ہو سکتا ہے جب دونوں طرف کے لیڈر عوامی مقبولیت حاصل کرنے کے سادہ اور آسان راستے تلاش کرنے کی بجائے، اصولوں کی بنیاد پر مہذب لوگوں کی طرح بات چیت کرنے کی روایت کا آغاز کریں گے۔ موجودہ صورتحال میں بعض لیڈر سستی شہرت کے لئے مذہبی جنونی گروہوں کا تعاون حاصل کرنا معیوب نہیں سمجھتے۔ اس لئے پاکستان میں یہ عناصر لال قلعہ پر سبز ہلالی پرچم لہرانے کا اعلان کرتے ہوئے منہ سے جھاگ اڑاتے بھارت کے ترنگے کو نذر آتش کرتے ہیں تو بھارت کی سڑکوں پر ہندو انتہا پسند پاکستان کو دہشت گرد قرار دیتے ہوئے اپنی سرکار سے ہمسایہ ملک کو تہس نہس کرنے کا مطالبہ کرنے کے لئے پاکستانی جھنڈے کو آگ لگا کر یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے اسلام آباد فتح کر لیا۔ دونوں طرف کے کمزور اور بے بصیرت لیڈر اس صورتحال کو عوام کی جذباتی حمایت سمیٹنے کا آسان ذریعہ سمجھتے ہوئے دم سادھے رہتے ہیں۔ وہ یہ اندازہ کرنے کی صلاحیت سے محروم ہو چکے ہیں کہ ان انتہا پسند گروہوں کی نفرت انگیزی کی وجہ سے بھارت میں مسلمان اور پاکستان میں ہندو اقلیت شدید سماجی اور سیاسی دباؤ کا شکار ہوتی ہے۔ انہیں تعصبات اور اکثریت کے ظالمانہ رویہ کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وہ اپنے بنیادی حقوق سے محروم ہوتے ہیں۔ اس طرح دونوں معاشرے بتدریج انتشار اور توڑ پھوڑ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  جمہوریت کے زینے کا الٹا سفر

ایران میں 1979 کے انقلاب کے بعد امریکہ کی شاہ ایران کےلئے حمایت کی وجہ سے اسے ’’شیطان بزرگ‘‘ کا خطاب دیا گیا تھا، ملک میں امریکہ کے خلاف نفرت کا طوفان برپا کر دیا گیا۔ اسی وجہ سے انقلابی کارکنوں نے امریکی سفارتخانے پر حملہ کر کے 52 امریکی سفارت کاروں اور شہریوں کو 444 روز تک یرغمال بنائے رکھا تھا۔ امریکہ سے دشمنی اور دوری کا یہ رشتہ تین دہائیوں تک چلتا رہا۔ بالآخر دونوں ملکوں کو مذاکرات کے ذریعے ہی معاملات کو درست کرنے کے کام کا آغاز کرنا پڑا۔ آج ایران مغربی ممالک کے ساتھ طے پانے والے معاہدے ہی کے نتیجے میں آہستہ آہستہ دنیا کے ساتھ از سر نو تعلقات استوار کر رہا ہے اور معاشی ترقی کی امید لگائے بیٹھا ہے۔ پاکستان میں بھی امریکہ کو سب برائیوں کی جڑ قرار دے کر سیاسی مظاہروں میں امریکی پرچم جلا کر غصے کا اظہار عام سی بات ہے۔ لیکن ملک کی حکومت کو اہم سفارتی امور طے کرنے اور مختلف شعبوں میں اعانت کےلئے مسلسل امریکہ ہی کی طرف دیکھنا پڑتا ہے۔ نفرت کا یہی اظہار بھارت کے حوالے سے بھی عام ہے۔ تاہم اب وقت آ گیا ہے کہ لیڈر سستی شہرت کے اس پرانے فرسودہ ہتھکنڈے کو ترک کریں اور شعور کی اس منزل تک عوام کی رہنمائی کی جائے جہاں یہ تفہیم عام ہو سکے کہ پرجوش نعرے لگانے ، دوسرے ممالک کے لیڈروں کی توہین کرنے، مغلظات بکنے اور دوسروں کے قومی پرچم نذر آتش کرنے سے کوئی سیاسی فائدہ حاصل نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس قسم کی چھچھوری حرکتیں تعلقات میں فاصلے پیدا کرنے کا سبب بنتی ہیں۔

مقبوضہ کشمیر میں عوام کی تحریک ایک جائز جدوجہد ہے۔ کشمیری عوام نے آزادی اور حق خود اختیاری کےلئے قربانی اور ایثار کی لازوال تاریخ رقم کی ہے۔ وہ اپنے علاقوں پر اپنی مرضی کے مطابق فیصلے کرنے کا حق حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ یہ کسی بھی قوم کا بنیادی حق ہے ۔ کشمیریوں کو بھی اس حق سے ہمیشہ کے لئے محروم نہیں کیا جا سکتا۔ 8 جولائی کو برہان وانی اور اس کے ساتھیوں کی شہادت کے بعد شروع ہونے والے احتجاج کا سلسلہ کشمیری عوام کی مایوسی اور غم و غصہ کا اظہار ہے۔ تاہم جس طرح بھارت کو اس احتجاج کو طاقت سے کچلنے سے گریز کرنے کی ضرورت ہے، اسی طرح پاکستان کو بھی انتہا پسند گروہوں کو اس موقع سے فائدہ اٹھا کر عوام کو گمراہ کرنے کا موقع نہیں دینا چاہئے۔

خاص طور سے یہ بات اس لئے بھی اہم ہے کہ اس وقت جو مذہبی و سیاسی جماعتیں کشمیر میں مظاہرین پر ظلم کو عذر بنا کر نعرے لگاتے ہوئے سڑکوں پر نکلتی ہیں اور بھارت کے پرچم جلا کر کشمیر آزاد کروانے کا اعلان کرتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ ان میں سے بیشتر پر جہادی ہتھکنڈوں کے ذریعے 80 کی دہائی میں مقبوضہ کشمیر میں مداخلت کرنے کا الزام ہے۔ اسی مداخلت کی وجہ سے اس وقت کشمیریوں کی تحریک کو شدید نقصان پہنچا تھا اور عالمی سطح پر اس کی پذیرائی میں کمی واقع ہوئی تھی۔ بھارت سفارتی کوششوں کے ذریعے یہ باور کروانے میں کامیاب ہو گیا تھا کہ مقبوضہ کشمیر میں تخریب کاری کرنے والے پاکستان کے روانہ کردہ کارندے ہیں جو بھارت میں انتشار پیدا کر رہے ہیں۔ ان عناصر نے جب مقبوضہ کشمیر میں پنڈتوں اور مندروں پر حملوں کا آغاز کیا تو صورتحال دگرگوں ہو گئی تھی۔ انہی عناصر نے بعد میں کشمیری عوام کی ہمدردی کا نعرہ لگاتے ہوئے بھارت میں دہشت گردی کا ڈول ڈالا۔ حافظ سعید اور مولانا مسعود اظہر پر دہشت گردی کے الزامات عائد ہیں۔ یہ لوگ حکومت پاکستان کی کمزوری کی وجہ سے اپنے خلاف عائد ہونے والے الزامات کا سامنا کرنے سے بچ رہے ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  نہ جنگ ضروری ہے، نہ جنگ ہو گی

پاکستان اس وقت دہشت گردی اور انتہا پسندی کی جس صورتحال کا سامنا کر رہا ہے، اسے پیدا کرنے میں ان عناصر کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ اسی طرح بھارت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے بھی جب ریاست اور ذمہ دار سیاسی جماعتوں کی بجائے مشکوک انتہا پسند گروہ خود ساختہ نمائندے بن کر زہر افشانی کرنا شروع کر دیں گے تو سفارتی سطح پر مواصلت اور مصالحت کا کام مزید مشکل ہو جاتا ہے۔ ان گروہوں کی موجودگی اور قوت کے عوامل اظہر من الشمس ہیں۔ ان پر مزید گفتگو کی بجائے حکومت پاکستان کو یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ایسے گروہوں کو مظاہروں اور میڈیا پروگراموں کے ذریعے کشمیر کے معاملہ اور بھارت کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ملک کی نمائندگی کا موقع دے کر خطے میں قیام امن کے راستے کو مسلسل مسدود کیا جا رہا ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ایسے خود ساختہ کشمیری عوام کے ہمدردوں کی نگرانی کا عمل سخت کیا جائے اور ان کی سرگرمیوں کو محدود کرنے اور جرائم میں ملوث لوگوں کو سزا دینے کا اہتمام کیا جائے۔ اس قسم کا اقدام کشمیری عوام کی جائز اور حقیقی جہدوجہد کے بارے میں بھارت کے منفی پروپیگنڈے کا پول کھول دے گا۔ یہی قدم کشمیری عوام کے حق خود اختیاری کا خواب پورا کرنے کے لئے اہم ترین پیش رفت بھی ثابت ہو سکتی ہے۔

اس کے برعکس اگر پاکستان بدستور ایسے گروہوں کو کشمیر کے بارے میں اپنے موقف کے نمائندہ کے طور پر قبول کرتا رہے گا تو یہ نہ صرف پاکستان کے مفادات کے خلاف قدم ہو گا بلکہ اس سے کشمیریوں کی جدوجہد بھی گہنا جائے گی اور بھارت کو اس کے بارے میں شبہات پیدا کرنے کا موقع ملتا رہے گا۔ پاکستانی عوام کو بھی یہ آسان بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اگر پاکستان میں درجن بھارتی پرچم جلائے جائیں گے تو بھارت میں انتہا پسند دو درجن پاکستانی جھنڈے نذر آتش کر کے حساب برابر کر دیں گے۔ کسی قوم کی عزت و وقار کے نشان کے ساتھ یہ سلوک کسی زندہ قوم کو زیب نہیں دیتا۔ اپنی عزت کروانے کےلئے دوسروں کی عزت کرنا بنیادی سنہری اصول کی حیثیت رکھتا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 683 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali

One thought on “جھنڈے جلانے کا مقابلہ نہ کریں

  • 01-08-2016 at 10:26 am
    Permalink

    کشمیر وہ مسئلہ ہے جس پر دونوں ممالک کے سیاست دانوں، فوج سمیت دیگر اداروں کی روزی روٹی چلتی ہے۔ نہ ہی پاکستان کے ارباب اختیار اس مسئلے کے حل میں سنجیدہ ہیں نہ ہی بھارتی۔ اور اختیارات کے زیادہ سے زیادہ حصول اور خود غرضی کی بھینٹ کشمیری عوام کو چڑھایا جارہا ہے۔
    مسئلہ کشمیر حل ہوگیا تو بھارت اور پاکستان کے درمیان امن ہوگا اور یہ دفاع پر بےدریغ خرچ کے بجائے عوام اور ملک کی فلاح پر لگائیں گے۔ فوج کے یہ مزے کم ہوں گے۔ سیاست دان اپنی جن نااہلیوں کو کشمیر مسئلے کے سائے میں چھپا لیتے ہیں پھر کسی سائبان کے پیچھے پناہ لیں گے؟ دونوں طرف کے وہ لوگ جنھیں اچھالنے کو بہت سا مواد مل جاتا ہے ان کا کیا بنے گا؟
    کوئی حل نہیں کرے گا یہ مسئلہ، افسوس

Comments are closed.