’’کیلاش‘‘ لوگوں کو تحفظ فراہم کیا جائے!


\"fazle’’کافرستان‘‘ ان تین وادیوں کا مشترکہ نام ہے جنھیں بمبوریت، رمبور اور بریر کے نام سے پہچانا جاتا ہے۔ کافرستان نام انہیں شاید ان مسلمانوں نے دیا ہے جن کے بیچ یہ اپنی مخصوص تہذیب و ثقافت، زبان اور قدیم مذہبی رسوم کے مطابق زندگی بسر کر  رہے ہیں۔ اس پورے علاقے کو کیلاش کے نام سے بھی پکارا جاتا ہے اور یہاں کے باسیوں کو کیلاشی کہتے ہیں۔ وادی بمبوریت چترال سے 36 کلومیٹر، وادی رمبور 32 اور وادی بریر 34 کلومیٹر کی مسافت پر واقع ہے۔ یہ تمام وادیاں نہایت خوب صورت ہیں۔ ان کے چاروں طرف بلند و بالا برف پوش چوٹیاں سر اٹھائے کھڑی ہیں لیکن ان تک پہنچنے والی سڑکیں نہایت خستہ اور ابتر حالت میں ہیں۔ پوری آبادی کے لیے طبی سہولتیں ناکافی اور تعلیمی ادارے محدود ہیں۔ کیلاشیوں کی زیادہ تر آبادی بلند پہاڑوں میں رہتی ہے۔ کچھ مکان پہاڑوں کے دامن میں واقع ہیں اور زیادہ تر لوگ کھیتی باڑی کرکے اپنے لیے رزق کا سامان مہیا کرتے ہیں۔ پہلے پہل یہاں جدید تعلیم کا کوئی تصور نہیں تھا لیکن اب ان کی نئی نسل تعلیم کے زیور سے آراستہ ہو رہی ہے۔ ان کی مجموعی آبادی پانچ ہزار تک بتائی جاتی ہے۔

کیلاشی لوگ زندگی گزارنے کا اپنا ایک خاص تصور رکھتے ہیں۔ یہ ہر دم خوش رہنے والے لوگ ہیں۔ ان کی زندگیوں میں مختلف روایتی تہواروں یا جشنوں کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔ یہ سال میں چار تہوار یا جشن مناتے ہیں۔

’’جوشی‘‘ کا تہوار موسم بہار کی آمد کی خوشی میں منایا جاتا ہے۔ یہ تہوار مئی کے اوائل میں تین دن تک جاری رہتا ہے۔ ’’اوچل‘‘ نامی تہوار گندم کی کٹائی کے موقع پہ منایا جاتا ہے۔ ’’پوڑ‘‘ کے نام سے تہوار پھل اور خصوصاً انگور اور اخروٹ توڑنے کے موقع پہ منایا جاتا ہے۔ ’’چتر ماس‘‘ یا ’’چاؤ موس‘‘ نامی تہوار دسمبر کے مہینے میں کافرستان بھر میں پورے تزک و احتشام اور بڑی عقیدت سے منایا جاتا ہے۔ یہ تہوار نئے سال کے آغاز کی خوشی میں منایا جاتا ہے۔ کیلاشیوں کے تمام جشنوں یا تہواروں میں ایک بات مشترک ہے۔ وہ یہ کہ وہ اپنے ہر \"2222\"تہوار میں اپنی مخصوص موسیقی اور رقص کو بڑی اہمیت دیتے ہیں۔ ان کی خواتین مخصوص روایتی لباس میں ملبوس ہوتی ہیں اور جب وہ ہاتھوں میں ہاتھ دیے دائرہ بناکر ایک خاص نعرے کے ساتھ رقص کرتی ہیں تو معلوم پڑتا ہے جیسے یہ اس جدید دور کے باسی نہ ہوں بلکہ ان کا یہ روایتی رقص دیکھنے والے کو سیکڑوں سال کے قدیم دور میں لے جاتا ہے۔ کیلاشی اپنے قرب و جوار سے ہمہ وقت خوشی کشید کرنے والے لوگ ہیں۔ خود بھی پُر مسرت رہتے ہیں اور اپنی سحر انگیز وادیوں میں آنے والے سیاحوں کو بھی خوش رکھتے ہیں۔ یہاں کے باسی نہایت مہمان نواز، انسان دوست اور امن پسند ہیں۔

ان کیلاشیوں کے بارے میں اکثر و بیشتر ایسی خبریں میڈیا میں سامنے آتی رہتی ہیں جن کی وجہ سے یہ خدشات سر اٹھا رہے ہیں کہ افغانستان کی سرحد سے متصل اور چترال کے قرب میں واقع ان کیلاش وادیوں کے مکینوں کے لیے کئی طرح کے خطرات پیدا ہوچکے ہیں۔ ان لوگوں کی اصل نسل کے بارے میں مختلف آراء پائی جاتی ہیں لیکن زیادہ تر مؤرخین اس بات پہ متفق ہیں کہ ان کا نسلی تعلق یونان سے ہے۔ جب مقدونیہ (یونان) کے سکندر اعظم دنیا کو فتح کرنے کی مہم پہ نکلا تو فتح کے جھنڈے گاڑتا ہوا جب افغانستان پہنچا تو اس کی فوج کے کچھ لوگ ان پہاڑی وادیوں میں مقیم ہوگئے۔ یہ لوگ یہاں دو ہزار سال سے رہتے چلے آ رہے ہیں اور ان کی مخصوص بودو باش اور طرزِ زندگی کو کبھی خطرات لاحق نہیں ہوئے تھے لیکن جب سے افغانستان اور پاکستان میں مذہبی انتہاپسندی کو فروغ ملا ہے، اس وقت سے ان کی پرامن وادیوں اور پرسکون زندگیوں میں طلاطم برپا ہوا ہے۔ کچھ عرصہ قبل تک افغانستان سے طالبان سرحد عبور کر کے کیلاش آتے تھے اور کیلاشیوں پر زبردستی اسلام قبول کرنے کے لیے دباؤ ڈالتے تھے جس کے بعد سکیورٹی فورسز نے سرحدی علاقوں میں حفاظتی چوکیاں قائم کر دی تھیں۔

قریباً ڈیڑھ ماہ قبل جب نویں جماعت کی ایک 14 سالہ کیلاشی طالبہ رینا نے اسلام قبول کیا تو اس کے ردِ عمل میں مسلمانوں اور کیلاشیوں کے مابین مسلح جھڑپیں ہوئی تھیں لیکن بعد ازاں مقامی انتظامیہ کی مداخلت سے یہ معاملہ رفع دفع ہو گیا تھا۔ تاہم مقامی کیلاش لوگوں نے شکایت کی تھی کہ بمبوریت میں چار سو کے لگ بھگ مسلمان دوسرے علاقوں سے آئے تھے اور ٹولیوں کی شکل میں گھوم پھر رہے تھے جس سے کیلاشیوں کے لیے خطرات پیدا ہوگئے تھے، مگر پولیس کی بھاری نفری کی موجودگی کی وجہ سے کوئی بڑا ناخوش گوار واقعہ رونما نہیں ہوا تھا۔ کیلاشیوں نے یہ بھی شکوہ کیا تھا کہ پولیس اس معاملہ میں ان پر دباؤ ڈال رہی تھی اور ان پر مقدمہ درج کرنے کی دھمکی دے رہی تھی۔

 \"128892563\"گزشتہ دن ضلع چترال میں پاک افغان سرحد کے قریب افغانستان کی طرف سے آئے ہوئے مسلح افراد نے کیلاش قبیلے سے تعلق رکھنے والے دو چراہوں کو اغوا کرنے کے بعد ہلاک کیا اور ان کے مال مویشی اپنے ساتھ لے گئے۔ بی بی سی کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ واقعہ بمبوریت کے علاقے ’’غاری‘‘ میں رات کے وقت پیش آیا ہے۔ مقامی لوگوں کے مطابق افغانستان کے صوبہ نورستان کی جانب سے کچھ مشتبہ افراد کی موجودگی کی اطلاع تھی۔ مقامی لوگوں نے بتایا کہ اس کے بعد حملہ آوروں نے ان چرواہوں پر ہلہ بول دیا جس پر تین چرواہے وہاں سے بھاگ گئے اور دو کو مسلح افراد بڑی تعداد میں بکریوں اور بھیڑوں سمیت لے گئے۔ ایسی اطلاعات ہیں کہ سرحد کے قریب جا کر مسلح افراد نے دونوں چرواہوں کو ہلاک کر دیا اور لاشیں وہیں چھوڑ کر فرار ہو گئے۔ ذرائع نے بتایا ہے کہ چرواہوں کو ذبح کیا گیا ہے لیکن سرکاری سطح پر اس کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ حملہ آوروں کی تعداد 30 سے 35 تک بتائی گئی ہے اور وہ جدید اسلحے سے لیس تھے جب کہ چرواہوں نے بارہ بور بندوقوں سے ان کا مقابلہ کرنے کی کوشش کی لیکن جدید اسلحہ کے سامنے وہ زیادہ دیر تک ٹھہر نہیں سکے۔ مقامی لوگوں کا کہنا ہے کہ جہاں یہ واقعہ پیش آیا ہے، سکیورٹی فورسز کی چوکیاں وہاں سے چند ایک کلومیٹر کے فاصلے پر ہیں۔ اطلاعات کے مطابق جب تک فائرنگ ہوتی رہی اور حملہ آور وہاں موجود رہے پولیس اور سکیورٹی فورسز کے اہل کار وہاں نہیں پہنچ سکے لیکن بعد میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہل کار وہاں پہنچ گئے تھے۔ اس سے قبل اگست 2012ء میں بھی اسی طرح کا واقعہ پیش آیا تھا جب افغانستان کے نورستان صوبے سے مسلح افراد کیلاش قبیلے کے چرواہے اور بڑی تعداد میں مال مویشی ساتھ لے گئے تھے۔ سکیورٹی اہل کار اس وقت بھی ان لوگوں کو کوئی تحفظ فراہم نہیں کر پائے تھے۔ شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ’’مالِ غنیمت‘‘ کے لالچ میں یہ سارے واقعات رونما ہو رہے ہیں۔

\"kailash\"پاکستان کی سرزمین اپنی تاریخی قدامت، تہذیب و ثقافت اور نسلی و لسانی تنوع کے لحاظ سے غیرمعمولی اہمیت کی حامل ہے۔ قدرت نے اسے خوب صورت لینڈ سکیپ عطا کیا ہے۔ سیاحت کے لیے جن لوازمات کی ضرورت ہوتی ہے، وطن عزیز میں وہ سب بہ درجہ اتم موجود ہیں۔ دنیا کی بلند و بالا چوٹیاں، خوب صورت قدرتی مناظر اور قدیم تہذیبی و ثقافتی تاریخی ورثہ سے مالا مال اس عظیم ملک کے اختیارات ایسے نا اہل اور بد عنوان لوگوں کے ہاتھوں میں ہیں جن کی وجہ سے پاکستان کا خوب صورت اور دمکتا ہوا چہرہ روز افزوں گہناتا جا رہا ہے۔ پورا ملک اور تمام اہل وطن ان نا اہل مقتدرین کی وجہ سے مذہبی شدت پسندوں اور دہشت گردوں کے یرغمال بن چکے ہیں۔ ایسے میں چترال کے قرب میں واقع کافرستان کی پرامن وادیاں اور ان میں رہنے والے قدیمی باشندے اپنی تہذیب و ثقافت اور قدیم مذہبی رسومات کی وجہ سے خصوصی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کا تہذیبی و ثقافتی تنوع اور انفرادیت  وطن عزیز کے لیے ایک گراں بہا اثاثہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ ملک پر جب دہشت گردوں اور شدت پسندوں کی یلغار نہیں ہوئی تھی تو ان علاقوں میں اندرون ملک اور بیرون ملک سیاح بڑی تعداد میں آتے تھے اور وہ ان وادیوں کے دل کش قدرتی مناظر کے علاوہ یہاں کی یکتا تہذیب و ثقافت اور قدیم تہواروں سے بھی لطف اندوز ہوتے تھے لیکن شدت پسندی کی جس وباء نے پورے ملک میں اپنے خونیں پنجے گاڑ رکھے ہیں، اس سے چترال اور کافرستان کی پرامن وادیاں بھی محفوظ نہیں رہ سکیں۔ کافرستان کے جو لوگ اپنی مرضی سے مذہب تبدیل کرنا چاہیں، وہ ایک الگ معاملہ ہے لیکن کسی کو حق حاصل نہیں کہ وہ ان لوگوں کو زبردستی مذہب تبدیل کرنے پر مجبور کرے۔ حکومت اور سکیورٹی اداروں کو کیلاش لوگوں کے عدم تحفظ کو دور کرنا چاہئے اور پاکستان کے اس منفرد علاقے اور اس کے مکینوں کو ان کی ہزاروں سال کی قدیم بودو باش اور منفرد تہذیب و ثقافت کے ساتھ ایک پُر امن زندگی کا تحفظ ترجیحی بنیادوں پر فراہم کرنا چاہئے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔