خدمت میں عظمت


\"khawajaآج کے اس نفسا نفسی کے دور میں انسان کا نظریہ کچھ بھی ہو اکثریت آپ کو ایسی ہی ملے گی جوترقی کے نام پر دولت، شہرت، اقتدار اور طاقت کی خواہش مند ہو۔ ہر کوئی یہ چاہتا ہے کہ وہ معاشرے میں اس قدر اونچا مقام حاصل کر لے کہ خدام اس کے آگے پیچھے پھریں، چہاردانگ عالم اس کا نام ہو اور وہ جو لفظ زبان سے نکالے فوراَ اس کی تکمیل کی جائے۔ لیکن یہ کوئی نہیں سوچتا کہ حقیقی عظمت کا راز کیا ہے۔ کبھی کبھی میرا ذہن اس سوال میں الجھ جاتا ہے لیکن بہت زیادہ سوچ بچار کے بعد میں یہی سمجھ پایا ہوں کہ عظمت کا راز خدمت میں پوشیدہ ہے۔ ہم بحیثیت انسان !مسلمان ہیں یا غیر مسلم ! لیکن کسی بھی تصور میں اگر خالق کائنات کی ہستی کو تسلیم کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ خالق کی ہستی کو اس قدر عظیم مانتے ہیں جس کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ آیئے دیکھئے !خالق کیا کرتاہے۔ انسانی تخلیق کا عمل ماں کے پیٹ سے شروع ہوتا ہے، بچے کا نو ماہ تک ماں کے پیٹ میں بظاہر حیاتیاتی ضابطوں کے خلاف پرورش پانا، پیدا ہو کر دنیا میں آنا، غذائی ضروریات پوری کرنے کے لئے ماں کے سینے سے دودھ کا چشمہ ابل پڑنا، پیدائش سے موت تک حفاظت و سائل کا مہیا ہونا یہ سب بندوں کی خدمت ہے جو اللہ(آپ اس ہستی کو اللہ کہیں، خداکہیں، گاڈ یا رام لیکن ہستی وہی ایک ہے) کے قائم کردہ نظام کے تحت جاری و ساری ہے۔ اللہ کے نظام میں ہر آدمی کے ساتھ بیس ہزار فرشتے ہمہ وقت کام کرتے ہیں۔ بیس ہزار فرشتوں کی مثال بیس ہزار CHIPSکی طرح ہے۔ یعنی ہرآدمی اللہ میاں کا کمپیوٹر ہے جس میں بیس ہزار چپس (CHIPS) ہیں۔ ایک چپ (CHIP) یا ایک کنکشن بھی کام نہ کرے تو پورے نظام میں خلل واقع ہو جاتا ہے۔ دنیا میں چھ ارب سے زائد انسان آباد ہیں۔ کھربوں کی تعداد میں دوسری مخلوق آباد ہے۔ اسی طرح عالمین میں انسانی شمار سے باہر اور بھی دنیائیں آباد ہیں۔ ان دنیاؤں میں بھی انسان، جنات اور فرشتے رہتے ہیں۔ انواع و اقسام کی مخلوقات جو ہم زمین پر دیکھتے ہیں۔ ان دنیاؤں میں بھی موجود ہیں۔

اللہ تعالیٰ نے یہ سارا نظام انسان کی خدمت گزاری کے لئے بنایا ہے۔ ہمارا مشاہدہ ہے کہ دنیا میں موجود ہر مخلوق، ہر شئے انسان کی خدمت گزاری میں مصروف ہے۔ انسان اعتراف کرے یا نہ کرے۔ اس بات کو مانے یا نہ مانے لیکن جب کبھی انسان اس بات پر غور کرتا ہے کہ یہ کائنات کیا ہے، زمین کیا ہے۔ چاند، سورج، ستارے، کہکشانی نظام کیوں قائم کئے گئے ہیں تو اِنر سے دل و دماغ سے، تفکر سے ایک جواب ملتا ہے کہ یہ پوری کائنات انسان کی خدمت گزاری میں مصروف ہے پانی کی خصوصیات اور اس کی خدمت گزاری ہمارے سامنے ہے۔ گیس، ہوا، سورج، چاند، ستارے سبھی انسان کی خدمت میں مصروف ہیں۔ ہر وہ چیز جس کی انسان کو کسی بھی حالت میں ضرورت ہے۔ زمین اپنے بطن سے پیدا کر رہی ہے اور تسلسل کے ساتھ پیدا کئے جارہی ہے۔ حالانکہ انسان خود کسی کے لئے کچھ نہیں کرتا بلکہ تمام چیزیں اس کی خدمت میں مصروف ہیں۔

انسان کے اندرونی نظام میں بھی یہی بات نظر آتی ہے کہ دل و دماغ، پھیپھڑے اور تمام اعضاءخدمت میں مصروف ہیں۔ جب کہ انسان یہ بھی نہیں جانتا کہ دل کی حرکت کیوں قائم ہے۔ کس بنیاد پر قائم ہے۔ رگوں میں خون دوڑنا، ایک توازن کے ساتھ حرارت کا برقرار رہنا، پیاس لگنا، پانی پینا، پانی کا سیراب کرنا، جسم کے اندر سے فاسد رطوبت اور فاسد مادوں کا اخراج، بھوک لگنا، کھانا کھانے کے لئے وسائل کی موجودگی اور مسلسل ان وسائل کا فراہم ہونا، اور یہ سب کچھ خالق نے انسان کےلئے کسی قیمت کے بغیر فراہم کیا ہے۔ لیکن اگر آپ کا کوئی ایک عضو یعنی دل، جگر یا گردے وغیر ہ کام کرنا چھوڑ دیں تو ڈاکٹر اس عمل کو بحال رکھنے کی جو قیمت طلب کرتا ہے وہ سوچ کر ہی انسان کے اوسان خطا ہو جاتے ہیں۔ جتنا زیادہ آپ گہرائی میں سوچیں گے اتنا ہی زیادہ آپ کے اوپر اللہ تعالیٰ کا یہ فضل کھل کر سامنے آ جائے گا کہ سب کچھ اللہ نے انسان کے لئے پیدا کیا ہے۔ اور انسان اس کائنات کے لئے کچھ بھی نہیں کرتا۔

مثلاً وہ زمین کے اوپر کھیتی باڑی کرتا ہے تو زمین کو وہ کچھ نہیں دے رہا ہے۔ دودھ دینے والے جانوراور پرندوں کے بارے میں غور کیجئے، ایک ہی بات سامنے آتی ہے کہ یہ سب کچھ اللہ نے انسان کے لئے پیدا کیا ہے۔ نہ صرف یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کے لئے وسائل تخلیق کئے ہیں۔ بلکہ ہر چیز کو اس کے لئے محکوم بنا دیا۔

ترجمہ :آسمانوں میں جو کچھ ہے اور زمیں میں جو کچھ ہے ہم نے تمہارے لئے مسخر کر دیا ہے۔ (سورة لقمان-20)

 تجرباتی اور مشاہداتی بات یہ ہے کہ زمین کے اوپر ہر موجود شئے انسان کے تابع ہے۔ اسی طرح ایک آسمان نہیں سماوات میں جو کچھ ہے وہ سب انسان کے تابع ہے۔ سماوات میں فرشتے ہیں، جنات ہیں، جنت دوزخ ہے، عرش و کرسی ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ کے مطابق آسمانوں میں جو کچھ ہے وہ بھی انسان کے تابع ہے۔ یہ سب فضیلت انسان کو کیوں دی گئی۔ انسان نے ایسا کون سا بڑا کارنامہ انجام دیا ہے کہ جس کارنامے کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ نے انعام و اکرام سے اسے نواز دیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کے اوپر اتنا کرم کیا ہے آخر اس کی کیا وجہ ہے؟سوال یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے یہ سب کچھ کیوں کیا؟ آخر انسان میں کیا خصوصیت ہے کہ ساری کائنات انسان کے تابع کر دی گئی اور انسان کو دنیا کے تابع نہیں کیا۔

غور کیجئے! آپ کسی آدمی کے ساتھ اچھا سلوک کرتے ہیں۔ اس کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ہیں۔ اس کی کفالت کرتے ہیں، کوئی آپ سے پوچھے کہ اس کی اتنی خدمت کیوں کر رہے ہو؟ آپ یہی کہیں گے کہ یہ شخص مجھے اچھا لگتا ہے۔ کوئی آپ کو اچھا لگتا ہے تو آپ یہ بھی چاہتے ہیں کہ وہ بندہ آپ سے قریب ر ہے۔

بات بہت سادہ ہے، خالق کائنات یہ چاہتے ہیں کہ انسان اس کا دوست بن کر رہے اور اس کو اللہ تعالیٰ کی قربت نصیب ہو۔ یہ سارے انعام و اکرام اس وجہ سے ہیں کہ انسان (جو ناشکرا بھی ہے اور کفران نعمت بھی کرتا ہے، ظالم اور جاہل ہے) کا ذہن کبھی تو اس طرف جائے گا کہ جس اللہ نے پوری کائنات کو میرے لئے خادم بنا دیا ہے وہ کون ہے؟ وہ ہستی مطلق مجھ سے کیا چاہتی ہے۔ میرے اوپر اتنے انعامات و اکرام اس نے کیوں کئے ہیں؟ جب اس ہستی کا ادراک آپ کے ذہن میں اتر جائے گا تو آپ کا ذہن اس کے مرضی کے مطابق کا م کرنا شروع کر دے گا۔ آپ بھی عظیم انسان بننا چاہتے ہیں تو قوم کی اور انسانوں کی بے لوث خدمت کیجئے۔ اپنی کسی خدمت کا بندوں سے صلہ طلب نہ کیجئے۔ جو کچھ کیجئے، خدا کی خوشنودی کے لئے کیجئے۔ وہ اپنے مخلص بندوں کا اجر ضائع نہیں کرتا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔