زندگی کا سب سے مایوس لمحہ


\"1-yasir-pirzada\"اگر آپ سے پوچھا جائے کہ آپ کی زندگی کا سب سے مایوس کن لمحہ کون سا تھا (سوائے اپنے کسی پیارے کی اندوہناک موت کے ) تو فوری طور پر بہت کم لوگ  اس سوال کا دو ٹوک جواب دے پائیں گے ۔ اس سوال کا جواب تلاش کرتے ہیں ، پہلے ایک واقعہ سن لیں ۔

تقریبا دو  سال قبل ایک نوجوان سے ملاقات ہوئی ، پریشان حال ، آنکھوں میں ویرانی ، چہرے پر مردنی ، یوں لگتا تھا جیسے اپنے کسی عزیز کے جنازے کو کندھا دے کر آیاہو ۔ میں نے یہی سمجھ کر افسوس کرنا شروع کر دیا ، اس بات کی دیر تھی کہ اس نے ہچکیاں لے لے کر رونا شروع کر دیا ، میں نے اسے دلاسا دیا کہ جانے والا تو چلا گیا اب تم کیوں اپنی جان ہلکان کرتے ہوں، اِس پر اُس نے مزید اونچی آواز میں بھاں بھاں شروع کردی ،اِس پر میں نے مزید پریشان ہو کر پوچھا کہ آخر یہ تو بتاؤ کہ فوت کون ہوا ہے ؟ اس پر مرد عاقل نے یکدم اپنے آنسوؤں کو یوں بریک لگائی جیسے موٹر وے پر سپیڈ کیمرہ دیکھ کر تیز رفتار گاڑ ی کا ڈرائیور بریک لگاتا ہے ، اور مجھے گھور کر بولا ’’ کوئی فوت نہیں ہوا، میں خود مر گیا ہوں ! ‘ ‘ اِس پر میں نے ٹھنڈی سانس بھری اور نوجوان کو ٹھنڈا پانی کا گلاس پیش کیا  ، مرض کچھ کچھ مجھے سمجھ آ گیا تھا ۔ ’’بریک اپ کیسے ہوا ؟ ‘ ‘ میں نے پوچھا ۔ اس مرتبہ موصوف کے چہرے پر حیرت کے آثار نمودار ہوئے :’’آپ کو کیسے پتہ چلاکہ میرا بریک اپ ہوا ہے ؟ ‘ ‘ میں نے اطمینان سے سگریٹ سلگایا (واضح رہے کہ تمبا کو نوشی صحت کے لئے مضر ہے ، میں بس شوقیہ ہی سلگا لیتا ہوں ،ہفتے میں ایک آدھ بار، اِس انتباہ کو ویسے ہی سمجھا جائے جیسا اکثر فلموں سے پہلے بتایا جاتا ہے )  :”جناب کی شکل پر لکھا ہے   کہ تازہ تازہ بریک اپ کے مرض میں مبتلا ہوئے ہیں ، یہ بتاؤ کہ اُس نے آخری میسیج کیا بھیجا کہ میں تمہارے لئے مر گئی ہوں یا  سمجھنا کہ ہم کبھی ملے ہی نہیں تھے ؟ ‘ ‘ اس مرتبہ نوجوان نے بے چینی سے اپنی کرسی پر پہلو بدلا :  ’’یہ سب باتیں آپ کو کیسے پتہ ہیں ؟ ‘ ‘ میں اب اُس کی حالت سے محظوظ ہو رہا تھا :’’برخوردار ، بات یہ ہے کہ اگر میرے دادا مرحوم نے پیری مریدی کا سلسلہ جاری رکھا ہوتا تو آج جو باتیں میں تمہیں بتا رہا ہوں اس کو میں اپنی پیری کے کھاتے میں ہی ڈالتا ، اس سے میرے رزق میں بھی برکت پڑتی اور تم بھی ساری عمر کے لئے میرے مرید بن جاتے،  بات  صرف اتنی  ہے کہ تمہاری عمر کے نوجوان کے چہرے پر اگر بار ہ بجے ہوں تو اس کی پرائمری وجہ عشق ہی ہو سکتی ہے ، بہرحال اب تم مجھے یہ بتاؤ کہ اس وقت کیامحسوس کر رہے ؟ ‘ ‘ پہلے تو نوجوان نے عقیدت کے ساتھ میرے ہاتھوں کو بوسہ دیا پھر مودب ہو کر بولا :’’سر! کل شام سات بج کر چودہ منٹ کے بعد سے میر ی دنیا اندھیر ہو چکی ہے ، مجھے یوں لگ رہا ہے جیسے میں دنیا کا سب سے بد قسمت انسان ہوں ، میری زندگی میں سوائے اندھیروں کے اب کچھ نہیں ، میں اُس کے بغیر اب کیسے  جیوں گا ، میں مر جاؤں گا سر ، میں مر جاؤں گا ! ‘ ‘ یہ کہہ کر نوجوان نے پھر دھاڑیں مار مار کر رونا شروع کر دیا ۔

 اس واقعے کو  فی الحال یہیں چھوڑیں اورواپس اُس سوال پر آئیں اور سوچ کر بتائیں کہ آج سے دو چار سال قبل وہ کون سی ایسی بات تھی جسے آپ نے زندگی موت کا مسئلہ بنایا ہوا تھا یا کون سا ایسا واقعہ ہوا تھا جس کے بعد آپ کو یوں لگا جیسے زندگی اب بے معنی ہو جائے گا یا  آپ کو  ایساکیا  دھچکا  لگا جس سے  محسوس ہوا کہ اب آپ کبھی سنبھل نہیں پائیں گے ؟ ما سوائے اپنے کسی پیارے کی موت کے شائد ہی کوئی بات ہمارے  ذہن میں آئے ، غالب امکان یہی ہے کہ ہم میں سے کسی کو بھی   ایسا کوئی پرانا واقعہ یاد نہیں آئے گااور اگر ایسی کوئی بات یاد آئے گی بھی تو آج کی تاریخ میں  ہمیں اُس کی کوئی اہمیت ہی نہیں محسوس ہوگی ۔چند سال پہلے ایک نکاح کی تقریب میں جانے کا اتفاق ہوا، لڑکی پارلر سے تیار ہو کر آئی ، گھر میں سب مہمان آ گئے ، نکاح خوان کا بلوا یا گیا اور دلہا کا انتظار شروع ہوا  مگر شومئی قسمت دلہا نہیں پہنچا ، اسے فون کیا تو فون بند ، اس کے گھر گئے تو معلوم ہوا کہ وہاں تالا پڑا ہے ، نکاح کی تقریب ماتم میں بدل گئی ، لڑکی کا رو رو کر برا حال ہو گیا ۔،ایسا صرف فلموں میں دیکھا تھا حقیقی زندگی میں پہلی مرتبہ پتہ چلا کہ کسی لڑکی کے لئے یہ بات کس قدر اذیت ناک ہو سکتی ہے ۔ میں نے اُس لڑکی سے کہا کہ یہ وقت بہت تکلیف دہ ہے ، تمہیں اس وقت دنیا میں کوئی شخص ایسی تسلی نہیں دے سکتا جو تمہیں مطمئن کر سکے ، مگر یہ وقت بھی گذر جائے گا ، تمہارے شادی ہو جائے گی اور پھر شائد تمہیں کبھی اپنی زندگی میں یہ واقعہ  یاد ہی نہ آئے ۔ ایسا ہی ہوا۔ اُس لڑکی کی شادی ہوئی ،  آج وہ اپنے گھر میں خوش ہے ، اگر اب اس سے پوچھا جائےکہ اس کی زندگی میں سب سے افسوس ناک واقعہ کون سا تھا تو شاید ذہن پر بہت زور ڈالنے کے بعد اسے نکاح والا واقعہ یاد آئے ۔

لوگوں کو کاروبار میں گھاٹا ہوتا ہے ، نوکریاں چھوٹ جاتی ہیں ، شادیاں ٹوٹ   جاتی ہیں ، محبت میں ناکامی کامنہ دیکھنا پڑتا ہے ۔۔۔۔۔لیکن یہ زندگی بڑی عجیب ہے ، ہر بات پیچھے رہ جاتی ہے ، جس لمحے ہم یہ سوچ رہے ہوتے ہیں کہ آج کے دن رونما ہونے والا یہ واقعہ ہمیں زندگی میں میلوں پیچھے دھکیل دے گا اور یہ سوچ سوچ کر ہم مایوسی کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈوب جاتے ہیں ،  اسی لمحے ہماری زندگی میں کئی اور باتیں جنم لے رہی ہوتی ہیں جن سے ہم لا علم ہوتے ہیں ، ہم اس گتھی کو سلجھا ہی نہیں پاتے کہ عشق میں ناکامی زیادہ اذیت ناک تھی یا اس کے بعد ہماری زندگی میں آنے والی وہ تبدیلی زیادہ خوشنما تھی جس نے ہمیں بریک اپ ہی بھلا دیا ۔سوائے موت یا اس سے ملتی جلتی کچھ اذیت ناک چیزوں کے جن کا کوئی حل انسان کے بس میں نہیں ، باقی اسّی فیصد معاملات میں ہم جن باتوں پر مایوس ہوتے ہیں اور  دماغ میں یہ سوچ بٹھا لیتے ہیں کہ بس اب زندگی کے مواقع ختم ہو چکے ، کسی بھی قسم کی کوشش بیکار ہے،مجھ سا بد نصیب بھی دنیا میں کوئی نہیں ہوگا ۔۔۔۔۔یہ تمام باتیں نہایت مختصر عرصے میں ہمارے دل و دماغ سے محو ہو جاتی ہیں ۔ دراصل جس وقت ہم کسی ناکامی سے تازہ تازہ دوچار ہو تے ہیں اس وقت ہمارا ذہن ہمارے قابو میں نہیں ہوتا ، وہ ہمیں زندگی کا کوئی مثبت پہلو ہی نہیں دکھاتا ،  اور ہم اس معاملے کے  تمام ممکنہ تاریک ترین پہلو سوچ کر اپنی زندگی کی رہی سہی رمق بھی ختم کر ڈالتے ہیں ۔ لیکن قدرت نے انسان کو بڑی صلاحیتوں سے نوازا ہے اور ان میں سے ایک صلاحیت ہے حالات کے ساتھ خود کو ڈھالنے کی ۔ انسان کی یہ صلاحیت ایسی ہے جو اسے مایوسی کے گڑھے سے نکال کر اپنے پاؤں پر کھڑا ہونے میں مدد دیتی ہے ۔ انسان اگر کچھ نہ بھی کرے تو وقت کے ساتھ وہ خود بخود حالات کے تحت خود کو ڈھالتا چلا جاتا ہے  اور یوں ایک لمحہ ایسا آتا ہے جب اسے پوچھنے پر بھی اپنی زندگی کا مایوس کن لمحہ یاد نہیں آتا ، ذہن پر زور ڈال کر یاد کر نا پڑتا ہے ۔سو  اگر آپ سے آج پوچھا جائے کہ آپ کی زندگی کا سب سے مایوس لمحہ کون سا تھااور آپ کو اس سوال کا جواب دینے میں کچھ منٹ سوچنا پڑے تو سمجھ لیجئے کہ آپ ایک خوش قسمت انسان ہیں۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 139 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada

One thought on “زندگی کا سب سے مایوس لمحہ

  • 31-07-2016 at 9:07 pm
    Permalink

    یہ آپ نے اچھی کہی.. وقت ہی بہترین علاج ہے…

Comments are closed.