مقامی کہانی الیگزینڈر کی زبانی (1)


\"jamshedچند روز قبل ایک معروف ترقی پسند دانشور کی بات چیت سننے کا اتفاق ہوا تو یہ جان کر حیرت ہوئی کہ ہمارے ہاں اب بھی ترقی کی پڑیا میں متروک تصورات بیچے جارہے ہیں ۔ اس وقت جب دنیا بھر کی پسی ہوئی تہاذیب میں یہ اعتماد پیدا ہورہا ہے کہ وہ اپنے آپ کو استعمار کی کانی آنکھ سے نہیں اپنی آنکھ سے دیکھیں ، نام نہاد تیسری دنیا میں تاریخ کو ڈی- کالونائز (de-colonize) کیا جارہا ہے ، تاریخِ عالم کے روایتی بیانات تنقید کی زد میں ہیں ، جب گیاتری چکروتری ، ایڈورڈ ساید اور ہومی کے بھابھا جیسی شخصیات بعد از سامراج (post-colonial) تاریخ کی جینیات تشکیل دے چکے ہیں اور دنیا میں ان کے تصورات پسے ہوئے طبقات کو حوصلہ دے رہے ہیں اسی دور میں روحِ عصر سے بے خبر ہمارے دانشور فرمارہے ہیں کہ اگر برصغیر میں انگریز سرکار تہذیب کی خیرات بانٹنے نہ آتی  تو مقامی لوگ جانوروں سے بھی بدتر تھے ۔

تاہم اس غلط فہمی کا شکار نہ صرف مذکورہ دانشور اور ان کے خیالات سے ہمدردی رکھنے والے لوگ ہی نہیں بلکہ وہ لوگ بھی ہیں جو آج تک یہ سمجھتے ہیں کہ برصغیر میں عرب حملہ آور نیک ارادوں کے ہاتھوں مجبور ہوکر علم اور تہذیب بانٹنے آئے تھے ۔

کچھ ایسے ہی نیک ارادوں کے ساتھ برصغیر میں الیگزینڈر نامی دو لوگ مغرب سے آئے تھے ۔ ایک تو الیگزینڈر دی گریٹ تھا اور دُوسرا الیگزینڈر ڈاؤ (1735-1779) ۔ ان دونوں میں سے زیادہ شہرت الیگزینڈر دی گریٹ کو نصیب ہوئی اور اس شہرت کی وجہ اس کا بیرونی حملہ آور ہونا ہے ۔ دوسرا الیگزینڈر جنگجو نہیں بلکہ ایک ایماندار محقق تھا اور اسی جرم کی پاداش میں سامراج کی آنکھ میں ایسا کھٹکا کہ اس کا نام تک مٹانے کی کوشش کی گئی ۔ وہ ایسٹ انڈیا کمپنی کے ساتھ آیا تو تہذیب کی خیرات بانٹنے ہی تھا لیکن بعد میں اس مقامی فکر و دانش کا قدردان ہوکر رہ گیا ۔

\"(c)

 وہ جارج اورویل کی طرح چند ایسے نایاب لوگوں میں سے ایک تھا جو مقبوضہ تہذیبوں کو بھی غاصب کی طائرانہ نگاہ سے نہیں بلکہ غیر جانبدار عالم اور محقق کی طرح بنظرِ ماہی اندر سے نہ دیکھنے کو علمی بددیانتی سمجھتے ہیں ۔ ہندوستان میں وہ اورنگ زیب عالمگیر کے دربار سے منسلک رہا لیکن دربار کا انتہا پسندانہ ماحول نے بھی اسے متاثر نہ کرسکا ، اس نے سنسکرت اور فارسی کی تعلیم حاصل کی اور 1707 میں ہندوستان کی برصغیر کی تاریخ پر ایک کتاب اور ہندوستانی زبان ، مذہب اور فلسفہ پر ایک توضیحی مقالہ انگریزی زبان میں تحریر کیا ۔

الیگزینڈر ڈاو گیاتری چکروتری ، ایڈورڈ ساید اور ہومی کے بھابھا سے تین صدیاں پہلے اپنے مقالے کے آغاز میں ہی روایتی تاریخ کی شہ رگ پر وار کرتا ہے۔

‘‘جدید یورپی ذہن اس بات پر معترض رہا ہے کہ ہم یونان اور روم کے ذی شعور فلسفی اور مفکر کاہنوں، پجاریوں اور پرہتوں کی دانش پر کوئی بات نہیں کرتے بس ان کے مٹ جانے کو ہی ترقی سمجھتے ہیں ۔ اسی طرح موجودہ نسل کو بھی برطانیہ سے یہ شکایت ہے کہ اس نے اسلحے اور تجارت کو فروغ دیا ، مقبوضہ تہذیبوں کو ہیچ گردانا لیکن ان تہذیبوں کی دانش اورعلوم سمجھنے کی کبھی کوشش نہیں کی ۔یہاں آکر مجھے پتہ چلا ہے کہ ہماری نئی نسل کے یہ دونوں اعتراضات بجا ہیں‘‘۔

اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ 17 ویں صدی میں برطانوی سامراج کے استحصالی محرکات پر سوالات اٹھائے جارہے تھے اور کچھ مغربی دانشور سامراج کی آنکھ سے دکھائی جانے والی تاریخ اور ترقی کے تصورات کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے تھے ۔ برصغیر کی تاریخ کے آغاز میں بھی الیگزینڈر ڈاو یہ بنیادی سوال اٹھاتا ہے جس کے ایماندارانہ جواب سے ہم آج تک خود کو بچاتے پھر رہے ہیں :

’’ کیا کوئی قوم محض عسکری طاقت کی بنیاد پر یہ حق حاصل کرلیتی ہے کہ وہ دوسری تہذیبوں کو ان کے علوم و فنون سمیت نیست و نابود کردے؟ وہ قوتِ بازو کو عقلی و علمی فضلیت مان لے اور پھر مقبوضہ تہذیب کی صدیوں کی تعمیر کو ملبہ قرار دے ڈالے ؟’’۔

 الیگزینڈر ڈاو سامراج کا نمائندہ ہوکر بھی اٹھارویں صدی کے اوائل میں ایسے بنیادی سوالات اٹھا رہا تھا جن کا شور آج ہر طرف سنائی دے رہا ہے ۔ وہ یہ ماننے کے لئے تیار نہیں تھا کہ حملہ آورجذبہ تعمیر کے ہاتھوں مجبور ہوکر علوم و فنون اور تہذیب کی خیرات بانٹنے کے لئے حملہ کرتا ہے ۔ وہ سمجھتا ہے کہ عسکری میدان میں شکست کا مطلب علمی و فکری اور تہذیبی شکست ہرگز نہیں ۔

الیگزینڈر اپنے ہم وطنوں سے سوال کرتا ہے ۔

‘‘ ہر حملہ آور قوم کی طرح ہمارے اندر کبھی یہ تجسس پیدا نہیں ہوا کہ مشرقی علوم کی کیا نوعیت ہے اور ان میں کیسی کیسی بیش قیمت صداقتیں مضمر ہیں۔ عسکری طاقت کے گھمنڈ میں ہر ایک یہ ماننے سے قاصر ہے لیکن کم از کم اہل علم طبقے کو یہ تسلیم کرنا چاہیے کہ ہمارے مشرق میں جا گھسنے کے محرکات علمی نہیں بلکہ استحصالی اور تخریبی  ہیں ‘‘۔

الیگزینڈر اس بات کا اعتراف کرتا ہے کہ ہندوستان آنے سے قبل وہ بھی ہندوستان کو سامراج کی کانی آنکھ سے دیکھتا تھا ۔ وہ تعصب کے مرض کا شکار یہ سمجھ بیٹھا تھا کہ مقامی لوگوں کی حیثیت اوہام پرستوں کے ٹولے کے سوا کچھ نہیں۔ پھر اس کی ملاقات مقامی علوم و فلسفہ کے ایک ماہر سے ہوئی۔ وہ ماہر یہ جان کر خوش ہوئے کہ الیگزینڈر مقامی علوم اور فکر سے بنیادی جانکاری رکھتا ہے ۔ الیگزینڈر کئی برسوں مقامی علوم کے ماہر سے ملتا اور علم حاصل کرتا رہا ۔ پھر وہ اس نتیجے پر پہنچا :

‘‘مجھ پر یہ راز کھل چکا ہے کہ عہد عتیق میں فلسفہ ، ریاضی اور سائنس مشر ق کے ہی میدان تھے ۔ مشرقی علوم کا سرچشمہ برصغیر ہے‘‘۔

الیگزینڈر 1770 میں اس نتیجے پر پہنچا اور تقریباً دو سوسال بعد برٹرینڈ رسل جیسے قد آور ریاضی دان اور فلسفی نے اپنی کتاب ’مغربی فلسفے کی تاریخ ‘ میں ہندوستانی ریاضی دانوں کے اس دعوے کی تصدیق کی کہ سائنس کی عالمگیر زُبان بننے والی ریاضیاتی زبان دنیائے سائنس کو ہندوستان کا دیا ہوا تحفہ ہے ۔ رسل لکھتا ہے :

’’اسی دوران ایران میں مسلمانوں کا رابطہ ہندوستانیوں سے ہو اور آٹھویں صدی میں ہندوستان سے انہیں پہلی بار علم فلکیات کے بارے میں پتہ چلا ۔ 830 عیسوی میں محمد ابن موسیٰ الخوارزمی نے علم فلکیات اور ریاضی پر ایک سنسکرت کتاب کا ترجمہ کیا اور یہ کتاب بعد ازاں بارہویں صدی میں لاطینی میں ترجمہ ہوئی ۔ آج جسے ہم عربی ہندسہ کہتے ہیں دراصل ہندوستانی ہندسہ کہنا چاہیے‘‘۔ (رسل ، مغربی فلسفے کی تاریخ ، ص 429 )

الخوارزمی کی جو کتاب مغرب میں پڑھائی جاتی رہی ہے وہ سنسکرت سے عربی اور پھر لاطینی زبان میں ترجمہ ہونے والی کتاب ’انڈیا کے لوگردمز ‘   ( Algoritmi de numero Indorum) تھی ۔ اس کتاب کے نام سے ظاہر ہے کہ اس علم کا ماخذ برصغیر تھا۔ اس لئے معاصر انڈین سائنس دانوں کا یہ دعویٰ درست معلوم ہوتا ہے کہ دنیا کو کمپیوٹر اور سائنس کی زُبان برصغیر نے دی البتہ سنسکرت میں لکھی کہنہ سال اس کتاب کو عرب اورپھر مغربی دنیا تک پہنچانے والے محمد ابن موسیٰ الخوارزمی ہی تھے۔

الیگزینڈر یہ سب اور اس کے علاہ بہت کچھ جان گیا تھا اسی لئے وہ برصغیر کو مشرقی دانش اور علوم کی جائے پیدائش قرار دے کر عہد کرتا ہے کہ وہ سنسکرت سیکھے گا کیونکہ وہ یورپین محقق جنہوں نے تحقیق کی نیت سے مقامی فلسفے وہ سمجھنے کی کوشش کی ہے وہ سنسکرت نہ جاننے کی وجہ اپنے علمی عزائم پرپورے نہیں اتر سکے اور جو یہ زبان نہیں جان سکا اُسے مقامی فکر کا مذاق اڑانے کا کوئی حق نہیں ۔

الیگزینڈر کہتا ہے کہ سنسکر ت ہی ہندوستانی علوم کو سمجھنے کی راہ میں رکاوٹ رہی ہے اور ایشیائی دانش کے خزانے اسی زبان میں دفن ہیں۔ وہ کہتا ہے :

‘‘سنسکرت وہ پردہ ہے جسے اٹھائے بغیر اصل ہندوستان اور مقامی فکر سے واقف نہیں ہوا جا سکتا‘‘۔

 الیگزینڈر اس بات پر زور دیتا ہے کہ کسی بھی تہذیب کو بیرونی حملہ آوروں کی آنکھ سے دیکھنا بددیانتی ہے ۔ وہ مقامی فکر کے مطالعے سے اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ ’’مقامی فلسفہ و فکر اور علوم و فنون کے حوالے سے جتنی مضحکہ خیز باتیں مشہور ہیں وہ سب بیرونی حملہ آوروں کی پھیلائی ہوئی ہیں اور یہ باتیں پھیلانے والوں کی تنگ نظری ، بے بنیاد خود پسندی اور تعصب کا منہ بولتا ثبوت ہیں‘‘۔

الیگزینڈر اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتا ہے کہ مقامی علوم کے ایک ماہر نے اسے ان تمام کتب کے مطالعے میں مدد دی جن کی مدد سے وہ علامتی و تمثیلی نوعیت کا وہ عمیق فلسفہ سمجھ پایا جسے اکبرِ اعظم نے سمجھنے کی کوشش کی تو اس کی مدد کے لئے ابوالفضل کو نہایت خطرناک چال چلنا پڑی ۔

(جاری ہے )

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔