ماسکو سے مکہ ۔۔۔ ایک رپورتاژ (قسط دوم)


\"mujahidسفر کی تیاری شروع کر دی تھی لیکن دل بجائے خوش ہونے کے کچھ بجھا بجھا سا تھا جس کی وجہ حبیب کی حرکت، حج کی سفری کمپنی کا گم سم ہونا اور شاید اس سفر میں کسی اپنے کا ساتھ نہ ہونا تھا یا کوئی اور مخفی وجہ جس کا مجھے کوئی علم نہیں۔ گاڑی والے ایک نوجوان کو فون کیا تھا کہ وہ مجھے صبح آٹھ بجے گھر سے لے لے اور ہوائی اڈّے پر پہنچا دے۔ اس نے خود کہا تھا کہ جی سات بجے نکلنا چاہیے کیونکہ ٹریفک بہت جیم ہوتی ہے۔ میں نے اسے آٹھ بجے ہی آنے کو کہا تھا۔ اس نے وعدہ کر لیا تھا لیکن مجھے شک تھا کہ وہ سویا رہے گا۔ وہی ہوا میں نے پونے آٹھ بجے صبح سے اسے فون کرنا شروع کیا تو نو رپلائی تھا۔ سوا آٹھ بجے تک تین بار فون کیا نتیجہ وہی جواب نہ داشتم۔ ایسے وقت میں ٹیکسی بلانا مزید وقت کا ضیاع ہوتا چنانچہ میں ایک بیگ اور ایک دستی تھیلا لے کر زیر زمین ریل سے جانے کے لیے نکل کھڑا ہوا تھا۔ اگرچہ بیگ کے پہیے تھے لیکن سیڑھیاں اترنے، سیڑھیاں چڑھنے، زیر زمیں راہداریوں سے گذرنے، پاولیتسکی سے نکل کر اسی نام کے ریلوے سٹیشن سے چلنے والی ایر پورٹ ایکسپریس کے ٹکٹ گھر تک پہنچتے پہنچتے میرے پسینے چھوٹ گئے تھے۔ ٹکٹ دینے والی نے تین سو بیس روبل یعنی مبلغ دس ڈالر لے لیے اور چپ کرکے بیٹھ گئی۔ میں بولا بی بی ٹکٹ؟ بولی میں آپ کو دے چکی۔ جبکہ ٹکٹ بنانے کے دوران وہ اپنی پشت پہ کھڑی ہم کار سہیلی کے ساتھ خوش گپیاں کرتے ہوئے ٹکٹ ادھر ادھر رکھ بیٹھی تھی۔ میرے تحیر پہ جز بز ہو کر ادھر ادھر ہاتھ مارے، ٹکٹ مجھے تھمایا، معذرت کی بجائے مسکراہٹ بکھیری اور پوچھنے پر مجھے ایک راستے کی جانب جانے کا اشارہ کر دیا۔ ایک اور طویل راہداری اور پھر پلیٹ فارم تک پہنچنے کے لیے سیڑھیاں۔ میں بیگ اٹھا کر سیڑھیاں چڑھا تو کھڑی ایکسپریس کے دروازے بند ہوئے اور وہ روانہ ہو گئی۔ میں پسینے میں شرابور تھا۔ پلیٹ فارم پہ خاصی خنکی بلکہ سردی تھی لیکن مجھ میں واپس ویٹنگ روم میں جا کر بیٹھنے کا یارا نہیں تھا۔ اس لیے اگلی ٹرین کی روانگی تک کا آدھ گھنٹے کا وقفہ پلیٹ فارم پر کھڑے ہو کر بتانے کا فیصلہ کر لیا تھا۔ آدھے گھنٹے بعد رام دہ ریل گاڑی میں پاؤں پسار کر بیٹھے, پینتالیس منٹ کے سفر کے بعد ایر پورٹ پہنچا۔ گاڑی رکنے سے پہلے ہی جمشید صافی کا فون آ گیا تھا، انہوں نے پوچھا تھا کہ مجھے آنے میں تاخیر تو نہیں ہو جائے گی۔ میں نے بتایا کہ میں بس پہنچ گیا ہوں، ریل گاڑی بس رکنے ہی والی

\"A

ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ دوسری منزل پہ فلاں جگہ آ جاؤ ۔ وہاں پہنچا تو پورا قافلہ موجود تھا جن میں صرف جمشید شناسا تھے البتہ مولانا رشیت (رشید) سے میں نے خود بڑھ کر مصافحہ کیا تھا اور اپنا نام ایم ایم بتایا تھا۔ رشیت حضرت کوئی اڑتیس چالیس برس کے درمیانے قد ، چھوٹی داڑھی اور کج نگاہ شخص تھے۔ کرو کٹ بال تھے اور پاؤں میں چپل پہنے ہوئے تھے۔ پرواز ڈیڑھ بجے بھی روانہ نہیں ہوئی تھی۔ اس کی تاخیر کا اعلان مانیٹر پہ عیاں تھا۔ میں اور جمشید نماز پڑھنے کے لیے جگہ کی تلاش میں لگ گئے تھے۔ ایک کینٹین کے پیچھے کاریڈور میں بڑے سے گملے میں لگے پودے کی اوٹ میں کھڑکی کے سامنے نماز پڑھنے کی تیاری کی تھی ۔ ایک تاجک نوجوان بھی آ شامل ہوا تھا۔ اس کے پاس ایک جائے نماز تھا۔ وہ اسنے آگے بچھا دیا تھا اور مجھے امامت کرنے کو کہا تھا۔ میں نے بھی عجلت میں اللہ اکبر کہہ دیا تھا لیکن وہ نماز نہیں پڑھ رہے تھے بلکہ فارسی یا دری و توجکی زبان میں محو کلام تھے۔ میں نے کسر فرض پڑھ لیے تو وہ تاجک نوجوان اذان کہنے لگا۔ حج کا ماحول بن چکا تھا۔ کہیں جاکر تین بجے اردن ایر لائن کا طیارہ روانہ ہوا اور ہم پونے چار گھنٹے کے سفر کے بعد عمان کے ہوائی اڈے پر تھے۔ وہاں عصر اور مغرب کی نماز پڑھی تھی۔ مجھے ایر لائن، عملہ، کھانا، عمان کا ہوائی اڈہ اور اہلکار سب اچھے لگے تھے۔ دو گھنٹے کے انتطار کے بعد ایک اور طیارہ مدینہ منورہ کی جانب روانہ ہوا تھا۔ ڈیڑھ گھنٹے کی پرواز کے بعد ہم مدینہ ایر پورٹ پر تھے۔ امیگریشن اور دیگر مراحل سے گذرنے کے بعد ایک بس میں سوار ہو گئے تھے جو ہمیں لے کر ایک ہوٹل پہنچی تھی۔ یہاں سے سفر کی صعوبتوں کو سہنے اور کمپنی سلوٹس اور روس کے مفتیوں کی کونسل کی چابک دستیوں کو سہنے کا آغاز ہوتا ہے.

ہوٹل کیا تھا بقول جمشید صافی کے سیاہ رنگ کا \”تیورما\” یعنی قید خانہ تھا۔ کاؤنٹر کے پیچھے ماڈرن دکھائی دینے والا ایک عرب نوجوان تھا۔\"afzaal رشیت حضرت سے اس نے عربی میں کچھ کہا جس کا مطلب یہ تھا کہ تین تین مردوں اور تین تین عورتوں کی علیحدہ علیحدہ ٹولیاں بنا لیں تاکہ ان کو کمروں کی چابیاں دی جا سکیں۔ نہ جان نہ پہچان بھلا کون کس کا ساتھی بنے؟ خواتین میں سے تو بیشتر ویسے ہی حسب معمول ہوائی اڈے پہ شناسا ہو چکی تھیں چنانچہ ان کا معاملہ جلد نمٹ گیا تھا۔ تاجک تاجکوں کے ساتھ اور قفقازی قفقازیوں کے ساتھ، کچھ دیر بعد اکٹھے ہونے پہ رضامند ہو گئے تھے۔ میری جوڑی صافی کے ساتھ تھی لیکن تیسرا شخص نہیں تھا۔ رشید حضرت نے ایک بہتر سالہ تاتار شخص کو ہمارے ساتھ جوڑ دیا تھا جو چہرے سے اکتائے اور جھلائے ہوئے لگتے تھے۔

چھوٹی چھوٹی لفٹیں تھی اور کمروں تک جلد پہنچنے کے خواہاں افراد زیادہ۔ ہم تقریباً گیارہ بجے اپنے کمرے میں پہنچ پائے تھے۔ کمرہ کیا تھا ڈربہ تھا جس کی تین دیواروں کے ساتھ سنگل بیڈ لگے ہوئے تھے اور چوتھی جانب راہداری، باتھ روم اور دروازہ تھا۔ بستروں کی چادریں بظاہرصاف تھیں لیکن ان کے گجلے پن سے یہی گمان ہوتا تھا جیسے وہ میلی ہوں۔ باتھ روم بھی چھوٹا سا تھا۔ نہ صابن، نہ تولیہ اور نہ ہی ٹوائلٹ پیپر۔ طبیعت مکدر سے مکدر تر ہو گئی تھی۔ روس کے مفتیوں کی کونسل کے تحت کام کرنے والی کمپنی \”سلوٹس\” کا تحریری دعوٰی تھا کہ مدینہ منورہ میں تھری سٹار یعنی سٹینڈرڈ ہوٹل دیا جائے گا لیکن یہ \”سب سٹینڈرڈ\” ہوٹل تھا۔ میں نیچے گیا۔ کاؤنٹر والے کو میری بات سمجھ نہیں آتی تھی اور مجھے اس کے \” ما فی\” کے ما فی الضمیر کا پتہ نہیں چلتا تھا۔ اشاروں اور ملغوبہ زبان کا بس اتنا فائدہ ہوا کہ اس نے گول صابن کی پیک شدہ چھوٹی چھوٹی تین ٹکیاں اور شیمپو کے تین ساشے میرے ہاتھ میں دھما دیے تھے پھر مسکرا دیا تھا۔ صبح صبح بھی کہا تھا۔ میں کمرے میں چلا گیا تھا اور جمشید کے ساتھ طے کیا تھا کہ ہم آرام نہیں کریں گے، نہائیں گے اور مسجد نبوی چلے جائیں گے۔

ہوٹل کی کھڑکی سے ہمیں مسجد نبوی کے منور دمکتے ہوئے مینار دکھائی دے رہے تھے۔ ہم نہائے، شلواریں قمیصیں پہنیں اور پوچھتے پچھاتے مسجد نبوی کے ایک دروازے سے کچھ دور پہنچ گئے۔ مسجد نبوی ہوٹل سے تقریباً نصف کلو میٹر کے فاصلے پر تھی۔ اتنی وسیع و \"1267078\"عریض مسجد میں ہمیں روضہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ڈھونڈنے میں نجانے کتنی دیر لگ جاتی، چنانچہ اس دروازے سے نکلنے والے پہلے شلوار قمیص پہنے ہوئے آدمی سے روضہ رسول تک پہنچنے کے مختصر راستے سے متعلق سوال کیا، تو اس نے اشارے سے بتایا تھا کہ وہ جو سامنے چمکتا ہوا دروازہ دکھائی دے رہا ہے، اس میں داخل ہو کر سیدھے چلتے جاؤ تو مقام مقصود پا لو گے۔ ان سے پوچھا آپ کہاں کے ہیں تو انہوں نے کے پی کے میں کسی شہر کا بتایا ساتھ ہی کہا کہ ویسے میں اسلام آباد میں رہتا ہوں۔ لہجے میں تھوڑی سی پٹھنولی تھی چنانچہ پوچھ لیا آپ پشتو بولنے والے ہیں۔ ان کا اثبات میں جواب پا کر ظاہر ہے کہ جمشید صافی کی پشتونیت پھڑک اٹھی تھی اور وہ آپس میں ڈاکخانے ملانے لگ گئے تھے۔ اگر دو پشتو بولنے والوں کا آمنا سامنا ہو جائے اور آپ تیسرے شخص ہوں تو شرافت اسی میں ہوتی ہے کہ کنارے پہ ہو جائیں کیونکہ وہ پھر آپس میں شیر و شکر ہو کر آپ کو بھول جاتے ہیں۔ چونکہ روضہ رسول پہ سلام کہنے کی عجلت تھی اس لیے میں نے ان دونوں کی گفتگو میں دخل در معقولات کرنے سے قطعی گریز نہیں کیا تھا۔ موصوف بھی کوئی شریف آدمی تھے، اردو بولنے لگے تھے۔ اپنا وزٹ کارڈ دیا تھا۔ ان کی کوئی ٹریول ایجنسی تھی اور وہ پاکستان سے حجاج اور معتمربن کے اپنے گروہ لے کر آتے ہیں۔ ہم نے ان کا شکریہ ادا کیا اور تیز تیز قدموں سے مسجد نبوی کا طول طویل احاطہ طے گیا جہاں سنگ مرمر کی سلوں کا فرش تھا اور کچھ ستون ایستادہ تھے جو اگلے روز معلوم ہوا کہ دھوپ میں خودکار طور پر کھل جانے والے چھتر تھے۔

روشن دروازے سے جو گیٹ نمبر ایک تھا، داخل ہوئے تو دیکھا کہ لوگوں کی قطار لگی ہوئی ہے جو سرکتی جا رہی ہے۔ سفر حج کی روانگی سے پہلے انٹرنیٹ سے معلومات تو حاصل کر ہی لی تھیں کہ سنہرے رنگ کی جالیوں والے پہلے دروازے کے وسط میں گول سوراخ کا رخ روضہ مبارک کی جانب ہے۔ ہم بھی قطار میں شامل ہو چکے تھے۔ جالیوں کے آگے ایک تنگ سے چبوترے پہ کھڑے ہوئے سپاہی \”حجّی! \"128892563\"حجّی!! چلو ! آگے!! کہتے جارہے تھےاور ہاتھ سے آگے نکلنے کا اشارے کر رہے تھے۔ جالیوں کے اس پار اندھیرا تھا اور مرقد بھی شایید کہیں نیچے ہو مگر جسم میں ایڈرینالین کا وفور تھا کہ میں ایسی ہستی کی آخری آرام گاہ کے اس قدر نزدیک ہوں جن کی بدولت دنیا کی تاریخ، جغرافیہ، معیشت، معاشرت، تمدن، تہذیب غرض زندگی کا کونسا شعبہ ہے جس میں انقلابی تبدیلیاں ظہور پذیر نہ ہوئی ہوں۔ میں نے پر سکون لہجے میں آہستگی سے السلام علیکم یا رسول اللہ، السلام علیکم یا سرور کونین، السلام علیکم یا شفیع المذنبین کہا اتنے میں میں آگے نکل چکا تھا جہاں السلام علیکم یا خلیفۃ الاوّل، السلام علیکم یا ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ۔ تین چار قدم طے کیے اور اسلام علیکم یا خلیفۃالمسلمین، السلام علیکم یا عمر ابن خطاب رضی اللہ تعالٰی عنہ کہا۔ قریب تھا کہ اگلے گیٹ سے باہر نکل جاؤں لیکن پلٹا اور آگے کی دوصفوں میں بیٹھے، نفلیں پڑھتے اور قرآن خوانی کرتے لوگوں میں سے گذرتا ہوا پھر روضہ رسول کی جالیوں کے سامنے قطار سے ہٹ کر کھڑا ہو گیا۔ میری بہن جس نے مجھے پالا پوسا ہے، نے مجھے فون پر روضہ رسول کے سامنے جا کر ایک دعا مانگنے کو کہا تھا۔ میں نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے تو سامنے کھڑے ہوئے سپاہی نے بلند آواز میں \”یا حجّی\” کی صدا بلند کرتے ہوئے مجھے منہ ادھر کرکے یعنی روضہ رسول کی جانب پشت کرکے کعبے کی جانب رخ موڑ کر دعا کرنے کے لیے کہا۔ احساس ہوا کہ واقعی ایسا کرنا تو بدعت ہے۔ اگر کسی قبر پہ فاتحہ بھی پڑھنی ہو تو رخ طرف کعبہ ہونا چاہیے نہ کہ بروئے مرقد۔

لوگ بہت سے معاملات کو روح پرور کہتے ہیں۔ اس لفظ کے معانی کیا ہیں؟ روح کے لفظی معانی ہوا یا سانس ہیں لیکن میرے خیال میں لوگ روح سے مراد مزاج لیتے ہونگے تبھی وہ مختلف خوش کن مواقع کو روح پرور یعنی مزاج بہتر کرنے والے واقعات گردانتے ہونگے۔ چونکہ میں روح نا آشنا ہوں، زندگی کےدوران روح زندگی کا حصہ ہے چنانچہ مجھے روح پروری کی فہم نہیں اور میں گفتگو یا تحریر کو بلاوجہ لفظوں کے بے محابا استعمال سے رنگین اور جذباتی بنانے سے بھی گریز کرتا ہوں اس لیے روضہ رسول پہ حاضری میرے لیے روح پرور ہونے کی بجائے تسکین آور تھی۔ جسے روح پرور کہا جاتا ہے وہ شاید جذبات کا وفور ہوتا ہو۔

میں تو السلام علیکم یا رسول اللہ کہنے کے بعد ایک الجھا دینے والے سوال میں پھنس کر رہ گیا تھا۔ پاکستان میں بریلوی حضرات الصلٰوۃ والسلام علیک یا رسول اللہ کہتے ہیں جب کہ ہم دیوبندی سلام نہیں پڑھتے بلکہ درود پڑھتے ہیں۔ \”یا\” کے بارے میں یہی سنا تھا کہ یہ لفظ زندہ شخص کے لیے استعمال کیا جاتا ہے چنانچہ پاکستان میں اس \”یا\” کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے حاضر یا غائب ہونے کا بھی مسئلہ متنازعہ رہتا ہے۔ پھر مجھے کیا کہنا چاہیے۔ یہ سوچ کر خود کو تسلی دے لی تھی کہ ویسے بھی کہیں پہ مسلمانوں کے قبرستان سے گذرتے ہوئے \”السلام علیکم یا اہل القبور\” ہی کہا جاتا ہے۔ دوسرا سوال جو پریشان کر رہا تھا کہ ہمارے شیعہ بھائی روضہ رسول پہ حاضری دیتے ہوئے کیا سوچتے ہوں گے کیونکہ ان کے روضے کے ساتھ ان کے رفیق ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالٰی کا مزار ہے اور دو قدم آگے حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ کا۔ میرے بہت سے دوست شیعہ ہیں اور میں ان کی کچھ ہستیوں کے بارے میں رائے سے آگاہ ہوں۔ خیر مسئلہ صرف شیعہ اور بریلوی حضرات کے فقہی اختلافات کا نہیں ہے ابھی تو مجھے شافعی، حنبلی اور مالکی فقہی اختلافات کے روبرو بھی ہونا تھا۔  (جاری ہے)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔