کیلاش لڑکیو، تمہاری روتی تصویریں کس نے بنائیں؟


\"husnainبچپن کی یادوں میں سے ایک حسین ترین یاد وادی کیلاش کے باشندوں کا رقص تھا۔ اس خوب صورت یاد کو ہم سب تک پہنچانے میں پی ٹی وی اور چاچا جی کی صبح والی نشریات کا تعاون اکثر شامل رہتا تھا۔ بلکہ اگر دیکھا جائے تو اس فقیر کی زندگی میں جتنا بھی شمالی علم ہے بس انہی کی کتابیں پڑھ پڑھ کر ہے۔ اور یہ واقعی خاصا محدود سا علم ہے۔ جس شخص کو اگر خود پہاڑی سفر کرنا پڑ جائے تو اسے موت پڑتی ہو اور سارے پہاڑ اور سارے دریا اور وہاں موجود سارا سبزہ اسے ایک جیسے لگتے ہوں تو اس کے لیے ہر زبان میں ایک برا سا لفظ ہی کہا جا سکتا ہے۔ ہاں یہ سچ ہے کہ ان علاقوں کے بارے میں کتابیں پڑھ پڑھ کر ہی فقیر اتنا لطف اندوز ہو لیتا ہے کہ وہاں جانے کی کوئی خاص ضرورت محسوس نہیں کرتا۔ اور اگر غور کیجیے تو اپ کو بھی اس نظریے سے متفق ہونے کا پورا حق ہے کہ پہاڑی علاقے بستر پر لیٹ کر انجوائے کیے جائیں۔ کولر یا اے سی لگا ہوا ہے، کمرے میں موتیے یا خس کی ہلکی خوشبو ہے، آپ اپنے بستر پر اور اپنے پسندیدہ تکیوں پر لیٹے ہیں، اور دو تین تکیے ٹانگوں کے نیچے بھی دبائے ہوئے ہیں، اور آپ پڑھ رہے ہیں، تو جتنا مزا یہاں لیٹ کر کیلاش یا ہنزہ کے بارے میں پڑھنے کا ہے، ادھر جا کر شاید ہی اتنا آتا ہو۔ اسے آپ نظریہ کاہلیت کا نام دیجیے یا کچھ بھی، زندگی ایسے بھی گزاری جا سکتی ہے، اور اچھی خاصی گزرتی ہے۔

دادی کہتی تھیں کہ قلفی دو روپے والی کھائی جائے یا پانچ روپے والی، مقصد تو بس مزہ لینا ہے، پیٹ تھوڑی بھرنا ہے۔ وہی معاملہ زندگی \"1267078\"میں سیر و تفریح کا ٹھہرا۔ جب کتابیں پڑھ کر اور ٹی وی پر ان علاقوں کی فلمیں دیکھ کر آپ لطف اندوز ہو سکتے ہیں تو کیا ضروری ہے کہ اتنا سامان لاد کر وہاں جایا جائے اور وہاں کی خوب صورت تنہائیوں کو اپنے وجود سے آباد کیا جائے، آباد رہیں شمالی علاقہ جات، ہنستے مسکراتے رہیں وہاں کے خوب صورت لوگ، ہم ادھر سے ہی انہیں دیکھیں گے اور ان کی خوشی میں خوش ہو جائیں گے اور ان کے غم کو اپنا غم سمجھیں گے۔

بمبوریت، رمبور اور بریر، چترال کی ان تین وادیوں میں تقریباً چار ہزار کیلاش لوگ رہتے ہیں۔ شہر سے آگے ڈھائی تین گھنٹے کی مسافت پر یہ تینوں وادیاں موجود ہیں۔ یہاں کے رسوم و رواج اور یہاں کا رہن سہن صدیوں پرانا ہے اور بیرونی سیاحوں کی چھیڑ چھاڑ کے باوجود کچھ خاص نہیں بدل سکا۔ گذشتہ دو تین دہائیوں سے فوٹو گرافر لوگ بھی کیلاش کا رخ کر چکے ہیں۔ پاکستان میں اب تک جس پروفیشنل فوٹوگرافر نے بزکشی، کیلاش رقص اور چمکتے ہوئے گھوڑوں کی تصویر نہیں اتاری اسے یار لوگ باقاعدہ ماہر فن ہی نہیں سمجھتے اور وہ بے چارہ خود بھی شاید احساس کمتری میں مبتلا رہتا ہو۔ تو جو شخص بھی تصاویر بنانے کیلاش جاتا تھا، واپسی پر اس کی تصویروں میں دو تین چیزیں ایسی ہوتی تھیں جو کیلاش کی پہچان بن چکی ہیں۔ ایک تو وہ تین لڑکیاں ہوتی تھیں جو ایک دوسرے کے کندھے پر ہاتھ رکھے محو رقص ہوا کرتی تھیں۔ چمکتی آنکھیں، مسکراتے دانت، خوب صورت نقش، اجلی رنگت، انگ انگ سے پھوٹتی ہوئی خوشی، بالوں کی چند لٹیں نکلی ہوئی، زیادہ تر بال اس لمبی سی ٹوپی میں قید جس پر رنگین موتیوں اور نہ جانے کس کس چیز کا جڑاؤ کام ہوا کرتا تھا۔ ڈھیلا ڈھالا سا کالا لباس، ایک ہی جیسی تراش کا، ان سب نے پہنا ہوتا اور وہ خوشی منانے میں مصروف ہوتیں۔ نیلی اور سبز آنکھیں، بلاشبہ \"2222\"اس دنیا کی حسین ترین آنکھوں میں شامل وہ آنکھیں بے وجہ مسکرا رہی ہوتی تھیں۔ ان کے گلے رنگ برنگے ہاروں سے بھرے ہوتے تھے، کانوں میں جتنے سوراخ ہوتے اتنے ہی رنگ کے آویزے اپنی بہار دکھاتے، ٹھوڑی اور گالوں پر آرائشی تل بنائے ہوتے، کچھ لڑکیوں کے مطابق وہ تل اس لیے ہوتے تھے کہ خود کو نظر بد سے بچایا جا سکے۔ پھر ان فوٹوگرافروں کی تصاویر میں کیلاش قبرستانوں کی تصویریں ہوتی تھیں، لکڑی کے خوب صورت مگر تجریدیت مائل مجسمے کچھ قبروں پر لگے نظر آتے تھے، ان میں ایک عجیب طرح کی کشش ہوتی تھی، اور تیسری چیز کیلاشی بچے ہوتے تھے۔ ایسا معلوم ہوتا تھا کہ مسکراہٹ، امن، سکون، بے فکری، خوبصورتی، اور خوشی کا دوسرا نام کیلاش ہے۔

پھر شاید کیلاشی لڑکیوں نے وہ تل لگانے چھوڑ دئیے۔ یا ان کا اثر ختم ہو گیا۔ سب سے پہلے تو وہاں موسمی فوٹوگرافروں اور شوقیہ سیاحوں کی یلغار شروع ہوئی۔ ایک دن میں ایک شریف انسان کتنی تصویریں بنوا سکتا ہے۔ وہ لوگ بھی پریشان ہو گئے۔ انکار کرتے تو سیاح باقاعدہ بدتمیزی پر اتر آتے۔ کئی بار خبریں آئیں کہ لوگ ان کے گھروں میں زبردستی گھس گئے، منع کرنے کے باجود تصویریں بنائیں اور پتہ نہیں کیا کیا کچھ ہوتا رہا۔ اسی دوران کچھ علما کو فکر ہوئی کہ ان کی بخشش کا سامان کیا جائے۔ باقاعدہ مذہبی تعلیمات کے مراکز بننے شروع ہو گئے۔ درختوں پر مقدس کلمات کی تختیاں ٹنگی نظر آنے لگیں۔ ان کے اپنے علاقے ان کے اپنے صدیوں پرانے رسوم و رواج کے لیے غیر محفوظ ہوتے چلے گئے۔ پھر خبر آئی کہ وہ یونان جو تھوڑا بہت ترقیاتی کام کیلاش میں کرواتا تھا، اب کیلاشی لڑکیاں اسی یونان کو اسمگل کی \"128892563\"جا رہی ہیں، اس خبر کے بعد بھی لوگ کان لپیٹے پڑے رہے۔ پھر ان کو اپنی شمالی سرحدوں کا تاوان دینا پڑا، وہ سرحد جو افغانستان سے جا ملتی ہے، جو طالبان سے ملتی ہے، اس پر موجود ہونے کا تاوان، اپنی الگ شناخت کا تاوان، اپنی بے فکری، خوب صورتی، امن، سکون اور محبت کا تاوان دینا پڑا، اور پھر وہ ہوا جو نہیں ہونا چاہئیے تھا۔

آج کیلاش لڑکیوں کی روتی ہوئی تصویریں بھی دیکھنی پڑیں۔ وہ لوگ جو ہمیشہ مسکراتے ہوئے نظر آتے تھے، جو ہمیشہ کائنات کی ایک الگ تھلگ وادی میں اپنی موج پر بہتے رہتے تھے، وہ لوگ جن کے جنازوں میں بھی ڈھول تاشے بجتے تھے کہ مرنے والا زندگی کے دکھوں سے آزاد ہو گیا، وہ لوگ آج روتے ہیں۔ آج جو جنازے اٹھے ہیں ان پر کیلاش کی تاریخ میں پہلی بار کوئی موسیقی کے ساز نہیں بجائے گئے، آج ان جنازوں کے ساتھ لوگ زاروقطار روتے ہوئے چلتے گئے ہیں کیوں کہ مرنے والے بے گناہ تھے اور ناحق مارے گئے تھے۔ موسیقی نہ بجانا ان معصوم لوگوں کا خاموش احتجاج تھا۔ کافروں کی بھیڑ بکریاں اور مال و متاع لوٹنے کے چکر میں حملہ آوروں نے کسی جان دار کی عزت و حرمت کا پاس نہیں کیا، بس آرام سے انہیں لاشوں میں تبدیل کر دیا۔ نور احمد اور خوش ولی سیدھے سادھے چرواہے تھے، انہیں معلوم نہیں تھا کہ کھیلوں کے مقابلے اور صنعتی نمائشیں منعقد کرنے والے لوگ اس علاقے کو دہشت گردی سے نہیں بچا پائیں گے۔ دو ہزار بارہ سے اب تک ایسے واقعات کی تعداد میں لگاتار اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور یہ زمینی جنت اب پامال ہوئی جاتی ہے۔

آپ لوگوں میں سے جو کوئی بھی کیلاش گیا ہے، یا جو ان کی خوب صورتی سے ایک لمحے کے لیے بھی محظوظ ہوا ہے، صرف ایک دفعہ ان روتی ہوئی کیلاشی خواتین کی تصویروں کو غور سے دیکھیں، اس بوڑھی عورت کو دیکھیں جو اوپر سے کھڑی دہائیاں دے رہی ہے، جو نور احمد کی ماں ہے، اور سوچیں، ہم آخر چاہتے کیا ہیں؟


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 317 posts and counting.See all posts by husnain

2 thoughts on “کیلاش لڑکیو، تمہاری روتی تصویریں کس نے بنائیں؟

  • 31-07-2016 at 5:05 pm
    Permalink

    A painful reminder of the ugly realities cropping up in Pakistan today and we must learn to deal with these otherwise they may engulf the entire nation

  • 03-08-2016 at 1:37 pm
    Permalink

    Certainly!

Comments are closed.