ترکی قبل از 15 جولائی: یادیں اور تصویر بتاں (2)


گزشتہ سے پیوستہ

\"abdulکانفرنس کا باقاعدہ آغاز ہوا تو ایک دفعہ ہمارے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔عنوان ’سفارت کاری‘ تھا اور ہماری تو سات نسلوں میں کوئی سفارت کار نہیں گزرا۔ ترکی کے لالچ میں یہاں تک پہنچ تو گئے تھے، اب کیا کیا جائے؟ اپنی پھوٹی قسمت کو کوس ہی رہے تھے کہ آڈیٹوریم میں وائے فائے کا پاس ورڈ ہاتھ آ گیا۔ یقین کیجئے، اتنی خوشی حاتم طائی کو شہزادی حسن بانو سے مل کر نہیں ہو گی جتنی اس سمے ہم نے محسوس کی۔ آغاز مراکش سے تعلق رکھنے والے پروفیسر بینس (Bennis) نے کیا جو منتظم اعلیٰ بھی تھے۔ انہوں نے سفارت کاری کی مختصر تاریخ اور کچھ دلچسپ واقعات سنائے۔ بعدازاں امریکی سفارت خانے کی نمائندہ ایک خاتون نے کاغذ پر لکھی تحریر پڑھنے کا شاندار مظاہرہ کیا۔ ان کے بعد ترکی میں جنوبی افریقہ کے سفیر نے اپنے ملک کا تعارف کرایا اور افریقی سفارت کاروں کو درپیش مسائل پر روشنی ڈالی۔ اس دوران ہم اپنے گردونواح میں موجود خواتین و حضرات پر مشتمل WhatsApp گروپ میں گفتگو کرتے رہے۔ کارروائی شروع ہونے کے کچھ دیر بعد آدھے شرکا نیند کی وادیوں میں محو تھے لہٰذا یہ فیصلہ ہوا کہ سوتے ہوؤں کی تصاویر کھینچ کر WhatsApp پر ڈالی جائیں۔ ا س تماشے کے دوران ہمارا تعارف ’گلینا‘ نامی کرد دوشیزہ سے ہوا جو برطانیہ کے کسی بینک میں تعینات تھی۔ لڑکیوں کے لئے ’پٹاخہ‘ کی اصطلاح سن رکھی تھی لیکن اس کا عملی مظاہرہ پہلی دفعہ دیکھنے کو ملا۔ ظہرانے کا اہتمام یونیورسٹی میں ہی کیا گیا تھا اور کھانے کا نام سنتے ہی سب کی نیند رفو چکر ہو گئی۔

یونیورسٹی کے کیفے ٹیریا میں ہم نے پھیکا ترین کھانا کھایا (اور پانچ روز تک کھاتے رہے) جو روایتی ترکی پکوان نہ تھا۔ کھانے کے بعد\"_DSC1281 ایک سیشن امریکہ میں مقیم ترک شہریوں کے لئے ایک تنظیم کی دو نمائندہ خواتین نے حاضرین کو (انگریزی زبان میں) لوری سنائی۔ دن کی آخری باقاعدہ کارروائی کے لئے ہم بسوں میں سوار ہو کر انقرہ کے مضافات کی جانب رواں ہوئے۔ راستے میں یونان سے آئی ایلینی سے گفتگو کا شرف حاصل ہوا۔اس کی بنیادی تعلیم اقتصادیات میں تھی لیکن وہ ایک سال نیدر لینڈ میں یونانی سفارت خانے میں رضا کار کے طور پر کام کر نے کا تجربہ رکھتی تھی۔ ہماری منزل انقرہ کا سب سے وسیع باغ انگور تھا۔ وہاں سب سے پہلے دختر عناب کی ’چکھائی‘ کا مرحلہ درپیش تھا اور ہم یہ شوق فرمانے سے قاصر۔ البتہ ساقیان کی وضع قطع دیکھ کر نصرت فتح علی خان کی آواز کانوں میں گونجنے لگی:’پیتا بغیر اذن، یہ کب تھی مری مجال‘۔ اقبال بھی بہت یاد آئے: ’میری مینائے غزل میں تھی ذرا سی باقی، شیخ کہتا ہے کہ یہ بھی ہے حرام اے ساقی‘۔ اس مرحلے کے بعد ہم نے دختر عناب کشیدہ ہونے کے مراحل سے آگہی حاصل کی اور پھر اس باغ کے مالک کی طرف سے عشائیہ (مع کلاسیکی موسیقی) کا لطف اٹھایا۔ اس سفر سے کچھ ماہ قبل ہم لاہور میں میٹرو بس کی افتتاحی تقریب میں شرکت کر چکے تھے اور اس موقعے کی ڈھیروں تصاویر ہمارے پاس موجود تھیں جو ایک البانوی دوشیزہ نے کہیں دیکھ لیں اور پھر انہوں نے اصرار کر کے تمام تصاویر کا جائزہ لیا اور ہم سے تصویر کشی کے متعلق بحث کا آغاز کیا۔ البانیہ سے تعلق رکھنے کے باوجود وہ یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں رہائش پذیر تھیں (اور اب تک ہیں)۔ ایلینی بھی قریب ہی بیٹھی تھیں اور ان سے کلاسیکی یوروپین موسیقی اور حجاب کے موضوع پر بات چیت ہوئی۔

عشائیے کے دوران اس باغ کے مالک سے تبادلہ خیال کا موقعہ ملا۔ موصوف لگ بھگ اسی برس کے تھے اور ایک دنیا دیکھ رکھی تھی۔ ہم\"ankara نے پاکستان کا ذکر کیا تو کہنے لگے:’میں ساٹھ کی دہائی میں کراچی آیا تھا اور مجھے وہ شہر بہت اچھا لگا۔ کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ تمہارا ملک مولویوں کے ہتھے چڑھ گیا ہے۔‘ وہ خود کیمالسٹ سیکولر تھے اور اپنی پہچان پر فخر کرتے تھے۔ انہوں نے کئی ترک سیاست دانوں کے دلچسپ واقعات سنائے اور حکمران جماعت (طیب اردوان کی اک پارٹی) کی مذہب فروشی پر سخت اعتراض کیا۔ ہماری ترکی آمد سے کچھ ماہ قبل استنبول میں غیزی پارک کے گرد مظاہرے ہوئے تھے اور بزرگوار نے حکومت کے ردعمل (یعنی احتجاج کرنے والوں پر بلااشتعال تشدد) کی مذمت کی۔ ہم اس دعوت کے بعد اپنے ہوٹل کی جانب روانہ ہوئے۔

 ہوٹل پہنچ کر بہت سوں کو(بشمول ہمارے) یہ خیال آیا کہ باتوں کے چکر میں کھانا تو بہت کم لوگ کھا سکے تھے لہٰذا ایک قریبی ڈھابے کی جانب ٹیکسیوں میں ٹھنس کر روانہ ہوئے۔ وہاں پہنچے تو شیشہ کی سہولت موجود تھی لیکن کھانے کی اشیاء محدود تھیں۔ ہم نے فرنچ فرائز پر اکتفا کیا اور دیگر احباب نے متنوع کھانے چکھے۔ درجہ حرارت دن کی حدت کے بعد کم ہو چکا تھا اور ہمیں بادل ناخواستہ ڈھابے کے مالکان سے کمبل ادھار مانگنے پڑے جو دو یا تین کرسیوں پر بیٹھے افراد کے لئے کافی تھے۔ ہمارے کمبل شریکوں میں بھارت سے گورَو، نیدرلینڈ کی ایلزے اور میکسکو کی صوفیا تھیں (ان نیک بیبیوں کا تذکرہ بعد میں تفصیل سے آئے گا)۔ ہم سب پہلی دفعہ ایک دوسرے سے مل رہے تھے کیونکہ پہلے روز کی ہل چل اور کانفرنس کے دوران وقت کی کمی کے باعث ہر کسی سے تعارف کا موقع نہیں مل سکا تھا۔ ہماری ’راہنمائی‘ کے لئے چانکایا یونیورسٹی کے ایک طالب علم کو ہمارے ساتھ تفویض کیا گیا تھا۔ وہ ہمارے ساتھ ڈھابے تک گیا اور مالکان سے بات چیت میں ہماری مدد کی (کیونکہ ہم ترکی زبان سے واقف نہ تھے اور ترک شہریوں کو انگریزی کم ہی آتی ہے)۔ اس کا نام ییٹ\"ankara (Yeet) تھا اور وہ ایک نہایت دلچسپ انسان تھا(ہم ایک سال بعد تفریحی دورے پر ترکی گئے تو اس سے خصوصی ملاقات ہوئی)۔ وہاں موجود شرکاء نے اپنے دکھ سکھ بانٹنے شروع کئے تو معلوم ہوا کہ کچھ لوگ کانفرنس سے ایک دن قبل انقرہ پہنچ چکے تھے لیکن منتظمین نے انہیں زیادہ لفٹ نہیں کروائی تھی اور وہ اپنے خرچ پر کسی دوسرے ہوٹل میں رہنے پر مجبور ہوئے۔ یہ بھی پتہ چلا کہ کچھ شرکا منتظمین کی نااہلی اور ہوٹل میں صفائی کے فقدان کے باعث واپس گھروں کو لوٹ گئے تھے۔ ہماری ایک انگریز ساتھی ایلس کی ڈھابہ مالکان سے آرڈر غلط کرنے پر توتو میں میں ہوگئی۔ جب اس کو توتکار کے بعد صحیح چیز مل گئی تو مالکان نے جذبہ خیر سگالی کے تحت اس سے (اصرار کے باوجود) پیسے نہیں لئے۔

ہمارے عظیم الشان ہوٹل میں اے سی یا پنکھے کی سہولت میسر نہ تھی لیکن انقرہ کی ٹھنڈی راتوں میں کھلی کھڑکی کا سہارا کافی تھا۔ اس عیاشی کا ایک نقصان زبردستی کی صبح خیزی تھی چونکہ ہمارا ہوٹل عین سڑک کے کنارے موجود تھااور صبح سویرے ٹرکوں کے ہارن ہمیں نیند سے بیدار کرنے کا فریضہ انجام دیتے۔ رات دیر تک ڈھابے پر گپ شپ کے بعد صبح ناشتے کے لئے اٹھنا ایک عذاب لگا۔ ہوٹل کی طرف سے روایتی ترک ناشتہ پیش کیا گیا یعنی زیتون، شہد اور پنیر کی مختلف اشکال ایک ڈبل روٹی کے ہمراہ۔ پاکستانی ناشتوں کے عادی شکم کے لئے یہ ناشتہ پنجابی محاورے کے مطابق صرف داڑھ ہی گیلی کرسکتا تھا۔

____________

یہ آرٹیکل اس سے پہلے ڈان میں شائع ہوا۔

(جاری ہے)

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عبدالمجید عابد

عبدالمجید لاہور کے باسی ہیں اور معلمی کے پیشے سے منسلک۔ تاریخ سے خاص شغف رکھتے ہیں۔

abdulmajeed has 28 posts and counting.See all posts by abdulmajeed