سٹاک مارکیٹ مندی کا شکار


stock marketپاکستان سٹاک مارکیٹ گزشتہ ہفتے شدید کاروباری اتار چڑھاو کی زد میں رہی۔ پی ایس ایکس100 انڈیکس31 ہزار پوائنٹس سے گھٹ کر 30900 پوائنٹس پر بند ہوا تاہم سرمائے کے مجموعی حجم میں  37 ارب روپے سے زائد کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
پاکستان سٹاک مارکیٹ گزشتہ ہفتے کاروبارکے پہلے ہی روز مندی کا شکار ہوگئی، اس طرح 3 روز مندی سے انڈیکس 713.9 پوائنٹس گھٹ گیا جبکہ2روز کی تیزی میں انڈیکس نے 661.44 پوائنٹس ریکور کیے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق چارسدہ میں یونیورسٹی پر دہشت گردوں کے حملے خام تیل کی عالمی قیمتوں میں مسلسل کمی اور ایران پر پابندیوں کے خاتمے کے بعد تیل کی تلاش کے منصوبوںسے سرمائے کے انخلا کی اطلاعات اور ایف آئی اے کی جانب سے بروکرز کے خلاف جاری کارروائی جیسے عوامل نے سرمایہ کاروں کو مارکیٹ سے دور رکھا جس کے باعث مارکیٹ مندی کی زد میں رہی تاہم مارکیٹ کو سہارا دینے کی غرض سے منافع بخش شعبے میں کی گئی سرمایہ کاری کی وجہ سے انڈیکس نے 600 سے زائد پوائنٹس ریکورکیے۔
گزشتہ ہفتے پاکستان سٹاک مارکیٹ میں کے ایس ای100انڈیکس میں 52.46پوائنٹس کی کمی واقع ہوئی اور انڈیکس 31001.49 پوائنٹس سے کم ہوکر 30949.03 پوائنٹس پر بند ہوا۔ اسی طرح 117.54پوائنٹس کی کمی سے پی ایس ایکس 30 انڈیکس17940.67 پوائنٹس پر آگیا تاہم کے ایس ای آل شیئرز انڈیکس 21657.54 پوائنٹس سے بڑھ کر 21778.22 پوائنٹس پر جا پہنچا۔ کاروباری اتار چڑھاو کے باوجود مارکیٹ کے سرمائے میں 37 ارب 62 کروڑ 16 لاکھ 87 ہزار 744 رو پے کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا جس کے نتیجے میں سرمائے کا مجموعی حجم 65 کھرب 68 ارب 82 کروڑ 51 لاکھ 13 ہزار 348 روپے سے بڑھ کر 66کھرب 6ارب 44کروڑ 68لاکھ 1ہزار 92روپے ہوگیا۔
گزشتہ ہفتے کاروباری اتار چڑھاو¿ کے باعث انڈیکس31131پوائنٹس کی بلند سطح پر جا پہنچا تھا تاہم فروخت کے دباو¿ کے باعث انڈیکس 30553پوائنٹس کی کم ترین سطح تک گر گیا تھا۔ پاکستان اسٹاک مارکیٹ میں گزشتہ ہفتے مجموعی طورپر1632کمپنیوں کا کاروبار ہوا جس میں سے 811 کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں اضافہ، 723میں کمی اور98کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں میں استحکام ر ہا۔ کاروبارکے لحاظ سے کے الیکٹرک، ٹی آر جی پاک لمیٹڈ، ڈی جی کے سیمنٹ، بینک آف پنجاب، سوئی نادرن گیس، میپل لیف سیمنٹ، بائیکو پیٹرولیم، فوجی فرٹیلائزر، جہانگیر صدیق کمپنی، پیس پاک لمیٹڈ پی ٹی سی ایل، آئل اینڈ گیس ڈویلپمنٹ اور پاک الیکٹرون سرفہرست رہے۔


Comments

FB Login Required - comments