آخری زمانہ‘ ہمارے عہد کی کہانی ہے


انجمن ترقی پسند مصنفین کے پہلے کانفرنس میں صدارتی خطبہ دیتے ہوئے پریم چند نے کہا تھا، ’ ہماری کسوٹی پر اب وہ ادب کھرا ترے گا \"zafarجس میںتفکر ہو، آزادی کا جذبہ ہو، حسن کا جوہر، تعمیر کی روح ہو اور زندگی کی حقیقتوں کی روشنی ہو‘۔ پریم چند کی یہ تعریف ترقی پسند ادب کے لئے متعین راہ تھی۔ اس بحث سے پرے کہ یہ راہ صرف ترقی پسند ادب کے لئے تھی یا عام ادب بھی اپنے اندر تفکر، آزادی کا جذبہ، تعمیر کی روح اور زندگی کی حقیقتوں کی روشنی سے ہی تخلیق ہوتا ہے یا پھر روایت سے جڑنے کی خاطر قافیہ شناسی ہے۔ انور عظیم نے اپنے مضمون ’ معاصر ادب اور زندگی کے مسائل میں مشترک کیا ہے‘ میں اسی باب میں لکھا ہے، ’ کیا معاصر ادب کی پہچان اس مہر …. سے ہوتی ہے جسے ’ترقی پسند ادب‘ کہتے ہیں؟ کیا وہی ادب معاصر ادب ہے جس کے پرچم پر لکھا ہوا ہے ’ترقی پسند‘؟ لیکن جو ادب ترقی پسند نہیں ہے اس کی پہچان کیا ہے؟ کیا اس میں ’زندگی کے مسائل‘ نہیں ہیں؟ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر اپنی شناخت کو، تخلیقیت کی تخصیص کے بغیر، اتنا خود پرست اور محدود بنانے کی کیا ضرورت ہے‘۔ بات چل نکلی ہے تو اس ضمن میں ترقی پسند مخالف نقادوں کے ایک دو اقتباسات اور بھی دیکھ لیجیے۔ جعفر علی اثر لکھتے ہیں، ’ فرسودہ بدیسی تحریکات کو ہندوستان منتقل کر کے ان کی مبالغہ آمیز نقالی کی گئی ہے‘۔ حامد حسن قادر لکھتے ہیں، ’ نیا ادب جن حالات و حوادث کے تحت وجود میں آیا، جن تیلیوں پر اس ڈھانچہ قائم ہے، جس روپ اور جن لوگوں کی معرفت وہ ہم تک پہنچا وہ تمام تر بدیسی ہیں‘۔

اس کے برعکس ترقی پسند ادیبوں کا کہنا تھا کہ ترقی پسند ادیب ادب کو محض تفریح اور تعیش کی چیز نہیں سمجھتے۔کیفی اعظمی جواب دیتے ہوئے لکھتے ہیں، ’ ادب کو زندگی کا آئینہ تسلیم کرنے کے بعد ترقی پسند ادب پر نقالی کا الزام لگانے کے معنی یہ ہیں کہ ہماری جان سے دور، بھوک، افلاس، بے روزگاری، جہالت، سرمایہ دار، مزدور، کسان اور زمیندار وغیرہ کا ہندوستان میں کوئی وجود نہیں ہے۔ ترقی پسند مصنفین اپنی کہانیوں اور نظموں میں ان کا ذکر کرتے ہیں تو مغرب کی نقالی کرتے ہیں۔ ہماری زندگی تو ہمیشہ سے جیسی تھی ویسی ہے۔ کیا یہ صحیح ہے‘۔ یہ نقادوں کی جنگ ہے۔ پون صدی کی داستان ہے۔پچھلی صدی کی پانچویں دہئی تک ترقی پسندی اور تھی۔ اس کے بعد اس کی صورت بدل گئی۔پڑھنے والے فیض اور قاسمی بھی مسیر آئے ، اشتیاق احمد اور نسیم حجازی بھی میسر آئے۔کون سے ادب کا کیا مقام ہے یہ پڑھنے والا قاری طے کرے گا۔ استادی وجاہت مسعود نے لکھا تھا، ’ تخلیق اور دانش میں ربط کی بحث بہت پرانی ہے۔ تاہم کچھ رک کر سوچئے تو دانش کی عدم موجودگی میں تخلیق محض قافیہ پیمائی ہے۔ ہنر محض حرفت کے درجے پر گر جاتا ہے۔ دوسری طرف تخلیق سے عاری دانش بانجھ نرے لفظوں کا گورکھ دھندا ہے‘۔

صیغہ متکلم کی مجبوری ہے کہ خاکسار نہ نقاد ہے اور نہ ادب کی درجہ بندی کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایک قاری ہے اور قاری کی حیثیت سے ہی رائے پیش کرنے کی جسارت کر رہا ہے۔آخری اردوناول کوئی چار سال پیشتر مرزا اطہر بیگ کا ’غلام باغ‘ پڑھا تھا۔کوئی سات ماہ پیشتر برادرم حسنین جمال نے ایک کالم بعنوان ’ آخری زمانہ اور تم کس کے ساتھ ہو‘ لکھاتھا۔ معلوم ہوا کہ ازبسکہ ’ بن روئے آنسو، متاع جاں ہے تو، جنت کے پتے، قراقرم کا تاج محل، عبد اللہ، پری زاد‘ جیسی اصلاحی کہانیوں المعروف ’پاپولر فکشن‘کے علاوہ بھی کچھ لکھا جا رہا ہے جو قاری کو ناول پڑھنے پر آمادہ کر سکتا ہے۔تلاش بسیار کے بعد بھی اسلام آباد میں کے کتب خانوں میں کتاب دستیاب نہ ہو سکی۔برادرم حسن معراج کی سخاوت آمیز طبیعت کام آئی اور انہوں نے کتاب ہدیہ کر دی۔ اس کی ضخامت کو دیکھ کر زمانہ طالب علمی میں  ٹالسٹائی کی ’ امن اور جنگ‘ کا مطالعہ یاد آیا جو آٹھ بار شروع کرنے پر بھی تکمیل کو نہ پہنچا۔ مہینوں کتاب ٹیبل پر پڑی رہی۔ عید کی تعطیلات سلامت رہیں کہ ناول پڑھنے کا اس سے اچھا موقع اور کیا نصیب ہو سکتا ہے۔

آمنہ مفتی کا ناول ’ آخری زمانہ ‘ پر نقادوں کی رائے کیا ہے، اس سے یہ قاری بے خبر ہے۔ ایک قاری کی حیثیت سے کہا جا سکتا ہے کہ اپنے عہد میں جیتے ہوئے مشکل سیاسی، سماجی اور معاشرتی حالات میں موجود کرداروں کے ساتھ کہانی تخلیق کرنا بہت مشکل فن ہے۔اس کے لئے حالات اور کردار کے لئے اپنی ذات کو تختہ مشق بنانا پڑتا ہے۔ ایک تخیلاتی محل وقوع میں لکھی گئی کہانی کی ناک کہیں بھی توڑی مروڑی جا سکتی ہے۔ عام طور پر پاپولر فکشن میں کہانی کو کسی اونچے مقام سے دیکھ کر قادر الکلامی کے جوہر دکھائے جاتے ہیں اورایسی فضا تخلیق کی جاتی ہے جس میں مصنف نیکی او سچائی کے جملہ مترادفات جب چاہے، جہاں چاہے اپنے کرداروں میں سمو سکتا ہے۔ جبکہ بقول درویش بہترین مصنف وہ ہے جس کو موضوع سے دست و گریباں ہونا پڑے۔آمنہ مفتی کے اس ناول کا کرافٹ سادہ ہے مگر ان کے کرداروں کے مکالمے سے ظاہر ہوتا ہے کہ انہوں نے اپنی ذات کو تختہ مشق بنایا ہے۔ وہ جگہ جگہ موضوع سے دست و گریباں ہیں۔ انہوں نے وہ نتائج فکر جن سے خود ان کو اختلاف ہے بہت دیانت داری سے بیان کیے ہیں۔

ہمارے ادبی حلقوں میں یہ واقعہ مشہور ہے کہ روس پر جرمن حملے کے بعد روسی افسانی نگاروں کی وہ کہانیاں، جن میں روسی جوانوں کی مدافعت کی داستانیں رقم تھیں، پڑھنے کے بعد ایک پروفیسر صاحب نے کہا تھا، ’ یہ کیسی کہانیاں ہیں؟ یہ تو جنگ کا پروپیگنڈا ہے۔ ان میں کوئی حسن نہیں ہے۔ اگر روسی افسانہ نگار ایسا لکھتے ہیں تو ہمارا سلام‘۔ پروفیسر صاحب شاید جنگ کو المیہ نہیں سمجھتے تھے اور شاید انہوں نے عبداللہ حسین کی’ اداس نسلیں ‘ نہیںپڑھی تھی ورنہ اس کے بارے میں بھی یہی رائے رکھتے۔ ایک قاری کی حیثیت سے اس خادم کی عاجزانہ رائے ہے جب کہ ادب زندگی کا آئینہ دار تسلیم کر لیا گیا ہے تو وہ ادب زیادہ اثر پذیر اور قابل داد ہوتا ہے جو اپنے عہد اور اپنی مٹی کی داستان سناتا ہے۔نیل کے ساحل پر کھڑا گھڑ سوار جب ہسپانیہ کے محلاتی سازشوں کے بارے اپنے سپاہیوں کو آگاہ کرتا ہے اور میمنہ کے رخ درست کرنے کی تعلیم دیتا ہے تو اس کا ادب میں ضرور کوئی مقام ہو گا لیکن گھڑ سوار ،منجنیق ، میمنہ اور میسرہ کو چشم تصور میںدیکھنا یا اس کی قدر دانی کرنا پانچ دریاﺅں کے میٹھے مزاج باسیوں کے لئے امکان سے پرے کی چیز ہے۔ بلوچستان کا قاری کہانی پڑھتے ہوئے جاننا چاہے گا کہ نو ستاروں کی کہانی میں ان کے اجداد کا کیا کردار تھا۔ سندھ کا باسی اس کہانی کا زیادہ اثر لے گا جس میں بھٹو صاحب کا ذکر ہو۔ پختونخوا کا باسی ڈبگری بازار کے قہوے کا ذکر پڑھ کر کہانی کو زیادہ حقیقت نگاری کی نظر دیکھے گا۔

آمنہ مفتی نے’ آخری زمانہ‘ میں ہمارے عہد کی کہانی لکھی ہے۔ یہ خواب اور تعبیر کے کشمکش کی وہ داستان ہے جو ہماری تاریخ کے موجود کرداروں کے ذریعے تخلیق ہوئی ہے۔ یہ اس سوچ کی کہانی ہے جو سماج کو کسی مخصوص فکر پر استوار کرنے کی سعی کرتا ہے۔ یہ اس ملک میں موجود سیاسی کشمکش کی داستان ہے۔ آمنہ مفتی نے آخری زمانہ میں اس ملک کی سیاسی تاریخ ایک کہانی میں پرو دی۔ اس میں آزادی کا جذبہ ہے۔ تعمیر کی روح ہے اور زندگی کی حقیقتوں کی روشنی ہے۔ موقع ملے تو ایک بار پھر ناول پڑھنے پر کمر کس لیجیے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 141 posts and counting.See all posts by zafarullah