عقیدے کا سکون


\"Azeem-Ur-Rehman-Usmani\"

پچھلی نوکری میں میرا مینجر ایک ایسا مخلص عیسائی تھا جو سنجیدگی سے نوکری چھوڑ کر اپنے علاقائی گرجا گھر کا سربراہ بننے کا متمنی تھا۔ جب اسے میرے مذہبی رجحان سے آگاہی ہوئی تو اکثر مجھ سے بہانے بہانے گفتگو کرتا تاکہ مجھ پر عیسائیت کی حقانیت کو ثابت کرسکے۔ اس کا دعویٰ تھا کہ معاذ اللہ عیسیٰ علیہ السلام خدا ہیں اور ساتھ ہی خدا کے بیٹے بھی ہیں۔ اتنا ہی نہیں بلکہ وہ مجھے پورے اعتماد سے بتاتا کہ خدا روز مجھ پر وحی کرتا ہے اور مجھ سے مخاطب ہوتا ہے۔ دھیان رہے کہ وہ روزمرہ کی زندگی میں بلاشبہ ایک زہین، فطین اور نفیس انسان تسلیم کیا جاتا تھا۔ میں نے اس سے اس کی اس وحی کی کیفیت پوچھی تو اس نے بتایا کہ وہ باقاعدہ ایک آواز سنتا ہے جو اس کے جسمانی کان میں نہیں بلکہ دماغ میں گونجتی ہے۔ یہ آواز اسے بتاتی ہے کہ اسے آج کیا کیا اچھے کام کرنے ہیں؟ اکثر اسے ایسی باتیں معلوم ہوتی ہیں جو اسے معلوم ہونا ناممکن تھیں۔ مثال کے طور پر یہ آواز اسے حکم دیتی کہ فلاں شخص کے پاس جاؤ اور اسے تسلی دو کہ اس کا باپ اس سے ناراض نہیں ہے۔ جب اس نے جا کر یہ پیغام مطلوبہ انسان تک پہنچایا تو وہ شخص روہانسا ہوگیا اور اس نے بتایا کہ ابھی چند روز پہلے ہی اس کے باپ کا انتقال ہوا ہے جسے وہ بہت یاد کرتا ہے۔ اسی طرح ایک بار اس نے مجھے میری بیوی کی دیرینہ بیماری کا نہایت پیچیدہ نام بتایا جو کے ان ہی دنوں میڈیکل رپورٹس میں مجھے معلوم ہوئی تھی اور اسے میرے سوا کوئی دوسرا آفس میں نہیں جانتا تھا۔ یہ بات بتا کر اسے ایسا لگا کہ شاید میں اس سے مرعوب ہوجاؤں گا اور شائد مجھے کسی حد تک مرعوب ہو بھی جانا چاہیئے تھا لیکن میں اپنے مرحوم شیخ کی بدولت یہ جانتا تھا کہ نفسی علوم کے ذریعے یا قرین (جن) کا استعمال کر کے کچھ ایسی باتیں جان لینا جو سامنے والے کے ذہن میں پہلے سے موجود ہو کوئی بڑی بات نہیں ہے۔ میں نے اس مینجر کو پورے سکون سے سمجھایا کہ اس طرح کی شعبدہ بازیاں یا کرامات تو ہر مذہب کا فرد کرلیتا ہے۔ اس سے حق کے حق ہونے کا تعین قطعی نہیں کیا جاسکتا۔ اس کا فیصلہ تو صرف وحی اور فطرت سلیمہ مل کر ہی کر سکتے ہیں۔ ساتھ ہی میں نے اسے کچھ ذاتی اور کچھ دیگر مسلمانوں کے سچے مافوق الفطرت واقعات سنائے جسے سن کر اس کے چہرے پر فکر کے سائے منڈلانے لگے۔ میرا یہ مینجر ایک نہایت پرسکون نظر آنے والا انسان تھا۔ جس کے سکون کا یہ عالم تھا کہ روز سب کو ای میل کرکے بتاتا کہ آج کا دن رب کی کتنی نعمتوں سے مزین نظر آرہا ہے۔ البتہ اس کے لئے یہ بات پریشان کن تھی کہ اسے میرا وجود بھی پوری طرح پرسکون نظر آتا۔ اسے یہ بات سمجھ نہیں آرہی تھی کہ کوئی شخص عیسیٰ علیہ السلام کو خدا نہ مانے اور پھر بھی پرسکون رہے، یہ کیسے ممکن ہے ؟ دوسری طرف مجھے اعتراف ہے کہ چونکہ میں بھی سکون کو ایمان و عمل کا لازمی نتیجہ مانتا ہوں لہٰذا میں بھی تعجب میں تھا کہ یا اللہ ایک شخص بدترین شرک میں مبتلا ہوکر بھی اس درجہ پرسکون کیسے ہے؟ یہ دو طرفہ حیرت ایک زمانے جاری رہی۔
۔
جب بےتکلفی بڑھی تو میں نے کھل کر اس سے عقائد کے متعلق بات کرنے کا فیصلہ کرلیا۔ ایک روز ہم دونوں نے فیصلہ کیا کہ صوفے پر بیٹھ کر اسی بارے میں بات کریں گے۔ چانچہ وہ دن آگیا۔ میں نے اس سے کہا کہ کیونکہ تم قران حکیم کو اللہ کا کلام نہیں مانتے، اس لئے آج میں تم سے صرف اس کتاب کے بارے میں بات کرنا چاہتا ہوں جسے تم اللہ کا کلام مانتے ہو یعنی بائبل۔ یہ سن کر اس کی آنکھیں چمکنے لگیں۔ اس کی حیرت میں اضافے کیلئے میں نے اسے بتایا کہ میں بائبل سمیت دیگر نمائندہ مذاہب کے کئی صحائف کو پڑھ چکا ہوں۔ اب میں نے اسے سمجھایا کہ کتنے زیادہ حوالوں سے قران اور بائبل کے ماننے والے ایک ہے عقائد کو مانتے ہیں۔ اصل مسلہ صرف اتنا ہے کہ ہم عیسیٰ علیہ السلام کو خدا یا خدا کا بیٹا نہیں بلکہ ایک بہت برگزیدہ پیغمبر تسلیم کرتے ہیں۔ اس نے اثبات میں سر ہلایا تو میں نے پوچھا کہ اب تم مجھے کوئی ایک بھی آیت بائبل سے ایسی پیش کردو جس میں عیسیٰ علیہ السلام نے خدائی کا دعویٰ کرکے اپنی عبادت کا حکم دیا ہو۔ یہ سن کر اس نے وہ آیات یکے بعد دیگرے سنانی شروع کیں جو دراصل کوئی دوسری بات بیان کررہی تھیں۔ میں ایک ایک کرکے اس کی پیش کردہ آیات کو واضح کرتا گیا۔ یہاں تک کے اس کو اعتراف کرنا پڑا کہ ایسی کوئی آیت براہ راست موجود نہیں۔ میں نے مسکرا کر اسے سمجھایا کہ یہ کیسے ممکن ہے؟ کہ اتنا بڑا عقیدہ واضح الفاظ میں موجود ہی نہ ہو۔

اسی بارے میں: ۔  خدارا ہمیں پریشان ہو لینے دیجئے

اس کے چہرے کی مسکراہٹ اب پھیکی سی تھی۔ میں نے اب ان حوالوں کو بائبل سے بیان کرنا شروع کیا جو یہ ثابت کرتے ہیں کہ عیسیٰ علیہ السلام ایک ہی آسمانی باپ یعنی خدا کی جانب بلاتے رہے اور اسی کو خود بھی سجدہ کرتے رہے۔ اس نے اقرار کیا کہ ابھی اس کے پاس اس کا جواب نہیں اور وہ اس بارے میں تحقیق کرکے بتائے گا۔ یوں ہماری نشست ختم ہوئی۔ اس کے بعد کے چند روز میں نے اسے نہایت بے سکونی کی حالت میں دیکھا۔ اس کا وہ سکون اب کہیں غائب ہوگیا تھا جو اس کا خاصہ تھا۔ یہ عقدہ مجھ پر اب کھل چکا تھا کہ جس سکون کو اس مینجرنے اختیار کیا تھا وہ ایک نقلی نقاب سے زیادہ نہ تھا جو دلائل سے یکدم منہدم ہوگیا تھا۔ چند دن بعد اس نے خود مجھ سے بات کی اور کہا کہ ان باتوں کے جواب نہیں ہیں مگر وہ بناء دلیل اس بات کو مانے گا کہ عیسیٰ علیہ السلام ہی خدا ہیں کیونکہ وہ اسے وحی کرتے ہیں۔ میں نے جواب میں اسے پھر ان گنت ایسے ہی واقعات سنائے جو مختلف عقائد کےلوگوں کیساتھ ہوتے آئے ہیں۔ ساتھ ہی ان ذہنی مریضوں کی کہانیاں بھی یاد کروائی جنہوں نے اپنی اولاد کو یا کسی عزیز کو اسلئے قتل کردیا کہ ان کے بقول خدا نے انہیں ایسا کرنے کی وحی کی تھی۔ اس سب سے گھبرا کر اس نے مجھے ڈرتے ڈرتے اپنے چرچ آنے کی دعوت دی تاکہ میں وہاں کسی سے مل سکوں۔ میں نے دعوت قبول کی اور اللہ سے دعا کرکے مقررہ اتوار کو اس بہت بڑے چرچ میں جاپہنچا۔ وہاں ہوتی ہوئی ہر عبادت کا مشاہدہ کیا اور خیال رکھا کہ کسی شرکیہ عبادت کا حصہ نہ بنوں۔ عبادت کے اختتام پر میرے مینجر نے مجھے اپنے بڑے سے ملوایا۔ اس سے بھی شائستہ مکالمہ ہوا اور زیادہ دیر نہ لگی جب اس کے پاس بھی کہنے کو اس کے سوا کچھ نہ بچا کہ بناء دلیل عیسیٰ علیہ السلام کی الوہیت تسلیم کی جائے معاذ اللہ۔ اس کے بعد کھانے کی میز پر اسکی بیوی مجھ سے برزخی زندگی کے اسلامی نکتہ نظر کو سمجھتی رہی اور اپنے دیرینہ سوالات کے جوابات پاکر خوشگوار حیرت میں مبتلا رہی۔ جب تک میں وہاں نوکری کرتا رہا وہ اپنے عیسائی دوستوں کے ساتھ مل کر میرے عیسائی ہوجانے کی دعا مانگتا رہا ور میں اللہ سے اس کی ہدایت کا طلبگار رہا۔ الحمدللہ مجھے اطمینان ہے کہ اس تک دین کا پیغام الہامی دلائل اور ثبوتوں کیساتھ پہنچ گیا۔ اب ماننا نہ ماننا اس کا اپنا عمل ہوگا۔

اسی بارے میں: ۔  ’میرے بچے کو گورا بنا دو‘، انڈیا میں گورے پن کا جنون

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “عقیدے کا سکون

  • 02-08-2016 at 9:35 am
    Permalink

    You were convinced that his belief is fake and he was convinced that your belief was fake…Both of you refused to reconsider your belief with an open mind…If you stick your mind to a set frequency and refuse to deviate….simply you will attain peace of mind, to whatever religion you belong..

Comments are closed.