پوپ فرانسس نے اسلام کے بارے میں کیا کہا؟


\"edit\"پوپ فرانسس نے کہا ہے کہ وہ اسلام کو دہشت گردی یا تشدد کا مذہب نہیں کہہ سکتے کیوں کہ نہ تو ایسا کہنا درست ہوگا اور نہ ہی سچ۔ پولینڈ سے ویٹی کن واپس آتے ہوئے اخباری نمائندوں سے باتیں کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہر مذہب میں ایسے بنیاد پرستوں کا گروہ ہوتا ہے جو انتہا پسند ہوتا ہے۔ ایسے کسی گروہ کی بنیاد پر کسی مذہب کو دہشت گردی یا تشدد سے منسوب نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے یہ باتیں صحافیوں کے اس اصرار پر کہیں کہ وہ اسلام کے نام پر ہونے والی دہشت گردی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے اسلام کا نام کیوں استعمال نہیں کرتے۔ پوپ کا جواب تھا کہ اگر میں اسلام میں تشدد کی بات کروں گا تو مجھے پہلے کیتھولک عقیدے میں تشدد کی بات کرنا پڑے گی۔

دنیا کے اہم ترین مسیحی مذہبی رہنما کی یہ باتیں دہشت گردی کی موجودہ فضا میں دل و دماغ ٹھنڈا رکھتے ہوئے ایک دوسرے کے بارے میں خیر سگالی کے جذبات پیدا کرنے کے حوالے سے بے حد اہم ہیں۔ خاص طور سے ایک ایسے ماحول میں جب یورپ اور امریکہ کے متعدد مقبولیت پسند لیڈر اسلام اور مسلمانوں کو دہشت گردی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے نفرت اور بے یقینی کا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس کے علاوہ پوپ فرانسس کا یہ معتدل اور ہوشمندانہ بیان ان مسلمان مذہبی رہنماؤں کے لئے بھی مشعل راہ ہونا چاہئے جو اسلام کو امن کا مذہب قرار دیتے ہیں لیکن اگلی ہی سانس میں عیسائیوں اور یہودیوں پر اسلام کے خلاف سازش کرنے حتی کہ بعض واقعات کے حوالے اسے یہودی اور عیسائی ملی بھگت قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس طرح کی حرف زنی سے بین المذہبی احترام اور تفہیم کی بجائے غلط فہمیاں اور شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں۔ دنیا اس وقت مذہب اور عقیدے کے نام پر جس انتہا پسندی اور خوں ریزی کا سامنا کررہی ہے، اس کا تقاضہ ہے کہ الزام تراشی سے گریز کرتے ہوئے ایک دوسرے کا احترام کرنے کا پیغام عام کیا جائے۔ اس حوالے سے پوپ فرانسس کا بیان اہم اور قابل تقلید ہے۔

پوپ فرانسس نے کہا کہ تشدد کا تعلق کسی ایک عقیدہ سے نہیں ہے۔ میں جب صبح کو اخبار دیکھتا ہوں تو مجھے ایسی خبریں پڑھنے کو ملتی ہیں کہ کسی لڑکے نے اپنی گرل فرینڈ کو قتل کردیا۔ کسی نے اپنی خوشدامن کا خون کردیا۔ یہ سب تشدد ہے۔ اس میں ملوث لوگ عیسائی بھی ہوتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ مسلمان اماموں سے ملتے ہیں تو جان سکتے ہیں کہ وہ امن کے کس قدر خواہش مند ہیں۔ رومن کیتھولک لیڈر کا کہنا تھا کہ دولت اسلامیہ نامی گروہ خود اپنی شناخت تشدد اور دہشت گردی کے ذریعے کرواتا ہے، لیکن یہ تو اسلام نہیں ہے۔ پوپ فرانسس سے اسلام اور دہشت گردی کے حوالے سوالات فرانس میں گزشتہ منگل کو ایک 84 سالہ رومن کیتھولک پادری کے مسلمان دہشت گرد نوجوانوں کے ہاتھوں بے رحمانہ قتل کے تناظر میں خاص طور سے پوچھے جارہے ہیں۔ دولت اسلامیہ سے تعلق رکھنے والے دو نوجوانوں نے شمالی فرانس میں نارمنڈی کے ایک قصبے سینٹ اتھین دو رورے میں ایک چرچ پر حملہ کرکے پادری فادر جیکوئیس ہامل کا گلا کاٹ کر انہیں ہلاک کردیا تھا۔

تاہم اس علاقے کے مسلمانوں نے بھی اس قتل پر سخت رد عمل کا مظاہرہ کیا ہے اور مقامی مذہبی تنظیموں نے قتل میں ملوث نوجوانوں کی تدفین کرنے سے انکار کردیا تھا۔ اس علاقے کے مسلمانوں کے نمائیندے محمد کربیلا نے بتایا تھا کہ مسلمان ان لوگوں کو اپنے جرائم کو اسلام سے منسلک کرنے کی اجازت نہیں دے سکتے۔ اس لئے ان دہشت گردوں کی تدفین میں حصہ نہ لینے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ تاہم اگر قواعد کے مطابق علاقے کا مئیر اس بارے میں درخواست کرے گا تو مسجد کا ایک نمائندہ اس فریضہ کو ادا کرے گا۔ اتوار کے روز فرانس کے رومن کیتھولک چرچوں میں فادر جیکوئیس ہامل کے لئے دعائیہ تقریبات کا اہتمام بھی کیا گیا تھا۔ اس موقع پر مسلمانوں کے نمائیندوں نے بھی شرکت کی ۔ سینٹ اتھین دو رورے کے چرچ میں ہونے والی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مقامی امام نے دہشت گردی کی شدید مذمت کی اور کہا کہ مسلمان بھی فرانس اور دنیا کے دوسرے شہریوں کی طرح امن سے رہنا چاہتے ہیں۔ مسلمانوں کے اس جذبہ خیر سگالی کو سراہا گیا ہے۔

دنیا بھر میں مسلمان دہشت گردی کے مسلسل واقعات کی وجہ سے مقامی معاشروں کا دباؤ بھی محسوس کررہے ہیں۔ انتہا پسند سیاسی لیڈر صورت حال کو لوگوں کو بھڑکانے اور انہیں اسلام سے بد ظن کرنے کے لئے استعمال بھی کرتے ہیں۔ لیکن اس کے ساتھ ہی پوپ فرانسس جیسی معتدل آوازیں بھی موجود ہیں۔ متعدد مسلمان رہنما بھی یہ محسوس کرنے لگے ہیں کہ انہیں مقامی معاشروں میں اسلام کے نام پر کئے جانے والے تشدد پر خاموش رہنے کی بجائے، آگے بڑھ کر اسے مسترد کرنا ہو گا اور متاثرین کو ڈھارس دینے کے لئے پیش قدمی کرنا ہوگی۔ اس قسم کے مثبت رویوں سے ہی دہشت گردوں کی قوت کو کم اور ان کی طرف سے مسلمانوں کے لئے پیدا کی جانے والی مشکلات کا سامنا کیا جا سکتا ہے۔

ان کوششوں میں یورپ میں آباد مسلمانوں کو مسلمان اکثریت کے ملکوں سے بھی امداد اور تعاون کی ضرورت ہے۔ مسلمان اگر اپنے معاشروں میں اقلیتوں کے ساتھ دوستانہ سلوک روا رکھیں اور ان کے خلاف برسر عمل گروہوں کو مسترد کریں تو غیر مسلمان ملکوں میں اس کا اچھا اثر محسوس کیا جا سکے گا۔ اگر پاکستان جیسے ملکوں میں مذہبی اقلیتوں کے ساتھ معاندانہ سلوک اختیار کرتے ہوئے انہیں غیر محفوظ کیا گیا تو دنیا کے لوگوں کے لئے اس کا الزام اسلام پر لگانا آسان ہو جائے گا۔ اس حوالے سے پوپ فرانسس کا رویہ قابل غور ہے۔ مسلمان لیڈروں کو بھی اقلیتوں کے بارے میں ایسا ہی مثبت طرز عمل اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 701 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali