بیانیے کی ’‘پیا من بھائے ‘ اصلاح ….


kashif naseerتنظیم اسلامی، حزب التحریر اور جماعت اسلامی کے اس مبینہ ٹرائیکا کا ’دماغ‘آخرکس طرح درست ہوگا؟ کیا دماغ درست کرنے کے بعد وہ اپنے بیانئے سے دستبردار ہوجائیں گے اور اگر نہیں ہوں گے تو دماغ کی مزید درستگی کے لئے غامدی صاحب اور ان کے ساتھیوں کی اور کیا تجاویز ہیں؟ کمال اتا ترک کا ترکی ماڈل، جمال عبدلناصر کا مصری ماڈل، بشر الاسد کا شامی ماڈل ، شیخ حسینہ واجد کا بنگالی ماڈل یا کوئی نیا طاقتور پاکستانی ماڈل،لیکن اس نئے ماڈل کے لئے اتنا ہی طاقتور سیاسی لیڈر کہاں سے آئے گا؟
پرویز مشرف طاقتور تھے، حالات نے کروٹ بدلی تو انہوں نے ریاست کے تمام بیانئے کو بدلنے کی بھرپور کوشش کی، صرف عسکری محاز پر نہیں بلکہ نظریاتی خطو ط پر بھی۔ سیکولرازم اور لبرازم کو اسلام سے ہم آہنگ قرار ینے اور مذہبی بنیاد پرستی کے مدمقابل پہلی بار ’روشن خیال اعتدال پسندی‘کا بیانیہ دینے کا کارنامہ بھی انہی کے ہاتھوں سرانجام پایا۔ جہاں مخلوط میراتھن ریس ہونے لگیں وہیں دوسری طرف حدود قوانین میں ترمیم اور اسلامی نظریاتی کونسل میں جاوید احمد غامدی صاحب ایسے علما کی آمد کا سلسلہ شروع ہوگیا۔ کئی نامور روایتی علما پراسرار انداز میں قتل ہوگئے جس کے نتیجے میں روایتی مذہبی طبقہ بتدریج قحط الرجال کی طرف بڑھنے لگا۔ ’نجی جہاد‘ کے تصور کو بھی سب سے پہلے موصوف نے ہی چیلنج کیا۔ ہر اس جماعت اور تحریک پر پابندی لگی جو عسکریت پسندی میں ملوث تھی۔ صرف افغان جہاد ہی نہیں، کشمیر جہاد کا باب بھی بند ہوا۔ لیکن ان تمام کوششوں کا حاصل کیا رہا؟ ریاست اپنے بیانئے میں ہی الجھ گئی اور دوسری طرف دہشت گردی سرایت کرتی گئی۔آخر “دماغ” درست کرنے کا طریقہ کیا ہے؟پرویز مشرف ناکام ہوگئے، آپ کے کے پاس کونسا الہ دین کا چراغ ہے؟
ہوسکتا ہے آپ کو پرویز مشرف کی نیت پر شک ہو لیکن ان الزامات کے برعکس آج جتنی آسانی سے پرانے سرخے ، کمیونزم اور سوشلزم کے نعروں کو فراموش کرکے اور مذہبی علماء مولانا کا سابقہ ترک کر کے سیکولرازم اور لبرازم کے بیانئے کے ساتھ میدان عمل میں برسرپیکار ہیں، اسکا کریڈٹ اگر موصوف کو نہیں جاتا تو اور کس کو جاتا ہے؟پرویز مشرف جاچکے ہیں لیکن ریاست کا بیانیہ آٹھ سال بعد بھی الجھا ہوا ہے۔ صرف سرکردہ قائدین، انتظامیہ، مقننہ اور عدلیہ ہی نہیں بلکہ اہل دانش بھی کنفیوز ہیں۔ وجہ یہ ہے کہ نہ مسئلے کو سمجھا گیا اور نہ ہی اس کے مربوط حل پر درست سمت میں سوچا گیا۔ پرویز مشرف نے بھی یہی نتیجہ اخذ کرلیا کہ دہشت گردی کا خاتمہ ریاست کے مذہبی بیانئے کے خاتمے یا اس میں کنفیوز ن پیدا کرکے ہی حاصل کیا جاسکتا ہے یعنی “بیانیہ بمقابلہ بیانیہ”۔ سب سے بڑی غلطی مذہبی بیانئے کو بدلنے کے لئے مذہب ہی کا استعمال تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے سوشلزم کے ضمن میں یہی غلطی کی، پرویز مشرف نے بھی اسی غلطی کا اعادہ کیا اور اب جاوید احمد غامدی اور ان کے ساتھی بھی اسی طرف جارہے ہیں۔ اگر جمہور نے سیکولرازم اپنانے کا کوئی فیصلہ کرلیا ہے تو اس سے اچھی اور کیا بات ہوگی لیکن سیکولرازم کو اسلامی عمامہ اور چوغا پہنانے اور اس مسئلے کو زبردستی دہشت گردی کے مسئلے ساتھ نتھی کرنے سے مزیدتباہی پھیلے گی۔
یہ درست ہے کہ پاکستان کو درپیش مسائل میں ایک مسئلہ دہشت گردی اور انتہاپسندی بھی ہے اور یہ بھی درست ہے کہ ملک میں ایک دہائی سے جاری دہشت گردی کا جواز مذہب سے لیا جاتا ہے۔ لیکن اس مسئلے کا باچا خان اور مولانا مودودی سے کیا لینا دینا ہے؟ مذہب اور سیاست کو الگ کرکے دہشت گردی سے کیسے نمٹا جائے گا؟ یہ عجیب پہلی ہے جسے ناجانے کونسے تجربے ، مشاہدے اور منطق سے اخذ کرلیا گیا ہے۔ پھر سوال یہ ہے کہ سیاست کو نظرئے کی ضرورت ہوتی ہے، اس سے مذہبی نظریہ چھین کرآپ کونسا نظریہ دینا چاہتے ہیں؟ کارل مارکس کا کمیونسٹ نظریہ یا جان لاک کا لبرل نظریہ؟ یہ ابہام نہیں تو اور کیا ہے کہ متبادل کی طرف دیکھا جائے تو ایک دوسرے سے انتہائی متضاد نظریات اور خیالات کا مکسچر نظر آتا ہے۔آج تو ملک کے مخصوص حالات کا فائدہ اٹھا کر لبرل اور سوشلسٹ اپنے اپنے نظریاتی تناو کو بھلا کر مذہبی سیاست کو ڈس کریڈٹ کررہے ہیں۔ کل یہ دونوں آپس میں الجھ گئے تو کیا ہمارا حال۔ نہ خدا ہی ملا ، نہ وصال صنم ایسا نہیں ہوجائے گا۔ اصل مسئلہ سیکولرازم اور اسلامائزیشن یا “بیانیہ بقابلہ بیانیہ” کا نہیں،ریاست کی ایک غلط پالیسی “نجی جہاد پالیسی”کا ہے۔ ریاست نے 80 کی دہائی میں قوم کو باور کرایا کہ جہاد ریاست کے مخصوص اداروں کی ہی نہیں، عام شہریوں کی بھی ذمہ داری ہے ، گویا عوام اسے اپنے طور پر بھی انجام دے سکتے ہیں۔ یوں جہاد اور قتال ہر ایک کے ہاتھ میں آگیا۔ مذہبی ریاست ہو یا اس مبینہ ٹرائیکا میں شامل جماعتیں، کون اپنے لٹریچر اور منہج میں اس پالیسی کو انڈورس کرتی ہیں؟
اخوان اور جماعت کا لڑیچر تو پچھلی صدی کی تیسری اور چوتھی دہائی سے موجود ہے اور پین اسلامزم کے نظریات اور خلافت کی باتیں اس سے بھی پرانی ہیں۔ جبکہ”نجی جہاد “تصور اسی کی دہائی میں اس وقت کی مسلم حکومتوں نے پیش کی تھا۔دہشت گردی کا فنانومینا تو اس سے بھی آگے بیسوی صدی کی آخری اور اکیسوی صدی کی پہلی دہائی میں سامنے آیا۔ اسکے ایک طرف اسامہ بن لادن کی سوچ تھی تو ووسری طرف امریکہ اور مسلم حکمرانوں کی پالیسیاں۔ آخر ان تمام چیزوں کو کس طرح حسن البنا ، سید قطب اور سید مودودی کی تحریکوں یا ان سے متاثر جماعتوں سے منسلک کیا جاسکتا ہے۔ افغان جہا د میں ریاست نے غلطی کی، اسلامی تحریکوں اور مدارس نے اس غلطی میں ان کا ساتھ دیا یا آپ کے الفاظ میں ان کے ساتھ “ہاتھ” ہوا ۔لیکن جو بھی ہوا آج تک دنیا نے اسے دہشت گردی قرار نہیں دیا اور آج بھی”اسلامی جمہوریہ” افغانستان کی موجودہ حکومت کا نوے فیصد ان ہی جہادیوں پر مشتمل ہے اور یہ حکمران ناصرف اپنے جہادی ماضی پر بدستور فخر کرتے ہیں بلکہ خود کو اسلام پسند بھی کہلواتے ہیں۔ اگرکمیونزم کے خلاف لڑائی میں اسلامی تحریکوں کے لڑیچر سے مدد لی گئی تو اسکا مطلب یہ کیسے ہوگیا کہ دہشت گردی کا فکری بیانیہ بھی انہی کے لڑیچر سے وابستہ ہے۔ آپ کوسوچنا پڑے گا کہ دہشت گردی کو فکری بیانیہ اسلامی تحریکیں فراہم کرتی ہیں یا خود ریاست اور اسکے اقدامات؟ تنظیم اسلامی خطرناک ہے کیونکہ وہ انقلاب اور خلافت کی بات کرتی ہے لیکن اس انقلاب اور خلافت کے لئے اسکی منہج کیا” نجی جہاد” کی ہے؟ جماعت اسلامی اور حزب التحریر بھی اسلامی انقلاب کی بات کرتی ہے لیکن ان کے بھی اپنے واضح طریقہ کار ان کے لٹریچر میں موجود ہیں۔ ان کا دماغ درست کرواکے کیا آپ یہ چاہتے ہیں تمام مذہب پسند جہادی راہ اختیار کرکے ریاست کے مدمقابل آجائیں۔
یہ درست ہے کہ ان اسلامی تحریکوں سے کچھ لوگ ٹوٹ کر القاعدہ کی طرف گئے لیکن اس معاملے پر ان جماعتوں کو کسی بھی طرح مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا ہے۔ مایوس لوگ آزاد ہیں، چھوڑ کر غامدی صاحب کو جوائن کریں یا کالعدم تنظیموں کو،اگر کسی نے روکنا ہے تو وہ ریاست ہے۔ دنیا بھر میں کمیونزم/سوشلزم اور لبرل ازم کے نظریات پر یقین رکھنے والی جماعتیں ہوں یا قوم پرستی پر یقین رکھنے والی حقوق کی متلاشی تحریکیں ، مسلسل ناکامی کی صورت میں، ہر جگہ کچھ لوگ مایوس ہوکرشدت پسندی یا تشدد کی علیحدہ راہ اختیار کرتے ہیں۔ بنیادی مسئلہ پھر وہی ہے کہ ریاست نے “نجی جہاد” کی غلط پالیسی متعارف کرائی تھی اور اب یہی غلط پالیسی یہ مایوس لوگ استعمال کرتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ اہل مدراس کو سمجھ آگئی ہے کہ وہ استعمال ہوئے لیکن آپ یہ مس کرگئے کہ اسلامی تحریکوں پرحقیقت، اہل مدارس سے بھی پہلے آشکار ہوگئی تھی۔ اگر آپ القاعدہ کے پکڑے گئے لوگوں کو بنیاد بناکر مدارس اور اسلامی تحریکوں کو آمنے سامنے لانا چاہتے ہیں تو کوئی دل جلا یہ بھی پوچھ سکتا ہے کہ پاکستان کے لئے القاعدہ سے بھی خطرناک تحریک طالبان پاکستان اور احرار الہند اول تا آخر کیامدارس چھوڑ کر جانے والوں پر مشتمل نہیں؟ چھوڑ کرجانے والوں کی ذمہ داری آخر کون لے سکتا ہے۔ ذمہ داری ریاست کی ہے کہ امن قائم کرے اور تشدد کے ساتھ اس کے تمام اسباب کا بھی سدباب کرے۔ اگر سبب یہ ہے کہ ریاست نے آئین میں کچھ وعدے کررکھے ہیں تو ضرورت اس بات کی ہے کہ انسداد دہشت گردی کے ساتھ ساتھ ان وعدوں کو بھی پورا کیا جائے،نا کہ وعدہ سے ہی دستبردار ہوجایا جائے۔
اگر میری اور آپ کی سوچ کے مطابق ہی لوگ ’خطرناک‘ ہیں اور میرے اور آپ کے کہنے پر ہی ان ’خطرناک ‘ کا ’دماغ‘درست کرنا ہے کا تو پھر اس مبینہ ٹرائیکا کا دماغ درست کرتے ہوئے کیوں نہ لگے ہاتوں ان کی طرف بھی دیکھ لیا جائے جو اپنی حیثیت میں خود کو “مذہبی” قرار دینے والی ریاست کے آئینی بیانئے کے مدمقابل ایک نیا “خطرناک” بیانیہ دے رہے ہیں۔ آخر ان کی صفوں میں بھی تو کئی “خطرناک “لوگ موجود ہیں جو کبھی افغانستان بھی آتے جاتے رہے ہیں۔ گویا ’ممکنہ دہشت گرد‘ تو ہیں….


Comments

FB Login Required - comments

2 thoughts on “بیانیے کی ’‘پیا من بھائے ‘ اصلاح ….

  • 25-01-2016 at 11:54 pm
    Permalink

    بالکل صائب رائے ہے، اگر کوئی پر امن اور جمہوری طریقے سے ’’اسلامی جمہوریہ پاکستان‘‘ میں حقیقی اسلامی ریاست کے قیام کی کوشش کرتا ہے، تو نام نہاد لبرل اور سیکولر دانشوروں کے پیٹ میں مروڑ کیوں اٹھتا ہے ، اگر ہو سکے تو ریاست کے نام اور اسلامی تشخص کو ختم کروانے کے لئے وہ بھی خم ٹھونک کر میدان میں آ جائیں

Comments are closed.