پاکستانی قانون لبرل کیسے ہو؟


\"zeeshan

ارادہ تھا کہ افغان مہاجرین کے موضوع پر نئی تحریر لکھوں گا مگر کل شام کو ایک انتہائی عزیز دوست نے ایک سوال کیا اور اس کا جواب قدرے تفصیل سے طلب کیا۔ سوال یہ تھا کہ آپ کے خیال میں قانون کی ساخت کیسی ہو کہ اسے لبرل قانون کہا جائے جو شخصی آزادیوں کو قائم کرے، ان کا تحفظ کرے، اور ان کی نشودنما و نئے امکانات کی تسخیر میں مددگار ہو ؟ سوال بہت بنیادی ہے۔

اول عرض تو یہ ہے کہ پاکستانی قانون دراصل برطانوی کامن لاء کے فلسفہ یا محتاط معانی میں اس کی مابعد الطبیعات پر قائم ہے۔ جو بنیادی انسانی حقوق، ارتقاء، اور تجربیت پسندی پر انحصار کرتا ہے۔ قانون کی بنیادوں پر پاکستان کی تاریخ میں پارلیمان اور سول سوسائٹی کے درمیان ایک طرح کا اتفاق رہا ہے، اور یہی پاکستان کا سوشل کنٹریکٹ ہے۔

دوسری بات یہ کہ جو سوال مجھ سے کیا گیا ہے عین وہی سوال 32 سال پہلے میرے محبوب نوبل انعام یافتہ فلسفی فریڈرک اے ہائیک سے پوچھا گیا تھا جو قانون پر The constitution of liberty جیسی بے نظیر کتاب کے مصنف ہیں یہ کتاب مغربی دانشورانہ ثقافت اور فلسفہ قانون میں گزشتہ صدی کی سب سے زیادہ پراثر کتاب ہے۔ ہائیک سے پوچھا گیا تھا کہ جناب ایسا کیا ہونا چاہئے کہ امریکی قانون مکمل طور پر لبرل بن جائے اور آئندہ کے لئے انٹی لبرل قوانین کا راستہ رک جائے۔ انہوں نے انتہائی سادہ مگر مکمل جواب دیا تھا۔ ’کانگریس کوئی ایسا قانون نہیں بنا سکتی جو تمام امریکیوں پر بغیر کسی صنفی لسانی جغرافیائی مذہبی نسلی اور طبقاتی امتیاز کے لاگو نہ ہو‘۔ یعنی پارلیمان قانون بنائے گی تو تمام شہریوں پر بغیر کسی صنفی لسانی جغرافیائی مذہبی نسلی اور طبقاتی امتیاز کے لاگو ہو گا وگرنہ نہیں۔ کسی خاص علاقہ یا مذہب یا زبان یا نسل یا صنف کے لئے امتیازی قانون بن ہی نہیں سکتا۔ ایسا قانون جو شہریوں کو تقسیم کرے وہ قانون اپنی نوعیت میں لبرل نہیں۔ آئیے اسے کچھ مثالوں سے سمجھتے ہیں۔

۔ جب جنوبی وزیرستان سے لوگوں کو بے دخل کیا گیا تھا، صوبہ خیبر پختوں خوا میں ان کی سرگرمیوں کو محدود کیا گیا اور ان کی پنجاب و سندھ کی طرف نقل مکانی کو روک دیا گیا تھا تو یہ لبرل ازم اور شہریت کی مساوات سے انحراف تھا۔ پاکستان کے شہری پورے پاکستان میں جہاں بھی جانا چاہیں انہیں روکا نہیں جا سکتا۔

۔ صوبوں کے درمیان گندم کی نقل و حرکت ایک مخصوص سیزن میں روک دی جاتی ہے۔ یہ لبرل اصولوں سے انحراف ہے۔

۔ بلوچستان میں شہری آزادیاں جس جبر کا سامنا کر رہی ہیں وہ آزادی و مساوات سے انحراف ہے۔ اسی طرح کراچی میں رینجرز کے اختیارات بقیہ پاکستان کی نسبت امتیازی ہیں اور غیر لبرل قانون ہیں۔ فاٹا کے قوانین پورے پاکستان کے قوانین سے شہری آزادیوں، مساوات، اور انصاف کی بنیاد پر بہت مختلف ہیں یہ بھی غیر لبرل قوانین ہیں۔ خواتین اور مردوں سے متعلق قوانین کو صنفی امتیاز کی بنیاد پر تقسیم نہیں کیا جاتا۔

۔ ریاست شہریوں کو مذہبی بنیاد پر تقسیم نہیں کر سکتی۔ احمدیوں سے متعلق ریاست کی تعصبانہ قانون سازی احمدیوں سے امتیازی سلوک ہے ۔ لبرل ازم کو اس سے غرض نہیں کہ کون کافر ہے اور کون مسلم مگر ایسی قانون سازی نہیں ہو سکتی کہ کسی ایک فرقہ، مسلک، اور مکتب فکر کو کافر قرار دیا جائے جبکہ باقیوں کو مسلمان۔ یہ امتیازی سلوک ہے جو لبرل ازم کے اصولوں سے انحراف ہے۔ یہ قانون کے دائرۂ اختیار میں ہی نہیں آتا کہ وہ اصلی مسلمان اور نقلی مسلمان میں امتیاز کرے یا شہریوں کو مذہبی بنیاد پر غالب اکثریت اور محروم اقلیت میں تقسیم کرے۔ لبرل فلسفہ قانون کی رو سے تو کوئی اکثریت و اقلیت ہے ہی نہیں، سب برابر ہیں۔ اکثریت و اقلیت کی اصطلاح کسی سماجی مظہر کو سمجھنے کے لئے تو استعمال کی جا سکتی ہے جیسے ہم کہتے ہیں کہ دس افراد کے ایک گروپ میں پانچ بلوچ اور پانچ پنجابی ہیں یہ تقسیم اس متنوع گروپ کو سمجھنے میں تو ہماری مددگار ہو سکتی ہے مگر قانون بلوچ اور پنجابی میں امتیاز نہیں کر سکتا۔

۔ ایمرجنسی میں بننے والے قوانین، مخصوص مدت کے قوانین، آرڈیننس، اجارہ داری فراہم کرنے والے قوانین، کسی شعبہ سے متعلق قوانین جیسے سوشل میڈیا پر لوگوں کی رضاکارانہ ایسوسی ایشن کے اور قوانین ہوں جبکہ سماجی زندگی میں ایسوسی ایشن کے اور قوانین ہوں ، یہ سب آزادی، آزادی اور مواقع میں مساوات، اور انصاف کے لبرل اصولوں سے انحراف ہے۔

۔ کوٹہ سسٹم … یہ شہریوں کو ان کے جغرافیہ، اور صنفی خصوصیات کی بنیاد پر تقسیم کرتا ہے یہ غیر قانونی ہے۔ اس سے مواقع کی مساوات پیدا نہیں ہوتی۔

۔ ٹیکس : ٹیکسوں کی شرح تمام شہریوں اور تمام معاشی سرگرمیوں پر ایک ہی ہونی چاہئے۔ پاکستان میں کچھ شعبے ٹیکس فری ہیں اور الٹا سبسڈی یا ریسرچ اینڈ ڈویلپمنٹ کے نام پر فنڈ حاصل کر رہے ہیں۔ ’صنعتی ٹیکس فری زون‘ ریاست میں ایک علیحدہ انتظامی یونٹ ہیں اور لبرل اصولوں کے مطابق امتیازی سلوک کی مد میں آتے ہیں۔ پاکستان میں ٹیکسز کا سارا بوجھ صنعتوں، امپورٹ ایکسپورٹ تجارت ، صارفین (ان تینوں یعنی صنعتوں، امپورٹ ایکسپورٹ تجارت ، صارفین پر بھی ٹیکس کی شرح مختلف ہیں جیسے تجارت میں کچھ تو ڈیوٹی فری ہیں اور کچھ پر 200 فیصد ٹیکس لاگو ہے) اور تنخواہ دار طبقہ پر ہے جبکہ زراعت و خدمات کے شعبوں کو ٹیکس فری درجہ اور سبسڈی دی جا رہی ہے۔

اسی طرح کی ڈھیروں مثالیں دی جا سکتی ہیں جو پاکستان میں قانون سازی کے میدان میں عرف عام کا درجہ حاصل کر چکی ہیں۔ اگر پاکستان میں لبرل آئین کے بنیادی اصولوں کو معیار بنایا جاتا تو ہر مارشل لاء کی کوشش کے بعد فوجی حکمرانوں کو سپریم کورٹ کی آشیر باد سے آئین کو معطل کرنے یا سپریم کورٹ سے آئین کی ترمیم کی اجازت لینے کا سوال ہی پیدا نہ ہوتا۔ آئین کو سپریم کورٹ تو دور کی بات پارلیمان بھی معطل نہیں کر سکتی۔ بنیادی انسانی حقوق، آزادیوں، مساوات اور انصاف سے متضاد قوانین نہ پارلیمان بنا سکتی ہیں اور نہ ہی سپریم کورٹ اور نہ ہی کوئی اور اتھارٹی۔ فوجی مارشل لاء تو سراسر غیر قانونی ہے۔

آئین کے لئے لازمی شرط ہے کہ وہ اپنے لب و لہجہ میں سادہ اور معنی میں واضح ہو جو تمام شہریوں کو (جنہوں نے اس کی پابندی کرنی ہے ) آسانی سے سمجھ آئے نہ کہ صرف وکلاء کو۔ ابہام جنم نہ لیں۔ قانون نیت، عمل، اور نتیجہ سے بھی پہلے معلوم (Known in advance ) ہو۔ اور وہ قانون تمام شہریوں پر بشمول سیاست دان، بیوروکریسی اور معزز جج صاحبان پر بھی برابر طور پر نافذ ہو نہ کہ بیوروکریسی اور جج صاحبان کو یہ اختیار ہو کہ چونکہ آپ قانون کے نگران ہیں اس لئے ہتھوڑا شہریوں کے سر پر ہی ماریں اور PTA (پاکستان ٹیلی کمیونیکشن اتھارٹی) کے نام سے سنسر بورڈ بنا کر سوشل میڈیا پر آمریت سے لطف اندوز ہوں۔ قانون کوئی کھلواڑ نہیں جسے محض سیاست دانوں، بیورو کریسی اور غیر منتخب عدلیہ کی مرضی کے سپرد کر دیا جائے۔ نہ ہی قانون سے یہ مراد ہے کہ جو چیز سندھ میں جائز ہے وہ پنجاب میں ناجائز ہو سکتی ہے، یا جو حق اہل پنجاب کو حاصل ہے وہ اہل بلوچستان کو نہیں، یا ایک چیز ایک سال کے لئے تو جائز ہے مگر اس کے بعد ناجائز ہو جائے گی۔ قانون کا موضوع امن و امان اور بنیادی انسانی حقوق ہیں بندش یا سزائیں نہیں۔ قانون سوشل کنٹریکٹ ہے اس کی اہمیت کو سمجھیں، اسے مذاق نہ بنائیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 132 posts and counting.See all posts by zeeshan

One thought on “پاکستانی قانون لبرل کیسے ہو؟

  • 03-08-2016 at 7:07 am
    Permalink

    محترم ذیشان ہاشم آپ نے ایک انتہائی لائق طالب علم کی طرح تحریر لکھی ہے جس میں آپ نے امریکہ کے ماہر عمرانی علوم کی سوچ کے اظہار کا ذکر کیا ہے یورپ ایک طویل معاشی سماجی ارتقائی عمل سے گزر کر اعلیٰ آئینی قانونی جمہوری اقدار تک پہنچے ہیں،امریکہ کے اندر سو سال کے عرصہ میں جو ٹیکنالوجی یورپ سے ٹرانسفر کی گئی اس نے اس قوم کو ایک مصنوعی شہریت کے تصور سے جوڑا ہوا ہے پاکستان ایک پسماندہ جاگیردارانہ رسم و رواج اور قانون کی محافظ ریاست ہے اور وہ بھی جاگیردارانہ نظام انگریز کے دور کی پیداوار ہے جو کالونیل نظام کو سپورٹ کرتا تھا شہری علاقوں کا نظام بھی کالونیل ہے ،پسماندگی کے مسائل سے جڑی ریاست نسلی لسانی اور غلامانہ ثقافتوں کا حصہ ہے جس کی بھاگ دوڑ سامراجی دلالوں کے ہاتھوں میں ہے اگر ان کے اصولوں کے مطابق ریاست کو آزادی دی جاتی ہے تو یہ ریاست کنفنڈریشن کی طرف چلی جائے گی جو اسے عالمی مالیاتی نظام کا حصہ بنا کر علاقائی سامراجی معاشی قوتوں کے زیر سایہ کردےگا ،اب پاکستان کے وجود سے انحراف ہمیں دوسو سال غلامی اور اپنی پہچان سے محروم کر دے گا اس میں کوئی شک نہیں ہماری ثقافت نسل لسان کی بڑی اہمیت ہے مگر ہمیں ملحقہ ریاست کے قدیم ادہیان سے جڑی ثقافتوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے جو طبقاتی طور پر پچھلے ایک ہزار سال سےاپنی موت آپ مر چکی ہیں۔جب تک یہاں صنعتی اور زرعی انقلاب نہیں آتا اور ہمارا جاگیرداری ،سرداری اور مذہبی اجاراہ دار قوتوں سے جان نہیں چھوٹتی ہم ترقی نہیں کر سکتے،ریاستی اداروں نے یہاں صنعتی سائنسی زرعی ترقی کے عمل کو روک کر اپنی اور سامراجی بالادستی قائم رکھی جس کا نتیجہ عالمی مالیاتی نظام کی اجاراداری نکلا ہے جو اب سول ملٹری ایسٹیبلشمنٹ کے لیے بھی چیلنج بنا ہوا ہے ،جو پاکستان کی نوکر شاہی کو نگل کر اپنی بالادستی قائم کرنا چاہتا ہے،ہمیں پاکستان کے اندر اس مصنوعی نظام کے خلاف انقلابی بنیادوں پر کام کرنے کی ضرورت ہے۔

Comments are closed.