ان سے ملاقات جن کے صرف کام کی پہچان تھی


\"husnain

لاہور ایک اچھا شہر ہے۔ یہاں اگر کہیں سے تبادلہ کروا کر آیا جائے تو انسان اپنے آپ کو دریافت کر سکتا ہے، مواقع ہیں، گنجائش ہے، وسعت ہے۔ دس بارہ برس قبل جب روزی روٹی کے چکر میں لاہور ٹھکانہ بنا تو دفتر ماڈل ٹاؤن میں تھا۔ شروع کے دو مہینے رہائش بھی وہیں اوپر کے حصے میں تھی۔ ایک عدد گاڑی نئی نئی عطا ہوئی تھی، جو خود پرانی تھی مگر چلانے والے کے لیے نئی تھی۔ تو دفتر کے معاملات کے بعد جو بھی وقت بچتا وہ اکیلے آوارہ گردی میں صرف ہوتا۔ راستے کچھ خاص معلوم نہیں تھے۔ سمت کا تعین کرنا اور راستے یاد رکھنے کی صلاحیت ہونا، ان دو چیزوں سے بہ فضل خدا اس وقت بھی پرہیز تھا۔ لے دے کر ماڈل ٹاؤن کی گلیاں بچتی تھیں جو صبح شام کے اکیلے پن کی گواہ تھیں۔

جو احباب ماڈل ٹاؤن سے واقف ہیں انہیں ماڈل ٹاؤن گول چکر کا بھی علم ہے۔ اس گول چکر نے کم از کم دو سال بعد اپنے تمام راستے فقیر کو یاد کروائے، اس سے آپ غبی پن کا اندازہ کر لیجیے۔ کئی بار جانا کہیں ہوتا تھا، گاڑی نہ معلوم کہاں جا نکلتی، پھر پوچھ پچھا کر واپس آتے تو دوبارہ وہی شیطان کی آنت گول چکر۔ چار پانچ کلومیٹر پر محیط اس سرکلر روڈ نے چار پانچ سو دفعہ دھوکا دیا ہو گا لیکن آج بھی، آدھا گھنٹہ اگر فارغ مل جائے تو اسی سڑک اور انہی گلیوں کا طواف جاری رہتا ہے۔ ماڈل ٹاؤن کے راستے اپنا شہر چھوڑنے کے بعد پہلی محبت کا درجہ رکھتے ہیں۔ شاید اس علاقے میں پرانےمکان نظر آ جاتے ہیں تو اس لیے یہ اپنے اندر جادوئی کشش رکھتا ہے، جیسے ڈی، جی، ایچ، ایف اور کئی دوسرے بلاک جہاں سن انیس سو بیس اور تیس کی تعمیرات ڈھونڈنے والوں کو اکثر مل جاتی ہیں۔ کائی زدہ، بارشیں کھائی ہوئی دیواریں، قدیم تناور درخت، مکان کے چاروں طرف باقاعدہ لان، اکثر گھر صرف ایک منزل والے جہاں رہ کر انسان آسمان پر نہیں پہنچتا ہو گا، گھروں کے پیچھے چھپے ہوئے ایک دو مندر اور نہ جانے کیا کیا۔

ایسے ہی لاہور شہر میں آئے ایک آدھ برس ہوا ہو گا۔ دفتر سے فارغ ہو کر اسی کوچے میں دن سے رات کرنا شروع کر دیا۔ پودوں کا شوق اس وقت بھی تھا تو جس گھر کے باہر اچھے پودے نظر آتے، ایک نظر ڈال کر گاڑی بڑھا لی جاتی۔ اچانک ایک جگہ کیکٹس کے دو تین درخت نظر آئے۔ پہلے تو یقین نہیں آیا کہ بھئی پاکستان میں کیکٹس اتنا زیادہ کیسے بڑھ سکتا ہے اور اگر بڑھ بھی جائے تو کون شخص ہے جس نے باغ کا ایک کونا ہی کانٹے دار پودوں کے لیے مخصوص کر دیا ہے۔ گاڑی روک لی۔ ملجگے سے رنگ کا لوہے والا بڑا دروازہ سامنے تھا۔ کارنر پلاٹ ہونے کی وجہ سے ایسا ہی ایک گیٹ دوسری سڑک پر بھی تھا جو اسی گھر کا تھا۔ دروازے سے ذرا آگے گاڑی لگا دی۔ جتنا دروازہ کھلا تھا اس میں سے اندر جھانکا تو وہی ایک منزلہ گھر تھا۔ پرانے طرز کی بنی ہوئی کوٹھی جس کے چاروں طرف نسبتا اجاڑ سا باغ تھا لیکن اس میں پائے جانے والے صحرائی پودے پوری موج میں تھے۔ انہیں تو چاہئیے ہی اجاڑ جگہیں ہوتی ہیں۔ تقریباً چالیس قدم دور سامنے دو تین سیڑھیاں تھیں اور ان کے آگے برآمدہ تھا۔ جاتی سردیوں کی نرم گرم دھوپ نکلتی تھی اور آئن سٹائن نما ایک بزرگ ایزل پر لینڈ سکیپ ٹانگے اسے مکمل کر رہے تھے۔

\"khalid-iqbal-nca\"

کافی دیر تو اندر جانے کی ہمت ہی نہیں ہوئی کہ پرائے گھر میں کیسے گھسا جا سکتا ہے۔ پھر کیکٹس کا درخت دیکھنے کے شوق نے کمر باندھی اور لے کر اندر چلا گیا۔ بزرگ سے چند قدم دور قدم روک لیے۔ کافی دیر انہیں دیکھا، تصویر دیکھی جو شاید کوئی لینڈ سکیپ تھا، وہ سر جھکائے اپنا کام کرتے رہے۔ دو تین منٹ بعد سر اٹھایا اور کہا، \”جی، کیسے آئے ہیں۔\” جواب دیا، \”سر باہر سے گزرتے ہوئے ان کیکٹس کے درختوں نے روک لیا، بہت معذرت کہ بلااجازت آپ کے آرام میں مخل ہوا، کیا میں انہیں قریب سے دیکھ سکتا ہوں؟\”

\”دیکھ لیجیے اور اگر آپ کو شوق ہو تو مالی کو بھیج دیتا ہوں، کٹنگ لے لیجیے، پودا بن جائے گا\”، شکریہ ادا کیا اور واپس باغ کی راہ لی۔ مالی صاحب بھی آ گئے، ایک ایک فٹ کی دو کٹنگز مل گئیں جو گھر آ کر لگا دیں۔ بعد میں یہ معمول رہا ہے کہ اس راستے سے گزرتے ہوئے گاڑی آہستہ کر کے ایک نظر اس کوٹھی پر ڈالی جاتی، بزرگوار اور پینٹنگ اور کیکٹس نظر آ جاتے تو سواری آگے بڑھ جاتی۔

کل بہت عرصے بعد وہاں سے گزر ہوا تو ایسا لگا جیسے بہت بڑا نقصان ہو گیا ہو۔ وہ گھر ملبے میں تبدیل ہو چکا تھا اور کیکٹس اپنے لگاںے والے کا راستہ دیکھنے کے لیے کھڑے تھے۔ جنہوں نے کیکٹس لگائے تھے وہ طویل عرصہ ہوا فوت ہو چکے ہیں، شادی انہوں نے کی نہیں تھی، تو اب یہ گھر فروخت ہو کر شاید دوبارہ سے بننے کے مراحل میں تھا، لپیٹ میں سائیڈوں والے دو باغ آنے کا بھی قوی امکان ہے۔

یہ بزرگ خالد اقبال تھے۔ پاکستان میں لینڈ سکیپ پینٹنگ کے بادشاہ خالد اقبال تھے۔ 2014 میں اخبار پڑھتے پڑھتے اچانک خالد صاحب پر ایک تعزیتی کالم نظر آیا، ساتھ تصویر بھی تھی۔ تب معلوم ہوا کہ جس کے گھر کا دورہ پودوں کے چکر میں کیا تھا، کاش گھر کے مالک سے ملنے کو کیا ہوتا۔ ہاں، ان کے عطا کردہ پودے آج بھی سینے سے لگے ہوئے ہیں۔

کولن ڈیوڈ اور اسلم منہاس جن کے شاگرد ہوں، وہ استاد کیسا ہو گا، سوچیے۔ 1974 میں شاکر علی صاحب کے بعد وہ این سی اے کے ہیڈ بھی رہے۔ ان کے شادی نہ کرنے کی وجہ بھی فن سے دیوانگی کی حد تک محبت بتائی جاتی ہے۔ تو خالد صاحب وہ دوسرے شخص تھے جن سے فقیر اپنی کم علمی یا پہلے سے تصویر نہ دیکھنے کے باعث مل کر بھی مل نہ پایا۔

پہلا شخص وہ تھا جو ٹیوشن پڑھا کر واپس آتے وقت راستے میں اپنے گیٹ کے باہر اکڑوں بیٹھا دونوں ہاتھ گٹھنوں پر باندھے سر جھکائے \"zawarنظر آتا تھا۔ اس کے سلیٹی رنگ کے سارے بال سامنے ماتھے پر ہوتے، ایک فرل کی صورت کٹے ہوئے جنہیں انگریزی میں بے بی کٹ کہا جا سکتا ہے۔ تو وہ ایسے بیٹھا نظر آتا جیسے چاچا حکو بیٹھتے تھے۔ چاچا حکو ملتان والے پہلے گھر میں ہمارے پڑوسی تھے۔ مہر صاحب کے یہاں رہتے تھے۔ انہیں کبھی بولتے نہیں دیکھا تھا۔ مسلسل خاموش، وہ بھی شام کو گھر کی چوکھٹ پر عین ایسے ہی اکڑوں بیٹھ جاتے تھے۔ اب یہ چاچا حکو نما شخص اگر کسی دن گردن اٹھائے نظر آتا تو ایک سلام آتے جاتے یہاں سے بھی ٹھوک دیا جاتا، شاید کبھی ایک آدھ بار جواب ملا ہو ورنہ ہوتا بالکل گم سم تھا۔ 2003 تک یہ سلسلہ چلا پھر ایک دن اخبار میں بڑی بڑی تصویر لگی اور ساتھ انتقال پرملال کی خبر آئی تو معلوم ہوا کہ زوار حسین صاحب گزر گئے۔ ملتان کا ایک مصور، ادیب، شاعر، نقاد اور اعلی پائے کا خطاط گزر گیا۔ چوں کہ ان کی تصویر بھی پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی اس لیے باوجود تین چار برس سلام دین بنے رہنے کے، کبھی یہ معلوم نہ ہو سکا کہ وہ کون ہیں۔

ایسے بہت سے واقعات سب کے ساتھ ہوتے ہوں گے۔ وجہ فہم کا نہ ہونا، پہچان کا نہ ہونا کہی جا سکتی ہے۔ دنیا میں شاید ننانوے فیصد لوگ بغیر کسی پہچان کے مرتے ہوں گے، باقی ایک فیصد کو بھی جو پہچانتا ہے، وہ ان کے لیے تو مشہور ہیں، جو نہیں پہچانتا اس کی جانے بلا، وہ یا تو پودے دیکھتا رہ جاتا ہے یا سلام دین بنا رہتا ہے۔ مجید امجد نے کہا تھا، میں روز ادھر سے گزرتا ہوں کون دیکھتا ہے/ میں جب ادھر سے نہ گزروں گا کون دیکھے گا۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 284 posts and counting.See all posts by husnain