چترال کے سکول میں بچے بھی پولو کی گیند ہوتے ہیں


\"adnan-khan-kakar-mukalima-3b4\"

چترال سے شندور میلے کی خبریں آ رہی تھیں کہ ادھر پولو کے کھلاڑیوں نے بال کو خوب مارا اور گولوں کے انبار لگا دیے۔ ہم حیران ہو رہے تھے کہ اچھے بھلے تیز دوڑتے ہوئے گھوڑے پر بیٹھ کر کوئی شخص بھلا کیسے اتنی ننھی سی گیند کا ڈنڈے سے نشانہ لے سکتا ہے۔ یہ کام تو گھوڑا خود بھی کرے تو اسے شدید دقت ہو گی۔ لیکن پھر چترال کے علاقے دروش سے ایک ایسی ویڈیو سامنے آئی جسے دیکھ کر اندازہ ہو گیا کہ ڈنڈا چلانا وہاں سکول کے ابتدائی درجوں سے ہی سکھا دیا جاتا ہے۔

ہوا یوں کہ وہاں دروش میں کوئی لرنر سکول نامی ادارہ ہے۔ اسے ایک نیک دل نوجوان انعام الکبیر چلاتے ہیں۔ وہ قوم کے بچوں کی تربیت اور پولو کے کھیل کو ایک جیسی اہمیت دیتے ہیں۔ اسی وجہ سے سکول کے بچوں سے بھی اتنی محبت کرتے ہیں جتنی پولو کی گیند سے۔

\"189753_113199555425355_5424832_n\"

لیکن وہاں کے بچے ہیں بہت شریر۔ بظاہر ننھے ننھے معصوم سے بچے دکھائی دیتے ہیں لیکن ہیں اتنے شیطان کہ وقت پر سکول نہیں آتے۔ کبھی پانچ منٹ لیٹ ہوتے ہیں تو کبھی قیامت ہی ڈھا دیتے ہیں اور دس منٹ دیر بھی کر دیتے ہیں۔ بظاہر شکل سے ہی نہایت بھولے بھالے دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن ان کی اصل کو ان کے استاد سے بہتر اور کون جانتا ہے؟ اور استاد بھی کوئی عام شخص نہیں، بلکہ انعام الکبیر جیسا بڑا وڈا انعام۔

انعام الکبیر صاحب جانتے ہیں کہ اتنی ننھی عمر میں بچوں کا نازک سا ذہن اگر یہ بات نہ سمجھے کہ وقت کی قدر کرنی چاہیے تو پھر ان کی یہ عادت پختہ ہو جاتی ہے۔ جس نے وقت کھو دیا، اس نے سب کچھ کھو دیا۔ اسی لیے پرنسپل انعام الکبیر صاحب ایسے بچوں پر خاص توجہ دیتے ہیں۔ ان کی دلی خواہش ہے کہ ان کے سکول کے بچے بھی پولو کے گھوڑوں کی مانند چاک و چوبند اور اشاروں پر ناچنے والے ہوں۔

\"11951709_913564428722193_6637588371706419699_o\"

ابھی چند دن پہلے ایسا ہی سنگین وقوعہ پیش آیا کہ بہت سے بچے سکول سے لیٹ تھے تو انعام الکبیر صاحب سیدھے اصطبل میں گئے، اور گھوڑے کو چاک و چوبند اور اشاروں پر ناچنے والا بنانے کا اپنا ڈنڈا اٹھا کر لے آئے۔ بچوں کو ایک کونے میں جمع کیا۔ اور پھر تن تنہا ان کو اس طرح انعام الکبیر، یعنی بڑا انعام، اس ڈنڈے سے عطا کرنا شروع کیا کہ شندور پولو والے ان کی پرفارمنس دیکھتے تو ان کو کسی ٹیم کا کپتان ہی بنا ڈالتے۔

وہ گھوڑے کی مانند بھاگ بھاگ کر مخالف ٹیم کے بچوں کا پیچھا کرتے رہے۔ بچے بھی کھیل کے لیے پوری طرح تیار تھے، اسی لیے پولو کی سفید گیند کی مانند سفید یونیفارم پہنے ہوئے تھے۔ وہ اپنے ننھے ننھے قدم اٹھا کر گیند کی مانند ادھر ادھر لڑھکنے لگے، مگر انعام الکبیر کی ضرب سے بچنا ناممکن تھا۔ اور یہ ضرب ایسی تھی کہ دوسری منزل پر کھڑے ہو کر موبائل فون سے ویڈیو بنانے والے شخص کے کیمرے میں بھِی پولو کی ان بہترین شاٹوں کی بلند آواز بمعہ بچوں کی جوشیلی چیخوں کے ریکارڈ ہوتی رہی۔

\"12010520_913563592055610_290757048276614350_o\"

انعام الکبیر صاحب نہایت انصاف پسند شخص ہیں۔ وہ صنفی تعصب نہیں برتتے اور اسے برا جانتے ہیں۔ اسی لیے انہوں نے جہاں چھوٹے بچوں کو پولو سٹک جیسے ڈنڈے سے خوب شڑاپ شڑاپ کر کے انعام الکبیر عطا کیا، وہاں بچیوں کو بھی ان بچوں کی صف میں ہی کھڑا کیا۔ وہ بھی ان کی تربیت سے محروم نہیں رہیں۔

پرانے زمانے کے والدین بچے کو زبردستی سکول میں بھرتی کراتے تھے تو ماسٹر صاحب کو کہتے تھے کہ ہڈیاں ہماری، کھال تمہاری۔ یعنی بچے کی ہڈی نہ توڑنا، چمڑی چاہے ادھیڑ ڈالو۔ ہم نے پرانے استادوں کی ہمیشہ تعریف ہی سنی ہے۔ لگتا ہے کہ انعام الکبیر صاحب بھی پرانے خیال کے استاد ہی ہیں۔ بلکہ وہ تو ان سے بھی بڑھے ہوئے ہیں، کہ اپنے شاگرد کو مثل اپنی اولاد کے جان کر اس کی کھال کے علاوہ ہڈی کو بھی اپنا ہی سمجھتے ہیں۔

\"13782049_1091378597607441_2690665054718988571_n\"

کچھ لوگ اس ویڈیو کو دیکھ کر طرح طرح کی باتیں کرنے لگے کہ بچوں کو ایسے مارنا بری بات ہے۔ لگتا ہے کہ ان افراد نے ہماری طرح استادوں کے ڈنڈے نہیں کھائے ہیں اس لیے بہکی بہکی باتیں کرتے ہیں ورنہ تیر کی طرح سیدھے ہوئے ہوتے۔ شکر ہے کہ جہاں یہ اعتراض ہو رہا تھا، وہیں ایک انصاف پسند چترالی بزرگ بھِی موجود تھے۔ انہوں نے علاقائی روایت بتائی کہ چترال میں استاد بچوں کو بھرپور توجہ دیتے ہیں اور ان کی تربیت کرنے کو ان کی کھال بھی ادھیڑ دیتے ہیں، اور یہ اس علاقے کی تعلیمی روایت ہے، اور اس بہترین روایت ہی کی وجہ سے وہاں چترال میں شرح خواندگی بہت بلند ہے اور بچوں کے ریزلٹ بھِی اچھے آتے ہیں۔ یہ بزرگ بھی اسی روایت کے پروردہ اور نہایت اعلی تعلیم یافتہ دکھائی دیتے تھے اس لیے ان کی گواہی کو معتبر سمجھا جانا چاہیے اور انعام الکبیر صاحب پر اعتراضات کا سلسلہ بند کر دیا جانا مناسب ہے۔

\"learnerschool\"

یہ ویڈیو دیکھ کر ہم انعام الکبیر صاحب کی قربانی کے معترف ہو گئے ہیں۔ کیا آپ کو اندازہ ہے کہ قوم کے بچوں کو تعلیم دینے کی خاطر انہوں نے اپنی ذات کو کس طرح نظرانداز کیا ہے؟ جس طرح سے وہ بازو لہرا لہرا کر پوری قوت سے بچوں پر ڈنڈا چلا رہے تھے، اسے دیکھ کر یقین ہوتا ہے کہ اگر وہ کرکٹ کی طرف توجہ کرتے تو شاہد آفریدی اور ویرات کوہلی کی بجائے آج ان کا ہی نام ہوتا، اگر وہ ٹینس میں ہوتے تو لوگ ان کا غصہ اور اس قوت سے بازو گھما کر بلا دے مارنے پر ان کو جان میکینرو اور راجر فیڈرر سے بڑا کھلاڑی مانتے، اگر وہ گوشت فروخت کرنے کا بزنس کرتے تو خیبر پختونخوا کے سب سے بڑے قصائی سمجھے جاتے، مگر انہوں نے یہ سب کچھ کر کے دولت، عزت، نام اور پیسہ کمانے کی بجائے اپنی ذات کو قربان کرتے ہوئے محض ایک چھوٹے سے سکول کا پرنسپل بن کر یہ سارے ارمان اس سکول کے بچوں پر نکالنے کا فیصلہ کیا۔

\"13934825_1092229924176932_5753986686915766967_n\"

ہماری قوم کی ناقدری کی یہ حالت ہے کہ بجائے اس بات کے کہ ان کے جذبے کی تعریف کی جاتی، الٹا دجالی میڈیا نے ان کی ویڈیو چلا چلا کر قوم کو بلاوجہ ایک ہیجان میں مبتلا کر دیا۔ اس نے ایک ہیرو کو ایک شیطان بنا ڈالا۔ مزید افسوس اس بات پر ہے کہ حکومت نے اس رحم دل شخص کو پولیس کی حراست میں دے دیا ہے۔ اب پتہ نہیں ادھر چترال کی پولیس ادھر ہمارے پنجاب کی پولیس کی طرح ہی اعلی تربیت یافتہ ہے یا نہیں۔ پنجاب پولیس تو انعام الکبیر صاحب کو بھی دو چار گر کی باتیں مزید بتا دیتی، بلکہ ان پر ہی گر لگا کر ڈنڈا چلانے کا عملی مظاہرہ بھِی کر دیتی، مگر چترال پولیس اس معاملے میں کچھ ڈھیلی لگتی ہے۔ لیکن اب انہیں انعام الکبیر صاحب جیسا ماہر فن استاد نصیب ہوا ہے تو امید ہے کہ وہ انعام الکبیر صاحب سے گر کی چار باتیں سیکھ کر ہی انہیں چھوڑے گی اور چترال کے مشکوک افراد بھی اب ڈرائینگ روم میں ویسے ہی جرائم سے توبہ کیا کریں گے جیسے کہ پنجاب کے ملزمان کرتے ہیں۔

اب آپ اس ویڈیو کو خود دیکھیں۔ کیسے یہ نیک دل شخص بچوں میں گھل مل کر ان کی تربیت کر رہا ہے۔ بچوں میں بچہ ہی بنا ہوا ہے۔ ان کے ساتھ دوڑ بھاگ کر رہا ہے۔ جو بچہ دوڑنے بھاگنے میں ذرا سی بھی سستی کرتا ہے، اس کی سستی کیسے دور کرتا ہے۔ ہمیں امید ہے کہ یہ بچے اب سکول میں کبھی لیٹ آنے کا نہیں سوچیں گے۔ بلکہ لیٹ کیا، کبھی بھی سکول ہی نہ آنے کا سوچیں گے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 628 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar