مسلمانوں کا بغداد اور مغرب کا آکسفورڈ


\"1-yasir-pirzada\"مسلمان فلسفیوں میں سب سے دلچسپ شخصیت ال جاحظ کی گزری ہے، یہ شخص أبو إسحاق بن سيار بن هانئ النظام کا شاگرد تھا، دونوں استاد شاگرد ایک ہی ذہن کے مالک تھے۔ال جاحظ کی پیدائش 776ءمیں بصرہ میں ہوئی مگر بعد میں یہ بغداد آ گیا ، وہاں وہ اپنا زیادہ وقت خلیفہ وقت کی مجلس میں گزارا کرتا، اُس کی مستقل رہائش خلیفہ المتوکل کے وزیر اعظم ابن زیات کے محل میں تھی، جب خلیفہ کے حکم سے وزیر اعظم کو پھانسی دی گئی تو ال جاحظ کو بھی قید میں ڈال دیا گیا تاہم کچھ عرصے بعد رہا بھی کر دیا گیا۔ اپنے استاد کی طرح الجاحظ بھی بلا کا ذہین تھا، یہ یونانی فلسفہ گھول کر پی چکا تھا، بات بات پر قصے سنانا اس کا محبوب مشغلہ تھا، قدرت نے اسے اعلی حس مزح سے نوازا تھا، یہ جہاں بیٹھ جاتا لوگ اس کی باتیں سننے کے لئے جمع ہو جاتے، اپنے نظریات کی تعلیم اس قدر دلچسپ انداز میں دیتا کہ عوام عش عش کر اٹھتے، مگر اس کی شکل بہت خوفناک تھی، بغداد کا ہر بچہ اس کی صورت سے خوف کھاتا تھا۔اس نے 93 سال عمر پائی، انتقال بصرہ میں ہوا، سن تھا 869ء۔ آخری عمر میں اسے فالج کا حملہ ہوا، چونکہ شاعر بھی تھا، سو اپنی بیماری کے دوران اس نے شعر کہے جن کا مفہوم یہ تھا کہ :’’دوست تم سوچتے ہو کہ جب تمہاری عمر ڈھل جائے گی تب بھی تم جواں سال ہی لگو گے، ایسا نہیں ہوگا، پرانی پوشاک کبھی نئی جیسی نہیں ہو سکتی۔ ‘ ‘ ال جاحظ کئی کتابوں کا مصنف تھا، اس کی مشہور تصانیف میں کتاب ال بیان، کتاب ال حیوان اور کتاب ال غلمان شامل ہیں، ایک کتاب اُس نے مسلمانوں کے فرقوں کے بارے میں بھی لکھی جبکہ ایک کتاب حریص اور کنجوس لوگوں کے بارے میں لکھی جس کا نام کتاب ال بخالا تھا، یہ ال جاحظ کی طنز یہ نثر کا اعلی نمونہ ہے۔

ال جاحظ سائنسی فلسفی تھا، کتاب ال حیوان کے دیباچے میں وہ لکھتا ہے کہ وہ فلسفیانہ روح سے متاثر ہے جو حواس پر مبنی تجربے اور عقل سے علم حاصل کرتی ہے اور مشاہدات اورتجربات کو بروئے کار لا کر تحقیق کے مختلف طریقے وضع کرتی ہے۔ ال جاحظ نے جانوروں کی بے شمار اقسام پر تجربات کئے، ان تجربات میں وہ اکثر جانوروں کے مختلف اجزا کاٹ ڈالتا تھا یا پھر انہیں زہر دے کر مارتا اور مشاہدہ کرتا کہ اس کا اُن کےجسمانی نظام پر کیا اثر ہوا ہے۔ تاہم ال جاحظ علم کے ذرائع کے لئے محض حواس اور تجربے پر انحصار کرنے کا قائل نہیں تھا کیونکہ انسانی حواس یا تجربات بعض اوقات حالات کی درست تصویر پیش نہیں کرتے سو حقیقت جاننے کے لئے عقل کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ اس کی مثال یوں ہے کہ ایک شعبدہ باز آپ کی آنکھوں کے سامنے ٹوپی میں سے کبوتر نکال کر دکھاتا ہے، آپ کے حواس اس پر یقین کر لیتے ہیں اور یہ بات تجربے میں بھی آتی ہے مگر عقل استعمال کرنے پر پتہ چلتا ہے کہ یہ محض فریب نظر ہے۔ ال جاحظ کے الفاظ میں : ’’آپ فقط اپنی آنکھوں کے دیکھے پر یقین نہ کرو، دلیل کی رو سے پرکھو اور عقل استعمال کرو۔ ہر حقیقت کا تعین دو عناصر سے ہوتا ہے، ایک ظاہری جو ہمارے حواس کے مرہون منت ہے اور دوسری باطنی جسے صرف عقل کی آنکھ سے دیکھا جا سکتا ہے، اصل میں یہ عقل ہی ہے جو حقیقت تک پہنچنے میں فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔ ‘ ‘ عقل پر کلی انحصار کرنے کا یہ نظریہ معتزلہ کا تھا اور ال جاحظ اسی کا پیروکار تھا۔معتزلہ کے نزدیک انسان خود مختار ہے، وہ اپنے کئے ہوئے اعمال کا خود ذمہ دار ہے، تاہم ان اعمال میں سے کچھ ایسے ہیں جنہیں وہ مبشرہکہتے ہیں یعنی ایسے اعمال جو انسان براہ راست انجام دے اور کچھ اعمال ایسے ہیں جو انسان براہ راست تو انجام نہیں دیتا مگر وہ اس کے اعمال کے نتیجے میں وقوع پذیر ہوتے ہیں، معتزلہ ایسے اعمال کو تولد کہتے ہیں۔ مثلا ایک شخص پانی میں پتھر پھینکتا ہے، یہ اس شخص کا اپنا فعل ہے مگر اس کے بعد پانی میں لہریں پیدا ہوتی ہیں چاہےاُس کی منشا یہ نہ ہو کہ پانی میں لہریں پیدا کی جائیں مگر اس کا فعل پانی میں ارتعاش کا باعث بن جاتا ہے۔ بالکل اسی طرح انسان اپنے براہ راست اعمال کا خود ذمہ دار ہے جو مبشرہکہلاتے ہیں مگر اس کے نتیجے میں پیدا ہونے والا واقعات تولد کہلائیں گے چاہے انسان کی منشا ان میں ہو یا نہ ہو۔ معتزلہکے نزدیک ان دونوں قسم کے اعمال میں آفاقی مداخلت نہیں ہوتی۔ الجاحظ اس سے بھی دو قدم آگے گیا اور جہنم کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کیا جو خاصے دلچسپ ہیں، اس کا کہنا تھا کہ گناہگار مستقل دوزخ میں نہیں رہیں گے بلکہ وہ بھڑکتی ہوئی آگ میں تبدیل ہو جائیں گے، خدا کسی کو جہنم میں نہیں پھینکے گا بلکہ دوزخ کی آگ میں قدررتا یہ خاصیت ہوگی کہ وہ گناہگاروں کو اپنی طرف کھینچ لے گی۔

ہزار بارہ سو سال پہلے مسلمان فلسفیوں کے درمیان ہونے والے یہ مباحث دلچسپ بھی تھے اور فکر انگیز بھی۔ بصرہ اور بغداد کے علم کدے اس زمانے میں یوں تھے جیسے ہاورڈ اور آکسفورڈ۔ انسان آزاد ہے یا خود مختار، خدا کی صفات کیا ہیں، جبر و قدر کا مسئلہ کیا ہے، کن اعمال پر انسان کو جہنم میں ڈالا جائے گا اور کن پر بخشش ہو گی، عقل کی حدود ہیں، کیا ہمارے حواس ہمیں حقیقت دکھاتے ہیں یا محض واہمہ ہے، دنیا میں ہونے والے واقعات کیا حقیقت میں رونما ہوتے ہیں، کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم سب ایک دن گہری نیند سے بیدار ہوں تو معلوم ہو کہ دنیا میں ہم اپنے قیام کو حقیقت سمجھ بیٹھے تھے وہ محض ایک طویل خواب تھا اور اُس بیداری کو جب ہم حقیقت سمجھیں تو معلوم ہو کہ وہ بھی خواب تھا اور پھر یہ سلسلہ کہیں نہ رکے! مسلمان فلسفیوں نے ان دقیق مسائل پر کئی سو سال تک بحث کی، معتزلہ کی طرح کچھ فلسفی محض عقل کے قائل تھے، عباسی خلیفہ مامون نے ان کی کافی سرپرستی کی، مگر ان کے رد عمل میں فلسفیوں کا ایک اورگروہ پیدا ہوا جنہیں ہم العشری کہتے ہیں، انہوں نے معتزلہ کے نظریات کے خلاف دلائل دئیے اور کہا کہ عقل محض خدا کا جاننے کا ذریعہ نہیں بن سکتی، انسان کو وہ عقل ہی نہیں دی گئی جس میں خدائی وجود کی خصوصیات سما سکیں، لگ بھگ یہ بات جرمن فلسفی کانٹ نے نو سو سال بعد کہی۔ بلاشبہ مسلمانوں کا یہ ایک سنہری دور تھا، اس زمانے میں بعض مسلمان فلسفیوں کو اپنے نظریات کی پاداش میں خلیفہ اور عوام دونوں کے غیظ و غضب کا بھی سامنا کرنا پڑا مگر یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے یورپ کی نشاةثانیہ کے دوران بعض مفکرین کو کلیسا نے سزائیں سنائیں اور ان کے افکار کو بائبل کا انکاری قرار دیا۔ لیکن ان دونوں معاشروں نے ترقی کی منزلیں تب ہی طے کیں جب ان کے ہاں آزاد فکر کو رواج ملا اور دلائل کا جواب دلائل سے دینے کی روایت نے جنم لیا۔ مسلمانوں کا بغداد ہو یا مغرب کا آکسفورڈ، ترقی کی بنیاد یہی آزادی فکر ہے، باقی جزیات ہیں۔

نوٹ : اس کالم میں ال جاحظ اور معتزلہ سے متعلق معلومات پروفیسر میر علی الدین، شعبہ فلسفہ، عثمانیہ یونیورسٹی، حیدر آباد (دکن) کے شائع شدہ مضمون سے حاصل کی گئی ہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

یاسر پیرزادہ

بشکریہ: روز نامہ جنگ

yasir-pirzada has 122 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada