بلوچستان ہی پاکستان ہے


سردار عطا اللہ مینگل نے کبھی کہا تھا کہ خدانخواستہ پاکستان کو کچھ ہوا تو ہم بلوچستان کا نام پاکستان رکھیں گے۔ مینگل قبیلے کا یہ سردار\"wisi جس کو اس اس کے قبیلے نے کبھی اپنا سربراہ منتخب کیا تھا۔ جمہوری مزاج رکھتا تھا ماضی کو بھول کر آگے چلنے کو تو تیار ہی تھا۔ پاکستان کے لئے پرجوش بھی تھا۔

اس کے بعد کی کہانی المناک ہے۔ بلوچستان میں آپریشن ہوا اس سردار کا بیٹا مارا گیا۔ جسے کہاں دفنایا گیا یہ آج تک پتہ نہیں لگا۔ سردار عطااللہ جب وزیر اعلی تھے انہوں نے بلوچستان میں اردو کو سرکاری طور پر رائیج کیا۔ اردو آج اس قبائلی روایتی صوبے میں رابطے کی زبان ہے۔

بلوچستان کو ہم نے بھلا دیا تھا۔ جو گوادر آج ہماری امیدوں کا مرکز ہے اس کو واپس پاکستان کا حصہ بنانے میں سب بڑا کردار تھا نواب اکبر بگٹی کا۔ جو کبھی پاکستان کے وزیر دفاع رہے۔ اپنی طبعی عمر کے آخری ایام میں بوڑھے سردار نے گولی کھا کر جان دی۔ ریاست تب اک آمر کے بوٹ تلے کراہ رہی تھی۔ جس نے کبھی دعوی کیا تھا کہ بلوچوں کو وہاں سے ہٹ کریں گے کہ انہیں پتہ بھی نہیں چلے گا۔
\"WA0006\"
قدرت نے یہ دعوی ایسے لوٹایا اس آمر کو بلوچستان نے ایسے مارا اور وہاں لے جا کر مارا جو کبھی اس نے سوچا بھی نہ تھا۔ افتخار چوھدری کا تعلق بلوچستان سے تھا۔ جس حرف انکار کا افتخار چوھدری کو فخر تھا۔ وہ بلوچستان کی مٹی اور پانی کا غرور تھا۔

سردار ثنا اللہ زہری نے اسمبلی میں بیان دیا ہے کہ امن و امان خراب کرنے والا میرا بھائی بھی ہوا تو اسے نہیں چھوڑیں گے۔ یہ مسلم لیگی وزیر اعلی ہیں ۔ ہمارے وطن میں مسلم لیگی ہونا کوئی فخر کی بات نہیں رہی کہ طرح طرح کی لیگیں اقتدار کی چوکھٹ پر سجدہ ریز رہی ہیں۔ سردار ثنا اللہ زہری کا مسلم لیگی ہونا خاص بات ہے۔ الیکشن مہم کے دوران انہوں نے اپنا بھائی بیٹا اور بھتیجا کھویا۔

اسی بارے میں: ۔  پرویز مشرف سچ بولتا ہے یا قاضی آٹا کم تولتا ہے؟

سردار زہری نواب نو روز کے نواسے ہیں۔ چیف آف جھالاوان ہیں۔ وہی نواب نوروز جو بلوچ قوم پرستی پر ریاستی جبر کی ایک علامت ہیں۔ بات بس اتنی تھی کہ ہم نے تب لوگوں کی ریاستی امور میں رائے کو حتمی نہیں مانا تھا۔ رائے کا احترام تب رائج ہو جاتا تو شاید نواب نوروز بھی مزاحمت کی علامت کی بجائے اپنی حکومتی کارکردگی کی بنا پر یاد کئے جاتے۔
\"WA0007\"
جب ہم نے رائے کو احترام دینے کی ہمت کی تو اک معجزہ ہوا۔ بلوچستان کے نگر نگر پھر کر لوگوں سے یہ کہنے والا کہ مجھے خون اور قربانی دو میں تمھیں آزادی دوں گا ڈاکٹر مالک وزیر اعلی بنا۔ ڈاکٹر مالک نے ایک مخلوط حکومت بنائی اور چلائی پھر معاہدے کے مطابق چھوڑ دی۔

جاتے ہوئے کہا تو اتنا کہ جس طاقت سے آئے تھے اسی سے جا رہے ہیں۔ بس اتنی ہی بات تھی کہ جب تک اکثریتی رائے رہی ان کی حکومت رہی جب نہ رہی وہ چلے گئے۔

سردار ثنا اللہ زہری کے وزیر اعلی بننے میں ایک خاص بات اور بھی ہے۔ بلوچستان میں ایک تاثر تھا کہ وفاق اور پنجاب وعدے کرتے ہیں انہیں پورا نہیں کرتے ہیں۔ ایک پنجابی سیاستدان نے سردار زہری سے ایک وعدہ کیا اور نبھایا جس سے وعدے توڑنے کی متھ بھی ٹوٹ گئی ایک مثال بھی مل گئی۔

بلوچستان میں ہونے والی کامیابیاں صرف سیاسی نہیں ہیں۔ سیاست نے راستے ضرور نکالے ہیں۔ کسی نے دل بھی بڑا کیا ہے ۔ سول ملٹری بلوچستان میں مل کر چلے ہیں۔ بلوچستان میں دہشت گردی میں نمایاں کمی آئی ہے۔ ایکٹو باقی رہ جانے والی تنظیمیں بس اب ڈھائی تین ہی رہ \"WA0008\"گئی ہیں۔

اسی بارے میں: ۔  فرانس نے عرب سے کیا سیکھا ۔ چند اعترافات

سی پیک پراجیکٹ پر پوری رفتار سے کام ہو رہا ہے۔ اکتوبر میں اپنے مقررہ وقت سے پہلے گوادر کو اندرون ملک بنانے والی شاہراہ کا افتتاح ہو رہا ہے۔ گوادر میں نئے ائیرپورٹ کے لئے کام کاغذوں سے اب تعمیراتی مراحل میں داخل ہونے کو ہے۔ اس سال بندرگاہ فنکشنل ہو جائے گی۔ گوادر بائی پاس پر کام ہو گا۔ حریف کے طور پیش کی جانے والی چاہ بہار کو بڑی خوشی سے ایران گوادر پورٹ کی سسٹر پورٹ بنانے کو تیار ہے۔

اب دل کہتا ہے کہ چل کر ان راستوں پر سفر کیا جائے۔سفر کی رودار لکھیں لوگوں سے دل کی باتیں سب کو انکا احوال بتائیں۔

ہمارے کرنے کا کام بس اب اتنا ہے کہ جب بلوچستان سارے پاکستان کو ترقی دلواتا آگے بڑھے تو بلوچستانی ان خوشیوں میں سب سے زیادہ حصہ پائیں، باقیوں سے پیچھے نہ رہ جائیں۔\"WA0009\"

(بھائی وصی بابا، آپ کی تحریر پڑھتے ہوئے ایک امید مسلسل تھی کہ آپ بھائی واحد بلوچ کی غیرقانونی حراست کا معاملہ اٹھائیں گے۔ امید پوری نہیں ہوئی۔ آپ کی نیک نیتی پر کوئی شبہ نہیں۔ عرض صرف یہ ہے کہ اگر بلوچ بہن بھائیوں کے ساتھ ناانصافی ہوتی رہی تو بھائی چارے اور اچھی معیشت کی سب امیدیں گوادر کی ڈیپ سی پورٹ میں ڈوب جائیں گی۔ بلوچستان پاکستان کی وفاقی اکائی ہے، کالونی نہیں ہے۔ وجاہت مسعود)


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

وسی بابا

وسی بابا نام رکھ لیا ایک کردار گھڑ لیا وہ سب کہنے کے لیے جس کے اظہار کی ویسے جرات نہیں تھی۔

wisi has 262 posts and counting.See all posts by wisi