شفیق الرحمن کی ’’تُزک نادری‘‘۔


\"mustansar

شفیق الرحمن میرے پسندیدہ اور من موہنے ادیب اور دوست جنہوں نے میرے پہلے سفر نامے ’’نکلے تری تلاش میں‘‘ کا عنوان پسند کیا کہ یہ اقبال کے ایک مصرعے سے مستعار لیا گیا تھا۔ نکلے تیری تلاش میں قافلۂ ہائے رنگ و بو۔ جن کے سفرنامے ’’برساتی‘‘ کو میں اپنے پہلے سفرنامے کی ماں قرار دیتا ہوں، اور لکھے جو خط شفیق نے میرے نام کے، وہ سب ایک مجموعے میں شائع ہو چکے ہیں کہ وہ نہ صرف میرے بلکہ میرے بچوں کے بھی فیورٹ انکل تھے۔ چونکہ اُن کی کوئی بیٹی نہ تھی اس لیے وہ میری عینی کو اپنی بیٹی قرار دیتے تھے اور جب عینی کو کنگ ایڈورڈز میڈیکل کالج میں میرٹ پر داخلہ مل گیا تو شفیق صاحب کی خوشی کا کوئی ٹھکانا نہ تھا، وہ بھی اس کالج کے بام و در میں ڈاکٹر ہوئے اور انہوں نے اُن زمانوں کے میڈیکل نوٹس اور کتابیں سب کی سب عینی کو تحفے میں ارسال کر دیں۔

اگرچہ اُن کی سب تحریریں کب کی لازوال ہو چکیں لیکن یہ طے ہے کہ ’’تُزک نادری‘‘ ایسی پیر وڈی کم از کم اردو زبان میں مفقود ہے۔ یہ اس صنف میں حرف اوّل بھی تھا اور حرف آخر بھی۔ منظر کچھ یوں کھلتا ہے کہ حسب دستور ہندوستان پر حملے کا ایک پروگرام بنایا جا رہا ہے۔ یہ پروگرام اکثر ایران اور افغانستان میں بنتے ہی رہتے تھے۔ اہل ہندوستان بھی ان حملوں کے نہایت اشتیاق سے منتظر رہتے تھے تاکہ حملہ آور آئیں، اُنہیں خوب لوٹیں۔ اُن کے شہر برباد کریں۔ اور شہر لاہور اس کی ایک مثال ہے جسے محمود غزنوی نے مکمل طور پر برباد کر کے اس پر ہل چلا دیے۔ اُن کی عورتیں اٹھا لے جائیں اور پھر وہ اُنہیں اپنے ہیرو قرار دے کر اُن کی پرستش کرنے لگیں۔ ہندوستان کے لوگوں کی فراخدلی کی کچھ انتہا نہ تھی چنانچہ ایران کا ایک ان پڑھ گڈریا نادر شاہ اپنا خزانہ بھرنے کے لیے ہندوستان پر حملے کا پروگرام بناتا ہے اور اپنے وزیر اُلو شناس سے کہتا ہے کہ تم ہندوستان پر حملے کے کچھ جواز تلاش کرو تا کہ آنے والے وقتوں میں طالب علموں کو آسانی ہو اور وہ ہندوستان پر حملے کے اسباب یاد کر کے امتحان میں سرخرو ہوں۔ چنانچہ الو شناس اپنی تاریخی بصیرت کی روشنی میں ہندوستان پر حملہ آور ہونے کے کچھ اخلاقی جواز پیش کرتا ہے۔

\"Shafiq-Ur-Rehman\"

مثلاً ۔ حضور شمشیر ابن شمشیر نادر شاہ کی ایک پھوپھی جان شاید بھائی پھیر و میں مقیم تھیں اس لیے محض اُن سے ملاقات کی خاطر پھوپھی کی محبت میں لاچار ہو کر ہندوستان کا قصد کر لیا جسے یار لوگوں نے حملے کا نام دے دیا۔ چونکہ نادر شاہ کی کوئی پھوپھی نہیں تھیں اور اگر ہوتیں تو وہ کاہے کو بھائی پھیرو میں رہتیں، نیشا پور وغیرہ میں کیوں قیام پذیر نہ ہوتیں جہاں عمر خیام وغیرہ ندی کے دوسرے کنارے پر شراب، محبوب اور شعروں کے ایک کتاب کے ہمراہ موج میلہ کر رہے ہوتے۔ چنانچہ یہ دلیل رد کر دی گئی۔ الو شناس نے ایک اور نہایت مدلل سبب پیش کیا کہ حضور ہندوستان میں جو طبلہ نواز ہیں وہ طبلہ بجاتے ہوئے ’’نادر دھیم ، نادر دھیم‘‘ کا راگ الاپتے ہیں یعنی شہنشاہ کی ہتک کے مرتکب ہوتے ہیں تو ان ناہنجاروں کا قلع قمع کرنے کے لیے، اُنہیں سزا دینے کے لیے ہندوستان پر حملہ کیا گیا۔ لیکن کسی اور درباری نے جان کی امان پا کر عرض کیا کہ حضور یہ آپ کے شایان شان نہیں ہے کہ صرف چند عاقبت نااندیش طبلہ کھڑکانے والوں کی گوشمالی کرنے کے لیے پورے ہندوستان پر حملہ کر دیں۔

بالآخر الو شناسی نے ایک ایسا تاریخی جواز پیش کیا جس پرمکمل اتفاق رائے ہو گیا، نادر شاہ بھی مگیمبو کی مانند خوش ہوا اور جواز یہ تھا کہ۔ یوں بھی ایک عرصے سے ہندوستان پر حملہ نہیں ہوا۔
یہ جواز بعد ازاں بہت سے حملہ آوروں کے لیے مفید ثابت ہوا۔ امریکہ نے اگر عراق اور افغانستان پر حملہ کیا تو محض اس لیے کہ یوں بھی ان ملکوں پر امریکہ نے کبھی حملہ نہ کیا تھا۔

\"13532906_1058052534281519_2475223163004744110_n\"

’’تزک نادری‘‘ میں نادرشاہ کے حملے کی جو تفصیل درج ہے اسے آپ خود پڑھ لیجیے۔ یعنی نادر شاہ دلی کے لوگوں کے قتل عام کا حکم دیتا ہے، اور اُن میں مسلمان بھی شامل ہیں اور تب کوئی درباری ہاتھ باندھ کر ایک تکنیکی خامی کی نشاندہی کرتا ہے کہ حضور ہمیشہ سے روایت ہے کہ قتل عام کا حکم دیتے ہوئے شہنشاہ اپنی تلوار نیام سے باہر نکال کر اپنے پہلو میں رکھ لیتا ہے اور آپ کی تلوار ابھی تک نیام میں ہے۔ یاد رہے کہ روایت کے مطابق اس لمحے نادرشاہ دلی کی گرمی سے تنگ آیا ہوا، کپڑے اتار کر نیم برہنہ حالت میں جامع مسجد کے تالاب کے کنارے نڈھال براجمان ہے، چنانچہ وہ اتنا انصاف پسند ہے کہ اپنی تلوار میاں سے نکال کر کہتا ہے ’’سوری۔ یہ پہلا قتل عام درست نہ تھا۔ دوبارہ سے صحیح قتل عام کیا جائے‘‘۔

’’تزک نادری‘‘ کے حوالے سے میں سوچتا ہوں کہ اگر آج کے زمانوں میں خدانخواستہ برادر مسلم ممالک افغانستان اور ایران پاکستان پر حملہ کرنے کے پروگرام بنا رہے ہوں کہ یہی وہ برادر ملک ہیں جو ہمیں حملوں سے سرفراز کرتے رہتے ہیں تو وہ مستقبل کے طالب علموں کی آسانی کے لیے پاکستان پر حملہ کرنے کے لیے کیا جواز گھڑیں گے۔ ان خطوں پر حملہ کرنے میں بہت سے فوائد ہیں یعنی یہاں کے لوگ نہ صرف آپ کو خوش آمدید کہیں گے بلکہ اپنی تاریخ میں آپ کو اپنا ہیرو قرار دیں گے۔ آپ ان کے بچے ہلاک کر ڈالیں پھر بھی وہ آپ کی موت پر سوگوار ہو کر آپ کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کریں گے ، کتنے اچھے لوگ ہیں۔ آپ ان کے گلے کاٹیے اور وہ ممنوعیت سے آپ کے گلے لگ کر آپ کا شکریہ ادا کریں گے۔ کیسے فراخ دل لوگ ہیں۔

چنانچہ میرے منہ میں خاک۔ اگر آج پاکستان پر حملہ کرنے کے لیے ہمارے ایرانی اور افغان محسن جواز تلاش کریں تو وہ کیا ہوں گے؟۔ میں تصور کر سکتا ہوں۔ ملاحظہ کیجیے پاکستان پر حملہ کرنے کے اخلاقی تاریخی اور ’شرعی‘ جواز۔

بشکریہ روزنامہ نئی بات


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔