مولانا عبدالعزیز کی گرفتاری: لال مسجد انتظامیہ نے حکمت عملی بنا لی


molana abdul azizلال مسجد انتظامیہ نے مولانا عبدالعزیز کی ممکنہ گرفتاری کی صورت میں حکمت عملی تیار کر لی ہے۔ گرفتاری کی صورت میں شدید ردعمل کا مظاہرہ کیا جائے گا جبکہ اسلام آباد انتظامیہ نے لال مسجد کے مولانا عبدالعزیز کی گرفتاری کی تردید کر دی ہے۔ خبر رساں ادارے کو حاصل ہونے والی معلومات کے مطابق لال مسجد کے مولانا عبدالعزیز ان دنوں دوہری مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں۔ ان کے خلاف تھانہ آبپارہ میں درج مقدمہ زیر دفعہ 506 میں ضمانت کے نام پر گرفتاری کی خبرں ایوان بالا میں گردش کر رہی ہیں کہ انہیں مذکورہ مقدمہ میں 90 روز کے لیے زیر حراست لیا جا سکتا ہے۔
ذرائع کے مطابق سینٹ کے چیئرمین رضا ربانی کی جانب سے بھی وزارت داخلہ کو مولانا عبدالعزیز کے عالمی دہشت گرد تنظیم داعش سے روابط سمیت دیگر ثبوت پیش کر دیے ہیں جس کے بعد ان کی گرفتاری کسی بھی وقت عمل میں لائی جا سکتی ہے اور اس بات کے پیش نظر لال مسجد انتظامیہ نے ملک بھر میں اپنے چاہنے والوں کہ آگاہ کر دیا ہے اور ممکنہ گرفتاری کی صورت میں شدید ردعمل کا مظاہرہ کیا جا سکتا ہے۔ خبر رساں ادارے کے رابطہ کرنے پر ضلعی انتظامیہ کے اعلیٰ افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر خبر رساں ادارے کو بتایا کہ لال مسجد کے مولانا عبدالعزیز کی گرفتاری کوئی مسئلہ نہیں ہے تاہم ان کی گرفتاری کے حوالے سے وزارت داخلہ نے احکامات جاری کرنے ہیں جوکہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کی بیماری کے باعث التوا کا شکار ہیں
ضلعی انتظامیہ کو ایسے کوئی احکامات موصول نہیں ہوئے جس کے تحت مولانا کو گرفتار کیا جائے یا تھانہ آب پارہ میں درج مقدمہ میں ضمانت کے نام پر گرفتاری کی کوشش کی جائے۔ ادھر وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار کی کوششیں رنگ نہ لا سکیں۔ ایس پی اور ڈی ایس پی نے مولانا عبدالعزیز سے بیان ریکارڈ کیے بغیر اپنا بیان وزیر داخلہ کو بھجوا دیا۔ خبر رساں ادارے کو انتہائی معتبر ذرائع نے بتایا کہ گزشتہ دنوں وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے تھانہ آب پارہ کے ایس پی کو حکم دیا تھا کہ وہ ذاتی طور پر مولانا عبدالعزیز سے ملاقات کر کے انہیں سول سوسائٹی کے اہم رکن جبران کے کیس میں عبوری ضمانت کروا کر شامل تفتیش قرار دیں۔
ذرائع کے مطابق ایس پی تھانہ آب پارہ کو مولانا عبدالعزیز نے دوٹوک جواب دیتے ہوئے کہا کہ کیونکہ ان پر کیس جھوٹا اور بے بنیاد ہے وہ اس سلسلے میں اپنا بیان ریکارڈ نہیں کروائیں گے ۔ تاہم اس کے بعد ڈی ایس پی خالد ورک کو لال مسجد کی جانب بھیجا گیا لیکن وہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کی جانب نہ جا پائے اور انہوں نے راستے میں ہی اپنا بیان قلم بند کرواتے ہوئے ادارے کو مطمئن کرنے کی کوشش کی۔ اس حوالے سے خبر رساں ادارے نے جب ڈی ایس پی خالد ورد سے رابطہ کیا تو انہوں نے دو ٹوک الفاظ میں جواب دیتے ہوئے کہا کہ جبران کو ہم جانتے ہی نہیں اس کا کیس کہاں سے یہاں رجسٹرڈ ہو گیا۔
واضح رہے کہ افغانستان اور پشاور سے ملنے والی کالیں جبران کیس کو مستحکم نہ کر سکیں اور ڈی ایس پی خالد ورک اپنے بدلتے ہوئے بیان میں یہ کہتا ہے کہ وہ جبران تک کے نام کو جانتا ہی نہیں۔ اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ے کہ وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان پر آئندہ آنے والا سینٹ اجلاس انتہائی بھاری اور قیمت چکانے والا پڑے گا ۔ دوسری جانب وزارت داخلہ کے ذرائع نے بتایا ہے کہ خالد ورک کو جبران نامی مشہور کیس کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کرنے پر بھاری قیمت چکانا پڑے گی۔


Comments

FB Login Required - comments