دکھ کی گھڑی اور درباری صحافت


\"zafar

سٹالن سے لے کر ماؤ اور کیما روج تک اکیس ملین سے ستر ملین تک انسان ظلم و بربریت کا لقمہ اجل بنے لیکن کمیونزم کے علمبردار تسلسل سے کہتے رہے ہیں کہ کمیونزم انسانیت کی برابری کا خواب ہے۔ ماؤ کی کمیونسٹ پارٹی یاکمیونسٹ پارٹی آف سویت یونین کی بدترین آمریت نے اگر مخالف کی آواز دبائی تو یہ اصول سے انحراف تھا اس سے اصول باطل نہیں ہوتا۔ حضرت مسیح کا پیغام محبت کا تھا لیکن صرف اپریل 1994 سے جون 1994 تک چرچ کی سیاست نے روانڈا میں اآٹھ لاکھ لوگوں کو لقمہ اجل بنایا۔ اصول مگر یہ ہے کہ عیسایت امن کا پیغام لے کر آیا ہے۔ 12 اگست 1948 کو چار سدہ میں خدائی خدمتگار تحریک کے نہتے انسانوں پر عبدالقیوم خان کے حکم پر بلا اشتعال فائرنگ کی گئی اور سو سے زیادہ انسان شہید کر دئیے گئے۔ یہ وہ مسلمان تھے جن کے بارے میں کہا گیا تھا کہ اگر متحدہ ہندوستان میں رہتے تو شاید بھوک و افلاس سے مر جاتے لیکن یہاں مسلم اخوت کے نمائندوں کے موت کی نیند سلا دئیے۔ اصول یہ تھا کہ ہندو اور مسلمان دو الگ قومیں ہیں۔ یہی کچھ 71 میں انہی بنگالیوں کے ساتھ ہوا تھا جنہوں نے وطن کی آزادی کے لئے ہزاروں جانوں کا نذرانہ دیا تھا۔ عراق سے لے کر شام تک امریکہ نے لاکھوں انسان مار دئیے۔ اصول یہ ہے کہ جمہوریت کا مقصد شہریوں کا تحفظ اور ان کے معیار زندگی کو بہتر بنانا ہے۔ نیویارک سے لے کر فرانس تک اور کوئٹہ سے لے کر اے پی ایس پشاور تک دہشت گردوں نے ہزاروں انسانوں کا قتل عام کیا۔ اصول یہ ہے کہ اسلام امن کا مذہب ہے۔ دلیل دی جا رہی ہے کہ پر عمل میں اگر غلطی ہو تو اس سے اصول پر حرف نہیں آتا۔ ہم مانتے ہیں کہ اصول ٹھیک ہیں، اصول پر کوئی بحث نہیں۔

مشکل مگر یہ ہے کہ جب آپ ظلم کریں گے۔ جب آپ قتل کریں گے تو اصول کو انسان کب تک پوجتے رہیں گے؟ مذہب، نظریہ، وطن اور قومی مفاد کے نام پر ظلم کو جواز کب دیا جاتا رہے گا؟ جس ملک کی نظریاتی دیواریں ایک واحد بلوچ کی تاب نہیں رکھتیں اس کے کرتا دھرتاؤں کو اپنے نظریے پر ازسر نو غور کرنا چاہیے۔ جس ملک میں مقتدر حلقے عدالت پر اعتماد نہیں کرتے ان کی بنیادیں بہت کمزور ہیں۔ ہم آزردہ ہیں کہ اس دیس میں سوچ پر قدغن ہے۔ ہماری زبان پر تالے ہیں مگر کب تک؟ آکر کبھی تو کوئی پوچھے گا کہ یہ لہو کون گراتا ہے اور کیوں گراتا ہے؟ کچھ دانشور اعتراض کرتے پائے گئے ہیں کہ واحد بلوچ کے غائب ہونے کومقتدر حلقوں سے کیوں جوڑا جا رہا ہے۔ تو بھائی کس سے جوڑیں آپ بتا دیں؟ یاد کیجیے کہ سپریم کورٹ نے کس سے لاپتہ افراد فہرستیں طلب تک تھیں؟ کس نے لاپتہ افراد کے چہروں ڈھاٹے باندھ کر عدالتوں میں پیش کیا تھا؟ صحافت قوم کے ضمیر کی آواز ہے۔ ضمیر کی آواز کو یوں اپنے درپردہ قرب و عنایات کے آرزو پر بے آبرو نہ کیا جائے۔ کل تک ٹی ٹی پی کی عذرخواہی پر کمربستگی تھی۔ مقتدر حلقوں کے کمر میں خم آیا تو اپنا قبلہ بدل لیا۔ یہ سوچ سیاہ و سفید میں بٹی ہوئی ہے۔ یہ سوچ ابھی تک اس ملک کے باشندوں کو بلوچ، سرائیکی ، سندھی اور مہاجر کی نظردیکھتے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جو ایک ہی ملک میں رہنے والے باشندوں میں سے ایک گروہ کو مشورے دیتے ہیں کیا فلاں فلاں باطل ہے اور اس کا قلع قمع کیسے کرنا ہے؟ ان سے پوچھنا چاہیے کہ عطا اللہ مینگل کے بیٹے کے غائب ہونے پر انہوں نے کیا کہا تھا؟ ان سے پوچھنا چاہئے میاں افتخار کے بیٹے کی شہادت پر انہوں کیا کہا تھا؟ ان سے پوچھنا چاہیے کہ حبیب جالب کے قتل پر ان کا موقف کیا تھا؟ ان سے پوچھنا چاہیے کہ صبا دشتیاری پر کیا الزام تھا؟ ان سے پوچھنا چاہیے کہ انہوں نے کبھی مولا بخش دشتی کا نام سنا تھا؟

عرض یہ ہے کہ ہم اس ملک کے شہری ہیں اگر آپ تسلیم کرنے کو تیار ہوں جناب والا۔ اس مٹی میں ہمارے اجداد کی ہڈیاں دفن ہیں۔ ہم بندوق کی زبان پر یقین نہیں رکھتے لیکن دلیل کا چہرہ مسخ کر کے ایوانوں میں مقام کے خواہش مندوں سے تو واقف ہیں۔ ہم مظلوم کے لئے آواز اٹھاتے رہیں گے۔ ہم اس ملک میں کرسی پر براجمان کسی صاحب کا یہ حق تسلیم نہیں کر سکتے کہ وہ اس ملک کے باشندوں میں وطن پرستی اور غداری کے سرٹیفیکیٹ تقسیم کرتا پھرے۔ ہمارا مطالبہ بہت صاف اور واضح ہے کہ اگر واحد بلوچ پر کسی غیر قانونی سرگرمی کا الزام ہے تو ان کو عدالت میں پیش کیا جائے۔ ان پر مقدمہ قائم کیا جائے۔ ضروری نہیں ہے مگر بتائے دیتے ہیں کہ ہم وہاں سے تعلق رکھتے ہیں جہاں گزشتہ دس سال اٹھارہ گھنٹے کی لوڈ شیڈنگ ہوتی ہے۔ ہمیں اسلام آباد سے کوئٹہ جاتے ہوئے سولہ گھنٹے کا سفر کرنا پڑتا ہے اور راستے میں آنے والے چالیس چیک پوسٹوں پر تلاشی دینی ہوتی ہے۔ انہیں چیک پوسٹوں سے ہوتے ہوئے مگر اے این پی کا صوبائی صدر ارباب ظاہر کانسی کوئٹہ سے اغوا ہو کر بخیریت وانا پہنچ جاتا ہے ۔ یہ ہماری ذات کا مسئلہ نہیں ہے۔ یہ ہمارے حق کی آواز ہے۔ یہ ہمارا بنیادی حق ہے۔ ہم حالات سے کبیدہ خاطر ضرور ہیں مگر انہدام کی خواہش نہیں رکھتے۔ سوال البتہ اٹھاتے رہیں گے۔ ان کو بغداد کے دربار کے خلعت کی آرزو مبارک۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ظفر اللہ خان

ظفر اللہ خان، ید بیضا کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ زیادہ تر عمرانیات اور سیاست پر خامہ فرسائی کرتے ہیں۔ خیبر پختونخواہ، فاٹا، بلوچستان اور سرحد کے اس پار لکھا نوشتہ انہیں صاف دکھتا ہے۔ دھیمے سر میں مشکل سے مشکل راگ کا الاپ ان کی خوبی ہے!

zafarullah has 141 posts and counting.See all posts by zafarullah

3 thoughts on “دکھ کی گھڑی اور درباری صحافت

  • 05-08-2016 at 12:43 am
    Permalink

    جناب بہت زبردست لکھا اور کئی پہلوؤں کو مد نظر رکھا ہے مگر ایک جگہ جہاں آپ نے نظر سے دیکھنے کی بات کی ہے وہاں شاید آپ سے بھی تنگ نظری ہوئی ہے اگر بھول ہوئی ہے تو میں معذرت چاہتا ہوں اگر تنگ نظری آڑے آگئی ہے تو پھر کچھ سوچ لینا چاہیے

  • 06-08-2016 at 2:15 pm
    Permalink

    آپ کی بات کچه واضح تو نہ سکی لیکن اگر آپ کی مراد وہ جگہ ہے جہاں بلوچ، سرائیکی ، سندھی اور مہاجر کا ذکر ہے تو ازراہ کرم نوٹ کر لیجیے کہ میں نی جن صاحب کا ذکر فرمایا ہے انہوں نے یہی چار نام لکهی تهے اور ساته ہی انہوں نی کہا تها کہ اگر کوئی پوچهے گا کہ پنجابی کیوں نہیں لکها تو میرا جواب ہو گا کہ میں کسی پنجابی قوم پرست کو نہیں جانتا…
    تو جناب والا یہ انہی کی بات نقل کی گئی کہ وه کیسی تقسیم کر کے دیکهنے کے عادی ہیں.

  • 06-08-2016 at 5:05 pm
    Permalink

    شکريه ، ميرا اشاره بھی اسی نقطے کی طرف تھا۔ جس کی آپ نے وضاحت کردی

Comments are closed.