ڈورے مون۔ کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے


\"husnain

زندگی سنوار دوں، اک نئی بہار دوں، دنیا ہی بدل دوں میں تو پیارا سا چمتکار ہوں، میں کسی کا سپنا ہوں جو آج بن چکا ہوں سچ، اب یہ میرا سپنا ہے کہ سب کے سپنے سچ میں کروں، آسماں کو چھو لوں تتلی بن اڑوں، آ ھاھا میں ہوں اک اڑتا روبوٹ، ڈورا۔اے۔مون۔
مانو یا نہ مانو، میں ہوں ایک اڑتا روبوٹ، ڈورا۔اے۔مون!

اتوار کی صبح اکثر اس گانے کی آواز سے آنکھ کھلتی تھی، جو ڈورےمون کا تھیم سانگ تھا۔ بیٹی ہم سے پہلے اٹھ بیٹھتی، ریموٹ اٹھاتی، کارٹون آن ہو جاتے اور ساتھ میں اماں ابا کے لیے بھی اشارہ ہوتا کہ چلو بھئی چھٹی کا دن ختم ہو گیا، بہت اینڈ لیے اب پلنگ توڑنا چھوڑو اور کچھ ناشتے واشتے کا بندوبست کرو۔ پھر دو تین گھنٹے وہ ٹی وی کے آگے جڑی رہتی اور ہم اتنی دیر میں اپنے کام نمٹا لیتے۔ جب ڈورے مون نہیں تھا تو بارنی تھا، جو ایک چھوٹا سا ڈائنوسار ہوتا تھا، وہ بھی ایسے ہی کچھ نہ کچھ کرتا رہتا تھا۔ بارنی اور ڈورے مان کا دور گزرا، تو باربی فلموں کے کردار گھر کا حصہ بن گئے۔ یہ ایلسا ہے، یہ اینا ہے، یہ فلاں ہے یہ فلاں ہے۔ ایک زمانے میں چھوٹا بھیم بھی ہوتا تھا۔ یہ سب سمجھیے ہمارے گھر میں رہتے تھے۔ اب آئلہ بی بی نام خدا کچھ بڑی ہوئیں تو اب انگریزی فلمیں اور اردو ڈرامے دیکھ لیتی ہیں۔ لیکن بچپن کے اس عرصے میں ایک دلچسپ بات سامنے آئی۔

\"imran-khan-doraemon\"

وہ جاپان کے حالات اور وہاں کی اہم چیزوں کے بارے میں جانتی ہیں۔ وہ کہانی لکھ سکتی ہیں۔ انہیں ہندووں کی رسومات کا بھی علم ہے۔ انگریزوں کی نرسری رائمز بھی انہیں آتی ہیں۔ ایلسا اور اینا کو دیکھ کر وہ بال بہتر بنانا سیکھ گئی ہیں۔ ہندی کے عام بول چال کے الفاظ وہ جانتی ہیں۔ دیومالائی قصوں سے بھی واقفیت ہے۔

تصور کی دنیا، جسے فعال کرنے کے چکر میں ہمارے بزرگ کہانیاں سناتے تھے یا شاید نرا وقت کاٹنے کو، آج کل کے بچے کارٹون دیکھ کر اسے وسعت دے لیتے ہیں اور وقت بہرحال گزرتا جاتا ہے۔ ہم میں سے کسی کے پاس اب اتنا وقت اور اتنا دماغ نہیں ہوتا کہ وہ روز بچوں کو نت نئی کہانیاں سنائے، ایسے میں کارٹون ہی بچتے ہیں جو ان کی تفریح کا واحد ذریعہ ہیں۔ جتنی خوبیاں بیان کیں وہ صرف فقیر کی اولاد میں نہیں ہیں بلکہ ان تمام بچوں میں ہیں جو بے شک پڑھائی میں ڈفر ہوں گے لیکن کارٹون دیکھتے ہیں تو ان سے سیکھی گئی چیزیں انہیں یاد رہیں گی۔

\"dora-copter\"

علی ہمارے یہاں آیا، پھپی زاد بہن کا بہت پیارا سا بیٹا ہے، چھ سات برس عمر ہو گی، سارے گھر میں کافی دیر ادھر ادھر گھومتا رہا، پھر نزدیک آیا اور کہا، آپ کے ہاں کافی پراچین چیزیں موجود ہیں۔ لفظ چھوڑ دیجیے، ہندی نہ کرتا تو انگریزی کا انٹیک استعمال کر لیتا، بات یہ ہے کہ اسے شعور کارٹون سے ملا، اور ڈورے مون سے ہی ملا کہ پراچین چیزوں کی ایک اپنی اہمیت ہوتی ہے اور کچھ لوگ انہیں پسند بھی کرتے ہیں۔ عام بچہ، جو کارٹون نہیں دیکھتا، چھ سات برس کی عمر میں پراچین کیا اسے عام سجاوٹ کی اشیا کا ذوق بھی شاید ہی ہو۔ اسی طرح کئی بچوں نے بونسائی کے متعلق بات کی، انہیں بہ خوبی معلوم تھا کہ یہ جاپانیوں کا فن ہے اور وہ اس کو بہت قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ تو دنیا کے یہ سب ڈھنگ بہرحال انہیں ہم لوگ نہیں سکھا پا رہے، کارٹون تقریبا وہ ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں جو اگلے زمانوں میں ماں باپ اور بزرگوں کی ہوتی تھیں۔ آئیے ڈورے مون سے ملیے۔

\"doraemon-a-20140510\"

ڈورے مون ایک معصوم سا بلی نما روبوٹ ہے جو ایک بچے سواشی نوبی نے اپنے لکڑ دادا نوبیتا کی مدد کرنے کے لیے گزرے زمانوں میں واپس بھیجا ہے۔ ٹائم ٹریولنگ ڈورے مون کے لیے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ وہ ہر قسط میں نوبیتا کی مدد اپنے کسی انوکھے گیجٹ (سائنسی آلہ یا ایجاد کہہ لیجیے) سے کرتا ہے۔ کبھی اس کے پاس غائب کر دینے والی مشین ہوتی ہے، کبھی وہ کسی مشین سے بارش برسا دیتا ہے، کبھی وہ دونوں ہزاروں سال ماضی میں نکل جاتے ہیں، کبھی وہ مستقبل میں صدیوں آگے کا سفر طے کر آتے ہیں۔ کبھی ڈورے مون کسی کی چیز ادھر سے ادھر کر دیتا ہے، کبھی نوبیتا کی توڑی ہوئی چیزیں جوڑ دیتا ہے، الغرض وہ چھوٹی چھوٹی شرارتوں میں نوبیتا کی مدد کرتا ہے اور بڑی بڑی غلطیاں بھی دونوں مل کر ہی سرانجام دیتے ہیں۔ یہ یاد رکھیے کہ نوبیتا جو کہ لکڑ دادا ہیں، وہ چوں کہ اپنے بچپن کے وقت میں ہیں تو اس لیے ان کی عمر کم ہے اور وہ ڈورے مون کے ساتھ مل کر شرارتیں کرتے پھرتے ہیں۔ ہر قسط ایک الگ کہانی ہوتی ہے اور باقاعدہ کسی نہ کسی اخلاقی سبق پر ختم ہوتی ہے۔

آج پنجاب اسمبلی میں تحریک انصاف نے ایک قرارداد جمع کروائی کہ ڈورے مون پر ملک بھر میں پابندی لگا دی جائے۔ کمال قرارداد ہے۔ صالحین کی اس دوسری جماعت کو معلوم ہونا چاہئیے کہ زمانہ کافی زیادہ آگے جا چکا ہے، مائیں جب بچوں کو بہلانے میں ناکام ہو جاتی ہیں تو موبائل فون یا ٹیبلیٹ ہی ان کا آخری سہارا ہوتے ہیں اور چار برس کا بچہ بھی یو ٹیوب چلا کر اپنی مرضی کے کارٹون لگانا بہ خوبی جانتا ہے۔ اب یو ٹیوب کو بھی دوبارہ بند کروائیے گا؟ پھر بچے ٹورینٹ یا دوسری ویب سائٹس سے دیکھ لیں گے۔ انہیں بھی چھلنی میں سے گزارئیے گا؟ کہاں تک پابند کیجیے گا؟ اب تو ایک آدھ برس میں ایک اور قرارداد پکی پکی آتی نظر آ رہی ہے کہ انٹرنیٹ پر ہی پابندی لگا دی جائے اور اصل فساد کی جڑ اسے سمجھا جائے۔

\"1280x720-W03\"

بنیادی اعتراض اس کارٹون پر دو تھے۔ بچے ہندی زبان سیکھ رہے ہیں، اردو کے بجائے ہندی الفاظ استعمال کرتے ہیں۔ دوسرا یہ کہ بچوں کا اخلاق متاثر ہوتا ہے۔ ٹھیک ہے، اردو زبان میں سے امیر خسرو، میرا جی، ابن انشا وغیرہ کو نکال دیجیے، منشی پریم چند اور کرشن چندر کو فارغ خطی دیجیے، اس میں داخل ہو جانے والے خوب صورت ہندی الفاظ کو دیس نکالا دے دیجیے اور دوبارہ وہی زبان رائج کر دیں جس میں عبدالعزیز خالد شاعری کیا کرتے تھے۔ رہا اخلاق خراب ہونے کا معاملہ تو صاحب بچے تو آپ کے ساتھ بیٹھ کر ڈرامے بھی دیکھتے ہیں، خبریں بھی ان کے کانوں میں پڑتی ہیں، وہ ٹاک شوز جہاں نیچے سروں میں کوئی بات نہیں ہوتی وہ بھی ان کے سامنے ہیں اور آپ کی تقاریر بھی وہ سنتے ہیں، اکیلا ڈورے مون بے چارہ کیا کر سکتا ہے۔

پابندیاں لگانا مسئلے کا حل کبھی نہیں رہا۔ زبان پر اعتراض ہے، اس کارٹون کی اردو میں ڈبنگ کروا دیجیے۔ جن اقساط میں آپ کو کچھ غیراخلاقی مواد نظر آتا ہے، ان کو رکوا دیجیے، تھوڑا وقت لگے گا، تھوڑی محنت لگے گی لیکن کام آپ کی مرضی کے مطابق ہو جائے گا۔ پاکستان میں ایک سے ایک کارٹون بنانے والا پڑا ہے، کبھی ان تک رسائی حاصل کیجیے، باقاعدہ ایسے لوگ موجود ہیں جو انٹرنیشنل کامک کونز کے رکن ہیں، ان سے بات چیت کیجیے، بنوائیے کوئی ایسا کارٹون جو بچوں کو اپنا اپنا سا لگے، جو ان کی دلچسپی ڈورے مون میں کم کر دے۔ بچوں کی سب سے بڑی تفریح بند کر کے اپنی انا کی تسکین کے علاوہ آپ کچھ حاصل نہیں کر سکتے۔ مقابلے بازی کی فضا میں سر تک کمبل اوڑھ کر لیٹے رہنے سے رات تو گزر جاتی ہے مگر صبح آپ وہیں ہوتے ہیں اور باقی قافلہ منزل کو جا لیتا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

حسنین جمال

حسنین جمال کسی شعبے کی مہارت کا دعویٰ نہیں رکھتے۔ بس ویسے ہی لکھتے رہتے ہیں۔ ان سے رابطے میں کوئی رکاوٹ حائل نہیں۔ آپ جب چاہے رابطہ کیجیے۔

husnain has 285 posts and counting.See all posts by husnain

2 thoughts on “ڈورے مون۔ کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیا ہوتی ہے

  • 05-08-2016 at 11:57 am
    Permalink

    مجھے علم نہی کہ پابندی کا مطالبہ کن گراونڈز پر کیا گیا ہے۔ لیکن بطور ایک والد میرا کنسرن بھی ہے۔ بچے ہمہ وقت ٹی وی یا انٹرنیٹ پر کارٹونز میں مگن رہتے ہیں اور انہیں جسمانی مشغولیات کے لیے اٹھانے کا کام اکثر پرتشدد ہوتا ہے

  • 05-08-2016 at 1:38 pm
    Permalink

    یہ مسئلہ تو فقیر کو بھی لاحق ہے، لیکن اس کا حل ہماری اپنی تربیت ہے، اور یہ ایک الگ مضمون ہے۔ اس چکر میں کسی ٹی وی پروگرام پر پابندی تو مناسب نہیں ہے عثمان بھائی

Comments are closed.