یہ آگ میرے نشیمن سے دور نہیں


\"zeeshan

خبر ہے کہ گزشتہ چھ ماہ کے دوران تقریبا تین سو بچے لاہور شہر میں اغوا ہوئے ہیں اور ابھی تک بازیاب نہیں ہو سکے۔ اسی طرح ’ڈیلی ٹائمز‘ نے اپنے ذرائع سے خبر دی ہے کہ سال دو ہزار پندرہ میں بھی 319 بچوں کے اغوا کے کیسز پولیس تھانوں میں رجسٹرڈ ہوئے۔ یعنی یہ ان چھ ماہ میں ان بچوں کا اغوا کوئی اچانک بات نہیں کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے بے خبر تھے۔ بلکہ یہ ڈیڑھ سال سے زائد عرصہ ہو گیا ہے ایسی وارداتیں ہو رہی ہیں۔

یہ تو لاہور شہر کی بات ہے جو پورے پاکستان کے محفوظ ترین اور خوشحال ترین صوبے کا دارالحکومت ہے۔ آپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ ملک اور صوبہ کے باقی شہروں میں کیا ہو رہا ہو گا۔ دیہاتی آبادیوں میں کیا صورتحال ہو گی۔

ابھی کچھ عرصہ پہلے قصور میں واقعہ ہوا۔ لوگ چیختے چلاتے رہے۔ سوشل میڈیا ہو یا پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا ان گنت الفاظ لکھے گئے اور بولے گئے ، مگر سب چیخ و پکار وقت کے ساتھ ساتھ تھم گئی اور حکومتی و بیوروکریٹک پھرتیاں کسی اور طرف متوجہ ہو گئیں۔

ایسے واقعات پاکستان میں نئی بات نہیں۔ امن و امان ریاست کی ترجیح میں ہے ہی نہیں۔ شہریوں کے جان و مال کو سول و ملٹری اسٹیبلشمنٹ دونوں نے بے توقیر سمجھ رکھا ہے۔

کچھ دن پہلے ایک دوست نے خاکسار کے ایک مضمون پر تبصرہ کیا ’بس آپ کہتے ہیں کہ ریاست کی فقط تین بڑی اور بنیادی ذمہ داریاں ہیں۔ امن و امان یعنی انسانی جان کا تحفظ اور شہریوں کے درمیان تنازعات کا پرامن حل ، بنیادی انسانی حقوق کا تحفظ ، اور شہریوں کی جائیداد اور مالی معائدوں کا تحفظ۔ صرف یہی تین کام؟‘۔ میں نے کہا حضور بیس کروڑ کی آبادی کے یہ تین کام ہو گئے تو سمجھ لیں ان کے تقریباً سب مسائل حل ہو گئے کیونکہ ہمارے ذاتی مسائل کو ہم سے بہتر کوئی حل نہیں کر سکتا ، مگر سماجی مسائل کو ایک عام شہری کیسے حل کرے ؟۔

\"kidnapped-children\"

مگر اتنی سادہ سی باتیں ہماری سمجھ میں نہیں آتیں۔ ہم عوام نے امن و امان کو عوامی بیانیہ میں بھی اپنی ترجیح نہیں بنایا۔ حکومتی بجٹ سے ترقیاتی کاموں کی بھوک حکومت کو بھی ہے اور شہریوں کو بھی۔ مگر ہمیں ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں کی فکر اس لئے دامن گیر نہیں کیونکہ ہم فی الحال خود محفوظ ہیں ، ہمارے بچے بھی محفوظ ہیں اور سمجھتے ہیں کہ جو دوسروں کے ساتھ بیتی ہے اس سے ہم محفوظ رہیں گے۔

امن ایسی سماجی خوبصورتی ہے جس کا خوشگوار لمس ہم سب محسوس کرتے ہیں اور بدامنی ایسی بدصورتی ہے جس کی آگ میں یکے بعد دیگرے پورا معاشرہ جلتا ہے۔

ضرورت ہے کہ سول سوسائٹی اپنے سیاسی بیانیہ میں ریاست کی اہم اور بنیادی ذمہ داریوں کو اپنی ترجیحات میں سرفہرست رکھے۔ اس کے لئے نہ تھمنے والی آواز اٹھائے جب تک کہ یہ مسائل حل نہ ہو جائیں ۔ اپنے سیاسی حق انتخاب میں ریاست کی بنیادی ذمہ داریوں پر مبنی بیانیہ کو سامنے لائے۔ ورنہ یہ آگ میرے گھر یا میرے بدن سے دور نہیں۔ ہمیں ہی ذمہ دار اور باشعور ہونا ہو گا تب جا کر ادارے عوام کے حضور جوابدہی کے کٹہرے میں ہوں گے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

ذیشان ہاشم

ذیشان ہاشم ایک دیسی لبرل ہیں جوانسانی حقوق اور شخصی آزادیوں کو اپنے موجودہ فہم میں فکری وعملی طور پر درست تسلیم کرتے ہیں - معیشت ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے- سوشل سائنسز کو فلسفہ ، تاریخ اور شماریات کی مدد سے ایک کل میں دیکھنے کی جستجو میں پائے جاتے ہیں

zeeshan has 132 posts and counting.See all posts by zeeshan