کالا جادو دراصل کالا دھندا ہے؟


\"aminahانسان بہت جلدباز ہے۔ اسے ہمیشہ ہر چیز کے لئے کسی چور راستے کی تلاش رہتی ہے۔ اپنی آمدنی بڑھانے کے لئے، اپنا کام نکلوانے کے لئے، اپنے مستقبل کے بارے میں جاننے کے لئے، یہاں تک کہ کسی کی بربادی کا منظر دیکھنے کے لئے بھی انسان چور راستہ ہی ڈھونڈتا ہے۔ اور ہمارے معاشرے میں ان تمام چور راستوں کا قرعہ عموماً  کسی پِیر کے آستانے پر نکلتا ہے۔ یہ آستانے جگہ جگہ پائے جاتے ہیں اور ان کے دروازوں پر دستک دینا لوگوں کو کسی بھی اور فعل سے کئی گنا زیادہ آسان اور سادہ لگتا ہے۔ بدقسمتی سے یہی آسانی، جلدبازی اور جہالت کئی برسوں سے ہماری سماجی اقدار کی بنیادوں کو کھوکھلا کیے چلی جا رہی ہے۔

یہاں جاہل سے مراد صرف وہ لوگ نہیں جن کو کبھی رسمی تعلیم حاصل کرنے کے مواقع نہیں ملے۔ ہر وہ شخص جاہل ہے،خواہ وہ مذہبی ہو یا آزاد خیال، مسلمان ہو غیر مسلم، پاکستانی ہو یا افریقی،جو اپنی خواہشات کو اپنی عقل پر حاوی ہونے کی اجازت دے اور ان کو پورا کرنے کے لئے  ناجائز ذرائع استعمال کرنے سے گریز نہ کرے۔ ان خواہشات کی تعریف اور درجہ بندی انسانی جبلّت سے مطابقت رکھتی ہے۔ فرمانبرداری بیوی اور بہو، اولادِ نرینہ، ولایتی نوکری کا حصول، قدموں میں گرا ہوا محبوب، مردانہ اور زنانہ امراض کا علاج، تعویزوں اور کالے جادو کا توڑ، اور قسمت کا حال اِن میں شامل ہیں۔ دیکھا جائے تو یہ تمام تر خواہشات دراصل معاشرتی مسائل کی چند اِمثال ہیں جو کم و بیش ہر انسان کو کبھی نہ کبھی درپیش ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ آئے روز اِن اصلی و جعلی پِیروں کے ہاتھوں استحصال کا شکار ہوتے ہیں۔

پریشانیوں سے ٹُونوں کے توڑ اور پھر کالے جادو تک کا یہ سفر لوگ چند دنوں میں طے کر لیتے ہیں بِنا یہ سوچے اور سمجھے کہ اِن تمام اعمال کے اِن کی اپنی زندگیوں پر کیا اثرات مرتب ہوں گے۔ خدا نے ہاتھوں کی لکیروں میں نصیب تو لکھ دیا لیکن اُس کو پڑھنے سے منع فرما دیا۔ ساتھ ہی انسان کی خصلت میں ہر اُس کام کو کرنے کا تجسس پیدا کردیا جس سے اُسے روکا جائے۔ یہیں سے ہمارے اصل امتحان کا آغاز ہوتا ہے۔ لیکن انسان تو اِتنا بے صبرا ہے کہ نہ صرف اپنے مستقبل کے بارے میں جاننا چاہتا ہے بلکہ اپنی خوچ مختاری کے خمار میں ڈوب کر اُسے بدلنے کی بھی ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔ رنجشیں، تنگی اور محرومیاں کس گھر میں نہیں ہوتیں۔ لیکن مُصلّا بِچھا کر سجدے میں دعا مانگنے کے بجائے اِن پِیروں کے مرید پانی میں تعویز گھول کے پِلانا زیادہ مناسب سمجھتے ہیں۔ ہاتھ اُٹھا کر خدا سے فریاد کرنے کے بجائے منتر پھونکنا آسان لگتا ہے۔ چند آنسو بہا کر رب سے اِلتجا کرنے کے بجائے اُلّو کا خون بہا کر ٹونے کروانا زیادہ فائدہ مند نظر آتا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  ملا منصور زندہ ہے

کون کم بخت اپنی روزی کو لات مارتا ہے۔ کیا کبھی لوہار نے لوہا بیچنے سے اِنکار کیا ہے؟ کیا کبھی کسی دکاندار نے کہا کہ آج کے دن ضرورت سے زیادہ آمدنی ہو گئی؟ کیا کسی نے گھوڑے کو گھاس سے دوستی کرتے دیکھا ہے؟ ٹھیک ویسے ہی کوئی عامِل اپنے کسی گاہک کو کبھی مایوس نہیں لوٹائے گا۔ وہ وہی کہے گا جو لوگ سننا چاہتے ہیں۔ \”میری بہو بانجھ ہے\” کا جواب کبھی یہ نہیں ملے گا \”اللّٰہ پر بھروسہ رکھو۔\” بلکہ ہمیشہ کوئی سفوف مِلا پانی عنایت کیا جاتا ہے۔ اور یہاں سے آغاز ہوتا ہے عقل سے عاری فیصلوں، جہالت پر مبنی افعال اور اندھے اعتبار کی دلدل میں دھنستے چلے جانے کی داستانوں کا جہاں سے واپس لوٹ کر آنا ناممکنات میں سے ہے۔

اب سوال یہ یے کہ ایسے کاموں میں خواتین کیوں پیش پیش نظر آتی ہیں۔ تو جواب مختصراً یہ کہ خواتین کو ورغلانا نسبتاً آسان اور برسوں سے آزمودہ نُسخہ ہے۔ اِس کے وجہ یہ کہ عورت میں جلد متاثر ہونے اور کرنے کے خوبیاں موجود ہوتی ہیں جبکہ مرد کی اَنا اُسے کسی دوسرے مرد کی کہی ہوئی بات ماننے سے روکتی ہے۔ نتیجہ یہ کہ مرد باآسانی اپنے گھر کی یا دوسری خواتین کی باتوں میں آجاتا ہے جو یقیناً ایسے تمام تر کاموں کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ مائیں اپنے بیٹوں کو کسی کے شوہر کے روپ میں نہیں دیکھ سکتیں جبکہ بیوی نہیں چاہتی کہ اُس کا شوہر کسی کا بیٹا کہلائے۔ سسرال کو ہر قیمت پر ہوتا چاہئے، چاہے اُس کے لئے کسی بیٹی کی بَلی کیوں نہ چڑھانی پڑے۔ اور معشوق کو ایک نہایت ہی فرمانبردار اور اُف نہ کرنے والا محبوب چاہئے۔ کہنے کو تو تحریکِ نِسواں کے عَلم بردار صِنفی اِمتیاز کا رونا روتے ہیں، لیکن درحقیقت اِس معاشرے کے اصل باگ دوڑ، یعنی مرد کی لگام، عورت کے ہاتھ میں ہی ہوتی ہے۔ ایک ماں ہی اپنے لڑکے کی دِل میں بیٹے کی خواہش، اور ایک بیوی ہی اپنے شوہر کے ذہن میں امیری کی ہوس پیدا کرتی ہے۔ اِنہیں تمام مسائل کا یقینی حل ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں یہ طلسمانی پِیر، عامِل پاشا اور جھنڈے والے بابا جی۔

یہ دلیل یقیناً آپ کو کافی فرسودہ سی معلوم ہوگی مگر اِس میں کوئی دو رائے نہیں کہ اگر یہ پِیر بابے کسی کی تقدیر بدلنے کی طاقت رکھتے تو سب سے پہلے اپنے حالات کو بدلتے۔ اگر وہ قسمت لکھنے کا ہُنر جانتے تو سب سے پہلے اپنے ماتھوں پر لکھی غربت اور غلاظت کو مِٹاتے۔ اگر وہ زندگیاں بدلنے کی طاقت رکھتے تو سب سے پہلے اپنے ماضی کی مشکلات، موجودہ پریشانیاں اور مستقبل کے اندیشوں کو مِٹاتے۔ لیکن اِس کالے جادو کے پیچھے جو کالا دھندا چل رہا ہے اُس کی کچھ جھلکیاں ہمیں حال ہی میں دیکھنے کو مِلیں۔ ایک ماں اپنے پِیر کے کہنے پر اپنی سگی بیٹی کو قتل کر کے گھر میں ہی دفنا دیتی ہے۔ کیوں؟ تا کہ اُس کی اگلی اولاد لڑکا ہو۔ ایک شوہر اپنی بیوی کو اپنے پِیر کی پاس سات دِن اور سات راتوں کے لئے چھوڑ آتا ہے۔ کیوں؟ تاکہ وہ اس کی تابعدار ہو جائے اور اُس کے سامنے مُنہ نہ کھولے۔ اِس عمل کی آڑ میں اُس عورت کے ساتھ وہ وہ ہوا کہ اُس کی زبان ہمیشہ کے لئے بند ہو گئی۔ زندہ انسانوں کی تو چھوڑیں، اب تو مُردے بھی چیخ اُٹھے ہیں۔ کہ جب زندہ تھے تو ہم پر جادو ٹونے کیے جاتے تھے۔ اب جب مَر چُکے تو ہماری ہڈیوں سے عمل کیا جاتا ہے۔

اسی بارے میں: ۔  مسجد کا خطیب اور عام نمازی

ہونا وہی ہے جو قسمت میں ہے۔ اگر تقدیر کا لکھا بدلنا ہے تو دعا کرنے کی عادت کو اپنانا ہوگا کیونکہ یہی میرے نبی اکرمﷺ کا فرمان ہے۔ اور اگر واقعی کوئی جادو یا عمل ہو گیا ہے تو ہمارا دِین اِس کی اثرات کو ختم کرنے کا ایک آسان لیکن بے حد مُفید نُسخہ بھی بتاتا ہے۔ قرآن کے حروف کو اُلٹا پڑھنے کے بجائے صِرف اور صِرف المعوذتان کا وِرد کیجیئے، وہ دو سورتیں جو نازل ہی اِن بلائوں سے پناہ مانگنے کے لئے کی گئیں۔

ایسا کونسا کام ہے جس کے لئے اگر اپنے گھر میں مصلا بِچھا کر، رو کر، گِڑگِڑا کر دعا مانگی جائے تو وہ پورا نہیں ہوتا؟ آستانوں پر تو اُنہیں کاموں کے لئے جانا پڑتا ہے جو غلط اور ناجائز ہوں۔ لیکن ہم ایسے عمل کرتے یا کرواتے وقت صِرف اپنے دشمنوں کو ذہن میں رکھتے ہیں جبکہ درحقیقت نقصان ہم دونوں کا ہے۔ بہتر اولاد کی خواہش میں اندھی ہو کر اپنی پہلی اولاد کو قتل کرنے والی ماں، بیوی کی فرمانبردار کی چاہ میں اُسے پرائے مرد کے حوالے کر آنے والا شوہر، بیٹے کی محبت میں گرفتار ماں کا اپنی ہی بہو کے خلاف اِقدام اور نوٹوں کی خوشبو کے نشے میں دُھت ایک بیٹے کے ہاتھوں اُس کی ماں کا قتل۔۔۔ اصل نقصان کِس کا؟ اور اِس سب میں فائدہ کِس کا؟ کہیں مستقبل کا احوال جانتے جانتے ہم سب اپنا حال ہی نہ تاریک کر بیٹھیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

آمنہ قریشی کی دیگر تحریریں
آمنہ قریشی کی دیگر تحریریں

One thought on “کالا جادو دراصل کالا دھندا ہے؟

  • 04-08-2016 at 9:04 pm
    Permalink

    آپ کا مضمون اچھا لگا. کیونکہ آپ نے تمام مسائل کا حل خدا تعالٰی کے حضور رونا اور التجا کرنا اور ہر حال میں اپنے مولٰی سے راضی رہنا لکھا ہے.
    میرے مولٰی کی تمام صفات ازلی ابدی ہیں. وہ کل بھی سنتا تھا. آج بھی سنتا ہے اور ہمیشہ سنتا رہے گا. وہ کل بھی توبہ قبول کرتا تھا آج بھی کرتا ہے اور ہمیشہ کرتا رہے گا. وہ کل بھی بولتا تھا آج بھی بولتا ہے اور ہمیشہ بولتا رہے گا.
    ضرورت ہے تو مضطر کی طرح اللہ پاک کو پکارنے کی.
    ضرورت ہے تو اس امر کی کہ میرا ہر عمل میرا خدا دیکھ رہا ہے.
    ضرورت ہے تو ایک ڈرنے والا، خدا سے محبت کرنیوالا اور خدا اور اس کے پاک رسول حضرت محمد مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں فنا ہوا دل پیش کرنے کی.
    پھر اللہ کے انعامات کا جاری و ساری سلسلہ ہر کوئ دیکھ سکتا ہے.

Comments are closed.