ایسے آتی ہے تبدیلی


\"usmanاسلام آباد میں عمران خان کی نیوز کانفرنس کے دوران ایک خاتون نے احتجاج کیا تو تحریک انصاف کے سربراہ نے پہلے انہیں جھڑکا، پھر دھکا دیا اور جب اس سے بھی کام نہ بنا تو ڈائس چھوڑ کر چلے گئے اگر یہی رویہ کسی دوسری سیاسی جماعت کے لیڈر نے برتا ہوتا تو سوشل میڈیا نے طوفان سر پر اٹھا لینا تھا، ایسی صورت میں میڈیا خاتون کے گھر پہنچ چکا ہوتا اور ذمہ دار سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا جا رہا ہوتا یہ خاتون دراصل خیبرپختونخواہ کے محکمہ تعلیم میں افسر ہیں، جب عمران خان نے تعلیمی تبدیلی کی باتیں کی تو یہ منٹو کے افسانوی کردار منگو کوچوان کی طرح شاید نیا قانون کے جھانسے میں آ گئیں اور خیبرپختونخوا میں گھوسٹ اسکولوں کو کھلوانے کی مہم شروع کر دی یہ مہم ان خاتون کو کافی مہنگی پڑی، ان کی دو بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے، اسکولوں کو کھلوانے نکلی تھیں، اپنے بیٹے بیٹیوں اور خود کے خلاف تھانے میں پرچہ کٹوا بیٹھیں، یہ محکمہ تعلیم کے افسران کے بھی زیرعتاب ہیں جو ان کو کئی نوٹسز بھی جاری کرچکے ہیں، ان نوٹسز میں غیرحاضری کا الزام لگایا گیا ہے احتجاج کے دوران خاتون نے خیبرپختونخوا کے وزیر تعلیم پر بھی الزام لگایا کہ وہ انہیں اور ان کے بچوں کو سیاسی انتقام کا نشانہ بنارہے ہیں خاتون کی بے بسی کی انتہا تھی کہ ہر جگہ سے مایوس ہوکر وہ خیبر پختونخوا سے اسلام آباد آئیں، نیوز کانفرنس کا انتظار کیا، احتجاج کے بعد بھی ان کو کسی نے ذرا سی توجہ کا مستحق نہیں سمجھا نیوزکانفرنس سے جب یہ اپنے گھرواپس پہنچی ہوں گی تو ڈری سہمی بیٹیوں نے سوال کیا ہوگا کہ ماں جی کیا ہوا پولیس والے ٹی وی پر اس بے بس عورت کی چیخ وپکار کو دیکھ کر ہنس رہے ہوں گے، محکمہ تعلیم والے کہتے ہوں گے کہ بس یہی کرسکتی تھیں، اب دیکھو کہ ہم کیا کرتے ہیں خاتون کے احتجاج سے نظام تعلیم اور پولیس میں اصلاحات کے دعووں کے ساتھ اس بات کا بھی پول کھل چکا ہے کہ خیبرپختونخوا میں عوام کی بے بسی عروج پر پہنچ گئی ہے اور کوئی نہیں جو ان کے لئے آواز تک بلند کرے کوئی جبر سا جبر ہے، کوئی بے بسی سی بے بسی ہے۔

خیبر پختونخوا میں بارشوں سے اب تک پچاس سے زائد ہلاکتیں ہوچکی ہیں، پشاور کی سڑکیں تالاب بنی ہوئی ہیں، سوشل میڈیا پر عوامی \"aacchhkk\"احتجاج دکھایا نہیں جا رہا، بظاہر خیبرپختونخوا کے حقیقی مسائل چھپائے جارہے ہیں کیونکہ شاید خیبرپختونخوا سندھ نہیں ہے خیبرپختونخوا کے ایک ڈاکٹر نے احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ خدارا اس کو وہ تنخواہ دی جائے جس کا سوشل میڈیا پر ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے، نرسوں نے اپنے حقوق کے لیے احتجاج کیا تو بیس غریب لڑکیوں کو جیل میں ڈال دیا گیا، انسداد تجاوزات کی آڑ میں کرینوں کے نیچے انسانوں کو کچل دیا گیا اور سب اپنے لب سئیے بیٹھے رہے کہ تحریک انصاف کی ناکامی ثابت نہ ہوجائے خیبرپختونخواہ کو تحریک انصاف لوٹ کر کھا گئی اور یہ بات کوئی اور نہیں، خود تحریک انصاف کے اراکین اسمبلی نے پرویز خٹک کے خلاف گروپ بنا کر نیوز کانفرنس میں کہی، تحریک انصاف کا اپنا احتساب کا ادارہ کہتا ہے کہ صوبے میں ستر فیصد کرپشن ہورہی ہے، اس انکشاف کے بعد احتساب کمیشن کے سربراہ کو ہٹادیا گیا، وزیروں پر کرپشن کے سنگین الزام ہیں، اسپتال اصلاحات کے نام پر این جی اوز کے حوالے کئے جا چکے ہیں، خیبرپختونخوامیں 300 ڈیم بننا تھے، یونی ورسٹیوں کا جال بچھنا تھا، عملی طور پر تو ایک کھمبا بھی نہیں لگا، ہر تین مہینے بعد عمران خان ایک نیوز کانفرنس کرتے ہیں کہ اتنے کروڑ درخت لگا دیئے، حکومتیں تباہی پھیلا کر بیس بیس سال پیچھے دھکیلتی ہیں، تحریک انصاف کی کارکردگی سے لگ رہا ہے کہ خیبر پختونخوا کو پتھروں کے دور سے پھر اپنے سفر کا آغازکرنا ہوگا، لاہور کی تصویریں لگا لگا کر انہیں ترقی یافتہ پشاور کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، ایسا ظلم توعوامی نیشنل پارٹی، مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے بھی نہیں کیا سندھ کہیں سے کہیں پہنچ گیا، کراچی میں قائم علی شاہ نے لیاری یونی ورسٹی بنا دی،جنوبی ایشیا کا سب سے بڑا ٹراما سینٹر تعمیر کردیا، ریپ سے متاثرہ خواتین کی بحالی کا پاکستان میں پہلا مرکز قائم کردیا، گمبٹ میں جگر کی پیوند کاری کا پاکستان میں پہلا ادارہ بنا دیا، سندھ حکومت میں تھر میں ایشیا کا سب سے بڑا واٹر پلانٹ لگا کر صحرا کی قسمت بدل دی، کراچی میں ماس \"1155195\"ٹرانزٹ منصوبوں کا جال بچھا دیا گیا اور الیکشن سے پہلے ان چھ سات منصوبوں کا یکے بعد دیگرے افتتاح ہوجائے گا، کراچی سے کشمور تک ایسا مثالی امن قائم کیا کہ وزارت داخلہ کے پاس جواز نہیں کہ وہ یہ کہہ سکے کہ سندھ میں امن نہیں بلکہ وہ یہ کہہ رہے ہیں کہ کراچی سے دہشت گرد بھاگ کراندرون سندھ کے شہروں میں پناہ لے سکتے ہیں پنجا ب میں میٹروبس نے شہریوں کو سفری سہولیات فراہم کیں، ملتان اور راولپنڈی میں یہی منصوبے شروع کیے گئے، اورنج ٹرین کے منصوبے پر تیزی سے کام جاری ہے، ہر سیاسی جماعت اپنا پورا زور لگا رہی ہے کہ اپنے صوبے کو سنوار لے مگر تحریک انصاف عوام کی قسمت بدلنے کے بجائے بدمست گھوڑے کی طرح اقتدار کے پیچھے بھاگ رہی ہے، اگر کوئی کام تحریک انصاف کے کریڈٹ پر ہے بھی تو وہ جنگی یونی ورسٹی کہلائے جانے والے متنازع مدرسے کو تیس کروڑ روپے کا تحفہ ہے، پہلے جاہل دہشت گرد ہمیں مارتے تھے، اب دہشت گردوں کے ہاتھوں میں ڈگریاں بھی ہوں گی، کوئی عمران خان کو جاکر بتائے کہ انتہا پسندوں کے پاس ڈگری آنے سے وہ سدھر نہیں جائیں گے، انتہاپسندی کی سوچ ایک ناسورہے، اس کا جڑ سے خاتمہ ضروری ہے

خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ اعتراف کرچکے ہیں کہ وہ تبدیلی نہیں لاسکے، انہوں نے ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ عمران خان جس تبدیلی کی باتیں کرتے ہیں، وہ کبھی بھی نہیں آسکتی، ان صاحب کے دور اقتدار میں اب تک خیبرپختونخوا میں ٹکے کا ترقیاتی کام نہیں ہوا اور ابھی کچھ دنوں پہلے شاید شرما حضوری میں پرویزخٹک نے میٹرو بس طرز کے ایک منصوبے کا پشاور میں اعلان کیا ہے، فیملی پالٹکس کے خلاف بات کرنے والی یہ وہی تحریک انصاف کی حکومت ہے، جس میں پرویزخٹک کے گیارہ رشتے داروں کو اعلیٰ عہدوں سے نوازاگیا ہے جب جب عمران خان عوامی مقامات کا دورہ کرتے ہیں تو کبھی آرمی پبلک اسکول کے آگے بے بس والدین ہاتھ اٹھا اٹھا کر بددعائیں دیتے ہیں تو کبھی پشاور یونی ورسٹی کے طلبہ ہاتھ جوڑ جوڑ احتجاج کرتے ہیں، عمران خان کی ڈائس پر کسی مظلوم کے آنے کا یہ دوسرا واقعہ ہے، اس سے پہلے سانحہ آرمی پبلک اسکول کے شہید بچے کے والد نے عمران خان سے ڈائس چھینی تھی اور اس کے بعد سے وہ منظرعام سے غائب ہیں، اللہ ان کو اپنے حفظ وامان میں رکھے عوامی لیڈرز ایسے نہیں ہوتے، فرض کرلیں کہ یہ خاتون اپنے مؤقف میں غلط تھیں، اس صورت میں بھی ایک لیڈر کو ہتک آمیز رویہ زیب نہیں دیتا، اگر اس موقع پر عوامی لیڈر ہوتا تو ان خاتون کے سر پر ہاتھ رکھتا، نواز شریف کی کرپٹ حکومت گرانے سے زیادہ اہم اس مظلوم خاتون کی صدا کو سننا ہے کسی نے مجھ سے پوچھا تھا کہ عمران خان اگر وزیراعظم بن جائے تو پاکستان کیسا ہوگا؟ شاید ایسا ہی ہوگا جیسا ابھی خیبرپختونخوا میں نظر آ رہا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

2 thoughts on “ایسے آتی ہے تبدیلی

  • 04-08-2016 at 6:14 pm
    Permalink

    //لاہور کی تصویریں لگا لگا کر انہیں ترقی یافتہ پشاور کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے//
    .you mean Lahore is developed

    Eighty % of your your column is untrue i can’t go line by line but will request to make routine of presenting your column to someone to read before sending to Ham Sab.

  • 04-08-2016 at 8:37 pm
    Permalink

    اس کالم میں حقائق کو مسخ کر کے پییش کیا گیا ہے اور جانب دارانہ رائے دی گئی ھے. پنجاب ایک زرعی علاقہ ھے جس کی 70 فیصد آبادی زراعت سے منسلک ھے. میٹروبس یا اورنج ٹرین کا ان کاشتکاروں کو کیا فائدہ ہوا؟ میٹرو بس سے کتنے فیصد لوگوں کو فائدہ ھوا؟ائیر کنڈیشنڈ کمروں میں بیٹھ کر کچھ بھی لکھ دینا آسان ھے.

Comments are closed.