بچے کارٹون نہ دیکھیں تو کیا دیکھیں


\"asifبچے ڈورا مون نہ دیکھیں تو کیا عمران خان، شیخ رشید، حمزہ شہباز اور بلاول جیسے نابغوں کو دیکھیں؟
کیا وہ شہبازشریف نواز شریف آصف زرداری اور ان کے فکری مزارعین کی یاوہ گوئی دیکھنے ٹاک شوز کے آ گے بیٹھے رہیں؟
کارپوریٹ میڈیا اور اہل سیاست نے مل کر اس سماج کو یرغمال بنا لیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ بچے اب کیا دیکھیں؟ کیا بچوں کے لیے ڈھنگ کا کوئی پروگرام کہیں چل رہا ہے؟ نان ایشوز اور اہل سیاست کے واہیات طنزیہ جملوں پر میڈیا گھنٹوں ڈگڈگی بجاتا ہے لیکن اس کے پاس بچوں کے لیے کوئی پروگرام نہیں ہے۔
میرے بچے شوق سے موٹو پتلو دیکھتے ہیں۔ ان کے شوق نے مجھے بھی موٹو پتلو کے ناظرین میں شامل کر رکھا ہے اور میرا مشاہدہ یہ ہے کہ موٹو پتلو کسی بھی ٹاک شو سے اچھے کارٹون ہیں۔ بلکہ وہ کسی بھی سیاستدان کے خطاب سے بھی زیادہ اچھے کارٹون ہیں۔
یاد رہے تبدیلی اور تہذیب کسی پابندی سے نہیں آتی۔ اس کے لیے ایک متبادل دینا ہوتا ہے۔
سوال وہی ہے کہ بچوں کے لیے ہمارے پاس کیا متبادل ہے؟ وہ کیا دیکھیں؟


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔