بچے اب کارٹون ہی دیکھیں گے، اور بڑے بھی


\"adnan-khan-kakar-mukalima-3b4\"

ابھِی کچھ دیر پہلے دفتر سے گھر واپسی ہوئی ہے۔ گھر چار دیواری سے گھری لاہور کی ایک چھوٹی سی آبادی میں ہے جس کے اندر جانے کے راستوں پر گیٹ لگے ہوئے ہیں اور گارڈ وہاں پہرہ دیتے ہیں۔ اس سوسائٹی میں سٹریٹ کرائم اور چوری ڈاکے کی وارداتیں نہ ہونے کے برابر ہوتی ہیں اور کافی محفوظ علاقہ ہے۔

خلاف معمول سڑکیں خالی تھیں حالانکہ چھے بجے کے قریب سڑکوں پر گیندوں اور ان کے پیچھے دوڑتے بچوں سے گاڑی کو بچانا پڑتا ہے۔ یا پھر ننھے سورما اپنی بڑی سی سائیکلیں لیے ریسیں لگا رہے ہوتے ہیں۔ خیر خدا کا شکر ادا کیا کہ سڑک خالی ہے۔

گھر پہنچتے ہی بیگم نے سوال کیا کہ باہر بچے کھیل رہے ہیں؟ جواب دیا کہ نہیں مکمل سکون ہے۔ پتہ چلا کہ گھر کے بالکل ساتھ واقع پارک میں حسب معمول دس بارہ بچے کھیل رہے تھے۔ پانچ چھے سال سے لے کر بارہ پندرہ سال کی عمر کے بچے اس پارک میں شام کو دکھائی دیتے ہیں۔ ایک وین وہاں اچانک رکی اور اس میں سے ایک شخص نکل کر بچوں کی طرف جھپٹا۔ خوش قسمتی سے بچے ٹی وی دیکھنے کے عادی تھے۔ وہ اس شخص کو اس طرح اپنی طرف آتے دیکھ کر اپنا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر دوسری سمت بھاگے۔ ان کی قسمت اچھی تھی کہ ایک گھر کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ سب کے سب اس کے اندر گھس گئے اور دروازہ اندر سے بند کر لیا۔

وہاں سے انہوں نے اپنے اپنے گھر فون کیا، اور ان کے گھر والے ان بچوں کو اپنی اپنی نگرانی میں لے کر گئے۔ اب سوسائٹی میں بچوں پر مکمل کرفیو نافذ ہے۔ کسی بچے کو اکیلے گھر سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں ہے۔ ان کا گلی میں کھیلنا بھی بند ہے۔ سکولوں سے بھی چھٹیاں چل رہی ہیں اور وہ سارا دن گھر میں ہی گزاریں گے اور ٹی وی سے جڑے رہیں گے۔ علاقے سے مزید کئی وارداتوں کی خبر بھی ملی ہے۔ پتہ چلا ہے کہ ایک ایسا بچہ بھی اغوا ہوا ہے جس کی ماں اسے گاڑی میں چھوڑ کر نزدیکی دکان تک دوائی خریدنے گئی تھی۔ نزدیکی نیم کچی آبادی سے بھی اطلاعات مل رہی ہیں۔

\"kid-ns-ik-2\"

اس چیز کا امکان تو کم ہے کہ یہ محبوس بچے نواز شریف یا عمران خان کی تقاریر سنیں گے کیونکہ وہ بچوں والے کارٹون دیکھنا زیادہ پسند کرتے ہیں۔ اب سارا دن انہوں نے کارٹون چینل ہی دیکھنے ہیں۔ زیادہ تر کارٹون چینل ہندوستانی مارکیٹ کے لیے ہندی میں ڈب شدہ پروگرام دکھاتے ہیں۔ اور اس میں کوئی شک نہیں کہ بچوں کو یہ پتہ نہیں کہ جو زبان بولی جا رہی ہے، وہ اردو نہیں ہے۔ بچوں کا عام طور پر سیاست کا زیادہ علم نہیں ہوتا ہے۔ اس لیے وہ ان ’اردو‘ پروگراموں سے ’اردو‘ زبان سیکھتے رہیں گے، خواہ یہ زبان ڈورے مون بول رہا ہو، یا پھر باربی یا چھوٹا بھیم۔ اب اس پر عمران خان یا دوسرا کوئی شخص جتنا مرضی چیخے چلائے یا قراردادیں لائے، ہو گا یہی۔

پنجاب اسمبلی میں ڈورے مون اور دوسرے کارٹونوں کے خلاف پیش کی جانے والی قرارداد ایک مضحکہ خیز اقدام ہے۔ بچے کارٹون ہی دیکھیں گے، ان کو سیاسی ٹاک شو دیکھنے میں دلچسپی نہیں ہوتی ہے۔ ویسے بھی وہ سیاسی ٹاک شو دیکھ کر دشنام طرازی اور لڑائی جھگڑا کرنا ہی سیکھیں گے، بہتر یہی ہے کہ وہ ہندی کارٹون ہی دیکھ لیں۔ اردو کارٹون کے نام پر جیو والوں نے ہی ایک دیسی سیریز ’برقع ایوینجر‘ شروع کی تھی۔ کم از کم ہمارے خاندان میں تو کوئی بچہ وہ نہیں دیکھتا ہے۔ ہاں اگر وہ کسی کارٹون چینل پر آ جائے تو ممکن ہے کہ اسے دیکھا جانے لگے۔

یہ قرارداد کہتی کیا ہے؟ تحریک انصاف کے ملک تیمور مسعود کی پیش کردہ قرارداد کہتی ہے کہ یہ چوبیس گھنٹے کے کارٹون چینل بچوں کی جسمانی اور تعلیمی نشو و نما پر برا اثر ڈال رہے ہیں اور کارٹونوں میں استعمال کی جانے والی زبان سے ہماری سماجی اقدار تباہ ہو رہی ہیں۔ ملک صاحب سے پوچھنا چاہیے کہ اب جو اغوا کے ڈر سے بچوں کو چوبیس گھنٹے گھر میں بند رکھا جائے گا، تو کیا اس سے ان کی جسمانی نشو و نما متاثر نہیں ہو گی؟

ہمارے بچپن میں پی ٹی وی نامی ایک چینل ہوا کرتا تھا۔ اس پر ہر روز چار پانچ بجے کے قریب پانچ منٹ کا ایک کارٹون دکھایا جاتا تھا، گو کہ وہ بھی اردو کی بجائے فرنگیوں کی زبان میں ہوتا تھا۔ ویک اینڈ پر عیاشی ہوتی تھی کیونکہ پورے بیس منٹ کا ’کارٹون میگزین‘ آتا تھا۔ ہمارے زمانے میں تو ایک ہی ٹی وی چینل ہوتا تھا اس لیے بچے وقت کی پابندی کر لیا کرتے تھے۔ مگر اب تو کارٹونوں کے لیے ہی دس چینل موجود ہیں تو بچوں کو پی ٹی وی میں بھلا کیا دلچسپی ہو سکتی ہے؟

دوسری طرف حکومت نے کھیلوں، تعلیم بالغاں کے چینلوں وغیرہ پر تو توجہ دی ہے، مگر اس نے بچوں کا کوئی چینل شروع کرنے پر کبھِی توجہ ہی نہیں دی ہے۔ نہ اس کو بچوں کی تعلیم میں کوئی دلچسپی ہے اور نہ ہی ان کو ٹی وی کے ذریعے اردو سکھانے میں۔ بلکہ اب تو وہ سرکاری سکولوں میں بھی بچوں کو انگلش میڈیم کروانے پر تلی ہوئی ہے۔ بچے اب سکول میں انگریزی پڑھتے ہیں تو ان کو اردو کے مقابلے میں انگریزی کتاب پڑھنا زیادہ آسان لگتا ہے۔ لیکن مادری زبان ہونے کی وجہ سے اردو ان کے لیے کشش رکھتی ہے اس اس لیے اردو کی چاہ میں وہ ہندی کارٹون چینل دیکھتے ہیں، جنہیں تحریک انصاف بند کرنا چاہتی ہے۔

\"Mehmood-ur-Rasheed\"

لیکن سوال یہ ہے کہ حضور کیا اس کے بعد آپ یو ٹیوب بھی بند کریں گے؟ اب یہ قرب قیامت کا زمانہ ہے اور ہر بچہ ہاتھ میں فون اٹھائے پھرتا ہے اور یو ٹیوب دیکھتا ہے۔ یہ سارے کارٹون تو یوٹیوب پر بھی دستیاب ہیں۔ بلکہ آج کل بچے جس کارٹون سیریز میں دلچسپی لے رہے ہیں، اس کا نام ’ون پیس‘ ہے، جو کہ جاپانی زبان میں دکھائی جاتی ہے۔ اور اسے دیکھ دیکھ کر بچے جاپانی بولتے پائے جاتے ہیں۔ تو پنجاب اسمبلی کی قرارداد ان کو کیسے روک پائے گی؟ یہ حکومت کی نااہلی نہیں ہے تو اور کیا ہے کہ اس مفید ترین میڈیم کے ذریعے بچے تو کسی استاد کے بغیر جاپانی بولنا سیکھ رہے ہیں، لیکن ان کو اردو سکھانے کی طرف کسی کی توجہ نہیں ہے۔

یہ چیز بھی فکر انگیز ہے کہ اس وقت لاہور میں، اور پنجاب میں حالت یہ ہے کہ بچوں کی بڑی تعداد کو روزانہ کی بنیاد پر اغوا کیا جا رہا ہے۔ کچھ لوگ پکڑے بھی گئے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود یہ سلسلہ جاری ہے۔ کیا پنجاب پولیس بالکل ہی ناکارہ ہو چکی ہے یا کوئی دوسرا معاملہ ہے؟ مبینہ گڈ گورننس والی حکومت پنجاب کو اس معاملے میں تو کوئی دلچسپی نہیں ہے، ورنہ اب تک ہر جگہ آگ لگی ہوتی۔ کسی بڑے آدمی کی گاڑی چوری ہو جائے تو پورے لاہور میں جنرل ہولڈ اپ ہو جاتا ہے اور ہر دو کلومیٹر بعد پولیس کا ناکہ دکھائی دیتا ہے۔ یہاں کئی سو بچے غائب ہو چکے ہیں، اور کسی کو کوئی پروا ہی نہیں ہے۔

\"shahbaz-sharif-fauzia-mughal-book\"

حتی کہ شہباز شریف صاحب بھی غائب ہیں جو کہ ٹی وی پر اپنی گڈ گورننس دکھانے کے ماہر ہیں۔ انہوں نے اس مسئلے پر اب تک کیا توجہ دی ہے؟ کیا انتظامیہ ان کے احکامات نہیں مان رہی ہے یا وہ اس اہم مسئلے پر کوئی حکم دینا ہی نہیں چاہتے ہیں؟ کیا ان کو پنجاب کے بچوں میں کوئی دلچسپی نہیں ہے؟ کیا امن و امان ان کا مسئلہ نہیں ہے؟ یہ جو سٹریٹ کرائم پر قابو پانے کے لیے ڈولفن فورس بنائی گئی تھی، کیا اس نے بچوں کے اغوا کی روک تھام میں کچھ مدد دی ہے؟ یا بس وہ صرف موبائل فون چوری کی وارداتیں روکنے کے لیے ہیں؟ پنجاب پولیس کی سی آئے اے کیا اب بیکار ہو چکی ہے؟ کیا کراچی کی طرح ہمیں اب لاہور میں بھی رینجرز کو ہی بلانا پڑے گا تاکہ عوام کو تحفظ ملے؟

دوسری طرف ہمیں اپوزیشن غائب دکھائی دیتی ہے جیسے اس معاملے سے اس کا کوئی لینا دینا ہی نہیں ہے۔ پیپلز پارٹی تو خیر لاہور کو بالخصوص اور پنجاب کو بالعموم طلاق دے چکی ہے لیکن پنجاب حکومت پر چیک رکھنے کی ذمہ دار تو پنجاب اسمبلی کی اپوزیشن لیڈر تحریک انصاف ہے۔ اس کے نزدیک بچوں کے اغوا کی بجائے بچوں کی زبان زیادہ اہم ہے۔ اپوزیشن لیڈر محمود الرشید صاحب تو کہیں سوئے پڑے ہیں، مگر ان کی پارٹی کے ملک تیمور مسعود صاحب بچوں کے تحفظ کا معاملہ اٹھانے کی بجائے بچوں کے کارٹون بند کرنے میں دلچسپی رکھتے ہیں۔

ہمیں کیسے سیاستدان نصیب ہوئے ہیں جو عوام کے حالات و محسوسات سے اس طرح لاتعلق ہیں؟ نہ تو حکومت اور نہ ہی اپوزیشن یہ دیکھ رہی ہے کہ عوام کے مسائل کیا ہیں۔ کیسے وقت ہوا کرتے تھے جب بھٹو جیسا عوام کا نبض شناس جلسے میں ہی عوام کا موڈ بھانپ کر اس کے مطابق تقریر کر دیتا تھا اور عوام اپنے محسوسات کو اپنے لیڈر کی زبان سے ادا ہوتے دیکھ کر ایسے دیوانے ہوتے تھے کہ ابھی تک اسی سحر میں مبتلا ہیں۔ اور چابک دست ایسا تھا کہ اگر جلسے میں کوئی اس کی توہین کرنے کی خاطر اس کی طرف جوتا اٹھا کر لہراتا تھا تو بھٹو اسے بھی عوامی مسئلہ بنا کر پیش کر دیتا تھا کہ ہاں مجھے معلوم ہے کہ جوتے بہت مہنگے ہو گئے ہیں اور عوام مشکل میں ہیں، ہم عوام کا یہ مسئلہ حل کریں گے۔

اب تو عوام کے بچے دن دیہاڑے اٹھائے جا رہے ہیں اور کسی کو عوام کے مسئلے کی خبر ہی نہیں ہے۔ اب ہمارے نصیب میں موجودہ حکمران اور موجودہ اپوزیشن ہی ہے۔ لگتا ہے کہ بچے بھی صرف کارٹون ہی دیکھیں گے، اور بڑے بھی یہی کر رہے ہیں۔


اس ویڈیو کو دیکھیں اور افسوس کریں۔ گھر کے قریب ہونے والی واردات کا طریقہ بھی یہی بتایا گیا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 629 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar