نفرت برائے فروخت


\"noorulhudaآج بازار میں جو چیز سب سے زیادہ قابلِ فروخت ہے وہ ہے \”نفرت\”

علمِ معاشیات کے مطابق بازار میں کسی بھی چیز کی مقدار، قیمت اور معیار خریداروں کی طلب پر منحصر ہے جو اس چیز کی قیمت اور اہمیت کو بڑھاتی یا گھٹاتی ہے۔

نفرت نام کی چیز کو بھی صرف دکاندار اور خریدار ہی میّسر نہیں بلکہ مارکیٹ میں اس کی بڑھتی ہوئی مانگ اب اسے باقاعدہ طور پر صنعت بنا چکی ہے جو نفرت کو نِت نئے انداز میں مختلف مصنوعات کی صورت مارکیٹ میں پیش کرتی ہے۔ اس صنعت کی حوصلہ افزائی کا سبب خریداروں کے مزاج میں سرایت کر چکا نفرت کا وہ الاؤ ہے جو اب دوزخ کی صورت اختیار کرتا جا رہا ہے یا پھر اس کا تجزیہ یوں بھی کیا جا سکتا ہے کہ صنعت کار اور سرمایہ کار منڈی میں نیا مال متعارف کرواتے وقت اس کی مارکیٹنگ اس طرح سے کرتے ہیں کہ خریدار شعوری لا شعوری طور پر اس کے طلب گار بن جاتے ہیں۔

نفرت کے کاروبار میں جو چیزیں ہماری منڈی میں سب سے زیادہ قابلِ فروخت ہیں وہ ہیں سیاست اور مذہب۔

مذہبی سیاست میں بڑے پیمانے پر کی جانے والی بیرونی سرمایہ کاری اور اس میں اندرونِ ملک سرمایہ کاروں کا حصّہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں مگر اس میں جو چیز دراصل فروخت کی جاتی ہے، وہ ہے سیاست اور مذہب کی پیکنگ میں رکھی گئی نفرت، جس کی خرید و فروخت کے لیے پاکستان ایک بہت بڑی منڈی بن چکا ہے اور تقریباً ہر شہری اس کا خریدار بھی ہے اور جو ہر خریدار کے ذہنی معیار اور قوّتِ خرید کے مطابق منڈی میں میّسر بھی ہے۔ بازار میں سیاست اور جدید و قدیم مذہبی اور روحانی فرقوں کو مصنوعات کی صورت فروخت کرنے کا بالکل وہی انداز ہے جیسا پُر ہجوم بازار میں دکاندار صداکاری اور اداکاری کے ساتھ اپنی اپنی دکان کے گرد مجمع لگاتے ہیں۔

ہمارا سیاسی اور مذہبی دکاندار بھی خریدار کی طلب کے مطابق اپنی صداکاری میں نفرت اُگلتا ہے اور اظہارِ نفرت کا انداز اداکاری کی صورت میں پیش کرتا ہے اور اپنے ہاتھوں مجمع میں بوئی گئی نفرت کا ردعمل نعروں کی صورت وصول کرتا ہے اور نفرت پر پل پڑتے اس مجمع کو دیکھ کر اس خوش فہمی میں مبتلا ہوتا ہے کہ عوام اس کے سر پر تاجِ شہنشاہیت و خلافت رکھنے کو بے قرار ہیں۔ وہی وہ مسیحاِ وقت ہے جس کا انتظار تھا!

مگر درحقیقت یہ فقط مجمع ہے، اجتماعیت نہیں۔ نفرت اجتماعیت کا گلا گھونٹ کر مجمع کے کلچر کو فروغ دیتی ہے۔ مجمع، جو تشدد کا تماش بین ہوتا ہے اور اس سے اپنی ذاتی نفرت کی لذّت لیتا ہے۔ جیسا کہ کسی کو بھی زندہ جلائے جانے کا تماشہ دیکھنے کے لیے چوراہے پر مجمع لگتا ہے اور نہ صرف اس تماشے سے لذّت حاصل کی جاتی ہے بلکہ

جلنے والے سے براہِ راست کوئی بھی تعلق نہ ہونے کے باوجود اسے جلائے جانے کے عمل میں حصّہ بھی لیا جاتا ہے۔ اسی رویّے کی بنیاد پر سیاسی اور مذہبی مجمع لگتا ہے اور سیاسی اور مذہبی لیڈر بھی اسی رویّے کو کیش کرواتا ہے۔ جیسے وہ سارے زمانے کو زندہ جلا دے گا۔ مجمع گویا چیختا ہے کہ \”جلاؤ۔۔ ہم تمہارے ساتھ ہیں\” اور مذہبی اور سیاسی لیڈر اُس سے بھی زیادہ شدت سے چنگھاڑتا ہے کہ \”دیکھ لینا میں پورے ملک میں آگ لگا کر دکھاؤں گا۔۔\” لیڈر دراصل صرف چنگھاڑتا ہے اور مجمع آگ لگانے کا عملی مظاہرہ کرنے پر تُل جاتا ہے۔ سیاسی زبان میں اسے عوامی طاقت کا مظاہرہ کہا جاتا ہے۔

ایک ایک لفظ اور لہجے میں نفرت، توہین، تمسخر، کُفر کے فتوے، قتل کے فتوے، تباہی اور بربادی کی دھمکیاں، یہاں تک کہ گالیاں اور غیر اخلاقی زبان۔۔۔۔ بے معنی اور بے ربط باتیں، اکھاڑے میں للکارنے کا انداز اور کھلی دھمکیاں! کیا لبرل اور کیا بنیاد پرست، ہمیں ہر طرف ایک ہی رویّہ ملتا ہے۔ لیڈر کے الفاظ اور ادائیگی میں جتنی زیادہ negativity (منفیت) ہوتی ہے اتنا ہی مجمع اس کی لذّت لیتا ہے۔ اجتماعی طور پر ذہنی تشدد کا یہ رویّہ افراد کے لاشعور میں ایک طرح کا اجازت نامہ بن جاتا ہے، جسمانی تشدد اور اس کی لذّت لینے کا یا اس کا عادی بننے کا۔ لوگ جانتے ہیں کہ ان کی نا آسودہ خواہشات اور بنیادی ضروریات کی تکمیل کے لیے اب کوئی جادو کی چھڑی نہیں اُن کے کسی بھی لیڈر کے پاس مگر وہ صرف اس لیڈر کے منہ سے ذمہ دار اور طاقت ور طبقے یا ذاتی طور پر ان کی ناپسندیدہ جماعت کے خلاف نفرت، حقارت اور ذلّت کے اظہار کی لذّت لینے کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ اور مزید براں اس میں اگر مذہب کا استعمال شامل کر دیا جائے تو یقیناً وہ اپنا گہرا رنگ جماتا ہے۔ افراد کے اندر سُلگتی نفرت کی چنگاری کو الاؤ بننے اور اُن کی نظر میں قابلِ نفرت ہو چکے زمانے کو بھسم کرنے کا مذہبی طور پر نہ صرف \”جائز\” سرٹیفکیٹ مل جاتا ہے بلکہ شاندار صلہ ملنے کی تسکین بھی حاصل ہو جاتی ہے۔ نہ صرف سیاسی جماعتوں بلکہ مذہب کے نام پر سیاست کرنے والی جماعتوں کا ووٹ بینک بھی نفرت کی بنیاد پر مضبوط ہوتا چلا جاتا ہے۔ جتنا اس نفرت میں زہر ملایا جاتا ہے اُتنی ہی وہ جماعت مقبول ہوتی ہے۔ ہر جماعت کو کسی نہ کسی گروہ، زبان، فرقے، قوم، کسی اقلیت یا کسی اکثریت سے نفرت برائے نفرت ضرور ہونی چاہیے ورنہ نفرت کا عادی ہو چکا ووٹر اس کی طرف نہیں آئے گا اور اسے اپنا لیڈر مرد کا بچہ نہیں لگے گا۔

اسی لیے پاکستانی سیاست میں کسی بھی سیاسی جماعت کو ایک مکمل پروگرام دینے کی ضرورت ہی پیش نہیں آتی۔ اسی لیے آئین اس ملک میں محض کاغذ کا ٹکڑا ہے اور اسی لیے کبھی آمریت سے نفرت ہو جاتی ہے اور کبھی جمہوریت سے۔ اور اسی لیے اپنے فرقے یا اپنے مذہب سے محبت کا ثبوت دینے کے لیے دوسرے فرقے یا مذہب سے نفرت کی ضرورت پیش آتی ہے۔

نفرت کی صنعت میں بھاری سرمایہ کاری کے ساتھ جو مصنوعات تیار کی جاتی ہیں، ان میں سے ایک وہ ہے جو چور بازار میں بھاری قیمت پر مخصوص خریداروں کے ہاتھوں فروخت ہوتے ہوئے، چور دروازوں کے راستے عام بازار میں پہنچتی ہیں اور ہاتھوں ہاتھ کم قیمت پر کم قوّتِ خرید رکھنے والوں کے لیے آسانی سے دستیاب ہوتی ہیں۔ ان مصنوعات کا سستا اسٹال مسجدوں اور مدرسوں میں لگتا ہے، مولویوں کے لبادے میں نفرت اور کنفیوژن پھیلاتے ذہنوں کی صورت میں۔ ہم انہیں مولوی کہتے ہیں، جبکہ یہ مولوی نہیں ہیں۔ جس طرح لنڈا بازار کا سوٹ پہن کر کوئی صاحب نہیں بن جاتا بالکل اسی طرح محض داڑھی رکھ کر اور ٹخنوں تک شلوار رکھ کر کوئی بھی مولوی یا مولانا نہیں بن سکتا۔ یہ محض پروڈکٹ ہے جو کم قیمت پر مگر پُر ہجوم بازاروں میں بیچنے کے لیے تیار کی جاتی ہے جبکہ بڑی منڈیوں میں بکنے والی مہنگی پروڈکٹ خودکُش بمبار، فتوا فروش جاہل، مختلف فرقوں کی صورت میں مذہب کا بٹوارہ کرنے والے پیشوا اور چھوٹی بڑی دہشت گرد تنظیموں وغیرہ جیسی چیزیں ہیں۔ لیکن عام خریداروں کے لیے اس صنعت کا خام مال مسجدوں اور مدرسوں میں درس اور خطبہ دینے والوں کی صورت میں پہنچایا جاتا ہے جو منڈی میں قابلِ فروخت مذہبی الفاظ کو خریداروں کے مطلب اور سمجھ کے مطابق معنی دے کر نفرت کا بازار گرم کرتے ہیں۔ دراصل، اصل معنی وہ بھی نہیں جانتے۔ اُنہیں مارکیٹ میں رکھنے والے سرمایہ کار فروخت کرنے کے لیے صرف قابلِ فروخت الفاظ دیتے ہیں۔ حالانکہ قرآن و حدیث میں موجود عربی زبان کے جن کثیرالمعنی الفاظ کی تشریح کے لیے اب تک لاکھوں کتابیں لکھے جانے کے بعد بھی اس لا متناہی سمندر کے اُس کنارے تک کوئی پہنچ نہیں پایا، اُن الفاظ کا ہماری زبان میں ہمارے سماجی اور جذباتی مزاج کا قریبی ترجمہ اُن کے منہ میں ڈال دیا جاتا ہے اور ہمارا مزاج تو ہے ہی نفرت کی طرف بے لگام رُخ موڑے ہوئے!

 مذہب کی بنیاد پر نفرت اس لیے زیادہ بکتی ہے، کیونکہ اس کے خریداروں کی اکثریت نہ تو مال میں ملاوٹ کے عنصر کو سمجھ پاتی ہے اور نہ ہی اصل اور نقل کا موازنہ کرنے کی اہل ہوتی ہے۔ ان خریداروں کو جمع نماز کے خطبوں اور مذہبی تہواروں کے موقعوں پر لاؤڈ اسپیکروں پر چنگھاڑتی آوازوں کے ذریعے نفرت کی وہ آسان خریداری میّسر ہوتی ہے جو وہاں سے اُٹھنے کے بعد ان کی ذاتی زندگیوں اور کسی نہ کسی سماجی صورت میں، اپنی پسند اور ناپسند کے مطابق نفرت کی آگ میں دوسروں کو خاکستر کر ڈالنے کا اُنہیں حق دیتی ہے۔

بیرونی سرمایہ کار پاکستان میں مذہب یا مذہبی سیاست کے کاروبار میں اس لیے بھی مسلسل اضافہ کرتے جا رہے ہیں کہ وہ دیکھتے ہیں کہ پاکستان میں اس کے خریداروں کی تعداد اور قوّتِ خرید میں مسلسل اضافہ بھی ہو رہا ہے اور خریدار اور دکاندار دونوں اس کی اصل اور نقل کی پہچان نہیں رکھتے۔ لہٰذا جس سرمایہ کاری کے لیے ان کے اپنے ملکوں کی مارکیٹ موزوں نہیں ہے، وہ یہاں کی منڈی کا رُخ کرتے ہیں۔ ہاں منافع اپنی منڈیوں کے لیے وصول کرتے ہیں۔

نفرت کی اسی صنعت کا دوسرا بڑا منافع خور سرمایہ کار الیکٹرونک میڈیا ہے، جو اس پوری منڈی کا منافع چوبیس گھنٹے دونوں ہاتھوں سے سمیٹتا ہے۔ خود الیکٹرونک میڈیا ہی نہیں بلکہ نفرت بیچنے والے دوسرے سیاسی اور مذہبی تاجر بھی الیکٹرونک میڈیا کی اسکرین پر دکان لگاتے ہیں اور نہ صرف اپنا کاروبار جماتے ہیں بلکہ الیکٹرونک میڈیا کے لیے بھی آسان کمائی کا سبب بنتے ہیں۔ خود الیکٹرونک میڈیا بھی گرمیِ بازار کے مطابق سرمایہ کاری کرتا ہے۔ سو وہ خریدار کی طلب کی شدت میں مزید اضافہ کرتے ہوئے سیاست اور مذہب کو ایک ہی ترازوُ کے دو پلڑوں میں رکھ کر فروخت کرتا ہے اور خریدار کو گھر بیٹھے براہِ راست دونوں چیزیں مہیا کرتا ہے۔ مگر یہاں بھی ان دونوں چیزوں کی پیکنگ میں جو چیز فروخت ہوتی ہے اور خریدار جس چیز کا طلب گار ہوتا ہے، وہ ہے نفرت۔ یہ جو ہم اسکرین پر مذہب کی پیکنگ میں عورت کے موضوع پر چیخ و پکار سنتے ہیں، یہ دراصل نفرت کی فروخت ہے جو اسکرین کے سامنے مجمع میں اضافہ کرتی ہے۔ اس طرح کے فتویٰ فروش مارکیٹ ویلیو کے مطابق خاص طور پر مدعو کیے جاتے ہیں یا اُن کے حوالے اسکرین کر دی جاتی ہے تاکہ موضوع کی زیادہ سے زیادہ فروخت ہو۔

الیکٹرونک میڈیا پر نفرت کے بھاؤ تاؤ اور خرید و فروخت کا معاملہ بہت ہی دلچسپ ہے۔ نیوز چینلز کو اسکرین پر نفرت کے زہر میں بجھی سیاست دانوں کی لڑائی، reenactment programs جن میں سماجی اور خونی رشتوں کے بیچ نفرت اور اُس شدید نفرت کے ردعمل میں دل دہلا دینے والے قتل کی وارداتوں کی منصوبہ بندی کو فرضی کرداروں کے ذریعے انتہائی سنسنی خیز انداز میں پیش کرنا، قتل و غارت اور تشدد و دہشت گردی کی خبر کو رونگٹے کھڑے کر دینے والے صوتی اثرات(sound effects) کے ساتھ مسلسل سُرخ رنگ میں لپیٹ کر دہرانا اور چیخ چیخ کر خبر سنانا اور چیخ چیخ کر بحث و مباحثے میں حصّہ لینے والے سیاست دانوں کو نفرت کے شدید ردعمل پر اُکسانا یا اظہارِ نفرت کے لیے اُن کی حوصلہ افزائی یا موقعے کی فراہمی، جس کا آخری منظر یہ ہوتا ہے کہ سیاست دان خواتین و حضرات کانوں میں چُبھتی آوازوں کا بے ہنگم شور اُگل رہے ہوتے ہیں اور میزبان بظاہر کانوں پر ہاتھ رکھے معنی خیز انداز سے مسکرا رہا ہوتا ہے، کیونکہ وہ نفرت کی فروخت کے سلسلے میں اپنا ہدف مکمل کر چکا ہوتا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ نفرت فروخت کرنے کی تمام ذمہ داری صرف چینل یا میزبان پر ہی آتی ہے۔ بحث میں حصّہ لینے والے سیاست دان اور مذہب دان بھی جانتے ہیں کہ اگر انہوں نے اظہارِ نفرت کا ہنگامہ برپا نہیں کیا تو دوبارہ وہ اس دکان پر نہیں بلائے جائیں گے۔ کیونکہ اس منڈی اور بیوپار کے اُصول کے مطابق پھر وہ قابلِ فروخت چیز قرار نہیں پائیں گے۔

الیکٹرونک میڈیا کو اس طرح کے پروگراموں پر انتہائی کم سرمایہ کاری کے ساتھ بھاری منافع حاصل ہوتا ہے

جبکہ نفرت فروخت کرنے والا میزبان اپنی مارکیٹ ویلیو کے مطابق اپنی بھاری قیمت لگاتا ہے اور اسی نفرت کے خریدار ناظرین کی طرف سے ملنے والی ریٹنگ نہ صرف چینل پر اشتہارات کے وقت کی قیمت کو آسمان پر پہنچاتی ہے بلکہ پروگرام کی قیمت میں بھی اضافہ کرتی چلی جاتی ہے۔

نفرت کی یہی خرید و فروخت ہمیں تفریحی چینلز پر بھی نظر آتی ہے جہاں خونی اور سماجی رشتوں کے درمیان نفرت کے کھیل پر مبنی ڈرامہ بکتا ہے۔ اگر نفرت کا عنصر نہ ڈالا جائے تو خریدار اسے خریدنے کو تیار نہیں اور اکثر نتیجہ شرمندہ کرنے والی ناکامی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ کیونکہ یہ اب مکمل طور پر کاروبار ہے اس لیے اس کی کامیابی اور ناکامی میں فن کا معیار کم کم ہی کام کرتا ہے۔ اس کا سرمایہ کار بھی اپنے کاریگروں سے نفرت کا کھیل مانگتا ہے اور اس کا بیچنے والا بھی اور خریدار بھی۔ نتیجہ یہ نکلا ہے کہ ایک طرف اس میدان کے بڑے بڑے سورما نفرت کے بل پر ملنے والے منافع کے سامنے گھُٹنے ٹیکتے نظر آتے ہیں تو دوسری طرف اس کاروبار میں نئے آنے والے اسی گُر کو کامیابی کی کُنجی سمجھتے ہوئے اپنی اپنی سمجھ کے مطابق اس کا استعمال کرتے ہیں۔ کیونکہ اگر وہ نفرت کو ملنے والی ریٹنگ کے برابر کی ریٹنگ نہیں لائیں گے تو اپنے فن میں کامیاب نہیں سمجھے جائیں گے اور نہ ہی خود اپنی قیمت بڑھا پائیں گے اور نہ ہی اپنے سرمایہ کار کے لیے منافع بخش چیز بن پائیں گے۔

اسی تسلسل میں جو چیز سفّاکیت کے ساتھ سماج میں افراد پر اپنا اثر چھوڑتی ہے وہ ہے اشتہار بازی۔ کتنے فیصد لوگ ان اشتہارات میں دکھائی جاتی مصنوعات کا استعمال کرنے کی مالی طاقت رکھتے ہیں اور باقی کتنے فیصد لوگوں کے حصّے میں انہیں حاصل نہ کر سکنے کی بے چینی آتی ہے، اس کا اندازہ لگانا مشکل کام نہیں۔ یہی اضطراب اُس نفرت کا بیج بو رہا ہوتا ہے جو اکثر املاک کو آگ لگانےاور ایک گولی کے بل پر کسی بھی انسانی جان کو موبائل فون جیسی حقیر چیز چھیننے کی نظر کر دینے جیسی وارداتوں کی صورت میں سامنے آتا رہتا ہے یا پھر تفریحی چینلز پر انعامات پر جھپٹتا اور انعام میں رکھی مصنوعات کے حصول کی خاطر کچھ بھی کر گزرنے کو تیار مجمع کی صورت میں جو ہم میں سے بہت سوں کو ہضم نہیں ہو پاتا۔

اشتہارات میں دکھتی ایک ایک چیز انسانی خواہشات کے سامنے ہڈی کی طرح ہے جس پر اس کا خواہشات کا مارا توانا ہو چکا اور بپھرا ہوا نفس پل پڑنے کو ہانپتا رہتا ہے۔ اس کھیل میں بہت ہی کم لوگوں کو علم ہے کہ الیکٹرونک میڈیا میں اے، بی، سی، ڈی اور ای کے خانوں میں خریداروں/ناظرین کو سماجی اور معاشی درجہ بندی میں تقسیم کرتے ہوئے ان کی پسند کا تجزیہ کیا جاتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اے درجے کا ناظر جو اعلیٰ درجے کی مصنوعات کا خریدار ہونے کی وجہ سے انتہائی آسودہ حال بھی ہے، نفرت بھرے موضوعات میں دلچسپی بھی نہیں رکھتا اور ٹیلی ویژن کا باقاعدہ ناظر اس لیے بھی نہیں ہے کہ اس کی زندگی میں اپنی کئی طرح کی مصروفیات کی وجہ سے فالتو وقت بھی نہیں ہے۔ وہ کبھی کبھی مگر اعلیٰ معیار کی چیز کی طرف آتا ہے، مگر جس میں غربت کا رونا بہرحال نہ ہو۔ کاروبار دینے والا اصل طبقہ بی اور سی، ڈی اور ای ہے جو ان اشتہارات میں دکھائی جاتی مصنوعات سے اپنی درجہ بندی کے مطابق محروم ہوتا چلا جاتا ہے۔ جتنا زیادہ وہ مشتہر مصنوعات سے محروم ہوتا چلا جاتا ہے، اتنا ہی زیادہ وہ نفرت کا خریدار بنتا جاتا ہے اور نفرت بھرے موضوعات اور نفرت بھری چیخ و پکار پر اور معاشرتی رشتوں میں ذہنی اور جسمانی تشدد پر ریٹنگ دیتا جاتا ہے جس کا اتار چڑھاؤ ہی الیکٹرونک میڈیا کے نفع و نقصان کی بنیاد ہے۔

اس تمام پس منظر میں اب نفرت افراد کے وجود میں سرایت کر چکا سند یافتہ رد عمل بن چکا ہے۔ کیونکہ جس طرح کوئی بھی خریدی ہوئی چیز فرد کی ملکیت بن جاتی ہے، اسی طرح فروخت شدہ نفرت بھی سماج میں افراد کی ملکیت قرار پاتی ہے جس کی بنا پر وہ جس وقت اور جسے چاہیں اپنے فیصلے اور اپنی ناپسندیدگی کی بنا پر قتل کر سکتے ہیں۔ تشدد کا حق رکھتے ہیں۔ چوراہے پر کسی کے لیے بھی فیصلہ سنا سکتے ہیں۔ کسی بھی خونی رشتے کے قتل کا اور اس کی معافی کا مالکانہ اختیار رکھتے ہیں۔

اور ایسا تب بہت ہی آسان ہو جاتا ہے جب ریاست قانون اور آئین ردّی کے بھاؤ بیچ کر خود نفرت کی سب سے بڑی خریدار بن جاتی ہے اور نفرت کے سرمایہ کاروں کے سامنے ذاتی مفادات کی خاطر گھٹنے ٹیک کر نفرت کے خریداروں کے سامنے بزدل ثابت ہو جاتی ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

نورالہدیٰ شاہ

نور الہدی شاہ سندھی اور اردو زبان کی ایک مقبول مصنفہ اور ڈرامہ نگار ہیں۔ انسانی جذبوں کو زبان دیتی ان کی تحریریں معاشرے کو سوچنے پر مجبور کر دیتی ہیں۔

noor-ul-huda-shah has 48 posts and counting.See all posts by noor-ul-huda-shah