ہمارے بچے ہندی بول کر ہندوستانی ہو رہے ہیں


\"adnan-khan-kakar-mukalima-3b4\"

ہمیں اطلاع ملی ہے کہ بچے ہندی میں ڈب شدہ انگریزی جاپانی کارٹون دیکھ دیکھ کر ہندی الفاظ مثلاً سپنا، چرچا، دھیرج، شکتی، دھول دھپا وغیرہ بولنے لگے ہیں اور اس طرح ہندی کلچر کی یورش کے آگے نئی نسل ڈھیر ہوتی جا رہی ہے۔ یہ معاملہ ہمیں کافی اہم لگا اور ہم نے اس پر تحقیق شروع کی تاکہ ہم اپنی زبان اور کلچر کو بچا سکیں۔

سب سے پہلے تو اس بات کا علم ہوا کہ بچے یہ زبان ڈب شدہ کارٹونوں سے سیکھ رہے ہیں۔ کیونکہ پاکستان میں بچوں کا نہ تو کوئی کارٹون چینل ہے، اور نہ ہی کوئی سرکاری یا غیر سرکاری ادارہ اب بچوں کے کارٹونوں کا ترجمہ کروا کر ان کو نشر کرتا ہے، اس لیے بچے بھارت سے نشر ہونے والے کارٹون چینلوں کو ہی دیکھتے ہیں۔ چند سال پہلے یہ سارے کارٹون چینل انگریزی میں آتے تھے، مگر مانگ بہت بری شے ہے اور کاروباری ادارے وہی دکھاتے ہیں جو کہ لوگ دیکھنا پسند کرتے ہیں، اس لیے انہوں نے شروع میں تو انگریزی اور ’ہندی‘ دونوں کارٹون دکھائے، مگر پھر ڈیمانڈ دیکھتے ہوئے آہستہ آہستہ تمام انگریزی کارٹون چینل ختم ہوتے چلے گئے۔

\"bheem\"

ہندی کلچر ویسے واقعی انگریزی کلچر سے بہت خراب ہے۔ ہندی کلچر کی وجہ سے بچوں کی زبان، مذہب اور اخلاق سب ہی خراب ہوتے ہیں۔ شاید آپ کو علم ہو کہ بھارت کی سوا ارب آبادی میں سے صرف اٹھارہ بیس کروڑ ہی مسلمان ہیں، اور ان میں سے بیشتر ان علاقوں میں بستے ہیں جہاں کہ ہندی بولی جاتی ہے۔ ہمیں تو حیرت ہوتی ہے کہ وہ اپنا ایمان کیسے بچائے ہوئے ہیں۔ بہرحال ہندی کی بجائے پاکستانی بچوں کو انگریزی پر ہی فوکس کرنا چاہیے۔ وہ انگریزی سیکھیں گے تو انگریزی فلمیں دیکھ کر گوروں کے بہترین کلچر سے اثر لیں گے اور اچھِی اچھی باتیں سیکھ کر گمراہ ہونے سے بچ جائیں گے۔ ہم جانتے ہی ہیں کہ مغرب کے لوگ بہت مہذب ہیں اور دیسی لوگ بہت اجڈ اور گنوار ہیں۔ ویسے بھی وہاں مغرب میں اسلام کا خوب چرچا ہے اور اسی وجہ سے ہمارے بیشتر مذہبی راہنما بھی اپنے بچوں کو وہیں تعلیم دلواتے ہیں اور سیٹل کرواتے ہیں۔

\"power-puff-girls\"

اس پہلو کو دیکھتے ہوئے پوری قوم بچوں کو انگریزی زبان اور کلچر سکھا رہی ہے۔ ایک ڈیڑھ سال کی عمر سے ہی بچوں کو ایپل اور بنانا کھلایا جاتا ہے، اور ٹوائے دیا جاتا ہے۔ وہ لائن، ایلیفنٹ اور ڈونکی سے کھیلتا ہے اور آنٹی انکل کے پاس جاتا ہے۔ ان سب امور سے ہمارا کلچر کافی سٹرانگ ہو جاتا ہے اینڈ ود دس ویری سٹرانگ پاکستانی کلچر وی کین ڈیفیٹ انڈیا ان ایوری فیلڈ ۔ اس معاملے کی حساسیت کو دیکھتے ہوئے ہی اب پنجاب کے تمام سرکاری سکولوں کو بھِی انگلش میڈیم کر دیا گیا ہے تاکہ وہ بھی مہذب کلچر سیکھیں۔

لیکن ایک بڑا مسئلہ یہ ہے کہ بچوں کے ارد گرد کے لوگ، ان کے گھر والے، رشتے دار، محلے والے، سب کوئی دیسی زبان ہی بولتے ہیں۔ وہ سب اردو، پنجابی، سندھی، پشتو، بلوچی، سرائیکی وغیرہ بولتے ہیں۔ اور بچے خود بھی ان زبانوں کو انگریزی کی نسبت زیادہ آسانی سے سمجھ سکتے ہیں اور انہیں پسند کرتے ہیں۔

\"1-kaalia\"

اسی وجہ سے وہ انگریزی کا کارٹون نیٹ ورک دیکھنے کی بجائے ہندی کا کارٹون نیٹ ورک دیکھتے ہیں۔ اب بچے تو نہایت ہی ناسمجھ ہوتے ہیں۔ ان کو پتہ ہی نہیں چلتا کہ یہ کارٹون اردو نہیں بلکہ ہمارے دشمنوں کی زبان ہندی بول رہے ہیں۔ لیکن اس دور میں اردو کی تو یہ حالت ہے کہ کئی مرتبہ راقم الحروف کو بھی اندازہ نہیں ہو سکتا ہے کہ یہ کارٹون ہندی بول رہے ہیں یا اردو۔ یہ دھوکے باز تو کئی مرتبہ اردو ہی کے انداز میں ہندی بولتے ہیں۔ جب تک یہ کچھ لکھا ہوا نہ دکھائیں تو ہمیں اندازہ ہی نہیں ہو پاتا ہے کہ یہ ہندی ہے تو بچوں کے دھوکہ کھانے پر ہم انہیں کیا دوش دیں۔

یہی معاملہ بمبئی کی ہندی فلموں کا ہے۔ جس دھڑلے سے وہ ز، غ، پھ وغیرہ بولتے ہیں تو کئی مرتبہ تو ہمیں بھی یہی لگنے لگتا ہے کہ وہ اردو بول رہے ہیں کیونکہ شدھ ہندی میں یہ حروف نہیں ہوتے ہیں۔ اس معاملے پر ہماری پوری قوم ہم سے متفق ہو گی جو کہ ہماری طرح جنرل ضیا کے زمانے سے بے تحاشا ہندی فلمیں دیکھ رہی ہے اور اس سے بہت پہلے سے ہی ہندی فلموں کے گانے سن رہی ہے۔ ہم کوشش کریں تو بچوں کو گمراہ کن کارٹون دکھانے کی بجائے بمبئی کی فلم نگری کی فلمیں اور سٹار پلس کے ڈرامے دکھانے پر مائل کیا جا سکتا ہے تاکہ وہ اپنے بڑوں کی طرح ہندی کلچر سے محفوظ ہو جائیں۔

\"Peshawar-blast-rocks-Pakistan-15-dead-50-injured\"

ہمارے ایک عزیز ہیں۔ وہ اپنے گھر میں کیبل لگوانے سے انکاری ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ بچوں پر کیبل کے بہت برے اثرات مرتب ہوتے ہیں اور ان کی نفسیات تباہ ہو جاتی ہے۔ لیکن ان کی گمراہی کا یہ عالم ہے کہ وہ بچوں کو ان کی پسند کی تمام کارٹون سی ڈیاں لا کر دے دیتے ہیں کہ جتنی مرضی دیکھو۔ ان کی انتہائی ناقص رائے میں بچوں کی نفسیات کارٹونوں سے نہیں بلکہ خبروں اور ٹاک شو میں دکھائے جانے والے ہیجان اور قتل و غارت کی خبروں سے تباہ ہوتی ہے۔ بہرحال ساری دنیا کو اپنی مرضی پر چلانے کی بجائے دنیا کے حساب سے چلنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ والدین اس چیز کی خود نگرانی کریں کہ بچے کو ٹی وی پر کس مواد تک رسائی دی جائے اور کس سے محفوظ رکھا جائے۔ اگر آپ بچے کو ٹی وی کا کنٹرول دیں گے تو بچہ اپنی مرضی کی چیز ہی دیکھے گا، آپ کی مرضی کا پروگرام نہیں۔ اگر بچہ آپ پر اپنی مرضی چلاتا ہے اور بچہ آپ کی مرضی پر نہیں چلتا ہے، تو یہ کارٹون کا نہیں، تربیت کا مسئلہ ہے۔

اب ان بچوں کو بچانے کے لیے ہمارے پاس چند تجاویز ہیں۔ پہلی یہ کہ پورے ملک میں صرف انگریزی ہی بولی جائے اور اسے صرف سکولوں تک محدود رکھنے کی بجائے ہر شعبہ زندگی میں رائج کیا جائے۔ مزید یہ کہ امریکہ اور یورپ سے اساتذہ بلوائے جائیں جو کہ ہمارے بچوں کو بالکل گورا صاحب اور میم صاحب بنا دیں گے اور وہ ولایتی کلچر میں رنگے جائیں گے اور گوروں کے سے لہجے میں فر فر انگریزی بولیں گے۔

\"hero-movie-2015-romantic-Scene\"

دوسری طرف جو غیر مہذب لوگ اردو وغیرہ بولنے پر ہی تلے رہیں گے، ان کے بارے میں بھِی سوچنا چاہیے کہ وہ بھارتی یلغار سے بچے رہیں اور ہندی اور سنسکرت کے الفاظ مت بولیں۔ اس معاملے کو درست کرنے کے لیے ہمیں اردو زبان سے ہندی اور سنسکرت کے تمام الفاظ نکالنے ہوں گے۔ ان الفاظ کو شناخت کرنا عام طور پر زیادہ مشکل نہیں ہوتا ہے۔ کسی بھی لفظ میں اگر ھ، بھ، گھ، دھ، پھ، کھ، جھ، چھ، ٹ، ڈ اور ڑ وغیرہ جیسے حروف دیکھیں تو سمجھ جائیں کہ یہ کفار کی زبان کا لفظ ہے۔ اس طرح جن الفاظ کے آخری میں ’نا‘ آتا ہے، ان سے بھِی محتاط رہیں جیسے کھانا، پینا، سونا وغیرہ۔ اردو سے یہ الفاظ نکال دیے جانے چاہئیں۔ یہ چاہت بھی سنسکرت کا ہی لفظ ہے۔ اس کی بجائے حب یا عشق وغیرہ کا لفظ استعمال کرنا مناسب ہو گا، یا پھر لو وغیرہ۔ چاہیے کی بجائے شڈ، مسٹ وغیرہ مناسب ہیں۔ شڈ اور مسٹ سے یاد آیا، کہ ٹ اور ڈ والے وہ الفاظ اردو سے مت نکالے جائیں جو کہ انگریزی سے آئے ہیں۔ اسی طرح لفظ چاہیے کے معاملے سے ہمیں یہ علم ہو گیا ہے کہ چ والے الفاظ کو بھی نکال دیا جانا چاہیے، یا پھر اگر کراچی وغیرہ جیسا معاملہ ہو جسے نکالنا ناممکن ہو تو عرب شریف سے راہنمائی لے کر اسے کراتشی کہہ کر بھارتی تہذیب کی یلغار سے قوم کو بچا لیا جائے۔

لیکن چ کی بحث سے یاد آیا کہ ادھر فارسی میں بھی یہ لفظ استعمال ہوتا ہے اور اردو میں فارسی کے بہت سے الفاظ ہیں جیسے چکوترہ، چہ خوب، چیخ پکار، وغیرہ۔ تو عرض یہ ہے کہ اب تو عرب شریف کی راہنمائی سے ہمیں پتہ چل چکا ہے کہ فارسی بھی کفار ہی کی زبان ہے اور اس کا حکم بھی ہندی والا ہی ہو گا۔ اس لیے چ اور اس کے علاوہ گ والے الفاظ کو بھی ہندی اور فارسی سمجھ کر اردو میں استعمال نہ کیا جائے تو مناسب ہے۔ ویسے بھی علم اللسان کے علما بتا چکے ہیں کہ قدیم سنسکرت اور قدیم فارسی ایک ہی زبان تھیں یعنی فارسی بھی بھارتی کلچر کی نمائندہ سمجھی جانی چاہیے جبکہ عربی ایک دوسرے افریقی ایشیائی لسانی گروہ سے تعلق رکھتی ہے۔

اس موضوع پر تفصیلی نگاہ ڈالی جائے تو ہمیں نظر آتا ہے کہ اردو شاعری اور ادب کی تطہیر بھی بہت ضروری ہے۔ کچھ لوگ اسے پڑھ کر بھی بھارت کی سازش کا شکار ہو جاتے ہیں۔ اب اردو کا سب سے بڑا شاعر سمجھا جانے والا غالب ہی دیکھ لیں۔ کیسے دھڑلے سے کہتا ہے کہ

ہم سے کھل جاؤ بوقتِ مے پرستی ایک دن
ورنہ ہم چھیڑیں گے رکھ کر عُذرِ مستی ایک دن

یعنی یہ بھارتی دہلوی گماشتہ غالب بچوں کو شراب پینے کی ترغیب تو دے ہی رہا ہے، لیکن اس سے بڑا جرم یہ ہے کہ ہندی کلچر کو پروموٹ کر رہا ہے اور چھیڑیں کا لفظ استعمال کر رہا ہے۔ توبہ توبہ۔ اسے تبدیل کر کے کچھ ایسا کر دیا جائے تو مناسب ہے

\"Ghalib\"ہم سے کھل جاؤ بوقتِ لسی پرستی ایک دن
ورنہ ہم مس کریں گے رکھ کر عُذرِ مستی ایک دن

نوٹ کریں کہ محض ایک دو لفظ بدلنے سے ہی شعر کیسا پاک اور پاکستانی ہو گیا ہے۔ ایسے ہی ایک اور شعر ہے

دَھول دَھپّا اُس سراپا ناز کا شیوہ نہیں
ہم ہی کر بیٹھے تھے غالبؔ پیش دستی ایک دن

اسے اگر تبدیل کر کے یوں کر دیا جائے تو ہماری نوجوان نسل ہندی یلغار سے بچ جائے گی

ضرب ید اس جسم ناز کا شیوہ نہیں
ہم ہی جلوس کر گئے تھے غالب پیش دستی ایک دن

نوٹ کریں کہ شعر کو ہندی سے پاک کر کے عربی ڈالنے سے کیا نکھار آ گیا ہے اس شعر میں۔ گو کہ ہم مانتے ہیں کہ اس میں فارسی کے کچھ اجزا ابھی بھی موجود ہیں مگر مقتدہ قومی زبان اگر دیوان غالب پر غور کرے تو وہ اس مشکل کا حل نکال سکتا ہے۔

غالب کی اصلاح تو ممکن ہے مگر بدقسمتی سے چند شعرا ایسے ہو گزرے ہیں جو کہ اردو رسم الخط میں ہندی لکھنے کے عادی مجرم ہیں۔ ان میں سب سے بدنام ابن انشا نامی ایک شخص ہے۔ اب ان شعروں کو سنیں اور بتائیں کہ ان سے ہندی الفاظ نکال کر ان کو کیسے پاک صاف کیا جائے؟

\"ibn-insha\"کل چودھویں کی رات تھی شب بھر رہا چرچا تیرا
کچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرہ تیرا

اس شہر میں کس سے ملیں، ہم سے تو چھوٹیں محفلیں
ہر شخص تیرا نام لے، ہر شخص ہے دیوانہ تیرا

ان شعروں سے چودھویں، چاند، چرچا، چھوٹیں وغیرہ نکال دیا گیا تو باقی بچے گا کیا؟ اس غزل کو تو دیکھیں کہ اس میں ہندی کا کیسا استعمال ہوا ہے۔ اسے کیسے پاک کریں؟

انشا جی اٹھو اب کوچ کرو، اس شہر میں جی کو لگانا کیا
وحشی کو سکوں سے کیا مطلب، جوگی کا نگر میں ٹھکانہ کیا
اس دل کے دریدہ دامن میں دیکھو تو سہی،سوچو تو سہی
جس جھولی میں سو چھید ہوئے،اس جھولی کا پھیلانا کیا
شب بیتی چاند بھی ڈوب چلا، زنجیر پڑی دروازے میں
کیوں دیر گئے گھر آئے ہو، سجنی سے کرو گے بہانہ کیا
اس حسن کے سچے موتی کو ہم دیکھ سکیں اور چھو نہ سکیں
جسے دیکھ سکیں پر چھو نہ سکیں، وہ دولت کیا خزانہ کیا
انشإ جی اٹھو اب کوچ کرو، اس شہر میں جو کو لگانا کیا
وحشی کو سکوں سے کیا مطلب، جوگی کا نگر میں ٹھکانہ کیا

ہماری رائے میں تو نئی نسل کو ہندی کلچر اور زبان سے بچانے کا ایک ہی راستہ ہے کہ ابن انشا، پروین شاکر، فیض، اور میر و غالب جیسے اساتذہ کہے جانے والے قدیم شعرا اور اپنے تئیں نامور بنے کلاسیکی مصفنین پر مستقل پابندی لگا دی جائے اور ان کا کلام اور تصنیفات جلا دیے جائیں۔ اسی طرح اردو سے وہ ستر اسی فیصد الفاظ نکال دیے جائیں جو کہ سنسکرت اور ہندی سے اردو میں آئے ہیں تاکہ ہماری زبان اور کلچر بچ جائے۔ میرا مطلب ہے کہ محفوظ ہو جائے۔

امید ہے کہ ہندی کارٹونوں کو بند کرنے کے بعد ان معاملات پر بھی قوم سنجیدگی سے غور کرے گی۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عدنان خان کاکڑ

عدنان خان کاکڑ سنجیدہ طنز لکھنا پسند کرتے ہیں۔ کبھی کبھار مزاح پر بھی ہاتھ صاف کر جاتے ہیں۔ شاذ و نادر کوئی ایسی تحریر بھی لکھ جاتے ہیں جس میں ان کے الفاظ کا وہی مطلب ہوتا ہے جو پہلی نظر میں دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔

adnan-khan-kakar has 628 posts and counting.See all posts by adnan-khan-kakar

2 thoughts on “ہمارے بچے ہندی بول کر ہندوستانی ہو رہے ہیں

  • 06-08-2016 at 2:56 pm
    Permalink

    انکی تحریر سے اختلا ف کیا جا سکتا ھے مگر انھوں نےجس موضوع کو اٹھا یا ھے وہ ھماری فوری توجہ کا مستحق ھے۔ ھمارے دوست بلا وجہ اتنی زحمت فرمارھے ھیں صرف ضرورت یہ ھے کہ تمام پرو گرام قو می زبان میں ڈب کرکے دکھائے جائیں۔ نجانے پیمرا کس مرض کی دوا ھے۔

  • 09-08-2016 at 8:57 am
    Permalink

    “ہماری رائے میں تو نئی نسل کو ہندی کلچر اور زبان سے بچانے کا ایک ہی راستہ ہے کہ ابن انشا، پروین شاکر، فیض، اور میر و غالب جیسے اساتذہ کہے جانے والے قدیم شعرا پر مستقل پابندی لگا دی جائے اور ان کا کلام اور تصنیفات جلا دیے جائیں۔”
    مذاق ایک طرف مگر فیض صاحب پہلے ہی اردو سے سنسکرت اور ہندی کے الفاظ نکال کراسکی کا فی حد تک “تطہیر” فرما چکے ھیں. ھاں سا حرلدھیانوی کو البتہ اس لسٹ میں رکھا جا سکتا ہے-

Comments are closed.