ایک آزاد قلم تھا، نہ رہا


abdul-Majeed-487x400ڈاکٹر عبدالمجید

نقش فریادی میں فیض صاحب نے ’سارے گلستاں سے اچھے پھول‘ کے بارے میں لکھا کہ ’اجل کی آنکھ فقط ایک کو ترستی ہے، کئی دلوں کی امید کا سہارا ہو، فضائے دہر کی آلودگی سے بالاہو‘۔ دوستوں سے گلہ کیا جاتا ہے، ہنسی مذاق کی راہ نکالی جاتی ہے، ملاقات کا بہانہ ڈھونڈا جاتا ہے، میزبانی کا انتظام ہوتا ہے، طعام کے بہانے کلام کا موقع تلاش کیا جاتا ہے۔ لیکن دوستوں کے جنازے نہیں اٹھائے جاتے صاحب، مرثیے نہیں لکھے جاتے۔ یہ ہم سے نہیں ہو پائے گا۔ اور دوست جو صرف ممدوح ہی نہیں بلکہ مدیر بھی ہو، ہم خیال بھی ہو اور ہم سخن بھی، تو اس کی رخصتی کے بارے سوچنا بھی محال ہے۔ گئے دنوں کی بات ہے، انگریزی میں بلاگ لکھنے شروع کئے تو ایک ہم جماعت نے طعنہ دیا کہ ڈان میں لکھو تو پھر مانیں گے کہ تمہیں کچھ لکھنا وکھنا آتا ہے۔ برادرم ندیم فاروق پراچہ سے سفارش کی درخواست کی گئی۔ جواب آیا کہ مصدق سانول سے بات کر یں، کام ہو جائے گا۔ مصدق کو کچھ تحاریر دکھائیں جو انہیں پسند آئیں اور ہم نے کچھ مہینے ڈان کے لئے بلاگ تحریر کئے۔ ایک روز مصدق نے برقی پیغام بھیجا کہ ڈان اردو کا باقاعدہ آغاز ہو رہا ہے، کچھ لکھ کر بھیجیں۔ اردو نہیں لکھی جاتی صاحب، انگریزی کتابیں چاٹنے کی لت ہی ایسی لگ چکی ہے۔ کچھ ماہ گزر گئے اور ہم نے مصدق کی دعوت کو در خور اعتنا نہ سمجھا۔ اس اثنا میں وطن سے باہر جانے کا موقع ملا تو احساس ہوا کہ انگریزی پڑھنے والے زیادہ تر افراد ان خیالات اور نظریات سے واقفیت رکھتے ہیں جن کا ڈھنڈورا ہم پیٹ رہے ہیں لہٰذا اب اردو زبان میں مشق آزمائی کر کے دیکھ لیا جائے۔
12607258_10153204094831529_1525731992_n (1)جھٹ سے مصدق کو پیغام بھیجا کہ ہم اس میدان کارزار میں اترنے کو تیار ہیں۔ جواب آیا کہ اپنی تحریر ڈان اردو کے مدیر آزاد قلم دار کو بھیج دیجئے۔ آزاد قلم دار؟ بھلا یہ کیسا نام ہوا؟ کیا باقی قلم دار آزاد نہیں، ان کے لوح وقلم چھینے جا چکے ہیں یا خیالات پا بجولاں ہیں؟ بہر حال جیسے تیسے کچھ غیر مربوط سے الفاظ ان پیج کی نذر کئے اور آزاد صاحب کی جانب روانہ کر دیے۔آزاد کے متعلق معلوم ہوا کہ اصل نام سید امتیاز ہے اور ان کا مرغوب موضوع ہندی اور اردو کے لئے ایک منظم سکرپٹ تیار کرنا ہے جو دونوں زبانوں کے جاننے والے رابطے کے لئے استعمال کر سکیں۔ کچھ دن بعد ان سے فون پر بات ہوئی اور یوں ڈان اردو کے لئے مضامین کا ایک سلسلہ شروع ہوا۔ کئی مواقع پر الفاظ کی آنچ تیکھی تھی اور تحریر بلاگ سے زیادہ جذباتی تقریر لگتی تھی لیکن مصدق یا آزاد نے قدغن نہیں لگائی۔ پاکستانی اینکرز کے متعلق ایک طویل تحریر پر مصدق کا تبصرہ تھا: ’تیز تو ہے، مگر آنچ کم کرنا نا ممکن ہے، چلو دیکھی جائے گی‘۔ جماعت اسلامی کی ’رنگا رنگ‘ تاریخ کے متعلق مضامین کا سلسلہ شروع کیا تو آزاد نے ادارے کے اندر سے مزاحمت کا ذکر کیا۔ پھر یوں ہوا کہ مصدق کو سرطان کا مرض کھا گیا۔ طب کے جس شعبے سے یہ خاکسار وابستہ ہے، وہاں سرطان کی تشخیص روز مرہ کا معاملہ ہے۔ لیکن جب یہ آگ اپنے ہی آشیاں کو لپیٹ میں لیتی ہے تو احساس محرومی دو گنا ہوتا ہے۔ مصدق نے سرطان کے مرض کو شکست دی تھی، لیکن اس کا مدافعاتی نظام اس قدر کمزور ہو چکا تھا کہ ہسپتال سے ملی انفیکشن کا مقابلہ نہ کر سکا۔
ایک عدد فیلو شپ کے واسطے مصدق سے بات کرنی تھی سو ان سے رابطہ کیا۔ جواب موصول ہوا کہ کچھ دن کے لئے ہسپتال جانا ہے، واپسی پر تفصیل سے بات ہوتی ہے۔ اسی ہفتے سوشل میڈیا پر خبر ملی کہ مصدق اب ہم میں نہیں رہے۔ مصدق کے وصال کے بعد ڈان کی زمام اختیار نئے لوگوں کے ہاتھ آئی۔ جب جماعت اسلامی والے مضامین کے متعلق یہ سنا کہ اب نہیں چھپ سکیں گے تو یقین آیا کہ غزنوی کی تڑپ اور زلف ایاز کا خم اب باقی نہیں۔ خلافت کے متعلق کچھ تاریخی حقائق لکھے تو پیام ملا کہ یہ نہیں چھپ سکتا۔ نئی انتظامیہ کی کوتاہ نظری اور ’تھڑ دلی‘ کے متعلق آزاد بھائی سے پتہ چلتا رہا۔ وہ اس صورت حال سے سخت پریشان تھے اور بہتری کی تلاش میں رہتے تھے۔ ہم ترکی کی سیر کو نکلے تو وہا ں ترک نشریاتی ادارے کی اردو سروس کے متعلق معلوم ہوا۔ وطن واپسی پر آزاد بھائی کو وہ راستہ تجویز کیا تو انہوں نے متعلقہ افراد سے اس سلسلے میں بات کی اور ان کی دعوت پر ترکی کا دورہ بھی کیا۔ وہ ترکی ویب سائٹ کو ایک نئی جہت عطا کرنا چاہتے تھے اور ہم نے کئی بار اس موضوع پر تفصیلی گفتگو کی ۔ بات بہرحال بن نہ سکی اور وہ ہنوز ڈان کے لئے کام کرتے رہے۔
گزشتہ برس مئی کے مہینے میں ان سے کافی عرصے بعد بات ہوئی تو معلوم ہوا کہ انہیں بھی سرطان کا مرض لاحق ہے۔ جواں عمری میں یہ مرض کم ہی دیکھنے کو ملتا ہے اور جس طرز کا سرطان انہیں لاحق تھا، وہ بہت کم یاب ہے ۔ ان کی ہمت بندھانے کی کوشش کی اور کچھ تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ آزاد بھائی کے دن بہت کم ہیں۔ استاد محترم پر صورت حال افشا کی تو وہ بھی پریشان ہوئے۔ آزاد بھائی کا علاج جاری تھی اور ان سے گاہے بگاہے فیس بک کے ذریعے بات ہوتی۔ استاد محترم نے دنیا پاکستان کا بیڑہ اٹھایا تو آزادنے کہا: واہ ، کیا پلیٹ فارم کھڑا کیا ہے، مصدق ہوتے تو یہ دیکھ کر بہت خوش ہوتے۔ گزشتہ برس دسمبر میں آخری دفعہ ان سے بات ہوئی۔ ڈان نے ان کی تنخواہ روک رکھی تھی اور ان کو فارغ کرنے کے درپے تھے۔ آزاد کے مطابق کام کرنے کو بہت سا تھا لیکن وقت کم ۔ وہ ’ہماری بولی‘ پر اپنے کئے گئے کام کو مکمل کرنا چاہتے تھے اور اردو زبان میں سیکو لر ازم اور مذہب کے متعلق معلومات میں اضافے کے طالب تھے۔ کل شب خبر موصول ہوئی کہ آزاد قلم دار اب واقعی ’آزاد‘ ہو چکے۔ مجید امجد کی یاد آئی: میں روز ادھر سے گزرتا ہوں، کون دیکھتا ہے، میں جب ادھر سے نہ گزروں گا، کون دیکھے گا‘۔
کنار رحمت حق میں اسے سلاتی ہے، سکوت شب میں فرشتوں کی مرثیہ خوانی۔ طواف کرنے کو صبح بہار آتی ہے، صبا چڑھانے کو جنت کے پھول لاتی ہے۔


Comments

FB Login Required - comments

عبدالمجید عابد

عبدالمجید لاہور کے باسی ہیں اور معلمی کے پیشے سے منسلک۔ تاریخ سے خاص شغف رکھتے ہیں۔

abdulmajeed has 19 posts and counting.See all posts by abdulmajeed