ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے


\"Mustansar_Hussain_Tarar\"آکسفورڈ یونیورسٹی پریس کی امینہ سید اور آصف فرضی کے دماغوں کا بچہ یعنی ’’برین چائلڈ‘‘ ساتواں کراچی لٹریری فیسٹیول ہمیشہ کی مانند شاندار اور پُرہجوم تھا، بہت رونقیں تھیں لیکن۔۔۔میں ایک سناٹے میں حرکت کرتا تھا، مجھے کچھ سنائی نہ دیتا تھا، سوگواری اور ملال میرے ہم سفر تھے، لوگ مجھے پکارتے، تصویروں کے لئے، کتابوں پر آٹو گراف حاصل کرنے کے لئے اور مجھے سنائی نہ دیتا۔۔۔ یہ فیسٹیول نہ تھا ایک ’’شہر افسوس‘‘ تھا ’’واپسی کا سفر ‘‘ تھا۔۔۔ پچھلے برس وہ دونوں یہاں تھے اور اس برس نہ عبداللہ حسین تھا اور نہ انتظار حسین تھا۔۔۔ اُن دونوں

نے واپسی کا سفراختیار کرلیا تھا۔
چند روز پیشتر عبداللہ حسین کی لاڈلی بیٹی نور مجھے نئے گھر کی مبارک دینے آئی، کچھ تحفے لے کر آئی جن میں ہائی سنتھ کے پھول کا ایک گملا بھی تھا، میں نے کوشش کی کہ اُسے باتوں میں لگائے رکھوں، عبداللہ حسین کی کوئی بات نہ کروں اور اس کے باوجود ہم دونوں کی آنکھیں بھیگتی رہیں۔۔۔ بقول اُستاد دامن ’’آنکھوں کی لالی کہہ رہی ہے کہ روئے تم بھی ہو، روئے ہم بھی ہیں۔۔۔ اُسے عبداللہ حسین کے انگریزی ناول ’’دے افغان گرل‘‘ کی اشاعت کے حوالے سے کچھ مشورے کرنے تھے۔۔۔

تب میں نے اُسے بتایا کہ نور میں کراچی لٹریری فیسٹیول میں جا رہا ہوں وہاں میرے دوست اور تمہارے بابا کی یاد میں ایک خصوصی سیشن ہے جس کی صدارت انتظار حسین کریں گے تو وہ کہنے لگی ’’انکل آپ کو خبر نہیں کہ انتظار حسین تو پچھلے دو روز سے نیشنل ہسپتال میں بے ہوش پڑے ہیں، وینٹی لیٹر پر ہیں اور۔۔۔ کچھ اُمید نہیں۔۔۔‘‘ مجھے خبرنہ تھی۔۔۔میں نے فوراً سعود اشعر کو فون کرکے اُن کی خیریت دریافت کی تو اُس نے کہا کہ خیریت نہیں ہے، اگلی سویر ماڈل ٹاؤن پارک میں سیر کے بعد واپسی پر میں نیشنل ہسپتال چلا گیا۔۔۔ اگرچہ اجازت نہ تھی لیکن انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں، میں نے بھی کچھ دن رات نیم بیہوشی میں بسر کئے تھے تو ایک دو نرسوں اور ایک نوجوان ڈاکٹر نے مجھے پہچان کر وارڈ میں داخل ہونے کی اجازت دے دی۔۔۔اور وہاں نالیوں اور ٹیوبوں میں پرویا ہوا ایک بوڑھا بدن تھا، مصنوعی سانسوں کو اپنے اندر کھینچتا یوں کہ ہرسانس کے ساتھ اُس کا بدن لرزش میں آتاتھا، بستر سے بلند ہوتاتھا، مجھے انتظار کو یوں نہیں دیکھنا چاہیے تھا۔۔۔ بلکہ میں نے نوجوان ڈاکٹر سے پوچھا کہ یہ انتظار صاحب ہی ہیں ناں۔۔۔کہ اُن کا چہرہ تو ٹیوبوں اور پلاسٹک کے نقابوں میں روپوش تھا، نوجوان ڈاکٹرنے سرگوشی میں مجھے بتایا۔۔۔ تارڑ صاحب، اگرچہ طبی اخلاقیات میں یہ گنجائش نہیں لیکن ہم نے ان کے عزیزوں کو خبر کردی ہے کہ کوئی امید نہیں ہے، ویسے آپ ان کو پکار کے کچھ کہہ سکتے ہیں لیکن وہ جواب نہیں دے سکتے، کیا پتہ وہ سن سکتے ہیں یانہیں

\"Intizar

سعود اشعر نے مجھے یہ بھی بتایا تھا کہ میں نے اُن کے سرہانے کھڑے ہو کر انہیں آواز دی تھی۔۔۔انتظار حسین، انتظار حسین۔۔۔ لیکن اُن کے ہونٹ بھی نہ ہلے تھے۔۔۔ میری خواہش تھی کہ میں اُن کو پکاروں کہ۔۔۔ انتظار صاحب۔۔۔ یہ نصف صدی کا قصہ ہے جب ہم طفلِ مکتب تھے، ادب کے مکتب میں داخل ہوئے تھے جب ہم دونوں ’’مشرق‘‘ میں کالم لکھا کرتے تھے، آپ نے میرے پہلے سفر نامے ’’نکلے تری تلاش میں‘‘ کے بارے میں ایسا توصیفی کالم لکھا تھا کہ ہماری ہمت بندھ گئی، بعدازاں، ہم دونوں قدرے مختلف دنیاؤں میں بسیرا کرتے تھے، کچھ اختلاف بھی تھے اور کچھ آشنائیاں بھی تھیں۔۔۔ آپ کبھی کبھار میری خبر بھی لیا کرتے تھے اور آج میں آپ کی خبر لینے آیا ہوں تو آپ نے چُپ سادھ لی ہے۔ یاد رہے جب لاہور کے ایک ادبی میلے میں اردوناول کے بارے میں ایک سیشن مخصوص ہوا تھا تو آپ نے کہا تھا کہ اردو ناول کی بات ہو اور یہاں تارڑ اور عبداللہ حسین نہ ہوں۔ اُنہیں کیوں مدعو نہیں کیا گیا اور پھر آپ نے اپنے کالم میں بھی یہی شکایت کی تھی۔۔۔

آصف فرضی نے جب اردو کے بڑے ناولوں کا تذکرہ ایک تنقیدی مقالے میں کیا تو آپ نے کہا تھا کہ تم نے تارڑ کے ناول ’’راکھ‘‘ کو بھی شامل کیا تو مجھے خوشی ہوئی کہ اُس کے بغیر ناول کی تاریخ مکمل نہیں ہوسکتی۔ اور انتظار صاحب۔۔۔ ابھی چند ماہ پیشتر جب میں اسی انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں کچھ روز نیم بے ہوشی میں بسر کرکے ہسپتال کے ایک کمرے میں منتقل ہوا تھا تو آپ سعود اشعر کے ہمراہ لاٹھی ٹیکتے مجھے دیکھنے کے لئے چلے آئے تھے اور آپ نے کہا تھا۔۔۔ تبھی بازارِ ادب میں تمہارے بغیر کچھ رونق نہیں ہے، تمہاری گوپیاں بہت اداس ہیں، میں ٹھیک ہو جاؤ، یوں ٹیوبوں میں پروئے ہوئے آپ اچھے نہیں لگتے، اور جب میں نے سعود اشعر سے کہا کہ انتظار صاحب کو کیوں لے آئے ہو، وہ بمشکل قدم اٹھاتے ہیں تو اُس نے کہا تھا ۔۔۔ مستنصر، جب انہیں خبر ملی کہ تم بہت بیمار ہو، تمہارے آپریشن ہوئے ہیں اور ایک نازک حالت میں ہو تو انتظار پریشان ہوگئے، کہنے لگے مجھے لے چلو۔۔۔ انتظار صاحب، مجھے تو گماں بھی نہ تھا کہ آپ کے اندر میری الفت کے ایسے کنول کِھلتے ہیں۔۔۔ تو میں آج اُسی الفت کے تابع ہو کر آپ کی خبر لینے آیا ہوں، اورآپ نے چُپ سادھ لی ہے۔۔۔ ہیلو، ہیلو، انتظار حسین کیا آپ سن رہے ہیں۔۔۔ اور تب میں نے دعا کی کہ اے رب کچھ سہولت اس شخص کو عطا کر۔۔۔اسے یوں بے توقیر نہ کر، اتنی اذیت نہ دے، اس کی مشکل آسان کردے، یہ حیوان نہیں ہے، انسان ہے۔ اوراگلے روز میری دعا قبول ہوگئی، انتظار حسین مر گیا۔

میرا نہیں خیال کہ لاہور شہر میں اگر کوئی ادیب تھا، کوئی نامور اور پہچان والا تھا، صرف کتابیں پڑھنے والا تھا، وہ انتظار کے جنازے میں شریک نہ ہواہو۔
انتظار کے چہرے پر سرسوں کی زردی تھی۔۔۔ وہ ہمارے عہد کی شہر زاد تھی، کہانیاں کہتے کہتے سو گئی۔
زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا
ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے

فروری 2016

Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔