پاکستان میں محبت کی شادیاں


\"Mianکسی بھی انسان کے لیے اپنی پسند کے جیون ساتھی کا انتخاب کرنا اس کا بنیادی حق ہے لیکن اگر ہم پچھلی دو یا تین دہائیوں میں محبت کی شادی کرنے والوں کے اعداد و شمار اکٹھے کریں تو خوفناک حقائق سامنے آتے ہیں جن کے مطابق محبت کی یہ شادیاں زیادہ تر نہ صرف ناکام ہوئی ہیں بلکہ اپنے ساتھ ہزاروں گھرانوں کو بھی برباد کر گئیں۔ جہاں کہیں لڑکی والوں نے غیرت کے نام پر لڑکے، لڑکی یا دونوں کو قتل کر دیا اور یہ دشمنی اکثر خاندانی دشمنی میں بدل گئی یا قاتل جیل کی سلاخوں کے پیچھے چلا گیا اور اہل خانہ مقدمہ بازی میں ذلیل و خوار ہو گئے بعض اوقات لڑکی والے بدنامی کی وجہ سے اپنا علاقہ تک چھوڑنے پر مجبور ہو گئے گھر سے بھاگ کر شادی کرنے والی لڑکی کے خاندان کے نا صرف مرد معاشرے کی نام نہاد غیرت کی وجہ سے اپنے خاندان اور علاقے میں رسوا ہوئے بلکہ گھر سے بھاگنے والی لڑکی کی چھوٹی بہنیں بھی اچھے رشتے کے انتظار میں بوڑھی ہو گئیں محبت کی ان شادیوں میں سب سے زیادہ عتاب کا شکار لڑکی بنی جسے کبھی لڑکے کے خاندان والوں نے دل سے قبول نہیں کیا اور ساری زندگی ساس، نندوں اور دوسرے رشتے داروں کے طعنوں اور حقارت کا سامنا کرنا پڑا اور کبھی لڑکے نے شادی کے بعد محبت کا بھوت سر سے اترنے کے بعد طلاق کا لفظ تین بار بول کر اس لڑکی کو ہمیشہ کے لیے زندہ درگو کر دیا۔ ایسا بھی ہوا کہ محبت کی شادی کرنے والی لڑکی نے جس لڑکے کے لیے نہ صرف اپنے ماں باپ، بہن بھائیوں کو چھوڑا بلکہ پورے معاشرے سے بھی بغاوت کی اس لڑکے نے اس لڑکی کو چھوڑ کر یا ساتھ رہتے ہوئے دوسرا یا تیسرا عشق فرمانا شروع کر دیا یا لڑکی گھر سے بھاگتے وقت اپنے ساتھ جو زیور اور نقدی وغیرہ لے کر آئی وہ لے کر فرار ہو گیا یا اسے کسی دھندا کروانے والے اڈے پر بیچ کر فرار ہو گیا۔

محبت کی شادی کو لے کر پاکستانی معاشرہ عام طور دو انتہاؤں کے درمیان پھنسا ہوا ہے جہاں ایک انتہا پسند سوچ لڑکی یا لڑکے کو پسند یا محبت کی شادی کی اجازت دینا تو دور کی بات اس کے اظہار پر بھی انہیں بے غیرت سمجھتی ہے۔ اس انتہا پسندی کے ردعمل کے طور پر ہی اکثر جوڑے گھر سے بھاگنے کا فیصلہ کرتے ہیں یا بصورت دیگر والدین ان کی شادی زبردستی اپنی مرضی سے کر دیتے ہیں جو اکثر طلاق پر ختم ہوتی یا دونوں میاں بیوی ساری زندگی گھٹ گھٹ کر جیتے اور مرتے رہتے ہیں۔

آج کل پاکستان میں سوشل، الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے علاوہ فلموں ڈراموں اور کتابوں میں ایک خاص مکتبہ فکر کے لوگ معاشرے کو ایک دوسری قسم کی انتہاپسندی کی طرف مائل کر رہے ہیں کے شادی تو وہی ہے جو آپ اپنی مرضی سے گھر والوں سے بغاوت کر کے کرتے ہیں۔ یہ اصحاب تو یہاں تک کہہ دیتے ہیں کہ جن لوگوں نے اپنے والدین کی مرضی سے شادیاں کی ہیں وہ تو گویا اپنی بیوی سے نکاح کے نام پر زنا کرتے ہیں۔ اٹھو، نکلو، بھاگو گھروں سے، کرو بغاوت اپنے والدین سے اور جی لو اپنی زندگی اپنی مرضی سے۔ فقط اسی صورت میں تم کامیاب شادی شدہ زندگی گزار سکتے ہو۔ اگر بالفرض والدین اور معاشرے سے بغاوت کر کے بھی یہ جوڑے ایک کامیاب شادی شدہ زندگی گزارنے میں کامیاب ہو جائیں تب بھی کچھ بات سمجھ میں آتی ہے لیکن پاکستان میں محبت کی یہ شادیاں زیادہ تر عبرت ناک انجام پر ہی کیوں اختتام پذیر ہوتی ہیں؟

جن معاشروں سے متاثر ہو کر ہمارے یہ دانشور نما انتہاپسند نوجوان جوڑوں کو دن رات بغاوت پر آمادہ کرتے رہتے ہیں ان معاشروں میں تعلیم کی شرح تقریباً 100% ہے۔ لڑکی اور لڑکا یکساں طور پر عملی زندگی کا حصہ ہوتے ہیں اور عملی زندگی کو دونوں بخوبی سمجھتے ہیں۔ وہاں لڑکی گھر کی چاردیواری میں قید نہیں ہوتی جو باہر کی دنیا سے بالکل بےخبر ہو اور وہاں لڑکی لڑکے کے رحم وکرم پر بھی نہیں ہوتی بلکہ خود کماتی ہے۔ وہاں سوشل ویلفیئر کے ادارے بھی ہیں جو شادی ناکام ہونے یا کسی بھی حادثے کی صورت میں ہر قسم کا مکمل تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ پاکستان کی اکثریتی آبادی میں کیا ہماری لڑکی اس قابل ہوتی ہے کہ وہ اپنی آنے والی زندگی کے بارےمیں صحیح فیصلہ کر سکے؟ کیا ہمارے ہاں کوئی سرکاری ادارہ ہے جو مشکل وقت میں لڑکی یا لڑکے کی مالی یا کسی بھی قسم کی مدد کر سکے؟ کیا ہماری اکثریتی آبادی کا ذہنی معیار اس سطح پر ہے کہ وہ کہ وہ اپنے بچوں کی خوشی کے لیے ان کے فیصلوں کو دل سے تسلیم کر لیں یا ہمارے معاشرے کا یہ مائنڈ سیٹ بن چکا ہے جس کے مطابق وہ محبت کی شادی کو لڑکے یا لڑکی کا حق سمجھیں اور انہیں اسی طرح عزت اور احترام دیں جیسے والدین کی مرضی سے شادی کرنے والوں کو دیتے ہیں؟ ہرگز نہیں تو پھر اس طرح کی شادیوں کا وہی انجام ہونا ہوتاہے جو ہمیں اعددوشمار بتا رہے ہیں۔

کسی بھی مسئلے کا حل کبھی بھی انتہاپسند سوچ کے ساتھ ممکن نہیں ہوتا۔ زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر اعتدال پسندی کا راستہ ہی وہ واحد راستہ ہے جو نوجوان نسل کو ان کی پسند یا محبت کی شادی کرنے کا حق دلا سکتا ہے اور اسی صورت میں ایسی شادیوں کی کامیابی کے امکانات بہت زیادہ ہوں گے۔ جبکہ دو انتہاؤں کے ردعمل کے نتیجے میں شادیاں جس برے طریقے سے ناکام ہوتی ہیں وہ سب کے سامنے ہے دوسری بات محبت کی صرف شادی کرنا ہی اہم نہیں ہوتا بلکہ اس سے بھی زیادہ اہمیت اس بات کی ہے کہ اس شادی کو ہر صورت میں کامیاب بنایا جائے جس کے لیے پوری سوسائٹی کے مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے اور اس مائنڈ سیٹ کو تبدیل کرنے میں والدین اور میڈیا اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔ والدین اپنے بچوں کو اپنی ملکیت سمجھنے کی بجائے بچپن ہی سے ان کی تربیت اس طرح کریں کہ اولاد کو اپنے تجربات کی روشنی میں گائیڈ ضرور کریں لیکن اپنے فیصلے ان پر مسلط نہ کریں اس طرح نہ صرف بچوں کے اعتماد ممیں اضافہ ہوگا بلکہ یہ عملی زندگی کو ان بچوں کی نسبت جلدی سمجھنا شروع کر دیں گے جن کی زندگی کے تمام فیصلے ان کے والدین کرتے ہیں۔ اگر والدین اپنےبچوں کی تربیت اچھے طریقے سے کریں اور انہیں برا بھلا کہنے کی بجائے اپنی فرسودہ روایات کو بدلنے کے لیے ان پر نئے سرے سے غور کریں تو بڑی حد تک اس مائنڈ سیٹ کو بدلا جا سکتا ہے۔ والدین سے بھی زیادہ میڈیا اس مائنڈ سیٹ کو بدلنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے لیکن پاکستان کے زمینی حقائق کو سامنے رکھ کر نہ کہ ایک دوسری قسم کی انتہاپسندی کا مظاہرہ کر کے جس کا ذکر پہلےکیا جا چکا ہے۔

اس تمام تر مایوس کن صورت حال کے باوجود یہ بات خوش آئند ہے کہ پچھلے دس بیس برسوں میں والدین اور معاشرے کی سوچ میں کسی حد تک تبدیلی ضرور آئی ہے اور آج اکثر والدین اپنی اولاد کو ان کی پسند یا محبت کی شادی کا یہ حق دینا چاہتے ہیں آنے والے وقت میں ایسے والدین کی تعداد میں مزید اضافہ ہوگا۔ ہمیں جہاں محبت یا پسند کی شادیوں کو دل سے قبول کرنے کی ضرورت ہے وہاں والدین کی مرضی جس میں لڑکی یا لڑکے کی رضامندی بھی شامل ہو کے بارے میں اس تاثر کو بھی ختم کرنے کی ضرورت ہے کے جو لوگ والدین کی مرضی سے شادی کرتے ہیں وہ کبھی خوش نہیں رہ سکتے۔ حقیقت یہ کہ محبت صرف شادی سے پہلے ہی نہیں بلکہ شادی کے بعد بھی ہو سکتی ہے۔ آپ اپنے آنگن میں پودا لگاتے ہیں تو آہستہ آہستہ آپ کو اس پودے سے بھی انسیت ہو جاتی ہے میاں بیوی کارشتہ تو پھر بہت بڑا رشتہ ہوتا ہے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔