نوے سیکنڈ میں زندگی یا موت کا فیصلہ


\"khawar

لاکھوں کلو وزنی جہاز چنگھاڑتا ہوا زمین سے ٹکراتا ہے اور اپنی ہی پیدا کردہ اندھا دھند طاقت کی وجہ سے پیٹ کے بل رگڑ کھاتا ہوا کسی غصیلے بھینسے کی طرح کئی کلومیٹر تک گھسٹتا چلا جاتا ہے۔ زمین اور جہاز کی باڈی کی رگڑ سے کئی کئی میٹر لمبی چنگاریاں پیدا کر رہی ہے جو اگر جہاز کے انجن کے ساتھ موجود ایندھن کے ذخیرے میں گھس جائیں تو سب کا کام تمام۔

آپ اسی بدقسمت جہاز کے اندر ہیں۔ فضائی میزبان کی چیختی ہوئی آواز آپ کے کان میں پڑتی ہے کہ ”آگے کی طرف جھک جائیں“۔ (جہاز کی بریکس کے کئی پاﺅنڈ کے پریشر کی وجہ سے آپ پہلے ہی آگے کی طرف جھکاﺅ محسوس کر رہے ہوتے ہیں، یہ اس لئے کہا جاتا ہے کہ اپ اس پریشر کو ریززسٹ نہ کریں اور دونوں ہاتھوں کا کراس بنا کر ماتھے اور سر کے اوپر رکھیں اور سامنے والی نشست پر ٹکا لیں۔ ماضی میں اس طریقے سے کافی جانیں بچائی جا چکی ہیں)۔

\"brace-position\"

جہاز رک جاتا ہے۔ آپ کا فضائی میزبان جہاز کا دروازہ کھول کر آپ کو بلاتا ہے اور کہتا ہے اس طرف آئیں، جہاز سے باہر نکلیں، سلائیڈ کریں ( ربڑ کی سلائیڈ جو ہنگامی حالت میں جہاز کا دروازہ کھولنے پر نکلتی ہے) اور جہاز سے دور چلے جائیں ( تقریباً دو سو میٹر دوری لازمی ہے)۔ وہ جوان کا بچہ یا بچی خود جلتے ہوئے جہاز میں رک کر آپ کو باہر جانے کا کہہ رہا ہے، آپ اور باقی تمام مسافروں کو وہ اس لوہے کی بھٹی میں جل کر مرنے سے بچانا چاہتا ہے۔

آگ کی حدت، وقت کے ساتھ بڑھ رہی ہے۔ اس غریب کے پاس جہاز کے دروازے کھلنے کے بعد صرف نوے سیکنڈ ہیں ۔ وہ دیوانہ وار چیخ چیخ کر آپ کو بلا رہا ہے۔ آپ اس موقع پر کیا کرنا چاہیں گے؟ کوئی حل ، کوئی جواب آتا ہے ذہن میں؟ ظاہر ہے بھائی جی، غریب کی چیخ پکار تو ویسے کوئی نہیں سنتا سو اس کو بھی چیخنے دو۔ دوسرا یہ کہ پیپسی کی بوتل کیا مانگ لی یہ تو ایسے گھور رہا تھا جیسے مجھے کھا جائے گا۔ آخر کو ٹکٹ کے پیسے بھرے ہیں میں نے۔ باہر تو نکل جاﺅں گا پہلے اپنا لیپ ٹاپ والا بیگ تو نکال لوں۔ اسی میں پاسپورٹ اور اقامہ ( کسی ملک میں کام کرنے کا اجازت نامہ) ہے۔ کیونکہ موت تو ایک دن آنی ہی ہے، یہ دوبارہ بنوانے پڑ گئے تو بھی تو موت ہی ہے۔ اگر آپ ایسا سوچتے ہیں تو یقین کریں آپ اکیلے نہیں۔ ہمارے ہاں پچانوے فیصد لوگ اسی سوچ کے حامل پائے جاتے ہیں۔

\"Emirates-jet-crash-lands-in-Dubai-engulfed-in-flames\"

تین اگست کو امارات ائیر لائن کے جہاز کی ہنگامی لینڈنگ دبئی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہوئی۔ پرواز نمبر پانچ دو ایک جب زمین پر اترنے لگی تو اس کے ٹائر نہیں نکل سکے جس بنا پر پائلٹ کو ”بیلی لینڈنگ“ کرنا پڑی یعنی جہاز کو پیٹ کے بل اتارنا پڑا۔ اوپر لکھا ہوا سارا منظر اسی جہاز کو ذہن میں رکھ کر لکھا ہے کہ کم و بیش یہ ہی صورتحال رہی ہو گی۔ تحقیق تو بعد میں ہو گی لیکن اگر یہ ”پلینڈ لینڈنگ“ تھی یعنی کہ کپتان کا ارادہ جہاز کو باقاعدہ پیٹ کے بل اتارنے کا تھا تو اس صورت میں جہاز کو اتارنے سے پہلے عملہ حفاظتی اقدامات کرتا ہے جس میں آگے جھکنے کا طریقہ، نوک دار چیزوں مثلاً چشمے اور ایڑھی والے جوتے اتار دینا اور کچھ دوسری چیزیں شامل ہیں۔

سماجی رابطے کی ایک ویب سائٹ پر شائع پوسٹ اور اس پر جاری مکالمہ نظر سے گزرا۔ ایک شخص نے خصوصاً بھارتی مسافروں کو کافی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس رویے کو نسل پرستانہ رویہ کہا گیا ہے جو درست نہیں ہے، ہاں الفاظ اس کے نامناسب ہو سکتے ہیں۔ اس نے جو بھی الفاظ استعمال کیے ان سے قطع نظر ، بہت معذرت کے ساتھ لیکن صورتحال ہمارے ہاں بھی کچھ ایسی ہی ہے۔ لوگ زندگی بچانے کی بجائے اپنے سامان کی طرف لپکتے ہیں۔

\"emirates-crash\"

جہاز رکنے کے بعد نوے سیکنڈ میں خالی کرنا لازمی ہے ورنہ آپ کی جان کی کوئی ضمانت نہیں۔ خدا بھلا کرے اس پرواز پر موجود مستعد عملے کا کہ انھوں نے پھر بھی سب مسافروں کو بخیر و عافیت نکال لیا۔ پتہ نہیں لوگوں کو موت سامنے ہوتے ہوئے بھی اسکا ادراک کیوں نہیں ہوتا۔ جلتے ہوئے جہاز سے بھاگ نکلنے کے وقت سب کو اپنے ماں باپ، بھائی بہن یا بیوی بچوں کے بجائے سامان کیوں یا د آتا ہے۔

بنیادی مسئلہ میری نظر میں یہاں ” آگہی“ کا ہے۔ بچوں کو تعلیم اور کھیل کے ساتھ ساتھ ”سفر“ کرنا بھی سکھانا چاہیئے۔ چاہے زمینی ہو یا فضائی۔ ان کو بتانا چاہیے کہ سفر میں کیا کھانا ، پینا اور پہننا چاہیے۔ اس کے علاوہ ساتھی مسافروں کے حقوق کے بارے میں بھی بتانا چاہیئے۔ بڑوں کو آگہی دینا زرا مشکل ہے جو خیر سے گاڑی کی سیٹ بیلٹ نہیں لگاتے کہ الجھن ہوتی ہے، ہیلمٹ نہیں پہنتے کہ گرمی لگتی ہے، خود اپنی موٹر سائیکل سو کی سپیڈ پر دوڑاتے ہیں اور جب کوئی اوور ٹیک کرے تو کہتے ہیں تینوں کادی کالی اے، چن تے پونچنا ای۔ ( تجھے بڑی جلدی ہے، چاند پر جانا ہے)۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

خاور جمال

خاور جمال پیشے کے اعتبار سے فضائی میزبان ہیں اور اپنی ائیر لائن کے بارے میں کسی سے بات کرنا پسند نہیں کرتے، کوئی بات کرے تو لڑنے بھڑنے پر تیار ہو جاتے ہیں

khawar-jamal has 23 posts and counting.See all posts by khawar-jamal

2 thoughts on “نوے سیکنڈ میں زندگی یا موت کا فیصلہ

  • 07-08-2016 at 8:08 pm
    Permalink

    I think it’s not about education but how people are treated which caused this issue. Do you think that any one with authority in UA will give a damp if anindian or Pakistani do not show them their documents but their attitude towards Goras will be very different.Blaming our own people for something that was not their mistake is a practice which should be abolished.

  • 07-08-2016 at 10:16 pm
    Permalink

    Yes you are right the attitude problem is always there but some how our people do not try or want to adopt. I have seen people traveling for so many years yet they dont know how to travel. You have a point of view and i appreciate it.

Comments are closed.