مولانا شیرانی، جہاد اور اقلیتیں


\"sherani\"اسلامی نظریاتی کونسل کی طرف سے گزشتہ کچھ عرصہ سے متنازع اور تکلیف دہ تجاویز سامنے آتی رہی ہیں۔ ان میں بعض باتوں پر تفصیل سے مباحث بھی ہوتے رہے ہیں۔ انہی متنازع خیالات کی وجہ سے کونسل کے سربراہ مولانا محمد خان شیرانی بھی تنقید کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔ ان صفحات کے علاوہ دیگر حلقوں کی طرف سے بھی اسلامی نظریاتی کونسل کو ختم کرنے کی سفارش کی جاتی رہی ہے۔ تاہم اسلامی نظریاتی کونسل کے حالیہ سہ روزہ اجلاس کے بعد مولانا محمد خان شیرانی نے ایسا موقف اختیار کیا ہے، جس کی توصیف بھی واجب ہے اور ان باتوں کو زیادہ سے زیادہ پھیلانے کی بھی ضرورت ہے۔ حالیہ اجلاس کے دوران حکومت کی طرف سے اسکولوں میں قرآن کی لازمی تدریس کےلئے تیار کئے گئے سلیبس پرغور کیا گیا۔ اس معاملہ پر رائے دیتے ہوئے کونسل کے بعض اراکین نے اس بات پرشدید ردعمل ظاہر کیا تھا کہ حکومت کے مقرر کردہ سلیبس میں جہاد سے متعلق آیات شامل نہیں کی گئیں اور انہیں شامل کرنا ضروری ہے۔ البتہ نظریاتی کونسل نے حتمی طور پر یہ فیصلہ کیا ہے کہ اسکولوں میں قرآن کی تدریس کی تجویز کو مسترد کر دیا جائے۔

حکومت نے اسکولوں میں پہلی سے بارہویں جماعت تک قرآن پڑھانے کا منصوبہ تیار کیا ہے۔ حکومت کا خیال ہے کہ اگر بچے اسکولوں میں ہی قرآن پڑھنا شروع کر دیں گے تو والدین کو قرآن کی تدریس کا خصوصی اہتمام نہیں کرنا پڑے گا۔ نہ ہی بہت سے بچے مدرسوں میں قرآن کی تعلیم کےلئے جائیں گے۔ اس طرح انتہا پسندی کی تبلیغ کے حوالے سے مدرسوں پر جو الزام عائد ہوتا ہے، وہ اس سے بھی محفوظ رہیں گے۔ حکومت کے ارادے کتنے ہی نیک ہوں لیکن ایک ایسے ملک میں جہاں اگرچہ مسلمانوں کی اکثریت رہتی ہے لیکن دیگر اقلیتی عقائد کی بھی بڑی تعداد آباد ہے، اسکولوں سے یہ شکایات موصول ہوتی رہتی ہیں کہ غیر مسلم بچوں کو ان کی خواہش کے برعکس اسلامیات پڑھنی پڑتی ہے کیونکہ اسکول کے پاس اقلیتی عقیدہ کے طالب علموں کےلئے متبادل تعلیم کا انتظام موجود نہیں ہوتا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ اس مقصد کےلئے مناسب متبادل سلیبس اور کتابوں کی تیاری اور اساتذہ کی تقرری کا اہتمام نہیں کیا گیا۔ پرائیویٹ اسکول خالصتاً منافع کمانے کےلئے چلائے جاتے ہیں۔ اس لئے اگر کوئی اکا دکا طالب علم اپنے عقیدے کے مطابق متبادل مذہبی تعلیم حاصل کرنے کی خواہش کا اظہار کرتا ہے تو کسی نہ کسی بہانے سے اس سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یوں پاکستان میں اسلامیات کو لازمی مضمون کی حیثیت دے کر اقلیتی عقائد کے لئے امتیازی سلوک کا ایک نیا راستہ بھی ہموار کر دیا گیاہے۔ اب قرآن کی لازمی تعلیم کے حوالے سے یہ صورتحال زیادہ مشکل اور سنگین ہو سکتی تھی۔

خاص طور سے اگر سرکاری اسکولوں میں قرآن کی تدریس کو اس مطالبہ کے تناظر میں دیکھا جائےکہ قرآن فہمی میں جہاد کے بارے میں اسباق شامل ہونے چاہئیں۔ اسلامی نظریاتی کونسل کے بعض ارکان کے اس مطالبہ پر گفتگو کرتے ہوئے دو روز قبل یہاں یہ موقف اختیار کیا گیا تھا کہ پہلے اس بات کا فیصلہ ہونا ضروری ہے کہ جہاد کیا ہے اور اسکولوں میں جہاد کا کون سا سبق پڑھایا جائے۔ اس رائے کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ دنیا میں شدت پسند گروہوں کی طرف سے جاری جنگ جوئی اور دہشتگردی کو اسلامی جہاد کا نام دے کر جائز قرار دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ ایسی صورت میں اگر اسکولوں میں بھی جہاد کے بارے میں ویسے ہی اسباق یاد کروائے جائیں گے اور اذہان کو دوسرے عقائد سے مقابلہ اور جنگ پر تیار کیا جائے گا تو پاکستان جیسے ملک کی مشکلات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔ یہ طریقہ کار پاکستان میں دہشتگردی کے خلاف جاری آپریشن ضرب عضب اور قومی ایکشن پلان کے تقاضوں کے برعکس ہوتا۔ اس کے علاوہ اسکولوں میں اقلیتی بچوں کےلئے مزید مشکلات بھی سامنے آتیں۔ تاہم اسلامی نظریاتی کونسل نے فی الوقت اسکولوں میں قرآن کی تدریس کی تجویز کو مسترد کر کے ایک احسن فیصلہ کیا ہے۔ حکومت کو اس مشاورت پر عمل کرنا چاہئے۔

آج پریس کانفرنس میں اس حوالے سے صورتحال کی وضاحت کرتے ہوئے اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ مولانا محمد خان شیرانی نے فساد اور جہاد کا فرق واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ کوئی فرد یا گروہ اپنی مرضی کو مسلط کرنے کو جہاد کا نام نہیں دے سکتا۔ انہوں نے کہا کہ دین میں جبر نہیں ہے۔ اللہ نے انسان کو عقل دی ہے اور وہ خود یہ فیصلہ کرنے کا اہل ہے کہ اسے کون سا راستہ اختیار کرنے کی ضرورت ہے۔ مولانا شیرانی کا موقف تھا کہ پاکستان میں پہلی افغان جنگ کے دوران امریکہ کی خواہش پر اسکولوں اور مدرسوں میں جہاد کی تعلیم دینے کا آغاز ہوا تھا۔ کیونکہ امریکن کمیونزم کے خلاف اپنی جنگ میں زیادہ سے زیادہ لڑنے والے بھرتی کرنا چاہتے تھے۔ وگرنہ مدارس کے پرانے سلیبس کو دیکھا جائے تو طالب علموں کو سماجیات ، اخلاقیات اور اسلامی روایات اور ثقافت کی تعلیم دی جاتی ہے اور انہیں ایک صحت مند معاشرے کےلئے تیار کیا جاتا تھا۔

جہاد کی وضاحت کرتے ہوئے مولانا محمد خان شیرانی نے کہا کہ جہاد کے دو پہلو ہوتے ہیں۔ ایک کا تعلق عقیدہ اور نظریہ سے ہے جبکہ دوسرا عملی اقدامات سے متعلق ہے۔ عقیدہ کا تحفظ کرنے کی جہدوجہد کا مطلب ہے کہ شیطان کے گمراہ کن راستے پر چلنے سے گریز کیا جائے۔ برائی سے خود کو محفوظ رکھ کر ہی شیطان کو شکست دی جا سکتی ہے اور یہی عقیدہ کی حفاظت کےلئے کیا جانے والا جہاد بھی ہے۔ جہاد کی دوسری قسم عملی جدوجہد سے متعلق ہے۔ مثال کے طور پر غربت سے نجات پانے کےلئے سعی و کوشش کرنا۔ یعنی محنت مزدوری سے اپنے معاشی حالات کو بہتر بنانے کی کوشش کی جائے۔ اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہو سکتا کہ دوسروں کا مال اسباب لوٹ کر اپنی غربت دور کرنے کو جہاد قرار دیا جائے گا۔ جہاد کے بارے میں سوالوں کے جواب دیتے ہوئے مولانا شیرانی نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ کسی ایک آیت یا حکم سے اس بارے میں راستے کا تعین نہیں ہو سکتا۔ قرآن ایک مکمل ضابطہ حیات ہے۔ کسی موضوع پر قرآن کی منشا جاننے کےلئے پورے پیغام کو سمجھنا ضروری ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی شخص یا گروہ طاقت کے زور پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوشش کرے گا تو اسے جہاد نہیں کہا جا سکتا۔ یہ تو فساد ہو گا۔ اس کی اسلام میں کوئی گنجائش نہیں ہے۔

مولانا محمد خان شیرانی نے مزید وضاحت کی کہ جہاد سے متعلق زیادہ تر آیات مدنی ہیں۔ یہ اس وقت نازل ہوئیں جب مسلمان مدینہ منورہ میں اپنی ریاست قائم کر چکے تھے۔ جہاد کے بارے میں آیات کے ذریعے مسلمانوں کو یہ پیغام دیا گیا تھا کہ وہ کس طرح حملہ آوروں سے اپنی ریاست کی حفاظت کر سکتے ہیں۔ ان آیات کا یہ مطلب نہیں ہے کہ اسلام کا نعرہ بلند کرتے ہوئے دوسرے ملکوں یا علاقوں میں جا کر انتشار اور فساد برپا کیا جائے۔ مولانا شیرانی نے آج پریس کانفرنس میں اس بات کی بھی وضاحت کی ہے کہ اسکولوں میں قرآنی اسباق کے ساتھ دوسرے مذاہب کے بارے میں بھی تعلیم دینا ضروری ہے تا کہ بچوں میں باہمی احترام کا جذبہ پیدا ہو۔ تاہم انہوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ملک کے عیسائی اور ہندو مذہبی رہنماؤں نے ابھی تک اس حوالے سے اسلامی نظریاتی کونسل کے ساتھ رابطہ و تعاون نہیں کیا ہے۔ ان کی مدد و تعاون سے اسکولوں میں دیگر مذاہب کی تدریس کےلئے سلیبس تیار کیا جا سکتا ہے۔

اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ کی جہاد کے حوالے سے باتیں اور اسکولوں میں دیگر مذاہب کی تدریس شروع کرنے کی تجویز ایک مثبت اور خوش آئند پیش رفت ہے۔ مسلمانوں میں جہاد کے حوالے سے غلط فہمی کو عام کیا جاتا ہے اور اسے قتل و غارتگری کا دوسرا نام بنا دیا گیا ہے۔ پاکستان میں طالبان ، عراق و شام میں داعش ، نائیجیریا میں بوکو حرام اور دنیا کے مختلف ملکوں میں اپنے مخصوص مقاصد کےلئے دہشت گردی میں ملوث گروہ اپنے ظلم و جبر کو جہاد کا نام دے کر اسلامی اقدام قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اسی حوالے سے جھوٹا پروپیگنڈا کر کے نوجوانوں کو گمراہ کرنے اور اپنے شیطانی مقاصد کےلئے استعمال کرنے کی کوشش بھی کی جاتی ہے۔ ان حالات میں جہاد کی مثبت وضاحت اور یہ پیغام عام کرنے کی ضرورت ہے کہ جہاد دراصل اپنی اصلاح اور بہتر زندگی کےلئے جائز طریقے سے جدوجہد کرنے کا نام ہے۔ یہ جنگ مسلط کرنے کا نام نہیں ہے بلکہ اپنے ملک پر حملہ ہونے کی صورت میں بھی حکومت کی اپیل پر ہی دشمن کے مقابلے پر اترا جا سکتا ہے۔

مولانا شیرانی کا یہ موقف بھی اہم اور قابل غور ہے کہ اسکولوں میں طالب علموں کےلئے دیگر مذاہب کے بارے میں بنیادی باتوں پر مبنی اسباق شامل کئے جائیں اور انہیں ان مذاہب کے مذہبی رہنماؤں کے تعاون اور رہنمائی میں تیار کیا جائے۔ پاکستان میں یہ قدم اٹھانا اس لئے بھی اہم ہے کہ درسی کتابوں میں دوسرے مذاہب کے بارے میں متعصب معلومات شامل ہونے کی خبریں سامنے آتی رہتی ہیں۔ بھارت سے سیاسی اختلافات کو یا قیام پاکستان کی جہدوجہد کا ذکر کرتے ہوئے بعض مصنف ہندوؤں اور ان کے عقائد کو مورد الزام قرار دینے کی کوشش کرتے ہیں جس سے تعصب اور غلط فہمیاں پیدا ہونا لازم ہے۔ اسی طرح بعض دوسرے حوالوں سے عیسائیوں یا یہودیوں کے بارے میں منفی جذبات کو ابھارنا بھی غلط اور منفی اقدام ہے۔ یہ قابل تحسین ہے کہ اسلامی نظریاتی کونسل کے سربراہ اب پاکستانی اسکولوں کے سلیبس میں اس کمزوری کی نشاندہی کر رہے ہیں۔ حکومت کو غور سے ان باتوں کو سننا اور ان پرعمل کرنا چاہئے۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

سید مجاہد علی

(بشکریہ کاروان ناروے)

syed-mujahid-ali has 673 posts and counting.See all posts by syed-mujahid-ali