ہر جانب قبریں ہی قبریں ہیں


قبریں ہی قبریں ہیں\"naseer
ہر جانب
ساکت و صامت
چلتی پھرتی
خالی اور لبالب
ہر جانب قبریں ہی قبریں ہیں

تازہ، پھولوں سے اٹی
بوسیدہ، گھاس اُگی
کچی، پختہ
نام آور، بے کتبہ
ہر نوع کی، ہر قامت کی
نو گز کی، بالشت سی
دبلی پتلی، فربہ، ڈھڈو
نو پیدا، ننھی منی، بوڑھی بُوبک
سیدھی، ٹیڑھی، کبڑی، ہموار، مسطح
بے دیپ، اندھیری، شب گوں
روشن اور کشادہ
زندہ اور شہیدی
لاوارث، پوشیدہ اور فِراری
مغوی، قاتل، ریپ ہوئی، مقتولی
ہر جانب قبریں ہی قبریں ہیں

سڑکوں پر فراٹے بھرتی
دفتروں اور گھروں میں
بازاروں، ریستورانوں اور پلازوں میں
ہر جانب قبریں ہیں
دیمک کھائے رشتوں کی کہنہ چُپ اوڑھے
بارش میں بھیگتی، دھوپ میں جلتی،
رات میں ڈوبی
مرگیلی آوازوں اور جنازوں کی بھیڑ لگائے
آیتوں اور دعاؤں کی تقدیس جگائے
اپنے اپنے مردے اٹھائے
مفرد اور مجموعی،
ہر جانب قبریں ہی قبریں ہیں!!

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اسی بارے میں: ۔  ایم کیو ایم پر یقین کیوں نہیں؟