ساڑھے تین لاکھ کی گھڑی میں ساڑھے آٹھ


\"wajahat\"تشکر ایک عام انسانی رویہ ہے ، خوبی اس میں یہ ہے کہ تشکر کی ہرصورت شکر اور مٹھاس سے لبریز ہوتی ہے۔ فیض نے سوال کیا تھا کہ ملکہ زندگی کا شکر کس طور سے ادا کیا جائے۔ زندگی تو بذات خود ایک احسان ہے اور لطیفہ غیبی ہی کہنا چاہیے کہ اس احسان کا ہماکچھ مدت کے لیے ہمارے کاندھوں پر آ بیٹھا۔ اس میں جو مہلت نصیب ہوئی اس میں احسان کی صورتیں دو رہیں؛استاد او ر دوست۔ استاد جو کسی لالچ کے بغیر اپنے علم خزانے سے رہنمائی کے ہیرے موتی دان کرے۔ استاد کا منصب ایک لفظ میں بیان کیا جائے تو اچھائی کے تسلسل اور فروغ کی ضمانت دیتا ہے۔ دوسری طرف دوست ہوتے ہیں ۔ دوست کو رہنمائی سے بھی غرض نہیں۔ یہ من چاہے کی وہ سنگت ہے جو غیر مشروط طور پر ہمارے حصے میں آئی۔ دسراہٹ، سنگت ، خوش وقتی اور دوست کی خوبیاں ڈھونڈ نکالنے کی خوشی ۔فلسفے کے موٹے موٹے کلیے ایک طرف، مگر دوستی ایسی خوشی ہے جو ننھے معصوم بچوں کو سکول کے پہلے ہی روز مل جاتی ہے۔ تعلیم سے ، مالی رتبے سے اور منصب سے بے نیاز ہو کر دوست کو تسلیم کرنے اور اس کے ساتھ اپنی ذات بانٹنے کا نام دوستی ہے۔ پچھلے دو ایک برس میں کچھ حادثے اوپر تلے ہوئے ۔ کچھ دوست رخصت ہو گئے۔ علی افتخار جعفری گئے، مصدق سانول رخصت ہوئے ، محمد بوٹا چلے گئے ،مسعود عالم نے تعلق توڑ لیا ۔حیدر رضوی اوجھل ہو گئے۔ قلمدار آزاد کینسر کے خلاف لڑائی ہار گئے۔ آصف زیدی حیات ہیں مگر ایسے ناراض ہوئے کہ بات نہیں کرتے۔ ان حادثوں کے نشان سپاہی کے جسم پر باقی رہیں گے۔ بیچ میں دوست اپنے ہونے کی خوشی بھی مسلسل فراہم کرتے رہے ۔ چھوٹے چھوٹے اشارے جن کا ذکر بھی جذبے کی توہین میں شمار کیا جائے گا مگر صاحب ہمارا دل چاہتا ہے کہ آپ کو بتایا جائے ۔ یاسر پیرزادہ نے نیا کوٹ پتلون سلوایا تھا۔ درزی صاحب نے مہربانی کی کسی اور کے ناپ پہ سلائی کر دی۔ تھوڑا جھنجھلائے ہوں گے مگر سلا ہوا سوٹ لفافے میں ڈال کر لائے اور کہا کہ تم پہن کر دیکھو ۔ معلوم ہوا میرا ہی ناپ لے کر سیا گیا ہے۔ دو نہایت نفیس قمیضیں اور چند پتلونیں بھائی سرفراز قریشی لے کر آئے۔ ایسا نفیس کپڑا کہ ہاتھ پھیر کر محسوس کرنے کو دل چاہے۔ ایک ٹائی مع قمیض کے مجاہد علی نے دان کر دی۔ دیکھتے ہی دیکھتے درویش کا وارڈروب اچھے کپڑوں سے دمکنے لگا ۔ ہم تو سب کو بتا ئیں گے کہ دوستوں کی مہربانی ہے اور اب کئی برس تک نئے کپڑوں کی کوئی ضرورت نہیں۔ ارے ہاں یاد آیا ۔ ایک گھڑی بہت قیمتی برادر مکرم مسعود منور نے بھیجی تھی۔ ایسی عمدہ گھڑی ….مگر میں تو گھڑی نہیں باندھتا۔ چچا مسعود منور کا تعارف کرایا اور برونو مسعود کو سونپ دی۔ وجہ یہ کہ ایک عزیز دوست کی عادت یاد آگئی تھی۔ وہ بہت قیمتی گھڑی باندھتے ہیں اور وقت پوچھا جائے تو گھڑی کو پیار سے تھپتھپا کر کہتے ہیں ساڑھے تین لاکھ کی گھڑی میں ساڑھے آٹھ بجے ہیں۔ اس میں ضرور کوئی رمز ہو گی۔ اقبال دائیں ہاتھ کی مٹھی مستقل کلے پر رکھتے تھے ۔ یقینا آفاقی شعر کے اترنے میں نشست کے اس پیرائے کو دخل ہو گا ۔ ہمارے محترم گھڑی والے دوست بھی ہمہ وقت گھڑی کو کلائی پر گھماتے رہتے ہیں جیسے فریدہ خانم غزل کی عاقبت سنوارتے ہوئے چوڑیوں سے کھیلتی رہتی ہیں اور برطانیہ کے شہزادہ چارلس بائیں آستین میں مفروضہ رومال ڈھونڈتے رہتے ہیں۔ہمارے ممدوح کالم نگار گھڑی ساز تو نہیں ہیں مگر یہ کہ موقع شناس ہیں۔ گھڑی پر ہر وقت انگلیاں رکھتے ہیں۔ یہ کچھ ایسی قابل اعتراض بات نہیں۔ ہمارے محترم جناب ڈاکٹر عطا الرحمن ہی کو لیجئے۔ پچھلی دو دہائیوں میں ڈاکٹر عطاالرحمن نے اعلیٰ تعلیم کا پرچم اٹھا رکھا ہے اور سچ تو یہ ہے کہ پاکستان کے رہنے والوں کی قابل قدر خدمت کی۔ پرویز مشرف کی کابینہ میں سائنس اور اعلیٰ تعلیم کے وزیر رہے۔ ایچ ای سی کی بنیادیں اٹھائیں۔ ہزاروں اہل بچوں کو سرکاری اعانت دے کر اعلیٰ تعلیم پانے بھیجا۔ دنیا بھر کے مختلف ممالک میں تعلیم اور معاشی ترقی کے رشتے کو ڈاکٹر صاحب خوب سمجھتے ہیں اور اپنے علم کو آسان لفظوں میں بیان کرنے پر بھی حیرت انگیز قدرت رکھتے ہیں۔
شکوہ ڈاکٹر صاحب سے یہ ہے کہ علم کی معیشت پر بات کرنے والے ڈاکٹر عطاالرحمن علم اور آئینی طور پر باجواز سیاسی بندوبست میں تعلق سمجھ نہیں پاتے۔ ڈاکٹر صاحب ٹیکنو کریٹ حکومت کے تصور پر بری طرح لہلوٹ ہیں۔ ہمارے ملک کی ایک سیاسی تاریخ ہے اور یہاں پر بسنے والوں کے متنوع سیاسی اور معاشی مفادات کو آئین کے عمرانی معاہدے میں پرویا گیا ہے۔ ڈاکٹر صاحب ٹیکنو کریٹ حکومت کی حمایت کرتے ہیں تو عوام کے حق حکمرانی سے انکار لازم ٹھہرتا ہے۔ پھر ایک مہربانی ڈاکٹر صاحب اپنے قیمتی مشوروں میں یہ کرتے ہیں کہ رواں دواں لفظوں کے گل دستے میں صدارتی نظام کا پتھر رکھ دیتے ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ جمہوریت کے بنیادی اصولوں کو صدارتی یا پارلیمانی نظام سے تخصص نہیں۔ صدارتی نظام بھی جمہوری ہو سکتا ہے اور پارلیمانی نظام بھی جمہوریت کے تقاضے نبھا سکتا ہے ۔ مشکل یہ ہے کہ ہمارے ملک کے آئین ساز رہنماﺅں نے اپنے وطن کی ساخت کو مدنظر رکھتے ہوئے پارلیمانی جمہوریت کا انتخاب کیا تھا۔ ڈاکٹر عطاالرحمن کی مان لیں تو پورے آئین کا استرداد لازم ٹھہرتا ہے ۔ ویسے یاد رکھنا چاہیے کہ 1985 ءمیں جنرل ضیاالحق نے آٹھویں آئینی ترمیم اور 2003 ءمیں جنرل پرویز مشرف نے سترہویں آئینی ترمیم کے ذریعے آئین کے پارلیمانی تشخص کو صدارتی لبادہ پہنانے کی کوشش کی تھی۔یہ مساعی کامیاب نہیں ہو سکی۔ اس سے یہ اندازہ تو ہو جاتا ہے کہ صدارتی نظام کے لیے پسندیدگی کو آمریت پسند ذہن میں کیا مقام حاصل ہے۔ ڈاکٹر عطاالرحمن کے صاحب علم ہونے میں کلام نہیں۔ تاہم خدامعلوم وہ یہ کیوں نہیں سمجھ پاتے کہ تعلیم فروختنی جنس اور منقولہ جائیداد نہیں ۔ علم کی اپنی حرکیات ہیں جو مہارت ، تحقیق ، اختراع ، دریافت ، ایجاد اور پیداوار کے باہم منسلک زاویوں کے ذریعے ایک اجتماعی ترجیح اور نصب العین کو تشکیل دیتی ہیں۔ علم ابن سینا اور الجاحظ پر رک نہیں گیا اور نہ علم کی آخری سرحد سٹیفن ہاکنگ نے معلوم کر لی ہے ۔ علم کی کارگاہ سے مسلسل کن فیکون کی صدا اٹھتی ہے۔ علم موجودپر سوال اٹھانے اور آئندہ کے امکان کو صورت دینے کا نام ہے۔ علم قدیم اور جدید نہیں ہوتا۔ علم مغربی اور مشرقی نہیں ہوتا۔ علم کے دھارے کو کسی قوم کے ریاستی بیانیے کے تابع نہیں کیا جا سکتا۔ ڈاکٹر عطاالرحمن اپنے فرمودات پر گویا قاطع برہان رکھتے ہوئے قائداعظم کی ڈائری کا حوالہ دیتے ہیں۔ قائداعظم کی اس ڈائری کا حوالہ جنرل ضیاالحق نے بھی 1983 ءمیں دیا تھا۔ قائداعظم قوم کے محسن تھے ۔قوم کو اپنے محسن کی ڈائری کا اسیر نہیں بنانا چاہیے۔ سیاست ، معاشرت ، معیشت اور علم کے خدوخال کسی نقشہ نویس کی میز پر رکھ آئے تو بار بار صدا آتی رہے گی ’ساڑھے تین لاکھ کی گھڑی میں ساڑھے آٹھ بجے ہیں‘۔ گھڑی کی قیمت ہضم نہ ہو تو یقین کر لینا چاہیے کہ وقت کی رفتار سمجھنے میں کچھ بھول ہو رہی ہے ۔ قوم کی گھڑی قوم کے وسائل میں رہتے ہوئے خریدی جائے گی اور جب قوم کو جائز حکومت کی طے کردہ درست ترجیحات کے مطابق علم کے میدانوں میں سرگرداں کیا جائے گا تو آواز آئے گی ۔ایک دن میں چوبیس گھنٹے ہوتے ہیں اور ہم ہر گھنٹے میں علم کے امکان کو تھوڑا سا اور بڑھا نا چاہتے ہیں۔ قوم کی گھڑی کو صحیح وقت بتانے کے لیے ٹیکنو کریٹ حکومتوں کی ضرور ت نہیں۔


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

One thought on “ساڑھے تین لاکھ کی گھڑی میں ساڑھے آٹھ

  • 06-08-2016 at 8:00 pm
    Permalink

    جب ایک بار خود کو محسن کی ڈائری سمیت دیگر اشیاء سے آزاد کروالیا جائے تو بہت جلد اس کے افکار و خیالات سے بھی آزادی نصیب ہو جاتی ہے اور ہم بھول جاتے ہیں کہ محسن صرف محسن ہی نہیں تھا اس ملک و قوم کا بانی اور باپ بھی تھا اور اس نے انہی نظریات کو استعمال کرکے ہمیں آزادی دلوائی تھی

Comments are closed.