نسلیں کیسے اداس ہوتی ہیں؟


\"inam-rana-3\"جو شخص اردو سے محبت رکھتا ہے، اردو ادب سے محبت رکھتا ہے، عبدللہ حسین اور ان کے \”اداس نسلیں\” سے بھی ضرور محبت رکھتا ہے۔ بلاشبہ \”اداس نسلیں\” اردو ادب کے نمائندہ ناولوں میں شمار ہوتا ہے۔ پہلی ہی تحریر مشہور ہو جائے تو مصنف کی خوش قسمتی بھی ہوتی ہے اور بدقسمتی بھی۔ خوش قسمتی تو خیر ظاہر ہے مگر بدقسمتی کہ پھر ہر آنے والی تحریر اسی پہلی کے پیمانے اور مقبولیت پہ ناپی جاتی ہے۔ اردو ادب میں شاید مستنصر حسین تارڑ ایک ایسا استثنیٰ ہیں کہ پہلی سے آخری تحریر تک مقبولیت پائی ہے۔ عبدللہ حسین نے انگریزی کے کچھ پھسپھسے ناول اور باگھ جیسا کمال ناول بھی لکھا مگر جو مقبولیت اور تعارف \”اداس نسلیں\” کو ملا وہ انکے کسی اور ناول کو نہ ملا۔ \”اداس نسلیں\” اس نسل کا معاشرتی، معاشی اور سیاسی المیہ تھا جو غلامی کے عروج سے زوال تک کو بھگتتی آئی اور بالآخر آزادی کا سورج دیکھا۔ مگر اس نسل نے یہ اداسی اپنے تک نہ رکھی، وراثت میں نئی نسل کو سونپ دی۔ شاید یہ اداسی اس قدر شدید تھی کہ جینیاتی بُنت کا حصہ بن گئی اور ہماری نسل تک آن پہنچی، نہ اداسی کم ہوئی اور نہ اس کی شدت۔

پروفیسر کو عمران خان سے بہت چڑ تھی۔ اگر آپ سوچیں کہ پروفیسر کون؟ تو ذرا میرے مضامین کو کھنگالیے، پروفیسر سے میرا اظہار عشق ایک مضمون میں نظر آئے گا۔ پروفیسر، جس سے میں نے سیاست اور زندگی سیکھی، مکالمہ سیکھا اور وہ سب سیکھا جسے ماں باپ بہت برا سمجھتے ہیں۔ تو پروفیسر کو عمران خان کی سیاست سے بہت چڑ تھی۔ پروفیسر مسلم لیگ اور پیپلزپارٹی کا شدید ناقد تھا اور گو ساری عمر وہ سیاست کا کیڑا رہا مگر پھر بھی ایک سیاستدان عمران خان اسے برداشت نہ تھا۔ اور یقین کیجیے کہ یہ چڑ پروفیسر کے دائمی کنوارا ہونے کی وجہ سے ہرگز نہ تھی۔ جب تحریک انصاف نے لاہور میں اپنا مشہور جلسہ کیا جو تحریک کی مقبولیت پہ مہر ثبت کر گیا، تو\"Abdullah-Hussain\" اتفاقاً میں لاہور میں تھا اور جلسے میں شریک تھا امید سحر لے کر۔ لاہور کے جوش و خروش، عوام کے ہر طبقے کی یوں بلا تقسیم شرکت اور ایک نئے سیاسی متبادل کی کامیابی پہ میں بہت خوش تھا۔ مگر پروفیسر نہیں تھا۔ میں نے کہا استاد جی، ہم ہمیشہ یہ کہتے رہے کہ سیاست میں متبادل چوائس موجود ہونی چاہیے، نوجوان کو سیاست کا حصہ بننا چاہیے، عورت کو سیاست میں متحرک ہونا چاہیے، اپر کلاس کو بھی سیاسی عمل کا حصہ بننا چاہیے؛ اب جو یہ سب ہو رہا ہے تو آپ پھر بھی خوش نہیں۔ بولے، نہیں۔ میں نے اپنے روایتی شرارتی لہجے میں کہا پھر یہ ثابت ہوا کہ آپ یا تو انارکسٹ ہیں یا دیوبندی۔ پروفیسر نے حیرت اور غصے بھری نظر ڈال کر کہا \”دیوبندی کیوں\”؟ اس لیے استاد جی کہ ان کو بھی یہی غصہ تھا کہ پاکستان بن تو رہا ہے پر ہم کیوں نہیں بنا رہے۔ اب پروفیسر نے لمبا کش کھینچا اور کچھ کہتے کہتے رک گیا، پھر ایک اور لمبا کش کھینچا، اور یہ نشانی تھی کہ اب میری کلاس لی جائے گئی۔ پروفیسر نے ایک اور لمبا کش کھینچا اور بولا \”اوئے ۔۔۔۔۔۔ دیا، تینو ابھی تک سیاسی حرکیات اور اثرات دی سمجھ نہیں آئی، تے آنی وی نہیں۔ یہ ایک لہر ہے جو چلی ہے، دیکھنا یہ ہے کہ قیادت اس لہر کو سنبھال بھی سکے گی یا نہیں، یا خود اس میں بہہ جائے گی۔ عمران کو سیاست کا اتنا بھی نہیں پتہ جتنا تجھے اس تھڑے پہ بیٹھ بیٹھ کر آ گیا ہے۔ اور جو اسکے ساتھ مل گئے ہیں وہ خود وہ ہیں جن کے خلاف یہ لہر اٹھی ہے۔ تو خوش ہو رہا ہے کہ نوجوان اس لہر کا حصہ ہیں اور مجھے خوف آ رہا ہے\”۔ وہ کیوں استاد جی؟ میرے کنفیوز ہو کر سوالی بننے پر پروفیسر کے لہجے کی تلخی تو برقرار رہی مگر آواز کا تناو بکھر کر اداسی میں ڈھل گیا۔ \”دیکھ پُتری، ایسی ایک لہر پہلے بھی اٹھی تھی بھٹو کے ساتھ۔ اس سے زیادہ شدت سے۔ جب لگا کہ انقلاب آ گیا ہے، بت ٹوٹ گئے ہیں۔ مگر پہلے تو خود بھٹو نے مایوس کیا جب وہ خود زمینداروں اور بورژوا سے مل گیا اور رہی سہی کسر ضیا کے مارشل لا نے نکال دی۔ بجائے اس کے کہ اس نسل کو اس حالت میں بدلاؤ کا موقع ملتا، فوجی بوٹ نے ان کی گردن دبا دی۔ جانتا ہے کہ اسکا اثر کیا نکلا؟ پوری ایک نوجوان نسل مایوسی کی دلدل میں اتر گئی۔ اوئے ان پڑھ، کدی وہی وہانوی کے علاوہ وی کُج پڑھ لیا کر، پاکستان میں ہیروئن کا نشہ سب سے زیادہ اس دور میں پھیلا کیونکہ مایوس نسل کے پاس فرار کیلیے نشے سے زیادہ کچھ نہیں تھا۔ اس لیے مجھے خوف ہے کہ اس بیوقوف سے ہونا کچھ نہیں اور یہ جو نوجوان اس کے ساتھ ہیں، کچھ برس میں فرار دھونڈتے پھریں گے\”۔

صاحبو، پروفیسر سے اس گفتگو کو کئی سال گزرے۔ مجھے سیاسی حرکیات کی آج بھی کچھ خاص سمجھ نہیں آئی، مگر ہاں اندازے تو لگائے \"imranہی جا سکتے ہیں۔ جہاں جسٹس وجیہ الدین، ہارون رشید اور برادرم آصف محمود جیسے عمران اور تحریک انصاف کے متحرک حمایتی بھی مایوس نظر آئیں، وہاں اندازے لگانا کچھ اتنا مشکل بھی تو نہیں رہتا۔ عمران نے اس دوران دو ہزار تیرہ کے الیکشن میں اچھی کارکردگی دکھائی، بڑی اپوزیشن بنائی اور ایک صوبے میں حکومت بھی ملی۔ ایک تاریخی موقع ملا تھا، یہ ثابت کرنے کیلیے کہ حکومت کیسے کی جاتی ہے اور اپوزیشن کیسے۔ سوچیے اگر خیبر پختونخواہ کی حکومت اور قومی سطح پر اپوزیشن بھرپور طریقے اور دھڑلے سے کی جاتی تو کیا ہوتا۔ مگر افسوس یہ موقع ضائع کر دیا گیا۔ عمران کے ساتھ روایتی سیاستدانوں کا مل جانا، خود پسندی کے مسلسل مظاہرے، دھرنے جیسی فضول اور ناقص طور پہ مرتب مہم، روز روز بیان بدلنا، خیبر پختونخواہ کا باقیوں سے کچھ بہتر مگر ایک روایتی حکومت ثابت ہونا؛ یہ وہ سحر نہیں تھی جس کا خواب ہم نے دیکھا تھا۔ ہم جو عدلیہ آزادی کی تحریک کا علم لے کر نکلے مگر مایوس ہوے کہ وہ فقط افتخار چوہدری کی بحالی نکلی۔ اور ہم جو تبدیلی کا پرچم لہراتے تھے وہ کچھ بنا تو بس عمران کی نئی شادی کا سہرا بن سکا۔ وکلا تحریک نے ہم کو وکلا گردی سے آشنا کیا اور انقلاب کی عمرانی خواہش گالی کلچر دے گئی۔ اور اب دیکھیے کہ اس کلچر میں بھی وہ روایتی سیاستدان فاتح ہیں جن کو گالی دینا اور کھانا دونوں بہت پسند تھے۔ ہم اپنے تعصبات کے اسیر ہو کر جو بھی کہیں، سچ تو یہ ہے کہ عمران اور تحریک انصاف بھی پہلے سے موجود سیاسی گندگی کے جنگل میں فقط تھور کا ایک نیا پودا نکلے۔ ہم نے بہت شوق سے یہ پودا کھایا تھا اور اب زہر کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

میں اپنے بہت سے دوستوں کو دیکھتا ہوں جن کے لہجے ٹوٹے ہوے ہیں، ولولہ ماند ہے اور گو اب بھی تحریک انصاف سے وابستہ ہیں مگر مایوسی کا اظہار کرتے ہیں۔ سوچیے جب تحریک انصاف کا کوئی متحرک کارکن خود کہے کہ اگلی بار بھی یہ نواز شریف ہی بنتا نظر آتا ہے، تو اس حقیقت پسندانہ مایوسی پہ مجھے دکھ ہوتا ہے۔ بلاشبہ فضل الرحمان، نواز شریف یا زرداری متبادل نہیں ہیں؛ مگر ان ہی کے متبادل کے طور پہ چنا عمران بھی ناکام ٹھہرا۔ اور جب کوئی متبادل نظر نہ آئے تو ایک اور اداس نسل جنم لیتی ہے۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words


اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

انعام رانا

انعام رانا لندن میں مقیم ایک ایسے وکیل ہیں جن پر یک دم یہ انکشاف ہوا کہ وہ لکھنا بھی جانتے ہیں۔ ان کی تحاریر زیادہ تر پادری کے سامنے اعترافات ہیں جنہیں کرنے کے بعد انعام رانا جنت کی امید لگائے بیٹھے ہیں۔ فیس بک پر ان سے رابطہ کے لئے: https://www.facebook.com/Inamranawriter/

inam-rana has 36 posts and counting.See all posts by inam-rana

2 thoughts on “نسلیں کیسے اداس ہوتی ہیں؟

  • 07/08/2016 at 7:45 pm
    Permalink

    کمال لکھا بے مثال لکھا

  • 09/08/2016 at 8:36 am
    Permalink

    سیاسی حرکیات پہ عمدہ تجزیہ…تحریک انصاف کی ناکامی اور اس ناکامی کی وجہ سے پہلے سے موجود مایوسی میں شدت کا در آنا..اس پہ بہت کچھ لکھا جا چکا ہے.یہ تجزیہ مگر زیادہ پر اثر لگا کیونکہ دل میں جو خدشات ہیں یہ اسی پہ مہر ثبت کرتا ہے.

Comments are closed.