پانی کے غیر معیاری فلٹریشن پلانٹس سے شہریوں کی صحت کو خطرات


waterصاف پانی کی کمی کے شکار پاکستان میں چھوٹے پیمانے پر فلٹریشن پلانٹس کا کاروبار تیزی کے ساتھ پھیلتا جا رہا ہے جس کی وجہ محکمہ خوراک میں چیک اینڈ بیلنس کی کمی ہے۔
ملک بھر میں روزانہ ایسے ان گنت واقعات پیش آ رہے ہیں جن میں شہری آلودہ پانی میں پرورش پانے والی بیماریوں کا شکار ہوتے ہیں اور پھر نام نہاد صاف پانی خریدنے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ ان حالات میں لاہور میں پرائیویٹ فلٹریشن پلانٹس کا رجحان تیزی سے فروغ پا رہا ہے جبکہ مختصر عرصے میں ہی یہ پلانٹس شہر بھر میں پھیل چکے ہیں اور ان کے صارفین کی تعداد میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ ان پلانٹس کے مالکان کا کہنا ہے کہ وہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی نسبت خالص اور صاف پانی انتہائی کم نرخوں پر فراہم کر رہے ہیں۔
یہ پلانٹس پانی کی 19 لٹر کی بوتل کے 60 سے 90 روپے تک وصول کرتے ہیں اور اکثر فری ہوم ڈلیوری کی سہولت بھی دیتے ہیں، جبکہ ملٹی نیشنل کمپنیوں کی 19 لٹر کی بوتل کی قیمت 190 روپے ہے۔اگر ہم مشاہدہ کریں تو چھوٹے پیمانے پر کام کرنے والی یہ کمپنیاں بہت اچھا کاروبار کر رہی ہیں ۔
پاکستان کے شہری علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے لیے صاف پانی کی دستیابی تیزی سے ایک حقیقی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ پاکستان کونسل آف ریسرچ ان واٹر ریسورسز کی ایک حالیہ تحقیق سے انکشاف ہوا کہ لاہور کا تمام پانی آلودہ ہو چکا ہے اور اس میں آرسینک کی مقدار عالمی ادارہ صحت کی جانب سے مقرر کردہ مقدار سے دوگنا ہے۔ یہ رپورٹ شہر کے مختلف حصوں سے پانی کے چار نمونوں کے لیبارٹری تجزیے پر مشتمل ہے۔پانی کے نمونوں میں آرسینک کی مقدار 20 پوائنٹس سے بھی زیادہ ہے جبکہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا معیار 10 پوائنٹس سے کم ہے۔پانی کے دو نمونوں کے تجزیے سے پتا چلا کہ ان میں موجود انسانی فضلے کی شرح بھی خطرناک حد تک ہے۔


Comments

FB Login Required - comments