پاک امریکہ تعلقات کی تاریخ پر ایک نظر۔۔۔(1)


\"abdul-Majeed-487x400\"مثل مشہور ہے کہ ہاتھیوں کی لڑائی میں نقصان ہمیشہ گھاس کا ہی ہوتا ہے۔ پاکستان اور امریکہ کے تعلقات کو سرد جنگ اور گیارہ ستمبر (9/11) کے بعد شروع ہونے والی جنگوں کے تناظر میں دیکھا جائے تو ہمارا حال وہی ہوا جو گھاس کا ہوا کرتا ہے۔ البتہ دونوں ممالک کے مابین تعلقات کی کہانی اتنی سادہ نہیں ہے۔ پاک امریکہ تعلق کے خدوخال کو سمجھنے کے لئے تاریخ کا سہارا لینا ضروری ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے اختتام پر تاج برطانیہ کے خزانے اس قابل نہ تھے کہ سلطنت کا بار اٹھا سکیں اور امریکیوں سے لیا گیا قرضہ ان کے لئے ایک درد سر تھا۔ ان حالات میں ہندوستان کو آزادی عطا کرنا برطانیہ کی مجبوری تھی اور اس اقدام کی حمایت امریکی صدر روز ویلٹ (Roosevelt) نے بھی کی۔ جنگ کے بعد دنیا میں دو بڑی قوتیں موجود تھیں یعنی ریاست ہائے متحدہ امریکہ اور سویت روس۔ امریکہ سرمایہ دارانہ نظام کا علم بردار تو روس کمیونزم کا والی وارث۔ ان حالات میں post-colonial states یا بعد از نو آبادیاتی ممالک (جن میں پاکستان، بھارت، سری لنکا،جنوب مشرقی ایشیا سے ملیشیا اور انڈونیشیا، افریقہ اور مشرق وسطیٰ کے بیشتر ممالک شامل تھے) کے لئے ان دو قطبین میں سے ایک کا انتخاب کرنا اہم تھا۔

تقسیم ہند سے قبل مسلم لیگ کے صدر محمد علی جناح مختلف ممالک کے سفیروں سے رابطے میں تھے۔ انہوں نے ایک امریکی صحافی کو انٹرویو میں بتایا کہ پاکستان کو امریکہ کی نہیں بلکہ امریکہ کو پاکستان کی ضرورت ہے۔ انہوں نے امریکہ سے دو ارب ڈالر (موجودہ دور میں یہ رقم اکیس ارب ڈالر بنتی ہے) امداد کا مطالبہ کیا جس میں ڈیڑھ ارب ڈالر زراعت اور صنعتی شعبے کے لئے جب کہ پانچ سو ملین ڈالر فوجی ضروریات کے لئے تھے۔ ستمبر 1947ء میں کابینہ کے ایک اجلاس میں جناح صاحب نے کہا:’پاکستان ایک جمہوری ملک ہے، اور کمیونزم اسلامی ممالک میں نہیں پنپ سکتا۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ ہمارے مفادات روس کی بجائے امریکہ اور برطانیہ سے پنہاں ہوں گے‘۔ دلچسپ بات یہ تھی کہ جن دنوں جناح صاحب امریکہ کی جانب پینگیں بڑھا رہے تھے، ان کی ہدایات کے تحت قائم کردہ اخبار ڈان کے صفحات پر امریکہ دشمنی کو پروان چڑھایا جا رہا تھا۔ ایک امریکی سفیر نے جناح صاحب کی توجہ اس جانب مبذول کروائی تو انہوں نے ہنس کے ٹال دیا کہ ڈان کے صحافیوں نے پیٹ بھی تو بھرنا ہوتا ہے۔ پاکستان امریکہ تعلقات کی تاریخ میں یہ دوغلہ پن ہمیشہ نمایاں رہا ہے، جس میں پاکستان کے فوجی اور غیر فوجی حکمران نجی طور پر امریکی مدد کے طلب گار ہوتے ہیں لیکن عوامی سطح پر امریکہ کو لتاڑا جاتا ہے۔ اسی طرح حکمرانوں کے انگریزی اور اردو بیانات میں واضح فرق دیکھنے کو ملتا ہے۔

\"liaquatبین الاقوامی تعلقات کی بنیاد ہر ملک کے قومی مفاد پر قائم ہوتی ہے اور اس میں رنگ، نسل اور مذہب کی تفریق نہیں رکھی جاتی۔ اس مفاد کا تعین وزارت خارجہ، فوج کے نمائندے اور مقننہ کے ذریعے کیا جاتا ہے۔ پاکستان کے ساتھ ابتدائی طور پر امریکہ کا کوئی مفاد وابستہ نہیں تھا لہٰذا سفارتی تعلقات قائم کرنے سے زیادہ پاکستان کو لفٹ نہ کرائی گئی۔ قائد اعظم کی وفات کے بعد ملک کی قیادت لیاقت علی خان نے سنبھالی۔ سنہ 1949ء میں امریکہ کی جانب سے جواہر لعل نہرو کو دعوت ملی تو پاکستان کی طرف سے کوشش شروع ہوئی کہ کچھ ایسا بندوبست ہمارے لئے بھی ہو جائے۔ متعدد بار ناکامی کا سامنا کرنے پر ایک نئی ترکیب آزمائی گئی۔ ایران میں پاکستانی سفیر کے ذریعے روس کو یہ پیغام پہنچایا گیا کہ لیاقت علی خان ماسکو کا دورہ کرنا چاہتے ہیں لہٰذا انہیں دعوت نامہ بھیجا جائے (کیونکہ سرکاری دورے کے لئے باضابطہ دعوت نامہ درکار ہوتا ہے)۔ امریکہ کی طرح روس کا بھی پاکستان سے کوئی مفاد پیوستہ نہ تھا اس لئے یہ بیل منڈھے نہ چڑھ سکی (روس نے باقاعدہ دعوت کا اعلان کیا لیکن لیاقت علی خان کو دعوت نامہ نہیں بھیجا گیا)۔ اس اقدام کے باعث امریکہ کو یہ باور کرایا گیا کہ اگر ہماری امداد نہ ہوئی تو ہم روس کا رخ کریں گے۔ مئی 1950ء میں لیاقت علی خان امریکہ پہنچے اور ہوائی اڈے پر ان کا استقبال صدر ٹرومین (Truman) نے کیا۔ دورے کے دوران فوج کے متعلق ایک رپورٹر کے سوال پر لیاقت صاحب نے جواب دیا: اگر آپ کا یہ عظیم ملک ہمیں جغرافیائی سالمیت کی یقین دہانی کرائے تو ہم کسی بھی قسم کی فوج نہیں رکھیں گے۔ دورے کے دوران خوش سگالی سے زیادہ کچھ حاصل نہ ہو سکا۔ مئی 1951ء میں امریکہ کی جانب سے یہ تقاضا کیا گیا کہ پاکستانی فوج امریکہ کی امداد کے لئے کوریا بھیجی جائے۔ وزیر اعظم لیاقت علی خان نے فرمایا کہ وہ فوج کا ایک ڈویژن بھیجنے کا تیار ہیں لیکن امریکہ کی طرف سے پاکستانی عوام کو’یقین دہانی‘ کرائی جائے(کہ مستقبل میں اسلحہ اور امداد ملتا رہے گا)۔

اس موقعے پر پاکستان اور امریکہ کے 1947ء کے بعد داخلی حالات پر ایک نظر ڈالنا بر محل ہے۔ دوسری جنگ عظیم کے بعد امریکہ میں سویت روس کا خوف اور اس سے نفرت سرکاری طور پر پروان چڑھائی گئی۔ ہالی ووڈ جیسی جگہ پر لوگوں کو یونین بنانے کی پاداش میں بلیک لسٹ کر دیا جاتا (چارلی چپلن اور مشہور ہدایت کار Orson Wells اس فہرست کا حصہ تھے)۔ اس ضمن میں کانگرس کی ’غیر امریکی اقدام کے روک تھام کے لئے کمیٹی‘ (House Un-American Activities Committee) تشکیل دی گئی جس کا کام مختلف شعبہ ہائے زندگی سے ’کمیونسٹ‘ یا ’کمیونسٹوں سے ہمدردی رکھنے والوں‘ کی چھانٹی کرنا تھا۔ اسی دوران امریکی ایوان بالا کے رکن جوزف میک کارتھی (ْJoseph McCarthy) نے سینٹ میں ایک محاذ کھول رکھا تھا جہاں سرکاری اہلکاروں میں ’مشتبہ روسی ایجنٹوں‘ کی تلاش جاری تھی۔ اس کمیونسٹ پکڑ دھکڑ میں قانون کے تقاضے یعنی اپنی صفائی پیش کرنے کا حق، شواہد کی موجودگی اور منصفانہ سماعت وغیرہ با لائے طاق رکھ دیے گئے تھے۔ ان تاریخی اقدامات پر امریکی سماج میں آج تک شرمندگی پائی جاتی ہے۔ خارجی سطح پر امریکہ یورپ میں یونان اور ترکی کو ہر طرح کی امداد فراہم کر رہا تھا تاکہ کمیونزم کے فروغ کے آگے بند باندھا جا سکے۔ سنہ 1950ء میں شمالی کوریا نے جنوبی کوریا پر حملہ کر دیا تھا اور امریکی فوجیں جنوبی کوریا کے دفاع کے لئے لڑ رہی تھیں۔ شمالی کوریا کو چین اور روس کی حمایت حاصل تھی۔

پاکستان نے قیام کے کچھ دن بعد ہی کشمیر کا محاذ کھول لیا تھا اور قبائلی علاقوں سے افراد کو اسلحہ دے کر ’جہاد‘ کے نام پر کشمیر آزاد کرانے بھیجا جانے لگا۔ اس اقدام کے باعث کشمیر کا کچھ حصہ پاکستان نے حاصل کیا (جسے اب ہم آزاد کشمیر کہتے ہیں) لیکن جنگی تجربے اور نظم و ضبط کی کمی کے باعث کشمیر مکمل طور پر پاکستان کے قبضے میں نہیں آ سکا۔ یہ ناکامی اس آپریشن کے معمار جنرل اکبر خان کو بہت چبھتی تھی اور وہ سیز فائر کی ذمہ داری سیاست دانوں پر ڈالتے تھے۔ انہوں نے کچھ فوجیوں کے ساتھ مل کر حکومت پر قبضہ کرنے کا منصوبہ بنایا جس کے بعد وہ ’کشمیر آزاد کروانا‘ چاہتے تھے۔ منصوبہ سازی کے دوران ایک محفل میں انہوں نے کمیونسٹ پارٹی کے ایک سربراہ اور فیض احمد فیض کو بھی بلایا۔ کچھ ہی دن بعد مخبری ہوئی اور اس محفل میں شریک تمام افراد گرفتار کر لئے گئے۔ اس واقعے کو ’راولپنڈی سازش کیس‘ کہا جاتا ہے اور کچھ افراد کے مطابق یہ منصوبہ اپنے تئیں زیادہ اہمیت کا حامل نہیں تھا لیکن امریکی توجہ کی خاطر کمیونزم کا ہوا کھڑا کیا گیا۔ پاکستان امریکہ سے معاشی اور فوجی امداد حاصل کرنا چاہتا تھا تاکہ بھارت کے خلاف دفاع کو مضبوط کیا جائے جب کہ امریکہ کو یہ مسئلہ درپیش تھا کہ ایک فریق کی حمایت کرنے کے عوض بھارت سے تعلقات خراب نہ ہو جائیں۔

(جاری ہے)

یہ مضمون اس سے قبل پنجاب لوک سجاگ کی ویب سائٹ پر چھپ چکا ہے۔

اس مضمون کی تیاری میں مندرجہ ذیل کتب اور ذرائع سے مدد لی گئی:

The United States and Pakistan 1947-2000: Disenchanted Allies

Magnificent Delusions: Pakistan, the United States and an Epic History of Misunderstanding

Who\’s calling the shots?

Pakistan and the West: The First Decade, 1947-57

Pakistan\’s Foreign Policy: An Historical Analysis

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

عبدالمجید عابد

عبدالمجید لاہور کے باسی ہیں اور معلمی کے پیشے سے منسلک۔ تاریخ سے خاص شغف رکھتے ہیں۔

abdulmajeed has 28 posts and counting.See all posts by abdulmajeed