نیل آرم سٹرونگ کا چاند


بارے کچھ بیان ہو جائے رحمت اللہ بیگ کا۔ تو صاحبو کہنے والا کہتا ہے اور سننے والا سنتا ہے، بیگ صاحب کے لفظ لفظ پر سر دھنتا ہے۔ یہ \"mustafaجو کریم آباد کے بازار میں سیدھی جاتی سڑک ایک مقام پر دو شاخوں میں تقسیم ہوتی ہے ایک شاخ اونچائی میں بلتت فورٹ کو جاتی ہے تو دوسری جاپان چوک کو ۔ ۔ تم اس طرف نہیں جانا بلکہ اونچائی کو تھامنا۔ ٹیڑھا راستہ تم کو سیدھا بلتت فورٹ کے دروازے پر جا کھڑا کرے گا جو تم کو آثار قدیمہ سے دلچسپی ہووے اور تم مملکت خداداد کی رعایا ہو تو روپیہ ساڑھے تین سو فی نفر اپنے کھیسے سے نکالو اور جا کے اس سات سو سال پرانے قلعے میں رکے وقت کی لاش پر پرسہ دے آو۔ اور اگر تم کسی فرنگی دیس کے باسی ہو تو روپیہ پانچ سو فی نفر ادائیگی کرنا لازم ہے۔ قلعے کا ایک ملازم تمہارے لئے خضر کے فرائض انگریزی اور اردو میں سرانجام دینے کو صبح نو سے پانچ تک موجود رہتا ہے۔ ہمارا تمہارا ممدوح رحمت اللہ بیگ کہ جس پر الله کی رحمتیں ہوں اسی قلعے کا پڑوسی ہے۔ کریم آباد کے قدیمی لوگ انہیں وزیر کے نام سے جانتے ہیں۔ قصّہ اس عرفیت کا یہ ہے کہ بیگ صاحب کے دادا ہنزہ کے حکمران میر صاحب کے وزیر اعظم ہوا کرتے تھے۔ جب میر صاحب ہمارے تمہارے سابقہ شہنشاہ جارج پنجم کو فرشی سلام کرنے دلی دربار آئے تو بیگ صاحب کے دادا ہی انکے ہمرکاب تھے۔ اب تو نہ دربار رہے نہ شہنشاہ ایک ایک کر کے سب مر گئے لیکن کریم آباد کے باسیوں کی آنکھ کا پانی نہیں مرا وہ سو سال بعد بھی وزیر اعظم کی اولاد کو وزیر کے لقب سے کلام کرتی ہےاور ہم تم کہ ٹھہرے پردیسی جو ہفتہ دس دن وہاں چھٹیاں منانے جاتے ہیں انہیں بیگ صاحب کے نام سے بلاتے ہیں۔

بعد از تمہید تمہیں انہی کا قصّہ سناتے ہیں۔ تو صاحبو جب فرنگیوں نے ہندوستان سے اپنا سامان باندھا اور باقی بچ جانے والے ترکے کی تقسیم ہوئی تو یہ شمالی علاقے خداداد کی مملکت کا حصّہ ہو گئے 1974 تک ان کی شاہی حیثیت برقرار رہی جب کہ باقی مملکت میں سلطانی جمہور کا دوردورہ تھا لہذا ان علاقوں کی شاہی حثیت کا نقش کہن مٹا دیا گیا۔ بادشاہ یاد الہی میں مصروف ہو گیا اور رعایا نے خضر کا پیشہ \"mus01\"اپنا لیا یعنی باہر سے آنے والے سیلانیوں کی رہنمائی کرنے لگی۔ ہمارے تمہارے بیگ صاحب بھی اسی کام پر لگ گئے۔ انگریزوں کے ساتھ اٹھتے بیٹھتے ان کی زبان بھی سیکھ لی شرافت اور دیانت تو خاندانی وصف تھا ہی ۔ ارے صاحبو شرافت دیانت اور صداقت جیسے اوصاف حمیدہ گھٹی میں پڑے ہوتے ہیں کسی درسگاہ میں نہیں سکھلاۓ جاتے۔ قصّہ مختصر اپنی خداداد صلاحیتوں سے بہت جلد بیگ صاحب باہر سے آنے والوں کے چہیتے بن گئے۔ کبھی کسی فرنگی ٹولی کو راکا پوشی کی طرف لئے جا رہے ہیں تو کسی امریکی ٹولے کو اپنی جیپ میں بٹھائے پرانی شاہراہ ریشم دوڑے جا رہے ہیں۔ رہنمائی ہی ان کا ذریعہ روزگار ٹھہرا۔ یہ وہ زمانہ ہوا کرتا تھا جب فرنگی مرد اپنی ننگی عورتوں کے ساتھ خداداد کی مملکت میں جتھوں کی صورت آیا کرتے تھے۔ نہ ان کو ہم سے اپنی جان کا خطرہ تھا نہ ہمیں ان سے اپنے ایمان کا خطرہ۔ اب کی تو نہ ہی پوچھو صاحبو دل دکھا جاتا ہے بیگ صاحب کا تذکرہ درمیاں سے اٹھا جاتا ہے لہذا بھٹکتے خیالوں کی باگیں موڑتے ہیں قصّے کا سلسلہ وہیں سے جوڑتے ہیں جہاں سے ٹوٹا تھا۔

تو کہنے والا کہتا ہے کہ نوے کی دہائی میں ایک امریکن خاتون بیگ صاحب کی رہنمائی میں کسی گلشیئر کو سر کرنے کی کوشش میں خود ان کی شخصیت کے ہاتھوں سر ہو بیٹھی۔ اس خاتون کے سلسلہ نسب کا تو پتہ نہیں لیکن سلسلہ محبت اس زمانے میں نیل آرم سٹرونگ سے ملتا تھا۔ ارے وہی آرم سٹرونگ جنہوں نے ہمارے تمہارے چندا ماموں کو جا چوما تھا۔ تو صاحبو جب یہ خاتون اپنی جنم بھومی واپس پہنچیں تو سب سے پہلے بیگ صاحب کو اپنے گھر بخیر و عافیت پہنچنے کی خبر کے ساتھ ساتھ امریکہ آنے کی دعوت دے ڈالی۔ یہ حضرت سمجھے کہ مروت میں کہہ رہی ہو گی لیکن چند دن بعد ڈاک کا ہرکارہ باقاعدہ تحریری دعوت نامہ لے کر وزیروں کے لونڈے کا دروازہ کھٹکھٹا بیٹھا۔ بوڑھے وزیر یعنی بیگ صاحب کے ابا نے اپنے بیٹے کی آنکھوں میں چمک دیکھ کر اندازہ لگا لیا کہ بیٹا ہاتھ سے نکلنے والا ہے سو حفظ ماتقدم کے تحت امریکہ جانے سے پہلے بیگ صاحب کا جھٹ منگنی پٹ بیاہ کر دیا۔ اس بیاہ کے پیچھے زیرک اور گھاٹ گھاٹ کا پانی پئے بوڑھے وزیر کا فلسفہ کچھ یوں تھا کہ بیٹا بوڑھے باپ کے لئے آئے نہ آئے اپنی جوان دلہن کے پیچھے ضرور آئے گا۔

بس صاحبو شادی کے کچھ عرصہ بعد بیگ صاحب نے بیگ سنبھالا اسلام آباد ائیرپورٹ سے امریکہ کا اڑان کھٹولہ پکڑا اور نیویارک جا \"mus02\"اترے۔ یاد رہے کہ ان کے قیام اور سفری اخراجات کا سارا ذمہ اس امریکن بی بی نے اٹھا رکھا تھا۔ وہ تمام امریکی جو زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر بیگ صاحب کی رہنمائی سے مستفید ہوۓ تھے انکے آنے کی خبر سن کر چشم ما روشن دل ما شاد کی تصویر بن گئے۔ روز دعوتیں ہونے لگیں دن عید رات شبرات کا منظر پیش کرنے لگی اور پھر وہ دن آیا جب امریکہ کی بیٹی پہاڑوں کے بیٹے کو چاند کے مسخر سے ملوانے سنسناٹی جا پنہچی جہاں وہ اپنے ٹریکٹر پر بیٹھا کسی فصل کی کاشت کے لئے زمین ہموار کر رہا تھا۔ چاند کے فاتح نے پہاڑوں کے فاتح کو سینے سے لگایا اور پھر رات کو محفل جمی جس میں امریکن بی بی پی پلا کے بہت جلد غین ہو کر اپنے کمرے میں سونے چل دی۔ باقی رہ گئے ہمارے بیگ اور نیل صاحب۔ ام الخبائث کا ایک گھونٹ اپنے حلق میں انڈیلتے ہوۓ چاند کے راجہ نے آہستہ سے پوچھا تم نے باتیں نہیں کی بیگ، کوئی بات کرو۔ بیگ صاحب بولے حضور میں اتنی دور سے صرف آپ کے درشن کرنے ایک بات پوچھنے اور ایک کام کرنے آیا ہوں۔ نیل بولے درشن تو کر لئے دوست اب کام بتاؤ، حکم کرو۔ بیگ صاحب اپنی ساری ہمت اکٹھی کر کے نیل مرحوم کے پیروں کی طرف نظریں گاڑے بولے، ان دونوں میں سے وہ کون سا قدم ہے جس نے پہلی بار چاند کی دھرتی کو چھوا میں اسے چومنا چاہتا ہوں۔ نیل چند لمحے اپنے سامنے بیٹھے آدمی کی آنکھوں میں دیکھتے دیکھتے ہلکا سا مسکرا کر بولا چھوڑو یار یہ بھی کوئی کام ہے۔۔۔۔ اچھا وہ بات پوچھو جو پوچھنا چاہتے ہو۔

بیگ صاحب بولے ہماری مملکت خداداد میں یہ بات مشہور ہے کہ آپ کو چاند پر ہماری اذان کے سوا کوئی آواز نہیں سنائی دی اذان سن کر آپ کے جو احساسات تھے کیا وہ آپ مجھے بتانا پسند کریں گے تاکہ میرے جذبہ ایمانی کی سرد پڑتی آگ ایک بار پھر شعلہ بن کے دل کے اندر تا قیامت ناچتی پھرے۔ نیل نے چند لمحے چپ رہنے کے بعد ایک زوردار قہقہہ لگایا بیگ صاحب کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر ان کی آنکھوں میں دیکھتا رہا کمرے میں مکمل خاموشی ہو چکی تھی۔ پھر وہ تھوک نگلتے ہوۓ بولا \” یہ سب جھوٹ ہے بیگ وہاں اتنا مہیب سناٹا تھا کہ اب اگر کوئی مجھے ساری کائنات بھی انعام میں دینے کا وعدہ کرے تو میں چاند کی طرف نہیں جاؤں گا\” یہ کہتے ہوۓ وہ تیزی سے اٹھا اور بیگ صاحب کو شب بخیر کہے بغیر اپنے کمرے کی طرف یوں بھاگا جیسے کوئی مہیب سناٹا اسکے تعاقب میں ہو۔ کمرے کی گہری خاموشی میں وزیروں کا لونڈا سن بیٹھا رہ گیا۔۔۔۔

 


Comments

'ہم سب' کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔ کمنٹ کرنے والا فرد اپنے الفاظ کا مکمل طور پر ذمہ دار ہے اور اس کے کمنٹس کا 'ہم سب' کی انتظامیہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

مصطفیٰ آفریدی

ناپا میں ایک سال پڑھنے کے بعد ٹیلی ویژن کے لیے ڈرامے لکھنا شروع کیے جو آج تک لکھ رہا ہوں جس سے مجھے پیسے ملتے ہیں۔ اور کبھی کبھی افسانے لکھتا ہوں، جس سے مجھے خوشی ملتی ہے۔

mustafa-afridi has 13 posts and counting.See all posts by mustafa-afridi